جب استانی نے کلاس کو زمین پر بٹھایا - معلمہ ریاضی

ہم نے درجہ دہم میں تھیورم پڑھا کر طلبہ و طالبات کو اگلے دن یاد کرکے آنے کے لیے کہا.
اگلے دن طلبہ و طالبات کی اکثریت تھیورم یاد کر کے نہیں آئی.
بطور سزا شاگردوں کو اپنی اپنی نشستوں پہ کھڑے ہونے کا حکم صادر کر دیا.
نوے فیصد جماعت کے ارکان وہ بھی ساڑھے پانچ اور چھ چھ فٹ کے جب کرسیوں پہ کھڑے ہوئے تو جماعت کا عجیب ہی منظر تھا.
ہیڈ میسٹریس صاحبہ نے راہداری سے گزرتے ہوئے جماعت کی بڑی سی شفاف کھڑکی سے یہ منظر دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئیں.
نجی انگریزی میڈیم درسگاہ میں سزا، وہ بھی درجہ دہم کے طلبہ و طالبات کو۔ والدین تو غدر مچا دیں گے، ان والدین کے نزدیک تو ان کے بچوں کو اگر کوئی استاد پھول کی پتی بھی مار دے تو وہ اسے اپنے بچے پہ ’’ڈرون حملہ‘‘ تصور کرتے ہیں کجا یہ کہ ان کے نازک آبگینے کرسیوں پہ کھڑے ہوں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کوئی اور منتظمہ ہوتیں تو اسی وقت جماعت میں داخل ہوکے جماعت معلمہ کی سرزنش کرتیں کہ وجہ کوئی بھی تھی، سزا دی ہی کیوں، مگر ہماری ہیڈ میسٹریس صاحبہ حقیقی پیشہ ورانہ اصولوں کی حامل اور محبت کرنے والی خاتون تھیں، ہمیں آفس بلا کر بولیں، ’’دیکھو میری جان!‘‘
واضح رہے جب بھی ہیڈ میسٹریس ’’میری جان‘‘ سے بات شروع کرتیں ہم سمجھ جاتے کہ اب ڈانٹ پڑے گی.
’’آپ کو معلوم ہے کہ یہ آج کل کے نازک نازک بچے ہیں، ساری ساری رات کمپیوٹر پہ آنکھیں پھوڑتے ہیں اور صبح بغیر ناشتہ کیے اسکول آجاتے ہیں، یہاں لڑکے دو منٹ کھڑے رہیں تو ان کو چکر آنے لگتے ہیں، آپ تو لڑکیوں کو بھی کھڑا کر رہی ہیں، ویسے ہی گرمی کے دن ہیں، کوئی اسٹوڈنٹ گر گیا تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے.‘‘
ہم عاجزی سے سرہلا کر رہ گئے.
ـــــــــــــــــــــــــــــ
درجہ دہم کے دوسرے جُز میں جسے ہماری درسگاہ میں ہاؤس کہا جاتا تھا، ہم نے تھیورم پڑھا کر ٹیسٹ دیا، یہ ہاؤس پہلے ہاؤس سے بھی مہان نکلا اور پوری جماعت خیر سے ٹیسٹ میں فیل ہوگئی.
اب کیا کریں!
کھڑا کرنے کی سزا تو دے نہیں سکتے ’’کمزور‘‘ چھ فٹے بچوں کو۔
ــــــــــــــــــــــــــــ
کوریڈور سے گزرتے ہوئے میڈم کی نظر کھڑکی کے راستے ہم پہ پڑی، ہم مزے سے خالی جماعت کی طرف چہرہ کیے پڑھائے جا رہے تھے، میڈم کا منہ حیرت سے کھُل گیا
’’اسٹوڈنٹس کہاں ہیں؟‘‘ پوچھتے ہوئے وہ کھڑکی کے قریب آگئیں اور جماعت کے اندر نظر ڈالی۔
ہم نے ہاتھ سے اشارہ کیا، میڈم نے دیکھا، پوری جماعت زمین پہ بیٹھی تھی.
ــــــــــــــــــــــــــــ
میڈم تو یہ منظر دیکھ کر مسکراتی ہوئی واپس چلی گئیں مگر بعد میں ہم کو زمین پہ بٹھانے کے معاملے پہ بھی والدین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا.
’’اتنے مہنگے اسکول میں بچوں کو زمین پہ بٹھایا جا رہا ہے.‘‘
’’کرسیاں کم پڑ گئیں ہیں کیا؟‘‘
’’زمین پہ ہی بٹھانا تھا اپنے بچوں کو تو گورنمنٹ اسکول میں داخل کراتے ہم.‘‘ وغیرہ وغیرہ
ہم بھی ڈٹ گئے، والدین سے بحث فضول تھی لہذا شاگردوں کی دماغ سازی شروع کی جس میں یہ بات بیٹھی ہوئی تھی کہ زمین پہ بیٹھنا گویا تحقیر کی بات ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــ
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کوئی میز کرسی پہ بیٹھ کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کی تربیت نہیں فرماتے تھے، فرشی نشست ہوتی تھی۔
یہ زمین پہ بیٹھ کر پڑھنے والے ہیں جو آسمانِ علم پہ ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں۔
آپ کو اعتراض ہے نا کہ مس ہمیں زمین پہ کیوں بٹھا رہی ہیں تو چلیں مس بھی آپ کے ساتھ زمین پہ بیٹھ جاتی ہیں، اب خوش؟ اور ہم آلتی پالتی مار کے زمین پہ بیٹھ گئے۔
میری عزت کرسی یا میز سے نہیں ہے، اس علم سے ہے جو میرے دل دماغ میں موجود ہے، زمین پہ بیٹھنے سے میری عزت میں کوئی کمی نہیں آ رہی تو آپ کی عزت میں کیسے کمی آجائے گی؟
آپ سے کرسی چھینی جا سکتی ہے، کوئی زمین چھین کے تو دکھائے!
جماعت میں قہقہہ بلند ہوا
ــــــــــــــــــــــــــــــ
ہم نے جو کام بطور ہلکی پھلکی سزا شروع کیا تھا، بعد میں وہ ہماری زیرِ تدریس جماعتوں میں تفریح کا ذریعہ بن گیا اور باقی جماعتوں کے طلبہ و طالبات نے اپنی جماعت کی معلمات سے ضد شروع کردی کہ ہمیں بھی مس کی کلاس کی طرح زمین پہ بیٹھنا ہے۔
اب والدین کی کیا مجال کہ کچھ کہیں۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــ
قیادت یا قائد کی یہ خوبی ہونی چاہیے کہ وہ اپنے زیرِ نگران افراد سے نہ صرف اپنے حسبِ منشاء کام لے بلکہ اس کام کو اتنا خوش کُن بنا دے کہ کام کرتے ہوئے ان کا دل و دماغ اس کام کو جبراً نہیں بلکہ خوش دلی سے کرے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ’’قائد‘‘ ہر وہ کام خود بھی کرے جسے کرنے کا مطالبہ وہ اپنے ماتحت، کارکنان یا جماعت سے چاہتا ہے.
ــــــــــــــــــــــــــ
اس کلیے کی روشنی میں اپنی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہان کا رویہ ملاحظہ کیجیے اور سوچیے کہ آیا وہ آپ کی قیادت کے اہل بھی ہیں یا نہیں۔

Comments

معلمہ ریاضی

معلمہ ریاضی

معلمہ ریاضی درس و تدریس سے وابستہ ہیں، 15 سال سے ریاضی پڑھاتی ہیں۔ سیاسی، مذہبی اور معاشرتی مسائل پر لکھنا پسند ہے۔ ان کے خیال میں اصل نام کے بجائے "معلمہ" کی شناخت ان کی مذہبی اور پیشہ ورانہ آسودگی کا باعث ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.