اباحیت پسندی کا بیانیہ - محمد زاہد صدیق مغل

انتہاپسندی کے بیانیے پر خورشید صاحب کا تازہ کالم نظر سے گزرا۔ کالم میں اسی بنیادی غلطی کو پھر سے دہرا دیا گیا ہے جو ’’متبادل بیانیہ‘‘ پیش کرنے والے شوقین احباب سالہا سال سے کہتے آرہے ہیں اور جس کا متعدد بار جواب دیا گیا ہے۔ چنانچہ اس بار مناسب یہ لگتا ہے کہ ان حضرات کو جواب انھی کی منطق پر دیا جائے۔ تو لیجیے، اب اپنے متبادل بیانیے اور اباحت پسندی کے مابین اسی قسم کا ’’منطقی ربط‘‘ پڑھیے اور پھر اگر دل چاہے تو ہماری ہی طرح سر دھنیے کیونکہ ہم بھی اس منطق پر یہی کرتے ہیں۔

1. خلافت کوئی دینی اصطلاح نہیں اور نہ ہی دین کو یہ مطلوب ہے کہ تمام مسلمان مل کر ایک نظام اجتماعی کے تحت زندگی بسر کریں۔
2. اسلام میں ریاست و حکومت نامی شے قائم کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا، یہ گمراہ کن تصور بیسویں صدی کی پیداوار ہے اور بدعت ہے۔
3. انسانوں کی وحدت کی فطری بنیاد تاریخ و ثقافتی وحدت وغیرہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو بھی اسی قانون فطرت کو ماننا چاہیے۔
4. قومی ریاست اسی فطری انسانی معاشرت کا اظہار ہے، جو اسے نہیں مانتا وہ ناسمجھ و احمق ہے کیونکہ فطرت کا انکار حماقت کے سوا کچھ نہیں۔
5. جمہوریت ہی فطری طریقہ حکومت ہے۔ اس کے سوا کسی دوسرے طریقے سے حکومت کا حصول شرعا ناجائز و حرام ہے۔
6. کیونکہ قیام ریاست کا فطری طریقہ جمہوریت ہے اور جمہوری ریاست کی نظر میں تمام افراد مساوی ہوتے ہیں، لہذا ریاست کی نظر میں افراد کے تصور خیر مساوی ہونے چاہییں۔
7. اس قسم کی ریاست تب ہی قائم ہوسکتی ہے جب ریاست سیکولر ہو۔ چنانچہ سیکولر ریاست کا قیام ہی اسلام اور عقل کا مقصد و مطالبہ ہے۔
8. اب اگر جمہوری ریاست میں کوئی مرد یا عورت برہنہ گھومنا چاہے یا ایک شخص انبیاء کو گالیاں دینا چاہے یا لوگ کفر کو پھیلانا چاہیں وغیرہ، تو یہ سب ان کا جمہوری حق ہے، آپ اپنے نظریے کی تبلیغ وغیرہ کریں (ویسے بھی ریاست تو محض دو ہی ایجابی کاموں پر کوئی جبر کرسکتی ہے اور رہی انبیاء کی گستاخی وغیرہ، تو یہ ویسے بھی کوئی قابل سزا شرعی جرم نہیں).
9. جو کوئی ایسی جمہوریت کا انکار کرکے خلافت نامی کسی نظام کی بات کرتا ہے، وہ دہشت گرد ہے اور جمہوری ریاستوں کا فرض ہے کہ ایسے عناصر کی بیخ کنی کریں.
10. اگر ان مقامی قومی جمہوری ریاستوں کے پاس یہ صلاحیت نہ ہو تو پھر عالمی امن قائم کرنے والے اداروں (نیٹو) اور امریکہ کو یہ فرض نبھانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے پچھلی ڈیڑھ دہائی سے امریکہ جو کچھ کر رہا ہے، وہ نہایت قابل قدر ہے، اور مسلمانوں کو اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کیونکہ اصلی جہاد امریکہ کر رہا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   سیکولرازم، دو قومی نظریہ اور اسلامی ریاست - مجیب الحق حقی

یہ ہے وہ بیانیہ جس نے مسلم معاشروں میں اباحیت پسندی، ارتداد و الحاد کے بیج بوئے۔ اس بیانیے کو پیش کرنے والوں کو چاہیے کہ ان سب باتوں پر اپنی وضاحت پیش کریں۔ عوام کو بتائیں کہ کیا وہ خلافت کو کوئی دینی اصطلاح مانتے ہیں یا نہیں؟ (اور اگر نہیں مانتے تو اس کا مطلب یہی ہو اکہ وہ درج بالا باقی سب باتوں کا بھی اقرار کرتے ہیں)۔ پھر جب وہ ان سب کا اقرار کرچکے تو انہیں چاہیے کہ اپنی فکر کے پشتی بان امریکہ کی کھل کر حمایت و نصرت کریں۔

روایتی بیانیے اور انتہاپسندی کے مابین بین السطور تعلق پر خورشید صاحب کے تازہ کالم میں بنیادی مسئلہ یہی ہے، اور اس پر انھوں نے تمام عمارت کھڑی کی ہے۔ موصوف کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ’’دس قضایا‘‘ کو ایک ’’مکمل پیکج‘‘ فرض کرلیا، اور اسی کا نام انہوں نے ’’روایتی بیانیہ‘‘ فرض کرکے تمام روایتی دینی قوتوں کے سر سوالات منڈھ دیے، گویا یہ سب کچھ علماء کے ایما پر ہو رہا ہے۔ حالانکہ معاملے کی نوعیت یہ ہے کہ ان دس کے مابین بہت سے combinations بنانا ممکن ہیں اور روایتی علماء کی عمومی پوزیشن ایک مختلف combination کا نام ہے۔ مثلا وہ علماء سے بار بار اس سوال کا جواب مانگتے ہیں کہ ’’بتائیے مذہبی بنیاد کے بنا قائم شدہ قومی ریاست پر آپ کی رائے کیا ہے؟‘‘ (علماء کا جواب اس پر کیا ہے فی الوقت اس تناظر میں گفتگو مقصود نہیں)۔ اب یہ عین ممکن ہے کہ ایک شخص قومی ریاست کو غلط کہے مگر حکمرانوں کو مرتد نہ کہے اور یا پھر ہتھیار کے بجائے دیگر طرق سے اصلاح کا قائل ہو وغیرہ۔ مگر موصوف نے نہایت سادگی سے یہ فرض کرلیا کہ جو اس سوال کے بارے میں ان کا مفروضہ جواب نہیں دے گا وہ پھر حکمرانوں کو مرتد بھی مانے گا اور قتل و غارت کی حمایت بھی کرے گا۔ اب اس قسم کے استدلال کو ’’سادہ لوحی‘‘ پر محمول کیا جائے، ’’تجاہل عارفانہ‘‘ پر، ’’چالاکی‘‘ پر اور یا پھر’’واردات‘‘ پر، اس کا فیصلہ قارئین خود کرلیں۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں