بڑا آیا رپورٹنگ کرنے - ساجد ناموس

چین میں اب ’’رپورٹنگ‘‘ روبوٹ کریں گے، چین کی ایک معروف میڈیا کمپنی نے ’’انسپائر نامی روبوٹ‘‘ کو انٹرنی رپورٹر کے طور پر رکھ لیا ہے۔
خبر پڑھتے ہی مجھے ایک واقعہ یاد آیا، اسے پڑھ کر فیصلہ کر لیں کہ کیا یہ پاکستان میں ممکن ہے۔؟

رواں حکومت کے ابتدائی سالوں میں وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان وزیراعظم نواز شریف سے ناراض ہوگئے. وزیراعظم لاہور میں رائے ونڈ جاتی امراء آئے ہوئے تھے، وزیراعلی پنجاب شہباز شریف چوہدری نثار علی کو لے کر وزیراعظم سے صلح صفائی کے لیے پہنچ گئے. ایک سینئر پولیٹیکل رپورٹر جس کی بیٹ تو نہیں تھی لیکن اس دن اس کو کوریج کے لیے بھیج دیا۔ صبح نو بجے سے ڈی ایس این جی اور پوری ٹیم اسپاٹ پر موجود تھی، دوپہر کے بارہ بج گئے، لیکن خبر تو کیا کوئی ٹکر بھی نہیں آیا۔ ہفتے کا دن، خبروں کا قحط ہو، ایسے میں ہیڈ آفس سے فون آیا، ’’یار کچھ نکالو ملاقات میں سے خبر‘‘۔ اب جب ہیڈ آفس سینٹرل نیوز روم کی ضرورت ہو تو سمجھو ہر چیز چلے گی، رپورٹر کو فون کیا اور صورتحال بتائی. اس نے کہا کہ میں کیا کروں کچھ بھی نہیں ہے. پوچھا کہاں کھڑے ہو تو اس نے کہا کہ جہاں بغیر بلائے آئیں تو کھڑا ہونا پڑتا ہے، یعنی کہ ملاقات اندر ہو رہی ہے اور میڈیا کوریج کے لیے آئی ہوئی ٹیمیں نوازشریف کے فارم ہاؤس سے کم و بیش دو کلومیٹر دور کھڑی ہیں، باہر سڑک پر دھوپ میں۔

پھر ایک اسائنمنٹ ایڈیٹر اور ایک سینئر رپورٹر میں باہمی اتفاق کے بعد ٹکرز اور خبریں ٹی وی اسکرینز پر نمودار ہوئیں، وہ کچھ اس طرح سے تھیں۔
وزیرداخلہ کا ہیلی کاپٹر رائےونڈ پہنچ گیا۔ (حقیقت یہ تھی کہ وزیرداخلہ اس ٹکرز کے چلنے کے دو گھنٹے بعد پہنچے تھے بذریعہ گاڑی)۔
چوہدری نثار علی خان جیسے ہی رائے ونڈ پہنچے۔ نواز شریف نے چوہدری نثار کا داخلی گیٹ پر آکر استقبال کیا۔ (امیج بلڈنگ کے اس جملے کی کون تردید کرسکتا ہے)۔
چوہدری صاحب! آپ تو ناراض ہی ہوگئے۔ وزیر اعظم نوازشریف
ناراض تو اپنوں سے ہی ہوا جاتا ہے۔ چوہدری نثار کا نوازشریف کو جواب

بس پھر کیا تھا، اسکرینوں پر بریکنگز چلنے لگیں، اور میڈیا کو بیچنے کے لیے دھانسو چورن مل گیا۔ صرف ایک چینل پر نہیں بلکہ دیگر نیوز چینل پر بھی کم و بیش ایک جیسے الفاظ کے ساتھ خبریں چلتی نظر آئیں۔ معاملہ صرف یہاں تک ہوتا تو کوئی اچھنبے کی بات نہ تھی لیکن جب ملاقات ختم ہوئی تو بی بی سی کی ویب سائٹ پر بھی انھی الفاظ کے ساتھ خبر موجود تھی۔ سب سے مستند اور سب سے قابل اعتماد بی بی سی پر ان الفاظ کو دیکھ کر پتہ چل گیا کہ ہماری خبریں کتنی مستند ہوتی ہیں۔

اب آپ بتائیں، کیا کوئی روبوٹ پاکستان میں رپورٹنگ کر سکتا ہے؟
ہونہہ! بڑا آیا رپورٹنگ کرنے۔

Comments

ساجد ناموس

ساجد ناموس

ساجد ناموس دشتِ صحافت کے سیاح ہیں۔ دنیا نیوز سے بطور اسائنمنٹ ایڈیٹر وابستہ ہیں۔ جامعہ پنجاب کے شعبہ ابلاغ عامہ کے گریجویٹ سیاسی میدان کی خاک بھی چھانتے رہے۔ کاٹ دار جملے اور نوک دار الفاظ تحریر کا خاصہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */