’’انصاف فراہمی کی ذمہ داری کس پر؟‘‘ - احسان کوہاٹی

سیلانی اپنے لیپ ٹاپ پر ’’آوارہ گردی‘‘ کر رہا تھا اور یہ آوارہ گردی کرتے ہوئے وہ نئی دہلی پہنچ گیا جہاں بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی سے پھولوں کا گلدستہ وصول کرتے ہوئے حسینہ واجد کے چہرے پر ویسی ہی مسکان تھی جیسے ایک خدمت گزار باندی کے چہرے پر ہونی چاہیے. اپنے ملک میں مسلمانوں کے سروں پر پاؤں رکھنے والے مودی جی نے بنگلہ دیش کی مسلمان وزیر اعظم کا پرتپاک استقبال کیا تھا اور انہیں پانچ سو ملین ڈالر کا قرضہ دینے کی بھی پیشکش کر ڈالی تھی. بنگلہ دیش کو اپنا طفیلی رکھنے کے لیے یہ پانچ سوملین ڈالر کوئی بڑی رقم نہیں، بنیا ایک ایک ٹکہ وصول کرنا جانتا ہے اور وہ وصول کرکے بھی رہےگا. ساتھ میں وہ دائیں بازو کے ان تمام سرکردہ رہنماؤں کی پھانسی گھاٹوں پر جھولتی لاشیں بطور سود بھی وصول کرے گا جن سے اکہتر سے پہلے والے پاکستان کی بو آتی ہے۔ بھارت کے اس احسان کوبنگلہ دیش نیشنل پارٹی نے حسینہ واجد کی دہلی یاترا سے پہلے ہی رد کر دیا تھا، بی این پی کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ بنگلہ دیش کی ملکی سالمیت رسک ہوگا۔

سیلانی کو حسینہ واجد سے کیا دلچسپی ہونی تھی، اس نے لیپ ٹاپ کا بٹن دبایا اور آگے بڑھ گیا. اب اس کے سامنے ایک بہت بڑا آگ کا الاؤ تھا یہ ایسا ہی تھا جیسے سینکڑوں آتش فشاں ایک ساتھ لاوا اگلنا شروع کر دیں، یہ دنیا کے سب سے بڑے غیرایٹمی بم کی تباہی کی فوٹیج تھی، امریکہ نے تیس فٹ لمبے اور 21,600 پونڈوزنی بم اپنے پڑوس میں افغانستان پر گرایا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ اس بم سے صرف چھتیس دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں، کوئی سویلین نہیں مارا گیا۔

اسی طرح کی آوارہ گردی کے دوران ہی اسے مردان یونیورسٹی میں ایک طالب علم کے قتل کی خبر نے چونکا دیا، سیلانی نے سوشل میڈیا کا رخ کیا تو وہاں ایک فربہی مائل کلین شیو نوجوان کی تصویر گردش کر رہی تھی، یہ تصویر مشعال خان کی تھی جو عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں صحافت کا طالب علم تھا. سوشل میڈیا کے سیلاب میں بہہ کر آنے والی اطلاعات کے مطابق مشعال خان لبرل خیالات کا حامل نوجوان تھا اور اس نے کچھ نوجوانوں کے ساتھ بحث میں ایسے جملے کہے کہ جس پر طلبہ مشتعل ہوگئے، وہ لڑائی جو لفظوں سے شروع ہوئی تھی ہاتھوں تک پہنچ گئی، یونی ورسٹی کے مشتعل طلبہ نے اس پر گستاخی ء مذہب کا سخت الزام لگایا، وہیں عدالت لگائی، وہیں فیصلہ بھی سنا دیا اور پھر وہیں فیصلے پر عمل بھی شروع ہوگیا، مشعال کو ڈنڈوں سے پیٹا گیا، پتھر مارے گئے اور اس کی جان لے لی گئی ۔

سیلانی نے وہ ویڈیو بھی دیکھی جس میں مشعال مشتعل طلبہ کے غیض و غضب کا نشانہ بن چکا تھا، فوٹیج میں اس کی برہنہ لاش زمین پر پڑی ہوئی تھی، اور غضبناک طلبہ اس کے بے حس و حرکت وجود کو ٹھڈے مار رہے تھے، سوشل میڈیا پر مشعال خان کے قتل نے طوفان کھڑا کر دیا، فیس بک پر سیکولر، لبرل دانشوروں نے فورا مورچے سنبھال لیے، کسی نے انتہا پسندی کے خلاف بمباری شروع کر دی اور کسی نے مولویوں کو فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کر دیا، مذمت ،مذمت اورمذمت۔۔۔ ہر شخص ہی مذمت کر رہا تھا، سیلانی کو زیادہ تفصیلات معلوم نہیں تھیں، معاملہ دور پار کا تھا اور وہاں کوئی یار دوست بھی ایسا نہ تھا، پھر معاملہ بھی تو بہت نازک تھا، سیلانی نے اصل صورتحال جاننے کے لیے پشاور میں نمائندہ امت زبیر خان سے رابطہ کیا

یہ بھی پڑھیں:   ہمارےتین لیڈروں کے عدالتی رویے - عمران زاہد

’’السلام علیکم زبیر بھائی! یہ مردان والا واقعہ کیا ہے، مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا‘‘. سیلانی نے سلام کلام کے بعد اپنا مدعابیان کیا
’’سیلانی بھائی!معاملہ بہت ہی حساس نوعیت کا ہے، اس لیے یقین سے کچھ کہا نہیں جا سکتا‘‘
’’بالکل ٹھیک بات ہے، یہ بات تو تفتیش کرنے والوں کے لیے چھوڑنی چاہیے کہ اس طالب علم نے کوئی گستاخی کی یا نہیں لیکن اس طالب علم کے بارے میں کچھ پتہ چل سکا ہے کہ کون تھا کس طرح کا تھا؟‘‘
’’سیلانی بھائی سفید پوش گھرانے سے تھا، والد شاعر ہیں، صحافت کا طالب علم تھا لبرل خیالات کا تھا اور روس بھی جا چکا ہے‘‘
’’کیا کیا کیا ۔۔روس بھی جا چکا ہے؟‘‘
’’جی روس میں بھی رہ چکا ہے اور سب سے چونکانے والی بات یہ کہ اسی روز صبح اسے یونیورسٹی انتظامیہ نے معطل بھی کر دیا تھا ‘‘
ارے ۔۔۔۔‘‘سیلانی کا چونکنا فطری تھا
’’جی! کچھ طلبہ کی شکایت پر اسے معطل کیا گیا تھا‘‘
’’شکایت کیا تھی؟‘‘
’’طلبہ نے توہین مذہب کی شکایت کی تھی جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے اسے معطل کر دیا تھا‘‘
’’اوہ! آپ تو بڑی عجیب بات بتا رہے ہیں ‘‘
’’پھر یہ کہ معطل کیے جانے کے بعد بھی مشعال یونیورسٹی ہی میں رہا جس کے بعد یہ واقعہ پیش آیا اور اسے مارنے والے جمعیت طلبہ اسلام یا اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکن نہیں تھے، سی سی ٹی وی کیمروں سے جن کی شناخت ہوئی ہے، وہ تحریک انصاف اور پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلبہ بتائے جاتے ہیں‘‘۔

زبیر خان کی اس واقعے کے حوالے سے چودہ اپریل کو خصوصی رپورٹ شائع ہوچکی تھی، وہ پندرہ اپریل کی رپورٹ کے لیے مصروف تھے، اس لیے سیلانی ان سے زیادہ بات نہیں کر سکا. سوشل میڈیا پر ایک بار محاذ گرم تھا، ہر شخص مذمت کی ٹوکری لیے دانشور بنا پھر رہا تھا، سیکولر لبرل ذہن کے لوگوں کا کہنا تھا کہ مشعال خان نے ایسا کچھ کیا بھی تھا تو اس کو سزا دینے والے اس کی زندگی چھینے والے یہ جھتہ کون ہوتا ہے؟ ان ظالموں نے ایک ماں کی ممتا اجاڑ دی اور ایک باپ سے اس کا سہارہ چھین لیا۔ سیلانی نے ان کی اس بات سے صد فیصد اتفاق کیا، ایسا کرنے کا اختیار کسی فرد یا گروہ کے پاس ہر گزنہیں ہے، توہین مذہب یا توہین رسالت ﷺ کا الزام ثابت کرنے کی جگہ چوک چوراہے نہیں لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ آج تک توہین رسالت ﷺ کا الزام کسی پر ثابت بھی نہ ہو سکا، جیلوں کے پھانسی گھاٹ پر مجرموں سے زندگیاں چھیننے والے کسی جلاد نے کسی شاتم،گستاخ کی گردن میں پھندا نہیں ڈالا، کسی گستاخ کی گردن کا منکا نہیں ٹوٹا، کسی شاتم کا غلیظ وجود جیل کی پھاٹک سے باہر نہیں آیا، آخر کیوں؟

یہ بھی پڑھیں:   عدل کے بارے میں سُنَّۃُ اللّٰہ - مفتی منیب الرحمن

مشعال ناحق قتل ہوا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا اس کے قتل کی ذمہ دار عدلیہ کا بانجھ پن نہیں؟ اس کے ذمہ دار تفتیش کرنے کا اختیار رکھنے والے ادارے اور حکمران نہیں ؟ آسیہ مسیح نے گستاخی کی تھی یا نہیں کی، وہ کہاں ہے؟ اس کا کیس مقدمہ کہاں ہے، اس پر فیصلہ کہاں ہے؟ فیس بک پر آئے دن گستاخ، شاتمین اپنی پلید ذہنیت کا گند پھیلاتے رہتے ہیں، وہ کون ہیں؟ گرفت میں کیوں نہیں آتے؟ ان پر مقدمہ کیوں نہیں چلتا؟ جب تک عدالتیں بانجھ رہیں گی، پولیس اور تفتیشی ادارے مصلحت کی کرسی پر جھولتے رہیں گے، ہمیں کتنا ہی برا لگے، غلط یا درست فیصلے اسی طرح چوک سڑکوں اور چوراہوں پر ہوتے رہیں گے، عدلیہ فیصلے سنبھالنے کے بجائے سنانا شروع کر دے، مجرموں کو لٹکانا شروع کر دے تو دریدہ دہنوں کے لب بھی سل جائیں گے اور لوگ شاتمین کا گندا خون زمین پر پھیلانے کے بجائے تھانوں میں جا کر رپورٹ درج کرائیں گے، عدالتوں کی سماعتوں میں پہنچیں گے، یہاں تو عام مقدمات کا حال یہ ہے کہ قیدی جیل میں سانسیں پوری کر چکا ہوتا ہے، اور عدالت اس کی موت کے دو برس بعد اسے باعزت بری کرنے کا حکم دیتی ہے، ایسی عدالتوں پر کون اعتماد کرے۔

عدالت کو سوموٹو نوٹس لے کرمشعال خان قتل کو ٹیسٹ کیس بنانا چاہیے، پوری تفتیش ہونی چاہیے کہ مقتول نے ایسی کوئی بات کہی تھی؟ اس کے کمپیوٹر لیپ ٹاپ یا موبائل کا فرانزک ہونا چاہیے، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہونا چاہیے، صرف سیکولر یا لبرل ہونا کوئی جرم نہیں، روس جانے پر بھی ایسی کوئی دفعہ نہیں لگتی، اگر مشعال خان نے ایسی کوئی گستاخی نہیں کی تواسے مارنے والوں کو مشعال کے پاس پہنچانے میں سیکنڈ کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے، ان کی گردنوں کے منکے بھی ٹوٹنے چاہییں جنہوں نے بے گناہ انسان پر ایک خوفناک الزام لگا کر قتل کیا، اور اگر مشعال مجرم ثابت ہوا تو معزز جج صاحبان کو سر جوڑ کر بیٹھیں اور مقننہ بھی سوچے کہ کس طرح چوک چوراہوں کی عدالتیں روکی جائیں، لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ عشاق رسول ﷺ کسی قیمت پر آقاﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کریں گے، عدالتوں میں فیصلے نہیں ہوں گے تو چوک چوراہوں پر عدالتیں لگیں گی جیسے ماضی میں لگتی رہی ہیں. سیلانی یہ سوچتا ہوا خالی خالی نظروں سے مشعال خان کی تشدد زدہ لاش بس دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا.

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں