مشعال خان کا قتل اور ریاست کی ذمہ داری - ثمینہ رشید

دنیا میں آنے والے ہر مسلمان بچے کے کان میں پڑنے والے ابتدائی الفاظ ”اللہ اکبر“ ہوتے ہیں۔ اس رب کی عظمت اور کبریائی کا اقرار، وہی رب جس نے قرآن میں واضح طور پر کہا کہ ”جس نے ایک انسان کا قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا“۔ واضح رہے انسان، مسلمان نہیں۔

پھر یہ کون لوگ ہیں اور کس سیاسی اور نظریاتی ایجنڈے پہ کام کرتے ہیں؟ کیوں اس عظیم مذہب کا چہرہ ایسے مسخ کرنے کے درپے ہیں؟ یہ کون ہیں جو اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر بےگناہ معصوم لوگوں کی جان لے لیتے ہیں، لاشوں کی بے حرمتی کرتے ہیں، اور اس پہ ہی کیا موقوف زندگی جیسی دولت کو بھی اللہ اکبر کہہ کر خودکش دھماکے کی نظر کرکے اپنے ساتھ کئی معصوم لوگوں کی جان بھی لے لے لیتے ہیں۔

اللہ کی عظمت اور محبت کسی بھی شک سے بالاتر ہے، تو یہ کون لوگ ہیں جن کو اللہ کے یعنی رحمن اور رحیم کے نام پر اسلام اور انسانیت کی اس طرح توہین کرنے کی آزادی دے دی گئی ہے۔ ان کی تربیت کرنے والے ان دیکھے ہاتھ کن لوگوں کے ہیں؟ یہ سوچ کہاں پیدا ہوئی، پروان چڑھی اور کیوں عروج پا رہی ہے؟ اس کو کون دیکھے گا؟ اس کی بیخ کنی کون کرے گا؟

آج آنکھوں نے ایک ایسا لرزہ خیز منظر دیکھا ہے کہ جس میں وحشت سے بھرے لوگ اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے ایک مسلمان طالب علم کی جان لینے کے بعد اس کی لاش کی بےحرمتی کر رہے تھے۔ ایک ایسا مذہب جس میں مرنے والے کے انسانی جسم کی حرمت کو بھی بیان کیا گیا ہو۔ اس کے ماننے والے اسی رب کے نام کا نعرہ لگاتے ہوئے انسانیت کا بد ترین عمل کرتے رہے۔

مشال خان کون تھا؟ مسلمان نہ سہی ملحد سہی، کمیونسٹ سہی۔ گستاخ رسول کا الزام بھی لگانا تھا تو دوسو پچانوے (سی) کس مرض کی دوا ہے؟ پاکستان کا کون سا قانون کسی بھی شخص کو اجازت دیتا ہے کہ وہ جب چاہے جہاں چاہے چار لوگ جمع کرے اور جرگہ لگا کے انصاف کے نام پہ ظلم و بربریت کا ایسا کھیل کھیلے کہ چنگیز خان کی روح بھی کانپ اٹھے۔ اور وہ بھی اس رب کے نام پہ اور اس کے اس محبوب رسول کے نام پہ جسے دنیا محسنِ انسانیت کے نام سے جانتی ہے جسے رب نے رحمت العالمین بنا کر بھیجا ہے (سورہ الانبیاء 107) ۔

یہ بھی پڑھیں:   ماں کے نام - طیب سکھیرا

سوشل میڈیا پہ وائرل ہونے والی مردان یونیورسٹی کے طالب علم مشعال خان کے بہیمانہ قتل کی خبر اور ویڈیو نے ہر حساس دل کو انتہائی تکلیف دہ صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ مقامِ افسوس یہ ہے کہ مین اسٹریم پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے اس انتہائی ہولناک واقعے کو تیس سیکنڈ کی خبر میں نمٹا دیا ہے اور اربابِ اختیار کے کانوں تک ابھی بھی مظلوم مشعل خان کی آواز نہ پہنچ سکی ہے یا شاید متبادل بیانیے والا وزیرِاعظم کا بیان صرف ایک روٹین کی تقریر کا حصہ ہی تھا۔ لیکن اب عوام صرف اسٹیٹ کے ہاتھوں استعمال ہونے والے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی محتاج نہیں رہی۔ سوشل میڈیا اب بےآوازوں کی آواز ہے اور اس سے زیادہ دیر تک نظر چرانا اب ممکن نہیں۔

وقت آگیا ہے کہ جنہوں نے توہینِ رسالت کے نام پر یہ بہیمانہ قتل کیا، ان کو بھی اتنی ہی جلد اُن کے انجام تک پہنچایا جائے اور وہ طاقتیں جو اس قسم کے اقدامات کو سپورٹ کر کے ان کو بڑھاوا دیتی رہی ہیں، اب انہیں اپنا بیانیہ بدلنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ اب ان سارے علماء کو کسی بھی قسم کے الجھاؤ میں پڑے بغیر کُھل کر اس اقدام کی مذمت کرنی پڑے گی۔

ریاست نے اگر اب اس طرح کے مظالم پہ مزید آنکھیں بند کیں تو وہ وقت دور نہیں جب جلد یہ عفریت معاشرے میں کینسر کی طرح پھیل جائے گا۔ مشعال خان کا قتل ایک پرامن اور انسانیت پسند دنیا کے خواب دیکھنے والےکا قتل ہے۔ گستاخی رسول کے ملزم کے معاملے میں بھی ریاست کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ آج عوام کی آنکھیں حکمرانوں کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ آج قتل کرنے والوں نے اگر یہ سوچ کر قتل کیا ہے کہ انہیں عدالت اور انصاف پہ یقین نہیں تو کل قتل ہونے والوں کے ہمدرد بھی اسی سوچ کے ساتھ اسی راہ میں ان کے شریک نہ ہوجائیں۔ اور پھر معاملات متبادل بیانیہ کے لالی پاپ پکڑانے والے حکمرانوں کے ہاتھوں سے بھی نہ نکل جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ماں کے نام - طیب سکھیرا

جب درسگاہیں ، قتل گاہیں بن جائیں تو لوگوں کے لیے کیا جائے امان رہ جائے گی۔ آنکھوں میں جگنوؤں کی طرح نئی دنیا کے خواب سجائے نوجوانوں کو اللہ اکبر کہہ کر اسی طرح اسلام کی قربان گاہ کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہےگا۔

چلو کہیں کہ شہرِ اماں میں
کوئی اماں نہیں ہے
چلو کہیں کہ اب
موت بٹتی ہے درس گاہ میں
چلو کہیں کہ ان درس گاہوں میں
قلم نہیں اب کفن سجے ہیں
چلو کہ اب ان کو
قتل گاہوں کا نام دے دیں
چلو کہ منصفوں کو بتا دیں
کہ انصاف
انصاف گاہوں کا محتاج اب نہیں ہے
کہ اس کی آنکھ پہ لپٹی سیاہ پٹی
درس گاہوں میں بٹ رہی ہے
میرے معلم، میرے محافظ کوئی بھی
محفوظ اب نہیں ہے
سیاہ پٹی پہنے ہوئے یہ وحشی
درس گاہوں میں آ بسے ہیں
مگر کل یہ نکلیں گے شاہراہ پہ
تو گھر بھی محفوظ کب رہیں گے؟
چلو کہیں کسی اور
سیارے پہ جا بسیں اب
چلو کہ موت کی آہٹیں اب قریب تر ہیں
چلو کہ زندگی بھی نظر چرا کے گزر گئی ہے
چلو کہ شہرِاماں میں کوئی اماں نہیں ہے

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں