کلبھوشن یادیو اور بلوچستان - شاہد یوسف خان

بھارتی جنتا پارٹی کے ایک رکن سبرامینیم سوامی نے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے کلبھوشن یادیو کو سزا موت دی تو بھارت کو بلوچستان کی علیحدگی کی حمایت شروع کر دینی چاہیے اور اسے ایک علیحدہ ملک کے طور پر تسلیم کر لینا چاہیے۔ اس کے علاوہ بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی پاکستانی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے پر آگے بڑھنے سے قبل دونوں ممالک کے تعلقات پر غور کر لے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کلبھوشن کو 'ملک کا بیٹا' قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پر عائد کیے گئے الزامات من گھڑت ہیں اور بھارتی حکومت ان کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔

ایک طرف بھارت سرعام تسلیم کر رہا ہے کہ کلبھوشن یادیو نہ صرف ان کا ایجنٹ ہے بلکہ حکومتی جماعت کے رہنما بھی برملا کہہ رہیں ہیں کہ بھارت براہ راست بلوچستان میں مداخلت جاری رکھے۔ بلوچستان میں قائم دہشت گردی کے اڈوں کو چلانے کے لیے برطانیہ میں بیٹھے انڈین ایجنٹ حربیار مری و دیگر، بلوچستان کے عام لوگوں کو قوم پرستی پر مجبور کروا کر استعمال کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے کی کڑی گزشتہ روز ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے فورٹ منرو سے جنوب مغرب میں چھیرہ تل کے مقام ملی جہاں رینجرز نے آپریشن کر کے ذوالفقار ذلفی اور پیر بخش پیرا سمیت پانچ دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا۔ اس کے علاوہ راجن پور کے بدنام زمانہ دہشت گرد مریدا نکانی کو گرفتار کیا اور بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا۔ اس آپریشن میں ایک سپاہی شہید اور متعدد رینجرز کمانڈوز زخمی بھی ہوئے تھے۔ مذکورہ دہشت گردوں کا تعلق بلوچستان لبریشن آرمی سے تھا جسے یقینی طور پر بھارتی ایجنسی را چلا رہی ہے۔ اس تنظیم میں شامل ہونے والے بلوچستان کے وہ محروم لوگ ہیں جو ایک طرف اپنے پارلیمینٹرین سے نظر انداز کیے ہوئے ہیں اور دوسری طرف حربیار مری جیسے غنڈوں کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ ان سب کو کہاں سے فنڈنگ مل رہی ہے اور اسلحہ کہاں سے ملتا ہے؟ ان سوالوں کا جواب کلبھوشن یادیوگرفتاری کے بعد دے چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا حکومت خطر ے میں ہے؟ منصور آفاق

پاکستان کو فوری طور پر سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے بھارت کو بین الاقوامی طور پر دہشت گرد قرار دینا کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ ایک طرف بھارتی جاسوس یہ تسلیم کر چکا ہے کہ اس نے بلوچستان اور کراچی میں اپنے نیٹ ورک چلانے کے لیے لوگوں کو استعمال کیا اور متعدد وارداتیں کروانے کے علاوہ قوم پرستوں کو آزادی کے نعرے دے کر اپنے ہی ملک کے خلاف استعمال کیا تو دوسری طرف سبرامینیم سوامی نامی بھارتی رکن پارلیمنٹ واضح کر رہا ہے کہ وہ نہ صرف بلوچستان کی آزادی کی حمایت کریں گے بلکہ بلوچستان میں جاری شورش کو بھی ہوا دیں گے۔

بلوچستان کی محرومیوں بارے بھی کوئی دو رائے نہیں۔ بلوچستان کو مسلسل کئی حکومتوں نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کو شہید کیا تو اس نے بلوچستان میں جلتی پر تیل کا کام کیا۔ نواب اکبر بگٹی ایک سچا محب وطن پاکستانی تھا اور اس کی اولاد آج بھی پاکستان کی سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہے لیکن نواب اکبر بگٹی کے فوجی قتل کے باعث بھارت کو موقع مل گیا کہ وہ بلوچ قوم پرستوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرے۔

تمام عسکری، دفاعی اور سیاسی ماہرین ہمیشہ پاکستانی حکومت سے شکوہ کرتے رہے کہ بلوچستان کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے کوشش کی جائے۔ لیکن افسوس کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کسی بھی حکومت نے اس ضمن میں کبھی بھی سنجیدگی نہیں دکھائی۔ اس میں سب سے زیادہ قصوروار صوبائی حکومت ہے۔ بلوچستان کی عوام سے ووٹ لے کر پارلیمنٹ تک پہنچنے والے لوگوں نے اسلام آباد کو اپنا مسکن بنا لیا اور بلوچستان کی عوام ان کی راہیں تکتی رہ گئی۔

بلوچستان کے کئی علاقوں میں پینے کا پانی تک میسر نہیں۔ ان علاقوں میں لوگ بجلی اور دور حاضر کی دیگر سہولیات سے محروم ہو کر پتھروں کے زمانے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یاد رکھیے، کوئی ذمہ دار شہری جو انسانی زندگی کی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہا ہو وہ کبھی کسی کے ہاتھ استعمال نہیں ہوتا۔ وہی لوگ استعمال ہوتے ہیں جنہیں ریاست اپنا شہری نہیں سمجھتی۔ پھر را جیسی ایجنسیاں ان لوگوں کے حالات سے بھر پور فائدہ اٹھاتی ہیں۔ کلبھوشن جیسے کئی اور دہشت گرد اب بھی بلوچستان میں موجود ہوں گے جن کی نشاندہی کلبھوشن سے کروائی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   احمد شاہ ابدالی افغانستان کے ہیرو یا انڈیا کے وِلن

پاکستانی حکومت کو اسلامی ممالک کے علاوہ چین اور دیگر دوست ممالک سے تعاون لینے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو یہ مقدمہ اقوام متحدہ میں لے کر جانا چاہیے۔ بھارت اور مودی سرکار کے موجودہ کارنامے سب کے سامنے لا کر ہم کشمیر کا مقدمہ بھی بخوبی لڑ سکتے ہیں۔ اگر پاکستان نے معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا تو بلوچستان بھی بنگلہ دیش بن سکتا ہے۔