بھیا طُمطُراق بنے مہمان – حنا نرجس

حلیمہ کی ہنسی قابو میں نہیں آ رہی تھی. وانیہ بھی منہ پر ہاتھ رکھے اپنے قہقہے کو کم از کم کچھ دیر تک معطل کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی. امی تشویش میں مبتلا، کھانا ادھورا چھوڑ کر ایک دم آگے بڑھی تھیں. ابو بھی پریشانی سے اسی جانب دیکھ رہے تھے جبکہ ننھا انَس اس ساری صورتحال میں قدرے الجھ سا گیا تھا. اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ پریشان ہونا ہے یا ہنسنا ہے.

امی کے گھورنے پر بالآخر حلیمہ کی ہنسی کو بریک لگ ہی گئے اور وہ ان کا اشارہ پاتے ہی قالین پر بکھرے چاول سمیٹنے لگی. وانیہ چپکے سے کھسک لی اور کچھ ہی دیر کے بعد امی کا سیل فون ہاتھ میں لیے امی ابو کی نظر بچا کر بھیا کی شرمندہ اور ہونق سی شکل کو کیمرے میں محفوظ کرنے لگی.

اب تو ابو کے چہرے پر بھی دھیمی دھیمی سی ہنسی صاف نظر آ رہی تھی. بس ایک ہی چہرہ جھکا ہوا تھا اور وہ تھا بھیا طمطراق کا، نام تو ان کا واثق تھا لیکن ان کے ’’لائف سٹائل‘‘ کی وجہ سے ان کے اتنے بہت سے دوسرے نام خود بخود مشہور ہو گئے تھے کہ اصل نام اب صرف کاغذات تک ہی محدود رہ گیا تھا. کالج میں لڑکے انہیں ’’مسٹر ایٹی ٹیوڈ‘‘ کہتے، اکیڈمی میں وہ ’’شو آف بوائے‘‘ کے نام سے مشہور تھے جبکہ کالونی کے کھیل کے میدان میں لڑکے انہیں ’’شوخی بھائی‘‘ کہہ کر پکارتے. رہا گھر، تو حلیمہ اور وانیہ انہیں ’’بھیا طمطراق‘‘ ہی کہتیں. پھر پتہ نہیں کب اور کیسے یہ نام گھر سے نکلا، پھر کالونی سے ہوتا ہوا کالج اور اکیڈمی تک پہنچ کر ان کا معروف ترین حوالہ بن گیا. حیرت تو اس بات پر تھی کہ بھیا طمطراق کو ان میں سے کوئی بھی نام برا نہ لگتا بلکہ وہ پورے استحقاق سے یوں پکارا جانا اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہوئے وصول کرتے.

وجہ تسمیہ ان کا حد سے زیادہ تزک و احتشام، کروفر، دھوم دھام، شان و شوکت اور رعب و دبدبے سے رہنے کی اپنی سی کوشش کرنا تھا. بات کرتے تو یوں جیسے ان کا تعلق کسی نواب خاندان سے ہو اور چلتے تو یوں جیسے زمین پر احسان کر رہے ہوں. ایف ایس سی سالِ اول کے طالب علم تھے اور پہلی اولاد ہونے کے ناطے امی ابو کے بلکہ خاندان بھر کے بہت لاڈلے تھے.

چند دن پہلے کی بات ہے امی پتھر کا قیمتی اور نفیس سا ڈنر سیٹ خرید کر لائیں. بھیا طمطراق تو اس کی نفاست، بناوٹ، سفید رنگ پر ہلکے سِلوَر ڈیزائن اور مدھر سی اس کھنک سے بے حد متاثر ہو گئے جو پیالی کو پرچ میں رکھنے سے پیدا ہوتی. سب گھر والوں نے ڈنر سیٹ کے ایک ایک پیس کو اشتیاق سے دیکھا، پسند کیا، خوشی کا اظہار کیا اور پھر پیک کر کے رکھ دیا. لیکن کیا کِیا جائے کہ بھیا کو تو اس دن کے بعد سے گھر میں پہلے سے استعمال ہونے والے درمیانے درجے کے ڈنر سیٹ کھٹکنے لگے. وہ ان میں کھانا کھانا اپنی شان کے خلاف گردانتے اور ایک دن تو سرد آہ بھر کر کہنے لگے، “پتہ نہیں کوئی مہمان ہمارے ہاں کب آئیں گے اور پھر امی یہ سیٹ نکالیں گی اور پھر ہمیں بھی اُن کے ساتھ اِن برتنوں میں کھانا نصیب ہو گا.”

ابو قریب ہی لیٹے تھے. ایسی حسرت بھری آہ سن کر شفقتِ پدری سے مجبور ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے،” ملول کیوں ہوتے ہو، بیٹا؟ مہمانوں کا انتظار کیوں کیا جائے؟ ہم اپنے بیٹے کو ہی مہمان بنا لیتے ہیں. کیوں بیگم، کیا خیال ہے؟”
امی تو پہلے ہی بھیا کے صدقے واری جاتی تھیں، فوراً ہاں میں ہاں ملائی.
’’بس ٹھیک ہے پھر اس اتوار کو آپ سب گھر والوں کی میری طرف سے دعوت ہے. بیگم، مینیو بچوں کی مرضی سے سیٹ کر لو اور تمام درکار اشیاء کی فہرست بنا کر مجھے دے دو. اور ہاں خیال رہے دعوت کو بہترین اور شاندار بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے. کہیں یہ نہ سوچ لیجیے گا کہ گھر والے ہی تو ہیں، زیادہ اہتمام کیا کرنا. ٹھیک ہے نا؟‘‘ ابو نے پروگرام کو حتمی شکل دی.

بھیا طمطراق کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا. اٹھتے بیٹھتے خیالوں ہی خیالوں میں قیمتی پتھر کے برتنوں کی دل آویز جھنکار کے ساتھ بریانی، کباب، اچار گوشت، رس ملائی، کریم فروٹ چاٹ اور رشین سلاد کے مزے لیتے.

آج اتوار تھا. امی صبح سے مصروف تھیں. حلیمہ اور وانیہ بھی ان کا ہاتھ بٹا رہی تھیں. حلیمہ نویں جبکہ وانیہ چھٹی جماعت میں پڑھتی تھی. گھر داری اور کھانا بنانے میں دونوں ہی بہت دلچسپی رکھتی تھیں. ننھا انس بھی خوش تھا اور ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا. وہ دوسری جماعت میں پڑھتا تھا اور ابھی سے بھیا طمطراق سے بہت متاثر تھا.

کھانا پک کر تیار ہوا تو امی نے باورچی خانے سے آواز لگائی، “کھانا کہاں لگاؤں؟ ڈائننگ ٹیبل پر کھانا ہے یا لاؤنج میں قالین پر؟”
’’ڈائننگ ٹیبل پر ہی کھاتے ہیں، امی‘‘ حلیمہ بولی.
’’نہیں نہیں قالین پر دستر خوان بچھا لیتے ہیں.‘‘ ابو نے رائے دی.
’’امی مجھے تو آپ کے جہازی سائز نرم نرم بیڈ پر مزا آتا ہے. بیڈ پر ہی لگائیں کھانا.‘‘ یہ بھیا طمطراق کی آواز تھی اور بس فیصلہ ہو گیا. دستر خوان بچھا کر کھانا چن دیا گیا.

آج تو بھیا اپنا کاٹن کا کڑکڑاتا نیا سوٹ اور اس پر ویسٹ کوٹ پہنے خود بھی اکڑے اکڑے پھر رہے تھے. سب نے بیڈ پر نشستیں سنبھال لیں اور اپنی اپنی پلیٹ میں بریانی نکال کر اب کباب، رائتے اور سلاد کی جانب ہاتھ بڑھا رہے تھے. بھیا کھانا شروع کر چکے تھے. ان کے ہاتھوں کی ہر جنبش میں نفاست اور سٹائل ملاحظہ کیا جا سکتا تھا. ابھی شاید وہ تیسری بار چمچ بھر کر منہ کی جانب لے جا رہے تھے کہ اچانک ہی وہ ہو گیا جس کا گمان بھی نہیں تھا. بھیا طمطراق الٹ کر پچھلی جانب قالین پر گر چکے تھے اور ان کے ہاتھ میں پکڑی بریانی بھری پلیٹ خود انہی پر الٹ چکی تھی. شاید وہ دعوت کی خوشی میں بے دھیانی سے کچھ زیادہ ہی کنارے کی جانب بیٹھ گئے تھے. ان کی قمیض کے دامن پر بریانی میں موجود مصالحوں اور رائتے نے مل کر عجیب نقش و نگار بنا ڈالے تھے جبکہ کباب ایک طرف قالین پر الٹے پڑے اپنی ناقدری پر نالاں نظر آ رہے تھے.

دعوت کے مہمانِ خصوصی بری حالت میں فرش سے اٹھتے ہوئے اپنے حواس درست کرنے اور شرمندگی و گھبراہٹ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے تھے. امی پلیٹ چھوڑ کر انہیں اٹھانے کو لپکیں. مقام شکر تھا کہ نرم قالین کی وجہ سے پلیٹ ٹوٹ کر ان کو زخمی کرنے میں ناکام رہی تھی. حلیمہ اور وانیہ کو بھیا کے طمطراق پر پڑنے والی کاری ضرب ہنسائے جا رہی تھی.

بھیا کپڑے تبدیل کر کے آئے. پھر کھانا تو کھا لیا گیا لیکن بھیا کی نظریں اور سر جھکا ہی رہا کیونکہ وہ جانتے تھے ان کی شرارتی بہنیں اب اگلے کئی دن تک ان کا ریکارڈ لگائے رکھیں گی.

Comments

FB Login Required

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

Protected by WP Anti Spam