کراچی کی اگلی سرکار کس کی - ثمینہ رشید

یوں تو الیکشن میں ابھی ایک سال باقی ہے لیکن پاناما کے متوقع فیصلے نے سب کے دلوں میں الیکشن کے جلد ہونے کی امید بڑھا دی ہے۔ اس معاملے میں صرف پی ٹی آئی ہی نہیں، سب سیاسی جماعتوں کو قبل از وقت الیکشن ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ خود حکومتی جماعت بھی اپنی اننگز کے آخری اوورز کو بہت سوچ سمجھ کر کھیلنا چاہتی ہے۔

اب جہاں ہر جماعت اپنے اپنے زیرِ اثر علاقوں میں سیاسی درجۂ حرارت بڑھانے میں مصروفِ عمل ہے، وہیں کراچی اب تقریباً ساری بڑی جماعتوں کی توجہ کا سب سے اہم مرکز ہے۔ اس وقت کراچی کی بساط پہ جتنے بھی کھلاڑی ہیں یا یوں کہیے کہ ملک میں ایم کیو ایم کے علاوہ ساری بڑی جماعتیں اپنی سیاسی طاقت اور کراچی والوں کے سچے ہمدرد ہونے کو جی جان سے ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔ کراچی اور کراچی والوں سے ہمدردی کا یہ بخار تقریباً ساری سیاسی جماعتوں کو ایک ساتھ ہی چڑھا ہے، کراچی کے باسیوں کی آنکھ بس محوِ تماشا ہے۔

کراچی آپریشن کے نتیجے میں بالواسطہ یا بلاواسطہ الطاف حسین کی پارٹی سے علیحدگی (یا پارٹی کی الطاف حسین سے علیحدگی) ہوچکی ہے۔ اس کے بعد سے ایم کیو ایم جو اب ایم کیو ایم پاکستان ہو چکی ہے، فاروق ستار کی سربراہی میں اپنی جماعت کی سیاسی حیثیت کی بحالی یا قائم رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے بارے میں عمومی یا غالب گمان یہی ہے کہ اس کی سیاسی حیثیت کو ناقابلِ تلافی ضرب لگائی جا چکی ہے۔ پی ایس پی کو جس طرح سے کراچی کی سیاست میں زبردستی داخل کرنے کی کوشش کی گئی (اور مسلسل کی جا رہی ہے) یہ بھی اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اس وقت ساری بڑی پارٹیز کے نزدیک تختِ کراچی کو اب ایک نئے بادشاہ کی تلاش ہے۔ اب چاہے مسلم لیگ ن ہو یا پیپلز پارٹی، تحریکِ انصاف ہو یا جماعتِ اسلامی، کراچی پہ راج کرنا ہر ایک کا خواب ہے۔

ایم کیو ایم کی سیاسی حیثیت کو بظاہر کمزور کرنے کے بعد سے باقی سیاسی جماعتوں کو لگتا ہے کہ کراچی کے لوگ اس وقت سیاسی یتیمی کا شکار ہیں اور جو بھی اس وقت ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر ہمدردی کا اظہار کرے گا، وہ خود کو اس کے حوالے کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ اس خوش فہمی کا شکار ہونے والوں میں سب سے پہلا نام تو پی ایس پی کا ہے جسے ایم کیو ایم کے مقابلے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا اور تشکیل دینے والوں کو امیدِ واثق ہے کہ ایم کیو ایم کے تمام ووٹ چٹکی بجاتے ہی پی ایس پی کی جھولی میں آگریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   فیصلہ محفوظ، کیا نوازشریف بھی؟ آصف محمود

پیپلز پارٹی کی کراچی کے ضمنی الیکشن میں ایک غیر متوقع نشست پہ کامیابی اور بلدیاتی الیکشن میں بہتر کارکردگی سے اسے بھی کراچی میں اپنی بارہ دری سجانےکے خواب آنے لگے ہیں۔ پیپلز پارٹی کراچی پہ بلاشرکت غیرے نہ سہی، اب پی ایس پی کے ساتھ مل کر راج کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے، اور یہ اس کا پرانا خواب ہے۔ اس مقصد کے لیے پیپلزپارٹی کے دو نمبر ہتھکنڈوں کے کافی مہرے رینجرز نے بےکار کر دیے ہیں۔ عزیر بلوچ جیسے لوگ جو شہر میں پیپلز پارٹی کے لیے متوازی حکومت کیا کرتے تھے، آج سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ کراچی کی موجودہ خستہ حالت، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور کچرے کے ڈھیر کے علاوہ کراچی کے عوام میں اس گندگی کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریاں، سب کی ذمہ دار براہ راست پیپلز پارٹی ہے۔

حکومتی جماعت ن لیگ بھی الیکشن کی تیاریوں کے ضمن میں ایم کیو ایم سے بات چیت اور الیکشن سے پہلے گٹھ جوڑ کے ساتھ ساتھ کچھ نئے پروجیکٹس کا اعلان کر چکی ہے۔ یہی نہیں حکومت کراچی آپریشن کے نتائج اور کراچی میں امن کو بھی اپنا کریڈٹ کہتی ہے۔ گورنر سندھ محمد زبیر نے گزشتہ دنوں اس پر کھل کر بیان دیا، اور کئی حکومتی وزیر اس ضمن میں بیان دیتے نظر آتے ہیں کہ کراچی والوں نے اگر انہیں خدمت کا موقع دیا تو کراچی کی حالت راتوں رات بدل دی جائے گی۔

ادھر چار سال گزرنے کے بعد جماعتِ اسلامی والوں کو بھی کراچی کی حالت زار نظر آگئی ہے، اس لے پچھلے تین چار ہفتوں میں کے الیکٹرک کے خلاف مسلسل مظاہروں کے ساتھ اس کے کراچی کے رہنماؤں کی گرفتاری اور پھر دھرنے، کراچی کی سیاست کے دھارے میں جماعت کو شامل کرنے کی ایک عمدہ کوشش ہے۔

پی ایس پی کا اپنی پوری سیاسی قیادت کے ساتھ پچھلے نو دن سے کراچی پریس کلب کے سامنے دھرنا جاری ہے۔ کراچی کے موجودہ مسائل سے متعلق ان کے مطالبات حکومت سندھ خلافِ توقع سنجیدگی سے لینے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ ایک چھوٹی سی پارٹی جس کو بنے صرف ایک سال ہوا ہے، اس کے مطالبات کے حوالے سے سندھ حکومت کے نمائندے نہ صرف پارٹی سے رابطے میں ہیں بلکہ مطالبات کے حوالے سے بات چیت بھی مسلسل جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف لڑنا جانتا ہے، آپ کھانا کھائیے! حافظ یوسف سراج

پی ٹی آئی بھی زور و شور سے بجلی و پانی کے حوالے سے سرگرم بلکہ زیادہ ہی سرگرم دکھائی دیتی ہے۔ کراچی کا بڑھتا ہوا درجۂ حرارت ڈاکٹر عارف علوی کے مزاج پہ بھی اس طرح اثرانداز ہوا کہ انہیں کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے دفتر کے باہر پولیس سے باہم دست وگریبان ہونے پہ مجبور دیکھا گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ حکومت چاہے پیپلز پارٹی کی ہو یا مسلم لیگ نون کی، کراچی کے رہنے والوں نے کبھی کسی ایک آپریشن کے نام پر لاشیں اٹھائی ہیں اور کبھی دوسرے آپریشن کے نام پر۔ علی گڑھ کا واقعہ کراچی کے رہائشیوں کے دل پہ لگا وہ زخم ہے جس کا مندمل ہونا کئی دہائیوں کے بعد بھی آسان نہیں۔ بوریوں میں بند لاشیں، بھتہ خوری، قتل و غارت، اغواء برائے تاوان اور اسٹریٹ کرائمز، پانی و بجلی اور ٹریفک کے مسائل، کچرے کے ڈھیر اور ٹوٹی ہوئی سڑکیں کون سی مشکل ہے جو اس شہر کے باسیوں کو درپیش نہیں۔ اور کون سا داغ ہے جو اس شہر کے دل پہ موجود نہیں۔

اس پورے قصے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کراچی کے رہنے والے کیا سوچتے ہیں اور کیا چاہتے ہیں؟ اس وقت اس شہر کے باسیوں کے دل اور اعتماد جیتنا آسان نہیں۔ پچھلے تیس سال کی سیاسی رفاقت اور رشتے سے منہ موڑنا کراچی والوں کے لیے آسان ہوگا یا نہیں، اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں