کوٹ ڈیجی قلعے کی سیر - رحمن گل

یوں تو مجھے سیر و سیاحت کا بہت شوق ہے لیکن قدیم تاریخی عمارات دیکھنے کا تو سمجھیے جنون ہے۔ جیکب آباد تبادلے کا سنتے ہی جو خیال میرے ذہن میں آیا وہ سندھ کے معروف تاریخی مقامات دیکھنے کا تھا۔ مگر یہاں آکر اندازہ ہوا کہ مصروفیت کے ہوتے ہوئے اپنے خیال کو عملی جامعہ پپہنانا کافی مشکل ہے۔ بہرحال، دو سال جیکب آباد میں گزارنے کے بعد باآخر ادبی سرگرمیوں کے ساتھ سیاحت بھی شروع کرنے کی ٹھانی۔

بس پھر کیا تھا، انٹرنیٹ سے قریب ترین تاریخی مقامات تلاش کرنا شروع کردیے اور خیرپور کا انتخاب کیا جو کہ قریب ترین تاریخی شہر ہے۔ یہاں کی خاص بات تالپور خاندان کی ملکیت 'فیض محل' اور 'کوٹ ڈیجی قلعہ' ہے۔ خیرپور سن 1783ء سے لیکر 1955ء تک تالپور خاندان کی ریاست رہی ہے پھر بعد میں اسے پاکستان میں ضم کر دیا گیا۔ اپنے دوست فیض رسول کو خیرپور جانے کی اطلاع دی تو وہ بھی ساتھ ہولیا۔

خیرپور کی طرف سفر کرتے ہوئے میری چھٹی حس خبردار کرتی رہی کہ شاید فیض محل نا دیکھ پائیں اور میرا خدشہ درست ثابت ہوا۔ یہ محل 1798ء میں میر سہراب خان تالپور نے بنوایا تھا اور آج بھی یہاں میر مہدی رضا تالپور کا خاندان رہائش پذیر ہے۔ نجی رہائش گاہ ہونے کی وجہ سے اس محل کو اندر سے دیکھنا ہر ایک کی دسترس میں نہیں اسی لیے ہم بھی اس تاریخی محل کو باہر سے دیکھ کر کوٹ ڈیجی قلعہ کی جانب چل پڑے۔

کوٹ ڈیجی قلعہ خیرپور شہر سے تقریباً 23 کلو میٹر جنوب میں واقع ہے۔ یہ قلعہ ایک پہاڑی پر شرقاً غرباً بنایا گیا ہے۔ خیرپور کے سلطان میر سہراب خان تالپور نے جنگی مقاصد کے لیے اس قلعے کی تعمیر 1785ء میں شروع کروائی اور یہ 10 سال کی مدت میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔تالپور خاندان کے موجودہ سلطان میر علی مراد دوم یہ قلعہ محکمہ آثار قدیمہ کے سپرد کر چکے ہیں اور آج کل کوٹ ڈیجی قلعہ کی دیکھ بھال محکمہ خود کرتا ہے۔ تو آئیے، آپ کو اس قلعے کی سیر کرواتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کوٹا سسٹم اور پاکستان - حبیب الرحمن

قلعے کا ابتدائی دروازہ
کوٹ ڈیجی قلعے کا دروازہ


قلعے کے دوسرے دروازے کی چھت سے قلعے کا ایک منظر


قلعے کے مشرقی مینار سے مغرب کی طرف منظر


مشرق کی سمت سے قلعے کا مکمل منظر


اس قلعے میں داخل ہونے کے لیے تین مضبوط دروازوں میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان پر حملہ کرنے والے ہاتھیوں سے بچاؤ کے لیے بڑے بڑے تیز نوکدار کیل لگے ہوئے ہیں


قلعے کی دیواروں کو مضبوط بنانے کے لیے ان کے درمیان درختوں کے تنے استعمال کیے گئے ہیں


قلعہ میں سلطان کے تخت کے علاوہ اسلحہ ڈپو، جیل، پھانسی گھاٹ، گھوڑوں اور ہاتھیوں کے اصطبل کے ساتھ ساتھ شہر اور دشمن افواج پر نظر کے لیے تقریباً تیس فٹ اونچے چار مینار بھی تعمیر کیے گئے۔

یہ وہ جگہ جہاں میر سہراب خان تالپور تخت نشین ہوتے تھے


اندرونی منظر
کوٹ ڈیجی قلعے کا اندرونی منظر


قلعے میں وہ جگہ جہاں جھنڈا لگایا جاتا ہے


قلعے کے باہر کا شمالی منظر


قلعے کے باہر کا جنوبی منظر


قلعے کے باہر کا مشرقی منظر


قلعے کے باہر کا مغربی منظر


راقم سیلفی لیتے ہوئے