کلبھوشن یادیو اور فکری غداروں کا ٹولہ - رضوان اللہ خان

مارچ 2016ء میں بلوچستان سے گرفتار ہونے والا بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو ایرانی سرزمین چاہ بہار کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا رہا۔ ثبوتوں کے پیشِ نظر کلبھوشن کے بنیادی ٹاسک میں بلوچستان سے لے کر کراچی تک دہشت گرد کارروائیاں، جاسوسی کے نیٹ ورکس کا قیام اور پاکستان مخالف ذہن کو ابھارنا شامل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کلبھوشن کو فوجی عدالت کے تحت سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

کلبھوشن کے مقابلے میں کھڑا ہونے والا نیا معمہ کرنل زبیر حبیب کا ہے جنہیں دھوکے سے نیپال بلا کر اغوا کر لیا گیا۔ ایک نیا تاثر زور پکڑتا چلا جا رہا ہے کہ شاید کرنل زبیر حبیب کے بدلے میں کلبھوشن کو رہا کر دیا جائے لیکن یہاں چند باتیں حقیقت پسندی سے دیکھنا بہت اہم ہے۔ بنیادی طور پر اگر کرنل صاحب کے بدلے میں کلبھوشن کو چھوڑا جاتا ہے تو یہ نہایت ہی بھونڈی اور منافقانہ حرکت ہوگی کیونکہ دونوں کی گرفتاری اور کردار میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ قیدیوں کے تبادلے کے معاملے کا اگر جائزہ لیا جائے تو ہمیشہ یہ تبادلہ برابری کی سطح ہی پر کیا جاتا رہا ہے۔ جاسوس کے بدلے جاسوس، فوجی کے بدلے فوجی اور عام شہری کے بدلے عام شہری۔ معاملے کی نوعیت اس حوالے سے بھی ڈرامائی انداز میں مختلف ہے کہ کلبھوشن حاضر سروس جاسوس تھا جو کہ جعلی ایرانی پاسپورٹ کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوا اور پاکستانی حدود میں گرفتار ہوا، جبکہ کرنل زبیر حبیب ریٹائرڈ آفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ اوریجنل پاسپورٹ پر نیپال میں موجود تھے جہاں سے انہیں اغواء یا گرفتار کیا گیا۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ جہاں کلبھوشن ایک جاسوس ہے اور اسی بنا پر سزا کا اعلان ہوا، وہیں فکری غداروں کو بھی کوئی مہلت نہ دی جائے۔ یہ فکری غدار وہ خارشی ٹولہ ہے جنہیں ہمیشہ ہی بھارتی جاسوسوں اور دہشت گردوں کے لیے ’’سافٹ کارنر‘‘ دکھاتی تحریروں اور بیانات میں جانچا جا سکتا ہے۔ بلاول بھٹو سمیت وہ نام نہاد دانشور جو ہر دہشت گردی کے پیچھے مسلمانوں اور اسلام کو بدنام کرتے چلے آئے ہیں، اس بار بھی کلبھوشن کی پھانسی کے اعلان پر ’’جلتے توے‘‘ پر بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ماضی کی طرح اب بھی ’’اندر کھاتے‘‘ بھارتی جاسوس کی سزا معافی اور آزادی کی سازشیں جاری ہیں۔ ایسے دہشت گردوں میں سے ایک 1974ء میں کشمیرا سنگھ بھی تھا جسے اسلام آباد کے پشاور روڈ بم دھماکے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ الزامات ثابت ہونے کے بعد انکشاف ہوا کہ کشمیرا سنگھ ’’ابراہیم‘‘ کے نام سے دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا۔ گرفتاری کے بعد اس نے اسلام قبول کرنے کا جھوٹا اعلان بھی کیا، 2008ء میں پرویز مشرف نے پاکستان اور پاکستانی عوام کے اس مجرم کو صدارتی معافی کے ذریعے رہا کر دیا۔ کشمیرا سنگھ نے رہا ہونے اور بھارتی سرزمین پر قدم رکھتے ہی دھماکوں کا اعتراف کیا اور یہ اعلان بھی کر دیا کہ اسلام قبول کرنا محض جان بچانے کا ایک حربہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم سمجھنا ہی نہیں چاہتے - شیخ خالد زاہد

بات کشمیرا سنگھ کی ہو یا کلبھوشن کی، ریمنڈ ڈیوس کی ہو یا شکیل آفریدی کی، ہمیں معاشرے میں پھیلے قلم فروشوں، فکری غداروں، نظریاتی جاسوسوں اور علمی دہشت گردوں کے حوالے سے بھی محتاط رہنا ہوگا۔ یہی وہ ٹولہ ہے جو ہر دہشت گرد کارروائی کا تعلق اسلام اور جہاد سے جوڑنے کی کوشش میں مگن نظر آتا ہے اور ہماری عوام آسانی سے ان کی اس فکری دہشتگردی کا شکار ہوجاتی ہے۔ اس خارش زدہ ٹولے کا کام دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کو لفظوں کی ہیرا پھیری سے معمولی ثابت کرنا جبکہ اسلام دشمن طاقتوں کو سہارا دینا ہی رہا ہے۔

کلبھوشن یادیو کے حوالے سے عوامی رائے کو دیکھا جائے تو اس مخصوص ’’اقلیتی‘‘ احساسِ کمتری کے شکار اور فکری غلامی میں مبتلا گروہ کے سوا ہر ایک اس اس بھارتی دہشت گرد کی پھانسی کے انتظار میں ہے۔اسی لیے ایک بات تو واضح ہے کہ فوجی عدالتوں نے جہاں گذشتہ عرصہ میں پھانسی کی سزا سنانے کے بعد، سزا دینے میں تاخیر نہیں کی، وہیں اس معاملے میں دیر کرنا اسی جانب اشارہ ہوگا کہ ’’ڈوریں‘‘ ہلانے والی قوتیں اپنا آرڈر دے چکی ہیں۔

ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر حملے اور ان کی شہادت میں ملوث جاسوس شکیل آفریدی کے ذکر کے بعد ملک میں جاری اسی قسم کی ایک اور تشویشناک صورتحال سے آگاہی بھی ضروری ہے۔ عوام کو یاد ہوگا کہ شکیل آفریدی نے جاسوسی کا یہ کام پولیو ویکسینیشن مہم کی آڑ میں سرانجام دیا۔ جس کا اندازہ حسین حقانی کے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے مضمون سے بھی لگایا جاسکتا ہے، جس میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں سی آئی اے کے ایجنٹس کو بنا تحقیق بے شمار ویزے جاری کیے گئے تھے، اور یہ کارنامہ جناب آصف زرداری کی حکومت میں سرانجام دیا گیا۔ یہ بات دہرانے کا مقصد بےنظیر انکم سپورٹ پرگرام کے تحت کروائے جانے والے سروے سے متعلق موجود تحفظات سے پردہ فاش کرنا ہے۔ نواز شریف حکومت کا کردار یہاں بھی نہایت غیر ذمہ دارانہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس سروے میں سی آئی اے کے ایجنٹس، پرائیوٹ ادارے کے روپ میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے موجود ہیں۔ یہ سروے ’’سی پیک‘‘ روٹ پر واقع اضلاع میں کیا جا رہا ہے۔ جہاں غریبوں کی مدد کے لیے ان کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے علاوہ پریشان کن معمہ یہ ہے کہ گھروں کی دیواروں کی ساخت تک کو جانچا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم سمجھنا ہی نہیں چاہتے - شیخ خالد زاہد

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ’’سی پیک روٹ‘‘ جو کہ دہشت گردی کے’’ٹرائی اینگل‘‘ یعنی امریکہ، اسرائیل اور بھارت کی آنکھوں کا کانٹا ہے، اس سے منسلک اضلاع میں اس طرز کا ڈیٹا اکٹھا کرنا، غیر ملکی ڈونرز کی فنڈنگ، سی آئی اے ایجنٹس کی پشت پناہی اور امریکہ کی جانب سے بھارت کو جدید طرز کے ڈرون طیارے فراہم کرنا کسی نئی قسم کی تخریب کاری کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوسکتے ہیں. کیا یہی سارا کام خود سرکاری اداروں کی سرپرستی میں نہیں کروایا جاسکتا؟ اور کیا ہمارے ادارے ان فکری دہشت گردوں کے خلاف بھی کوئی ایکشن لیں گے جو پاکستان کے خلاف ہر محاذ پر رال ٹپکاتے نظر آتے ہیں جبکہ پاکستان دشمن عناصر کی محبت میں بچھے چلے جاتے ہیں۔

Comments

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان کالم نگار، فیچر رائٹر، مصنف اور تربیت کار ہیں۔ اسلام و پاکستان سے محبت ان کا نظریہ اور اپنی بنیادوں سے جُڑے رہتے ہوئے مثبت و متحرک معاشرہ ان کا خواب ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.