کلبھوشن پھانسی معاملہ، ایک "رد الغدار" کی بھی ضرورت - جاوید حسین آفریدی

چند روز قبل ایک فوجی عدالت نے بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کو پھانسی کی سزا سنائی جس پر آجکل ملکی و بین الاقوامی میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی کافی بحث چل رہی ہے۔ اس جاسوس کا مکمل نام کلبھوشن سدھیر جادھو ہے جو بھارت کے شہر ممبئی کا رہائشی اور بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر ہے۔ 2013ء میں بھارت کی خفیہ ایجنسی "را" نے "حسین مبارک پٹیل" کے نام سے اسے بطور جاسوس پاکستان بھیجا۔ اس کا مذموم مقصد پاکستان مخالف تحاریک کو ہوا دینا تھا اور یہ را کے جوائنٹ سیکریٹری انیل کمار گپتا کے ماتحت تھا۔

25 جولائی 2016ء کو پاکستانی حکام نے اسے بلوچستان کے ضلع نوشکی سے ایرانی سرحد پار کرتے ہوئے پکڑا۔ طویل پوچھ گچھ کے بعد اس نے بلوچستان اور کراچی میں عدم استحکام کو ہوا دینے، بالخصوص بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریک میں اہم کردار ادا کرنے کا اعتراف کیا۔

کلبھوشن پاکستان کی سرزمین پر علیحدگی پسند اور عدم استحکام کی خواہشمند تحاریک کو آکسیجن فراہم کرتا رہا اور اس پورے عمل میں اسے مقامی امداد حاصل تھی جن میں کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ اور بلوچستان میں بلوچ لبریشن فرنٹ قابل ذکر ہیں۔ انہیں را کی طرف سے باقاعدہ فنڈنگ بھی ہوتی تھی جو بلوچستان اور کراچی میں دہشت پھیلانے، علیحدگی پسند عناصر کو ابھارنے اور معصوم لوگوں کو مار کر یہ تاثر دینے میں استعمال ہوتی تھی کہ یہ کام فوج کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ گوادر، پسنی اور جیوانی کے علاقوں میں اہم تنصیبات کو تباہ کرنا بھی ہدف تھا۔

بھارت کی تو ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ ہر زاویے سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرے۔ اسی کی کوششوں گی وجہ سے بلوچستان اور قبائلی علاقوں کے ساتھ ساتھ کراچی میں حالات کشیدہ ہوئے اور ہماری بے پروائی اسے مزید خرابی کی جانب لے گئی۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں اس کا خمیازہ ہم بھگت ہی چکے ہیں جو ہر محب وطن پاکستانی کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔

بہرحال، کلبھوشن جادھو کو پھانسی سنائے جانے کے فیصلے سے عوامی حلقوں میں خوشی پائی جاتی ہے اور پوری قوم اس فیصلے پر مطمئن اور پرمسرت نظر آ رہی ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ مخصوص بھارت نواز طبقوں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ وہ مختلف حیلے حربے استعمال کرکے اس فیصلے کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ جو خود کو پھانسی کے خلاف کہتے ہیں، لیکن ممتاز قادری کی پھانسی کے معاملے پر ان کی زبانوں پر تالے تھے۔

کراچی اور بلوچستان کے حالات سب کے سامنے رہے ہیں، جن میں بلاشبہ ان آستین کے سانپوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے جو اپنے ملک میں بیٹھ کر اس سے غداری کر رہے ہیں۔ اس لیے 'رد الفساد' کے ساتھ ایک آپریشن 'رد الغدار' کی بھی ضرورت ہے۔