اٹھو نا! مجھے تمہاری ضرورت ہے (5) - اسری غوری

شازینہ بابا کی گود میں سر رکھے جانے کب سو گئی تھی. بابا دھیرے سے اس کا سر تکیے پر رکھ کر باہر آگئے مگر ہر دن بگڑتی حالت ان کو مستقل تشویش میں مبتلا کر رہی تھی. انہوں نے اپنے کمرے میں جاکر اپنے بہت ہی پرانے دوست احمد شاہ بخاری کا نمبر ڈائل کیا۔

اگلے دن صبح ہی سعادت حسین نے شازینہ کو بتایا کہ شام کو بخاری انکل کی طرف جانا ہے، تیار ہو جائے۔
شازینہ کو بھی بچپن سے ہی بخاری انکل سے اک خاص قسم کی انسیت تھی، وہ ان کا نام سنتے ہی اک دم خوش ہو جایا کرتی تھی۔
اب بھی اس نے فورا کہا کہ وہ ترکی سے واپس آگئے بابا؟
جی بیٹا رات ہی بات ہوئی، تمہیں بھی بہت یاد کر رہا تھے، کہہ رہے تھے کہ کل لے کر آؤ شازینہ کو، بہت دن ہوگئے ملے۔
شازینہ بہت دنوں بعد اتنی خوش تھی، اسے بخاری انکل سے ڈسکشن کر کے ہمیشہ سکون ملا کرتا تھا، وہ اس کےذہن میں الجھے بڑے بڑے سوالوں کے جواب بھی آسانی اور خوبصورتی سے دیا کرتے تھے. سارا دن اس نے اسی خوشی میں گزارا کہ اسے بخاری انکل سے ملنا ہے۔

بابا! یہ بخاری انکل جیسے لوگوں کو اللہ نے کیسے اتنا سکون سے نوازا ہوتا ہے کہ وہ اس سکون کو دوسروں میں بھی بانٹتے ہیں اور پھر بھی کم نہیں ہوتا. شازینہ نے جاتے ہوئے راستے میں بابا سے سوال کیا.
بس بیٹا! جو لوگ آزمائشوں کی بھٹی سے کامیاب گزر جاتے ہیں، انہیں پھر اللہ ایسے ہی اپنا قرب عطا فرما دیتا ہے اور اللہ کا قرب ہی تو سکون ہے اور اللہ کے پیارے بندے اس سکون کو اپنی جاگیر نہیں سمجھتے بلکہ وہ اسے اس رب کا احسان سمجھتے اور اسی کی مخلوق میں بانٹنا اپنی زندگی کا مقصد بنالیتے ہیں. بخاری نے بھی یہی کیا۔

السلام علیکم بخاری انکل! شازینہ نے حسب عادت انہیں لان میں دیکھ کر گاڑی سے اترتے ہی آواز لگائی.
بخاری انکل بھی انھیں کی راہ دیکھ رہے تھے. اس کا سلام سن کر گرمجوشی سے بڑھے اور شازینہ کے جھکے ہوئے سر پر ہاتھ پھیرا، دعائیں دیں.
ساتھ ان کی بیٹی رمزا بھی ان کے استقبال کو موجود تھی. ان دونوں میں چند ہی سال کا فرق تھا، رمزا بہت سلجھی ہوئی اور سمجھدار تھی. اس کی عادتوں میں بھی بخاری انکل کا بہت اثر تھا، اس نے شازینہ کو گلے لگایا، ہمیشہ کی طرح بہت محبت سے ملی.
بخاری انکل سعادت حسین سے بہت محبت سے گلے ملے،
کہاں ہے بھائی! اس بار تو بڑے ہی دن لگا دیے. سعادت حسین نے محبت بھرا شکوہ کر ڈالا.
بس اس بار کچھ ایسی مصروفیات ہوگئیں کہ چاہنے کے باوجود نہیں آسکا جلدی۔ تم سناؤ! یہ شازی بٹیا کا کیا حال کر رکھا ہے تم نے، اس کا بالکل خیال نہیں رکھتے؟
بخاری انکل شازینہ کی گرتی ہوئی صحت پر تشویشناک لہجے میں گویا ہوئے۔
ارے بھئی اس کا خیال اب تم ہی رکھو، اسے تمہارے خیال کی ہی ضرورت ہے. سعادت حسین نے اپنے غم کو ہلکی سی ہنسی میں اڑانے کی کوشش کی۔
رمزا چائے کے ساتھ لوازمات کی ٹرے اٹھائے داخل ہوئی اور سب کو چائے پیش کر کے وہ بھی ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی۔

چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے شازینہ بولی:
بخاری انکل! یہ بتائیں ترکی کے حالات کیسے ہیں، طیب اردگان کیا واقعی امت کا حقیقی لیڈر بننے جا رہا ہے؟
شازینہ نے اک دم ہی موضوع بدل دیا اور اپنے پسندیدہ موضوع کی جانب آگئی۔
بھئی ترکی کے حالات کا اندازہ تم اس بات سے لگا لو کہ اس وقت ترکی امت مسلمہ کی امیدوں کا مرکز اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے روشنی کی کرن ہے، طیب اردگان اس وقت سلطنت عثمانیہ کو دوبارہ زندہ کرنے اور ترک قوم کے بہترین لیڈر ثابت ہوئے ہیں، 15جولائی کے ناکام انقلاب کے پیچھے مغربی سازشوں اورگولن خفیہ تحریک کا گٹھ جوڑ ملوث تھا، اردگان اس وقت کمال اتاترک کے برابر کا لیڈر بن چکا ہے، جب ترکی میں ایک روٹی 20 ہزار لیرا کی اور ایک ڈالر کی بوری بھر کرنسی ملتی تھی، جسٹس پارٹی کی حکومت اور طیب اردگان کی بہادر قیادت میں آج ترکی کی معیشت کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں کو قرضہ دینے کی آفر کر چکا ہے۔
انکل بخاری نے بھی فورا ترکی کی موجودہ صورتحال کا خوبصورت اور امید افزا نقشہ کھینچا۔
انکل اس کا مطلب ہے کہ ترکی پھر حقیقتا امت مسلمہ کا ایک سچا اور مخلص لیڈر بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور وہ اپنا ہر کارڈ بہت خوبصورتی سے کھیل رہا ہے۔
شازینہ نے بڑے جوش سے کہا۔
جی بیٹا! آنے والے دنوں میں ان شاءاللہ ہم دیکھیں گے کہ وہ مسلم ممالک جو اپنے دلوں میں امت کا درد رکھتے ہیں مگر اپنی کمزور حیثیت کی وجہ سے خاموش ہیں اور دنیا بھر میں امت کے بہتے لہو پر اشک بار ہیں، وہ سب ترکی کے ساتھ ایک جھنڈے تلے جمع ہوں گے۔ انکل بخاری نے کہا.
یعنی کہ دنیا کا نقشہ جغرافیائی لحاظ سے بھی تبدیل ہونے جارہا ہے. شازینہ نے مزید کریدا۔
اچھا بھئی آپ دونوں کی تو گفتگو اب نہیں ختم ہوگی، ایسا کرتے ہیں کہ کل میں آفس جاتے ہوئے شازینہ کو رمزا کے پاس چھوڑ جاؤں گا، تب مل کر آپ دنیا کا جغرافیائی نقشہ بدلنے کی پلاننگ کرلیں۔
بابا نے ان کی گفتگو سے جان چھڑاتے ہوئے ہنس کر بولے۔
ہاں! یہ ٹھیک ہے انکل، میں بھی آج کل فارغ ہی ہوں، گھر ہی میں ہوتی ہوں، آپ کل دس بجے شازینہ کو میرے پاس چھوڑ جائیں، ابا جان بھی گھر ہی ہوں گے۔
رمزا نے فورا ہی کل کا پورا پلان دے دیا.
شازینہ واپسی میں کافی بہتر محسوس کررہی تھی، گھر پہنچتے ہی اس نے اپنے کمرے کا رخ کیا، اس نے سوچا جاکر کچھ دیر آرام کرلے، پھر اسے رات کو اپنا شروع کیا ہوا کام کرنا تھا۔
بابا میں کچھ دیر آرام کرلوں۔ شازینہ نے بابا سے کہا۔
جی بیٹا! میں ذرا اسٹڈی روم میں ہوں کچھ دیر۔
بابا بھی اسے کہہ کر اسٹڈی روم کی جانب چلے گئے۔
.....................................
سعادت حسین نے سٹڈی روم میں پہنچ کر سب سے پہلے احمد بخاری کا نمبر ملایا. سعادت حسین چاہتے تھے کہ کل کی ملاقات سے پہلے وہ بخاری کو شازینہ کے ساتھ گزرے کچھ حالات بتا دیں تاکہ وہ شازینہ کو ویسے ہیں ہینڈل کرے ۔ احمد بخاری جب ترکی گئے تو اس وقت شازینہ کے رضا سے نکاح کے معاملات ابھی طے نہیں ہوئے تھے.
رضا ان کے میچول فرینڈ حیدر مجتبیٰ کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا. رضا عادتا ایک سلجھا ہوا اور اچھی عادتوں کا مالک تھا مگر ساتھ ہی چار بہنوں کا اکلوتا بھائی، ماں باپ سب ہی کا لاڈلا، اس کی ہر خوشی کی خاطر پورا گھر ہر دم تیار رہا کرتا تھا اور اسی اہمیت اور لاڈ نے اسے کچھ ضدی بنا دیا تھا۔ اور اپنی اس ضدی عادت کی وجہ سے وہ خود بھی اذیتوں کا شکار رہا تھا اور اب شازینہ بھی۔
سعادت حسین نے شازینہ کا رضا کے ساتھ نکاح اور اس کے بعد کے کچھ حالات، موجودہ صورتحال اور شازینہ کی بگڑتی صحت کی وجہ، سب ہی کچھ مختصرا احمد بخاری کو بتائے۔
سعادت حسین جانتے تھے کہ شازینہ کو اگر کوئی کیفیت سے نکال سکتا ہے تو وہ بس احمد بخاری ہی ہے۔
.....................................
آجاؤ شازینہ! رمزا شازینہ کا ہی انتطار کر رہی تھ، اسے لے کر وہ اوپر انکل بخاری کے خاص کمرے میں لے گئی. شازینہ کو یہ کمرہ ہمیشہ ہی اپنی جانب کھینچا کرتا تھا، یہاں اک عجیب سی خوشبو بسی تھی، شدید گرمی کے موسم میں بھی اس کمرے میں اک خاص ٹھنڈک کا احساس ہوا کرتا تھا۔
کمرے کی دیوار پر بنا نفیس بک شیلف جس پر ترتیب سے قرآن کی تفاسیر سے لیکر سیرت نبویﷺ، فقہ اور مختلف موضوعات پر دنیا بھر کی کتابوں کےسیٹ سجے ہوئے بخاری انکل کے مطالعہ کی وسعت کا پتا دے رہے تھے۔
کمرے کے بالکل سامنے والی دیوار پر لگی پینٹنگ اک الگ ہی سماں بنا رہی تھی اور اپنے دیکھنے والوں کو محو کردینے کی پوری صلاحیت رکھتی تھی جس میں بہت ہی خوبصورت رنگوں سے کنویس پر لکھا تھا، ففروا الى اللہ، دوڑو اللہ کی جانب.... اور اک جانب جیسے کائینات کی چیز اسی جانب دوڑ رہی تھی ... بنانے والے نے بہت ہی خوب بنائی تھی شازینہ کتنے ہی لمحے اس میں کھوئی رہی ....
کمرے کی سیٹنگ بہت ہی سادہ سی رکھی گئی تھی، فرش پر ہلکے سبز رنگ کا قالین جس پر اسی رنگ کےگاؤ تکیے رکھے ہوئے تھے، ایک جانب ایک کرسی اور ٹیبل جس پر بہت سارے کاغذ ترتیب سے رکھے ہوئے تھے، جو صاحب مطالعہ کے صاحب قلم ہونے کی بھی تصدیق کر رہے تھے۔
شازینہ کمرے میں داخل ہوتے ہی خود کو عجیب سے حصار میں محسوس کر رہی تھی مگر وہ اس حصار میں پرسکون تھی، اس کا اضطراب کہیں کھو چکا تھا، وہ فرش پر بچھے قالین پر ایک کونے میں بیٹھی ابھی کمرے کی ہر چیز کا از سر نو جائزہ لے رہی تھی. آج بہت دنوں بعد جو یہاں آنا ہوا تھا۔
دروازہ کھلا اور بخاری انکل اندر آئے، وہ کھڑی ہوئی، سلام کیا، بہت محبت سے انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بیٹھنے کا کہہ کر خود بھی دوسری جانب بیٹھ گئے۔
اس کا حال احوال اور آج کل کی روٹین پوچھنے لگے. اس نے اپنی چند ایک ادھر ادھر کی مصروفیات کا بتایا، مگر یہ بھی ساتھ ہی کہا کہ ویسے وہ اس وقت بلکل فارغ بھی ہے۔
بخاری انکل مسکرائے اور بولے: مگر بھئی مؤمن تو کبھی فارغ نہیں ہوتا، تم نے وہ حدیث نہیں پڑھی کہ اپنی فراغت کو مصروفیت سے پہلے غنیمت جانو.
بھلا اس کا کیا مطلب ہے؟ اور جس کو اللہ نے اتنی صلاحیتوں سے نوازا ہو، اس سے تو ان کا بھی سوال کیا جائے گا۔ انہوں نے حدیث کا ایک حصہ سنایا اور ساتھ ہی اسی سے سوال بھی کر ڈالا۔
جی انکل! مگر میں اب خود میں وہ صلاحیتیں نہیں پاتی، مجھے لگتا مجھ سے سب کچھ چھن سا گیا، یا شاید میں بہت تھک گئی ہوں ۔ شازینہ نے کہیں دور کھوئے ہوئے جواب دیا.
نہیں شازی بیٹیا! ہم سے کچھ بھی نہیں چھنتا، اس لیے کہ صلاحیتیں دینا اور چھیننا تو خالصتا رب کا کام ہے، اور وہ رب بڑے ظرف والا ہے، وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر کچھ دے کر نہیں چھینا کرتا. ہاں! اگر اپنے کسی خاص بندے سے خاص آزمائشں مطلوب ہو تو ہی کچھ چھینتا ہے. وہ بھی اس لیے کہ اپنے بندے کو اس کے بدلے اس سے بڑا کچھ نوازنا مقصود ہوتا ہے۔ مگر انسان بڑا کمزور ہے، ان وقتی آزمائشوں سےگھبرا جاتا ہے اور دل چھوڑ بیٹھتا ہے. سمجھتا ہے کہ یا تو میرے رب نے مجھے چھوڑ دیا یا پھر وہ مجھ سے بےخبر یا خفا ہے، اور بس یہیں وہ مار کھا جاتا ہے۔
بھلا رب بھی کبھی بے خبر ہوا ہے؟
کبھی اس نے بھی کسی کو چھوڑا ہے؟
دنیا کا ہر رشتہ چھوڑ دیتا ہے۔
باپ خفا ہو تو کہتا ہے، جا میں نے تجھے عاق کیا.
ماں نافرمان کو کہتی ہے کہ دودھ نہیں بخشوں گی.
بہن بھائی لڑ جائیں تو کہتے ہیں کہ میری میت پر بھی نہ آنا.
اور کون رہ گیا؟
جانتی ہو رب کیا کہتا ؟؟؟
وہ کہتا ہے
" لا تقنطوا من رحمة الله" نا مایوس ہونا اللہ کی رحمت سے کبھی

یہ بھی پڑھیں:   بے حرکت کہانی - رضوانہ فاروق

بس ایک رب ہی تو ہے جو کہتا ہے کہ سمندر کے جھاگ کے برابر بھی گناہ کر لو تو بھی آجاؤ، بس تمہارے پاس ندامت کا یک آنسو بھی میری بارگاہ میں آنے کے لیے کافی ہے۔
شازینہ خاموشی سے سنتی رہی۔

کتنی تعداد کر چکی ہو؟ اچانک بخاری انکل نے سوال کیا۔
شازینہ نے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں ان کی جانب دیکھا مگر وہ تو ہمیشہ کی طرح اپنی نگاہیں کسی اور چیز پر مرکوز کیے ہوئے تھے۔
کچھ دیر جواب نہ پا کر انہوں نے اپنا سوال دوبارہ دہرایا، کتنی تعداد کر چکی ہو؟
اک دم شازینہ کے دائیں ہاتھ کے درمیان والی انگلی پر گرفت سخت ہوگئی۔ اس نے اپنی مٹھی ایک دم بھینچ لی۔ تو کیا بخاری انکل جان گئے۔
اس نے دھیرے سےگردن جھکائے جواب دیا، دو لاکھ سے کچھ زیادہ.
دو لاکھ، بخاری انکل نے اک نگاہ اس پر ڈالی اور پھر واپس اپنے اسی مرکوز پر گاڑ دیں۔
کس کی تعداد کتنی تھی؟
اک اور سوال تھا۔
شازینہ نے بڑی مشکل سے جواب دیا : ایک لاکھ درود ﷺ اور ایک لاکھ کلمہ طیبہ اور آیت کریمہ۔
ایک لاکھ درود ﷺ ماشاءاللہ ولاقوۃ الا باللہ، بخاری انکل نے ایک دم اس کی نظر اتاری.
رات بھر کا عمل کیا ہے؟
بخاری انکل کے سوال در سوال سے اسے لگ رہا تھا جیسے وہ اس کے ہر عمل سے واقف ہیں، مگر کیسے اس نے کبھی یہ سب بابا کو بھی نہیں بتایا تھا۔
اس نے آہستہ سے جواب دیا، تہجد میں سورہ بقرہ کا ختم.
اللہ اکبر! بخاری انکل نے بے ساختہ کہا۔
پھر بولے، تھکی نہیں؟
شازینہ کے لیے مزید بولنا بے حد مشکل تھا، اس کے حلق میں آنسوؤں کا گولہ پھنس چکا تھا۔ اس نے گردن نفی میں ہلائی۔
شازینہ بیٹیا! تم اس لیے نہیں تھکیں کہ تمہارے کسی جذبے کی لگن کی سچائی اور یقین نے اک لمحے کو تمہیں تھکنے کا حساس تک نہیں ہونے دیا۔ شاید تم نہیں جانتی کہ یہ عمل آسان نہیں جو تم کر رہی ہو، یہ ہر اک کے بس کا روگ نہیں۔ اب پتا چلا کہ تمہیں کہ تم کمزور ہو یا بڑے بڑے طاقت وروں سے زیادہ طاقتور؟
بے شک تمہارا پڑھا رائیگاں نہیں جائے گا مگر تم نے یہ سب بس اک شخص کی محبت میں کر ڈالا۔
تم جانتی ہو ایسے اعمال اور ایسی پڑھائی کون کرتا ہے اور کس کے لیے کرتا ہے؟
شازینہ نے سوالیہ نگاہوں سے ان کی جانب دیکھا۔
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ گویا ہوئے۔
اللہ کے ولی کرتے ہیں یہ سب، اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے، اس کی نگاہوں میں اپنا مقام پیدا کرنے کے لیے، اس کو اپنا بنانے کے لیے، اس کےدر کے فقیر بن جاتے ہیں۔
ایک لاکھ درود ﷺ کا مطلب جانتی ہو۔ نبیﷺ اکرم کی محبت سے لبریز ان کے عشق میں ڈوبے ان کے دیوانوں کا ہے یہ عمل تو، یہ سب کچھ مل جانے والے کو تو اتنا طاقت ور ہوجانا چاہیے کہ اسے چھوٹی چھوٹی آندھیاں کیا بڑے بڑے طوفان بھی نہیں ہلا پائیں ۔۔۔ کیا تم نے وہ آیت نہیں پڑھی کہ جو شخص اللہ پر ایمان لائے تو اس نے ایسے مضبوط کڑے کو پکڑا کہ جو ہرگز ٹوٹنے والا نہیں ہے۔ اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔
شازینہ تم نے ہیروں کے انبار جمع کرلیے مگر تم ان کے مصرف سے نابلد رہیں۔ اسی لیے اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی تم جس اذیت سےگزر رہی ہو، وہ اس خزانے کے حصول کا درست سبب نا ہونا ہے بس۔

یہ بھی پڑھیں:   محبت کی سرگوشیاں - سائرہ ممتاز

شازینہ بیٹی! یہ جو انسان کی محبت ہوتی ہے نا، یہ بہت تکلیف دہ ہوتی ہے، انسان کا ظرف اتنا نہیں ہوتا کہ وہ محبتوں کو سنبھال سکے، وہ تو بس اس کے مزاج اس کی عادت کے ساتھ جہاں تک میچ کرتی ہیں، بس وہ وہیں تک اس کو محبت سمجھتا ہے، تم اس سے ذرا الگ ہوکر کچھ کرو گی تو وہ سب کچھ لمحے میں بھلا دیتا ہے، اور پھر جب تک وہ اپنے دل سے وہ میل صاف نہ کرے، وہ کبھی نگاہ اٹھا کر بھی دیکھنے کے قابل نہیں رہتا، کیونکہ جہاں عفو و درگزر نہ ہو وہاں ایسے ہی زندگیاں برباد کر لی جاتی ہیں۔ یہ ظرف تو بس رب کو ہی جچتا ہے کہ وہ لاکھ اس کی نافرمانیوں اور لاکھ اس کے راستے سے ہٹ کر چلنے کے باوجود، وہیں اسی راستے پر کھڑے کھڑے بھی اگر اپنی ایڑیوں پرگھوم کر پلٹ جائے تو وہ رجوع کرنے والوں میں لکھ لیا جاتا ہے۔ اسی لیے تو قرآن اور احادیث میں رب کی ان صفات کو اپنانے کا بار بار حکم آیا ہے اور عفو و درگزر اور ظرف مانگنے کی تلقین کی گئی ہے.

اور اک بات یاد رکھو! کسی سے جتنی بھی محبت کرو، بس جواب میں کبھی اس سے اتنی ہی محبت کا تقاضا نہ کرو کہ ہر اک کے پاس محبتوں کے پیمانے ایک سائز کے نہیں ہوا کرتے، کسی کے پاس چلو بھر محبت ہوتی، کسی کے پاس دامن بھر، کوئی محبتوں کی نہریں بہاتا ہے، تو کوئی محبتوں کا دریا لیے پھرتا ہے، اور سب سے بڑھ کر رب کی محبت کا سمندر جو ان سب محبتوں پر حاوی ہو جاتا ہے۔
اگر کہیں تم یہ سب اس رب کو پانے کے لیے کرتیں، اپنے آقا کے عشق میں کرتیں، تو تم جانتی ہو تمھیں جو لذت اور جو انعام حاصل ہوتا، اور یہ جو کچھ تم نے جمع کیا، یہ سب تمھارے سکون کے لیے اتنا کافی ہوجاتا کہ تم وہ سکون اس کی مخلوق میں بھی بانٹتی تو کبھی کم نہ ہوتا۔

کمرے میں شازینہ کی دبی دبی سسکیاں سنائی دینے لگی تھیں، بہت دیر سے کوشش کر کے بھی وہ اپنے آنسوؤں کو نہیں سنبھال پا رہی تھی. ان کی اس بات پر ایک دم سسک کر بولی۔
مگر میری محبت کا موجب بھی تو اسی رب کا حرم اور آقا کا در بنا تھا نا۔ وہ تو جانتا تھا نا میں نے حرم کے لیے برسوں دعائیں مانگیں، برسوں سے اس سے التجائیں کرتی آ رہی ہوں نا۔ اسی نے میری آس باندھی تھی نا۔ اسی نے مجھے اپنے گھر میں جگہ دینے کا میرا خواب پورا کرنا تھا نا۔ پھر بس چھ ماہ میں ہی مجھ سے کیوں چھینی میری آس۔
شازینہ اور رضا کے نکاح کو بس چھ ماہ ہی تو گزرے تھے جب یہ سب کچھ ہوا۔
شازینہ اب کسی بچے کی طرح سسک رہی تھی۔
پھر کیا ہوا؟
حرم والا تو اب بھی وہیں ہے نا، اس کا حرم بھی وہیں ہے، پھر تمہاری محبت صرف اک ہی دائرے کے گرد کیوں گھومنے لگی۔
جب ہم انسانوں سے آس رکھتے ہیں تو ہمیں ہر لمحہ اپنی آس سمیت ٹوٹنے کے لیے خود کو تیار رکھنا چاہیے۔
اور اگر رب سے آس رکھی ہے تو اسے ہمیشہ قائم رکھو، بس ایک بات رکھو، وہ کبھی مایوس نہیں کرتا۔
خود کوسنبھالو، اپنے ان حاصل کردہ خزانوں کی قدرو قیمت کو پہچانو۔
اور رب سے رب کو مانگنا شروع کردو۔
اس سے اس کی محبت مانگنا شروع کردو، اس کی چاہت میں خود ایسے ہی غرق کرلو۔
سراپا صبغت اللہ ہو جاؤ.
اب جب درود ﷺ کی تعداد مکمل کرو تو نیت اپنے آقا ﷺ کے دیدار کی رکھنا۔
یقین جانو! وہ رب تمہیں یہ سب بھی عطا کردے گا اور وہ سب بھی جو تمہاری چاہت، تمہاری محبت ہے۔
اور اک دن تمہیں تمہارا ’’حرم‘‘ ضرور ملے گا۔ ان شاءاللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

پہلی قسط یہاں پڑہیے
دوسری قسط یہاں پڑہیے
تیسری قسط یہاں پڑہیے
چوتھی قسط یہاں پڑہیں

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں