ولی خان یونیورسٹی میں نوجوان کا قتل - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

آج عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں ایک نوجوان طالب علم پر توہین مذہب کے الزام میں اس قدر تشدد کیا گیا کہ وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا. انا للہ و انا الیہ راجعون.
اس واقعہ میں مرحوم طالب علم کا ایک ساتھی شدید زخمی بھی ہوا ہے. بلاشبہ یہ انتہائی الم ناک سانحہ ہے.

ملزم کو مجرم ڈیکلیئر کرنا عدالت کا کام ہے اور وہی سزا بھی سناتی ہے. کسی بھی صورت یہ کام فرد یا گروہ کے ہاتھ میں نہیں دیا جا سکتا. صرف اس لیے نہیں کہ وہ لوگوں کو اپنی صوابدید پر مارتے پھریں گے، بلکہ اس لیے بھی کہ ایک دن کوئی دوسرا اپنی صوابدید پر انہیں بھی واجب القتل قرار دے کر اپنے تئیں ’’ثواب‘‘ کا حق دار ٹھہر جائے گا.

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وقت قرآن موجود تھا اور قتل، چوری اور زنا کی سزائیں قرآن میں بالکل واضح طور مذکور ہیں. پھر لوگ اپنے مقدمات کیوں نبی کریم کے پاس لاتے تھے؟ خود ہی کیوں نہیں گردنیں مار دیتے تھے؟ اس لیے کہ سزا اور انتقام میں فرق ہوتا ہے. ایک میں عدل کا قیام مقصد ہوتا ہے اور دوسرے میں محض جذبات کی تسکین.
اللہ تعالی ہمیں ہدایت سے نوازیں. آمین.

ایک چھوٹی سی بات اور .... بصد احترام.
فیس بک پر اس حوالے سے بالکل خاموشی ہے. صرف ایک لمحہ کو سوچیے کہ اگر یہ واقعہ پنجاب یونیورسٹی میں ہوا ہوتا؟ سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے. اس وقت پختون پنجابی کا ایک پانی پت برپا ہوتا. کیا کیا کچھ نہ کہا جا رہا ہوتا.

عرض کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ایسا بدقسمت واقعہ کہیں بھی ہو سکتا ہے. اسے بس ایک حادثہ ہی سمجھنا چاہیے. جہالت کہیں بھی اپنا رنگ دکھا سکتی ہے. ایسے واقعہ کو بنیاد بنا کر ’’قوم پرستی‘‘ کی بات کرنا، آپس کے اتحاد کو نقصان پہنچانا دانشمندی نہیں. جس طرح اس واقعہ کو ایک حادثہ سمجھ کر بردباری کا مظاہرہ ہوا، یہی ہمارا بالعموم وتیرہ ہونا چاہیے.

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں