ایم ایم اے بحالی کی خواہش پر تنقید کیوں؟ احسن سرفراز

جب سے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے جمعیت علمائے اسلام کے عظیم الشان صد سالہ اجتماع میں شرکت کرتے ہوئے دینی جماعتوں کے اتحاد کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور مولانا فضل الرحمٰن کو اس اتحاد کو سرانجام دینے کا اختیار سونپا ہے، تب سے کچھ لوگ اپنے آپ کو جماعت کا ہمدرد بھی باور کرواتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ امیر جماعت کی دینی جماعتوں کے اتحاد کی خواہش کو بنیاد بنا کر مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت پر گولہ باری میں مصروف ہیں اور ان کی خواہش یا تو جماعت کو سیاسی تنہائی کا شکار کر کے اکیلا رکھنا ہے یا پھر یہ خواہ مخواہ ہی جماعت کو PTI کا بغل بچہ بنانا چاہتے ہیں اور اس کے علاوہ ہر جماعت سے انتخابی ایڈجسٹمنٹ یا اتحاد کو شجر ممنوعہ ٹھہرا رہے ہیں۔ ایسا ہی رویہ بعض جمعیت علمائے اسلام کے بظاہر دکھائی دینے والے حامی اپنائے ہوئے ہیں، ان کے خیال میں جے یو آئی کو دم چھلا رہنا چاہیے. طرفین کی خواہش یہ دکھائی دیتی ہے کہ مذہبی جماعتیں اپنا ووٹ مجتمع کرکے ملکی سیاست میں اپنی شناخت نہ بنا سکیں، جیسا کہ ایم ایم اے کے دور میں ہوا تھا.

ان دوستوں سے عرض ہے کہ معاشرے میں جو سیاسی قوتیں کام کر رہی ہیں، ان سے کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی سطح پر اشتراک عمل ناگزیر ہے، اللہ کے نبی نے تو یہودیوں اور مشرکین تک سے سیاسی معاہدات کیے تھے ۔اب بھی جماعت خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی اتحادی ہے۔

اب جو حضرات مولانا فضل الرحمان صاحب کو کرپٹ بتا رہے ہیں، تو ذرا بتانا پسند کریں گے کہ پورے ملک میں کیا کوئی ایک بھی ایف آئی آر ان کی کرپشن کے بارے میں ہے، کیا ان کی حریف تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں ان کے خلاف نیب میں کوئی کرپشن کیس کھولا ہے؟ اقتدار میں اپنی جماعت کے لیے راستہ تلاش کرنا ان کی حکمت عملی ہے، جس سے آپ اختلاف رکھ سکتے ہیں لیکن اگر ان پر پورے پاکستان میں ایک بھی کرپشن کی ایف آئی آر نہیں تو آپ انھیں کرپٹ کس طرح کہہ سکتے ہیں؟

جبکہ جن کی جماعت پر چندے کھا جانے کے الزامات پر الیکشن کمیشن میں تحقیقات ہورہی ہیں یعنی تحریک انصاف پر، ان کی تو جماعت اسلامی اب بھی اتحادی ہے اور جنھیں یہی لوگ فرشتہ کہتے ہیں اور اس اتحاد کے زبردست حامی ہیں۔ ان حضرات کا مشن لگتا ہے جماعتی کارکنان کو کنفیوز رکھنا ہے۔ ان کو مخالفانہ گفتگو یا تحاریر لکھنے کے بجائے جماعت کے امیر اور اس کی منتخب مرکزی شوریٰ پر اعتماد رکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا سراج الحق کو کشمیر کمیٹی کا رکن بننا چاہیے؟ مسعود ابدالی

یاد رہے کہ عمران خان تک پر بنی گالہ محل میں ٹیکس بچانے پر الیکشن کمیشن میں کیس چل رہا ہے جبکہ آف شور کمپنی علیحدہ ان کی نکل آئی ہے جسے بقول انھی کے انھوں نے انگلینڈ میں ٹیکس بچانے کے لیے بنایا تھا، اس پر یہ لوگ کیوں نہیں بولتے؟ کیا جہانگیر ترین مبینہ شوگر مافیا نہیں اور انھوں نے قرضے معاف نہیں کرا رکھے؟ کیا شاہ محمود قریشی پیری مریدی کے نام پر غریبوں سے لاکھوں روپے کے نذرانے نہیں وصول کرتے؟ کیا علیم خان پر معروف لینڈ مافیا ہونے کا الزام نہیں لگتا؟ کیا تحریک انصاف کے 16 ایم پی ایز کا فارورڈ بلاک اپنے ہی وزیر اعلیٰ پر کرپشن کے الزامات نہیں لگاتا رہا ؟ کیا تحریک انصاف کے کچھ صوبائی ارکان پر کرپشن کے مقدمات نیب میں نہیں چل رہے؟ اسی تحریک انصاف کا یہ لوگ جماعت کو بغل بچہ بنانا چاہتے ہیں جبکہ باقی ان کی نظر میں شیطان ہیں۔

یاد رہے متحدہ مجلس عمل ایک بابرکت اتحاد تھا جس نے تمام مسالک کو اکھٹا کیا اور فرقہ واریت کی لعنت سے قوم کو نجات دلائی، اور تاریخ میں پہلی بار دینی جماعتوں کو بےمثال انتخابی کامیابی ملی۔ اب بھی جب جوابی بیانیہ کی بات ہو رہی ہے اور عالمی قوتیں فرقہ واریت کے نام پر مسلمانوں کو لڑوانا چاہتی ہیں، یہ اتحاد اس سازش کو ناکام بنانے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔

اسی طرح ایم ایم اے کی صوبائی حکومت پر کوئی کرپشن کا داغ بھی نہیں تھا۔ وہ ایک اچھی حکومت تھی، اس نے مفت تعلیم ، مفت صحت ، اردو کو سرکاری زبان بنانے، خیبر بنک میں بلاسود بنکاری جیسے کئی انقلابی اقدامات کیے۔ یاد رہے وہ مشرف جیسے ایک سیکولر نظریات کے حامل آمر کا دور تھا جس میں آج کی طرح اٹھارویں ترمیم کی صورت میں صوبائی خود مختاری حاصل نہ تھی، اور وفاق سے بجٹ بھی بہت کم ملتا تھا۔ ایم ایم اے کا اسمبلی سے منظور کردہ حسبہ بل جس میں صوبہ بھر میں اسلامی اصلاحات کی سفارشات کی گئی تھیں، اس پر مشرف نے عملدرآمد نہ ہونے دیا۔

ایم ایم اے کی بےحالی کی ابتدائی وجہ اس وقت کی مشرف آمریت کے مقابلے میں جماعت اور جے یو آئی کی حکمت عملی میں کچھ اختلافات بنے، جبکہ 2008ء الیکشن میں بائیکاٹ کا فیصلہ بنیادی وجہ بنا، جب وکلا تحریک کے حق میں جماعت اسلامی نے بائیکاٹ کا راستہ چنا اور ایم ایم اے یا اے آر ڈی میں شامل باقی جماعتوں نے بائیکاٹ نہیں کیا۔ متحدہ مجلس عمل اگر بحال رہتی تو اب بھی اس کا شمار ملک کی پہلی دو تین جماعتوں میں ہی ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:   مجھے کہنا ہے - موسیٰ مجاہد

اگر ایم ایم اے بحال نہیں ہوتی یا کوئی دینی اتحاد وجود میں نہیں آتا تو پھر بھی جماعت کو کسی جماعت سے بھی انتخابی ایڈجسٹمنٹ کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کرنے چاہییں۔ جماعتیں کسی کی محبت یا مخالفت میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں کرتیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد اپنی قوت کو مجتمع کر کے انتخابی قوت بڑھانا ہوتا ہے۔دینی اتحاد کی صورت میں بھی پنجاب اور سندھ میں تحریک انصاف سمیت تمام جماعتوں سے جو اس سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنا چاہیں، بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے چاہییں۔

جو لوگ انتخابی ایڈجسٹمنٹ کو سیاسی گناہ باور کرواتے ہیں، کیا وہ کوئی ایک جماعت بتا سکتے ہیں جس نے کبھی کسی نہ کسی سطح پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا اتحاد نہ بنایا ہو؟ خود تحریک انصاف نے ایم کیوایم سے ن لیگ تک اورجمعیت علمائے اسلام سے پیپلز پارٹی تک، ہر ایک سے مختلف اوقات میں کہیں بلدیات میں، کہیں سینٹ میں اور کہیں ضمنی الیکشن میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی۔ درحقیقت سیٹ ایڈجسٹمنٹ محض ایک انتخابی حکمت عملی ہے نہ کہ کوئی منافقت یا سیاسی گناہ۔

جماعت اسلامی اپنے طریق کار اور تاریخ کے مطابق جو بھی فیصلہ کرے گی، مکمل مشاورت اور اتفاق رائے سے ہی کرے گی۔ جماعت کا آئندہ الیکشن کے لیے بنیادی مقصد دینی جماعتوں کی قوت کو مجتمع کرنا اور پارلیمنٹ میں اپنی قوت بڑھانا ہونا چاہیے۔ جماعت کو اپنی ایمانداری اور لیاقت پر ناز ہے، وہ جب بھی کسی اتحاد کا حصہ رہی، اس کے وزراء ہر قسم کی کرپشن سے پاک رہے اور عوام کی خدمت ان کی پہچان رہی ۔امید ہے کہ اب بھی جماعت اسلامی کے نمائندگان اسمبلیوں میں جاکر عوام کی سچی آواز بنیں گے۔ انتخابات لڑے ہی جیتنے کے لیے جاتے ہیں تاکہ آپ ملکی سیاست میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکیں، باہر بیٹھ کر تو آپ محض نعرے لگانے تک محدود رہ جاتے ہیں۔

میری دعا ہے کہ جماعت اسلامی جیسی انتہائی محب وطن اور دین کا درد رکھنے والی جماعت اتحاد امت کا باعث بنے اور کامیاب ہو کر اسلامی اور خوشحال پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرے۔

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.