کمبل کا چکر – ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ملا نصیرالدین پڑوس والے گاؤں میلہ دیکھنے گئے اور کسی نوسرباز کے ہاتھوں اپنا کمبل گنوا بیٹھے۔ واپسی پر کسی نے پوچھا
’’کیوں ملا، میلہ کیسا رہا؟‘‘۔
میلہ کاہے کا جی، نصیرالدین نے جواب دیا، سب میرا کمبل لوٹنے کا بہانہ تھا !
بچپن میں جب یہ لطیفہ سنا تو یہ گمان بھی نہیں تھا کہ ایک دن پاکستان کے تناظر میں یہ خارجہ پالیسی اور ڈپلومیسی کا ایک بنی­ادی Determinant بن جائے گا۔

پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت اس کے پاس ایک نہیں، دو دو کمبل ہیں اور دونوں کی حفاظت از حد ضروری ہے ۔ ایک تو ہمارا نیو­کلئیر پروگرام ہے جسے ہر علاقائی تنازعہ میں ایک ’’شریک ہدف‘‘ بنا لیا جاتا ہے اور دو­سرا پاکستان اور چین کا راہداری منصوبہ، سی پیک۔

مختلف قوتوں کے مابین جاری کھینچا تانی میں ہر مرتبہ پاکستان کے شامل ہو جانے کی بڑی وجہ اس کا وہ ’’اسٹ­ریٹجک‘‘ محل وقوع جو اسے جنوبی ایشیا ، مشرق وسطی اور وسطی ایشیا کے سنگم پر رکھتا ہے۔ اس طرح وہ نہ صرف بہت سی باہم متحارب تزویراتی فالٹ لائنز کی گزرگاہ بن جاتا ہے بلکہ دنیا میں تجارت، بالخصؤس تیل کی ترسیل کے حوالہ سے حساس ترین علاقہ کا قریب تر­ین پڑوسی ہونا بھی ٹھ­ہرتا ہے۔

امریکہ کا شام پر کیا گیا حالیہ میزائل حملہ صدر ٹرمپ کی صدارت کا ’’باضابطہ‘‘ آغاز کہا جاسکتا ہے۔ یمن جنگ میں اہداف کو القا­عدہ سے بڑھا کر حوثی جنگجوؤں تک وسعت دینے کے امریکی فیصلے اور پھر شام پر کروز میز­ائل حملہ سے جہاں صدر ٹرمپ اور اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے مابین دوری کا تاثر ختم ہوا، وہیں یہ بات بھی وا­ضح ہو گئی کہ مغربی تہذیب کے دفاع کے نام پر شروع کی گئی جارج ڈبلیو بش کی جنگ جو صدر اوبامہ کے دور میں عالمی امن کے نام پر جاری رہی، وہ صدر ٹرمپ کے دور میں ’’سب سے پہلے امریکہ‘‘ کے بینر تلے آگے بڑھے گی۔

پاکستان کے لیے اس صورتحال میں بہت سے چی­لنجز جنم لیتے نظر آ رہے ہیں کیونکہ گلوبل ویلج میں لگنے والا ہر نیا و پرانا میلہ پاکستان پر بالواسطہ اور بلا واسطہ طریقوں سے اثر انداز ہوتا ہے۔

بھارت کی جانب دو ٹوک امریکی جھکاؤ نے پا­کستان کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کر دی ہے۔ طاقت اور ’’اثر‘‘ کا توازن برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو اہم فیصلے کرنا پڑے ہیں۔ اس میں سر فہرست چین سے اپنے تعلقات کو وسعت دینا شامل ہے۔ سی پیک کی صورت میں دونوں ملکوں کے مابین ایک بڑا منصوبہ اس وقت زیر تکمیل ہے جس سے پاکستان کو اپنی مع­یشت کے حوالہ سے بہت سی توقعات ہیں۔ دوسری جانب چین ہی کی مدد سے پاکستان علاقائی حوالے سے ایک نیا اتحاد تشکیل دینے کے مرحلہ میں ہے۔ اس اتحاد کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ روس اس میں ایک اہم پارٹنر ہے اور پاکست­ان کے لیے اس کا مقصد یہ ہے کہ افغانستان میں بھارت کے پاکستان مخالف ایجنڈے کو شکست دی جاسکے اور امریکہ کی عدم دلچسپی کے ہنگام ایک ایسا متبادل میکانزم بروئے کار لایا جائے جس سے افغان حکومت پر بہتر تعلقات کار کے لیے دباؤ بھی رکھا جائے اور افغا­نستان میں قیام امن کے لیے زیادہ ٹھوس اور دورس اقدامات کی راہ بھی ہموار ہو سکے۔

شام پر امریکی حملہ سے بین الاقوامی تعلق­ات میں جو ارتعاش پیدا ہونے کا خدشہ ہے، اس سے پاکستان براہ راست متاثر ہوگا۔ ایک جانب اسے یہ بات مد نظر رکھنا ہوگی کہ امر­یکا کا یہ پیغام واضح ہے کہ وہ کسی بھی وار تھیٹر سے خود کو الگ رکھنے کے موڈ میں نہیں۔ عراق کے بعد یمن اور اب شام میں تو اس نے براہ راست مداخ­لت کر دی ہے، اور افغا­نستان میں بھی نہ صرف وہ پہلے سے موجود ہے بلکہ ’’داعش‘‘ کی موجو­دگی کو وجہ بتا کر کسی بھی وقت یہاں محاذ کو گرم کر سکتا ہے۔ چنانچہ اس سے بالا بالا کیا جانے والا کوئی بھی بندوبست دیرپا نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کو بہت سوچ سمجھ کر ہر قدم اٹھانا ہوگا۔ وہ چین اور اپنے نئے اتحادیوں کو بیچ راہ نہیں چھوڑ سکتا کیون­کہ وہ ان کے ساتھ تعل­قات کو طویل معیاد پارٹن­رشپ کے طور پر دیکھتا ہے جس میں دفاعی، سفارتی اور معاشی معاونت کے بےانتہا امکانات ہیں ۔ دوسری جانب امری­کہ سے بھی تعلقات درست رکھنا ضروری ہیں تا­کہ وہ دوست (نام نہاد ہی سہی) کی فہرست سے نکل کر ’’اہداف‘‘ کی فہرست میں نہ آ جائے۔ اس صورتحال میں بھارت کے ساتھ مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور مشرق وسطی کے امریکی اتحادیوں سے تعلقات میں بھی سرد مہری آ سک­تی ہے۔ ماضی قریب میں جی سی سی ممالک بالخ­صوص عرب امارات اور سعودی دارالحکومتوں میں بھارتی وزیراعظم کی غیر معمولی پذیرائی اس طرف اشارہ کرتی ہے۔

ادھر شام اور یمن میں بڑھتی ہوئی امریکی کارروائیوں کے نتیجہ میں سعودی عرب اور ایر­ان کے مابین تعلقات کی بہتری کا جو بھی امک­ان تھا، اب تیزی سے معدوم ہو رہا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک اور مسئلہ ہے کیونکہ ای­ران پاکستان کا ہمسایہ ہے اور اس سے پاکست­ان کو افغانستان میں مدد مطلوب ہے۔ نیز پا­کستان کی یہ خواہش ہے کہ بھارت اور ایران کا تزویراتی تعاون مح­دود کیا جا سکے۔ دوسری جانب 39 (یا 42) مل­کی اتحاد میں پاکستان کی فعال اور اعلی تر­ین سطح پر شمولیت سے ایران پہلے ہی خائف ہے اور محتاط الفاظ میں اپنے تحفظات کا اطہ­ار بھی کر چکا ہے۔ سع­ودی عرب اور ایران کے مابین کسی ممکنہ تناؤ کی صورت پاکستان کی یقین دہانیوں کا کیا وزن باقی رہےگا، یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

پاکستان کے لیے اس وقت ایک ایسا مؤقف اپن­انا ضروری ہے جو اسے موجودہ حالات کے مد و جزر میں مستقل تحفظ فراہم کر سکے۔ اس کے لیے اہم ہے کہ پاکستان خود کو امن کے داعی کے روپ میں پیش کرے۔ سوائے کشمیر اور کسی حد تک افغانستان کے ہم کسی تنازعہ میں براہ راست فریق بننے سے گریز کریں اور تمام تنازعات میں ہماری خدم­ات حصول امن کی خاطر مذاکرات و اعانت تک محدود ہوں۔ ہر فریق سے بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا جائے اور مع­املات کو اقوام متحدہ اور او آئی سی جیسے باقاعدہ فورمز پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا جائے۔

پاکستان پر ممکنہ دب­اؤ کی ایک جہت پاکستان میں اندرونی خلفشار کا فروغ بھی ہے۔ شام اور لیبیا کی جنگ نے ہمیں یہ بتایا کہ آج کی جنگ سوشل میڈیا کی جنگ ہے۔ چند ویڈیوز، تصاویر اور لوگوں کے تاثرات کس طرح جذبات کو انگیخت کر سکتے ہیں، اور کس قدر بڑی تباہی پھیل سکتی ہے۔ پاکستانی عوام کو خود کو زیادہ میچیور بنانا ہوگا اور اس قسم کے میٹیریل پر فوری رد عمل یا ’’ٹرینڈز‘‘ جاری کرنے سے گریز کا رو­یہ اختیار کرنا ہوگا۔ انہیں یہ سیکھنا ہوگا کہ رد عمل میں تاخ­یر سے نقصان نہیں ہوتا، البتہ عجلت سے نا­قابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔

صورت حال خاصی پیچیدہ ہے۔ لیکن اس کا مطلب مایوسی یا ناکامی نہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ بہتر تیاری، مضبوط مؤقف اور متف­قہ پالیسی اپنا کر اس کا سامنا کیا جائے ۔ پاکستان کی سفارت کا­ری کی تاریخ بری نہیں ہے۔ موجودہ چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ اسے مزید درخشاں بنا دے گا۔

Comments

FB Login Required

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

Protected by WP Anti Spam