پائیدار امن کے نئے امکانات - رعایت اللہ فاروقی

فرقہ واریت وہ سانپ ہے جس نے ہماری ملی و قومی تاریخ کے دوران ہمیں سب سے زیادہ ڈسا ہے۔ اگر ہم قدیم و جدید فرقہ بندیوں کی تاریخ دیکھ لیں تو ہمیں سمجھنے میں دیر نہ لگے گی کہ فرقہ بندی ہوتی تو مذہبی بنیاد پر ہے لیکن اس کے پیچھے کار فرما محرکات ہمیشہ سیاسی ہوتے ہیں۔ فرقہ بندی کا آغاز خلافت کے مسئلے پر ہوتا ہے، پھر اس خیر القرون میں ہی یہ مہلک شکل اختیار کر جاتی ہے۔ خلافت سے شروع ہونے والا جھگڑا آگے چل کر ایسی گنجلک علمی شکل اختیار کر گیا کہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فاصلے سمیٹنے کے لیے امت مسلمہ کی اب تک کی عمر بھی ناکافی ہو گئی۔ یہی جھگڑا پاکستان کی تاریخ میں سنگین مسئلہ تب بنا جب ایران میں انقلاب آیا اور ان انقلابیوں نے اپنا انقلاب پڑوس میں ایکسپورٹ کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ پاکستان کی قومی تاریخ میں بدترین خونریزی کا سبب بننے والی فرقہ واریت نے ایران عراق جنگ کے بطن سے جنم لیا، اور سیاسی پشت پناہی نے اسے دو آتشہ کر دیا۔

ہماری ملی و قومی تاریخ میں مذہب کے سیاست کے لیے استعمال کی ایک بدترین شکل اور بھی ہے اور اپنی اس شکل میں اس کے مرکزی ذمہ دار مولوی نہیں بلکہ سیاستدان ہیں۔ یہ عباسی خلفاء تھے جنہوں معتزلہ کی سر پرستی اختیار کرکے من پسند فرقے کو حکومتی آغوش میں لیا، یہ ایک طرف ان سے اپنی پسند کا دین ایجاد کروانے کی کوشش کرتے تو دوسری طرف معتزلہ ان سے اہلسنت و الجماعت کے جید ترین فقہاء کو پٹواتے۔ امام احمد ابن حنبل جیسے جلیل القدر فقیہ کو مامون الرشید سے لے کر معتصم باللہ کے دور تک مسلسل تین عباسی خلفاء کے دور میں قید اور کوڑوں کی سزا سے اسی لیے گزرنا پڑا تھا کہ یہ دربار سے معتزلہ کی فرمائش تھی۔ آگے چل کر جب شاہی دربار نے معتزلہ کی جگہ اہل سنت کی سرپرستی اختیار کر لی تو معتزلہ کی شامت آ گئی۔ علماء کے لئے درست راہ وہی تھی جو امام ابوحنیفہ نے چیف جسٹس بننے سے انکار کرکے اختیار کی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ عالم کا حکومتی عہدیدار ہونا یا تو اسے علمی بددیانتی میں مبتلا کرے گا یا پھر اس کے نتیجے میں اس کی ساکھ مجروح ہوگی، چنانچہ وہ اس قید سے گزر لیے جس سے ان کی خلاصی ان کی موت کے نتیجے میں ہوئی لیکن چیف جسٹس نہیں بنے۔ اگر ہم برصغیر کی تاریخ کا جائزہ لیں تو یہاں اکبر اعظم سیاست کے لیے مذہب کے استعمال کی نہایت شرمناک شکل متعارف کراتے نظر آتے ہیں اور اس کے جو نتائج نکلے، وہ ہم سب جانتے ہیں۔ اورنگزیب عالمگیر کو جس مذہبی سر پرستی کی بنیاد پر لبرلز کی جانب سے گالیاں دی جاتی ہیں، اس کی نوبت اکبر اعظم کے نام نہاد دین اکبری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خرافات سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کے سبب ہی آئی۔ اگر اکبر اعظم نے سیاسی مقاصد کے لیے اپنے درباری مولویوں سے آج کل کے غامدیوں کی طرح ’’اصل اسلام‘‘ ایجاد کرانے کی کوشش نہ کی ہوتی تو اورنگزیب کو ہندوستان بھر سے مولوی جمع کرکے ان الائشوں کو نکالنے کی ضرورت کیوں پیش آتی؟ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ اکبر والے ’’اصل اسلام‘‘ سے اس دور کے مسلمان تو مضطرب تھے لیکن ہندو بہت خوش تھے، اور ہمارے آج کے پاکستان میں سرکاری سرپرستی میں ’’جوابی بیانئے‘‘ کے نام سے تیار ہونے والے نام نہاد ’’اصل اسلام‘‘ سے بھی مسلمان مضطرب جبکہ لادین عناصر و غیر مسلم بہت خوش ہیں؟ کیا ہم مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ یہ راز سمجھانے کے لیے نا کافی ہے کہ جب مولوی مولویت کے فروغ کے لیے حکومتی ایوان میں بیٹھتا ہے تو مولویت احترام کھو دیتی ہے اور حکمران من پسند مکاتب فکر کی سر پرستی شروع کردیں تو خود دین کے نام پر تنازعات جنم لینے لگتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   آزادی مارچ میں 15 لاکھ لوگ جمع کریں گے - فضل الرحمن کا دعوٰی

اب سوال یہ آجاتا ہے کہ پھر اس صورتحال سے نکلنے کا حل کیا ہے؟ کیا ملک کو سیکو لر بنا لیا جائے؟ ہرگز نہیں ! یہ تجربہ تو عالم اسلام کے سب سے ماڈرن ملک ترکی میں ہی فیل ہوگیا تو کسی اور جگہ خود کو کیا منوائے گا۔ اس کا بہترین حل فطری اصولوں کے مطابق ہمارے سامنے خود بخود ابھر رہا ہے، بس اس کے راستے کی رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، اور اگر ہو سکے تو اس کے فروغ میں مدد مہیا کرنی چاہیے۔ آج کی جدید دنیا میں ہم بادشاہت نہیں بلکہ جمہوری نظام حکومت پر کار بند ہیں جس میں قانون سازی کی ذمہ داری پارلیمنٹ کے پاس ہے اور پارلیمنٹ کو عوام منتخب کرتے ہیں۔ آج کی تاریخ میں ہمیں ہر مکتب فکر سے ایسی جماعتیں مہیا ہیں جن میں موجود علماء سیاستدان کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ آج کی تاریخ میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ مولانا مودودی کی بعض متنازع عبارات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے دور کھڑے دو مکاتب فکر اس قدر قریب آچکے ہیں کہ جے یو آئی کا صد سالہ اجتماع جماعت اسلامی پشاور کے نائب امیر حاجی اسلم کی زمین پر منعقد ہوتا ہے، لیاقت بلوچ اس کے انتظامات کا جائزہ لینے جاتے ہیں اور سراج الحق اس اجتماع سے خطاب کرتے ہیں۔ آج کی تاریخ میں بریلوی مکتب فکر کی سب سے قدیم سیاسی جماعت جے یو پی کے رہنماء اویس نورانی اپنی اہم سیاسی مشاورت دیوبندی مکتب فکر کے مولانا فضل ارحمن سے کرتے ہیں۔ آج کی تاریخ میں اہل سنت والجماعت کے نام سے کام کرنے والی سابق سپاہ صحابہ ’’ کافر کافر شیعہ کافر‘‘ جیسا زہریلا نعرہ ترک کے آئینی و قانونی جدوجہد کی راہ اختیار کر رہی ہے۔ آج کی تاریخ میں مختلف مکاتب فکر کے علماء میں سوشل میڈیا کی برکت سے قربتیں بڑھ رہی ہیں اور بریلوی و دیوبندی اور شیعہ و سنی لوکل سطح کے علماء ایک دوسرے کی دعوتیں کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   آزادی مارچ کیوں؟؟ - محمد احمد

کیا یہ سچ نہیں کہ یہ بہت ہی حوصلہ افزاء علامات ہیں جو ہمارے معاشرے میں ظاہر ہو رہی ہیں؟ کیا یہ سچ نہیں کہ جہادی و فرقہ وارانہ سرگرمیوں کی بنسبت پر امن جمہوری جدوجہد ہی درست راہ ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ ماضی میں فرقہ واریت اور جہادی کلچر کو فروغ دینے کے ذمہ دار خود ہمارے ریاستی ادارے ہیں؟ کیا یہ سچ نہیں کہ ان حرکتوں کے نتیجے میں پر امن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھنے والوں کو کمزور کرنے کی کوششیں کی گئیں؟ اور کیا یہ سچ نہیں کہ اس ملک کو کسی نئے مذہبی بیانیے کی ضرورت نہیں بلکہ پہلے سے چلے آ رہے مذہبی سیاسی بیانیے والوں کو مضبوط کرنے سے دہشت گردی اور فرقہ واریت خود بخود کمزور ہوتی چلی جائے گی؟ جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، جے یو پی اور جمعیت اہلحدیث جیسی جماعتوں کا احسان ماننا چاہیے کہ پچھلے پندرہ سالہ خون آشام دور میں انہوں نے اپنے لاکھوں نوجوان ورکرز کو پر امن سیاسی جدوجہد میں مشغول رکھ کر ٹی ٹی پی جیسی درندہ صفت جماعت کا حصہ بننے سے روکے رکھا۔ اگر یہ جماعتیں ذرا سی غفلت کر جاتیں تو ٹی ٹی پی آج گلی محلے کی سطح پر سرایت کر چکی ہوتی۔ مولانا فضل الرحمن کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے سراج الحق کو اپنے اجتماع میں مدعو کیا اور سراج الحق کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کا اختیار مولانا فضل الرحمن کو تفویض کر دیا۔ اگر یہ اتحاد ہو جاتا ہے تو اس سے مذہبی ووٹ یکجا ہو کر ان جماعتوں کو حوصلہ افزاء نتائج مہیا کرے گا جس سے ان کا اور ان کے نوجوان کارکنوں کا جمہوریت پر یقین مزید مضبوط ہوگا اور یہی یقین دہشت گردی و فرقہ واریت کی فاتحہ خوانی کا باعث بنے گا۔

اب یہ سوچنا کمرشل لبرلز کا کام ہے کہ انہیں فرقہ پرست اور دہشت گرد مذہبی عناصر قبول ہیں یا پر امن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھنے والے مذہبی عناصر ؟ یہ حقیقت اپنے آپ کو ثابت کرچکی ہے کہ جس طرح قومی سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے سے آمریت کے امکانات پیدا ہوتے ہیں اسی طرح سیاسی مذہبی جماعتوں کو کمزور کرنے سے فرقہ واریت اور دہشت گردی کے امکانات تقویت حاصل کرتے ہیں۔ مذہب کا سیاسی استعمال آج ہمارے سامنے پائیدر امن کے نئے امکانات لیے کھڑا ہے، کیا ان امکانات کو ضائع کرنا دانشمندی ہوگی؟
(بشکریہ روزنامہ 92 نیوز)

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.