برہنگی - نورین تبسم

برہنگی انسانی ذات کی ایسی کمزوری ہے جس سے فرار ممکن ہی نہیں۔

کمزوری کیا ہے؟ کمزوری ہماری اُس ضرورت کا نام ہے جو پوری ہو کر بھی کبھی پوری نہیں پڑتی۔ ضرورت حد سے بڑھ جائے تو ہوس بن جاتی ہے۔ ضرورت کو سمجھا جا سکتا ہے، سمجھایا جا سکتا ہے لیکن ہوس وہ نابینا پن ہے جو سوچ سمجھ کے ہر منظر کو تاریکی میں چھپا دیتا ہے۔

جس طرح انسان کے دو پہلو ہوتے ہیں جسمانی اور روحانی۔ اسی طرح برہنگی کے بھی دو زاویے ہیں: جسم کی برہنگی، سوچ کی برہنگی۔
جسم کی برہنگی اگر حدود و قیود میں ہو تو جائز ٹھہرتی ہے۔ اور اگر محض کمزوری نہ رہے، ضرورت بن جائے تو نامحرم بھی محرم بن سکتا ہے۔ جبکہ سوچ کی برہنگی محرم نامحرم کی حدود و قیود سے آزاد تو ہے لیکن اس کی اپنی حدود بھی ہیں۔ سوچ کی لہریں ہر کسی کی گرفت میں آ بھی نہیں سکتیں۔ اِن کی خاص فریکوئنسی ہوتی ہے۔ یہ صرف اُس لمس کو چھوتی ہیں جن سے ان کی ویو لینتھ مل جائے۔

جسم کو قرینے سے ڈھانپنے کا ہنر سوچ کے عکس کی صورت جہاں برہنگی کو زندگی کا حصہ بناتا ہے وہیں سوچ کی برہنگی کا رکھ رکھاؤ انسان کی جسمانی زندگی کا آئینہ دار بھی ہوتا ہے۔ اکثر کلف زدہ اُجلے کپڑوں والے اندر سے اتنے برہنہ ہوتے ہیں کہ اُن کی کائی زدہ بدبودار سوچ اُن کے جسموں سے چھلکتی پڑتی ہے۔ کبھی عام سے لباس میں کوئی درویش صفت اپنی مہک سے جگ کو منور کرتا ہے۔ جسم کی برہنگی فرد سے شروع ہو کر اُس کی ذات پر ہی ختم ہوتی ہے اور سوچ کی برہنگی لفظ کی قید میں ہو، حرف کی صورت کاغذ پر اُترے تو کلاسک کے درجے تک جا پہنچتی ہے۔ چاہے وقتی طور پر ایک مخصوص اندازِ فکر کو ہی متاثر کیوں نہ کرتی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   روح کے زخموں کا مرہم - ام حبیبہ

برہنہ جسم ہو یا برہنہ سوچ، جب تک اسے احتیاط سے برتا نہ جائے، یہ ہمیشہ طبیعت پرگراں ہی گزرتا ہے۔ بےشک معاشرے میں جسم کی برہنگی قابلِ مذمت اورقابلِ گرفت ہے لیکن اپنے مالک کی بارگاہ میں قابلِ معافی بھی ہے۔ توبہ کا در کھلا ہے، ندامت کے آنسو پردہ پوشی کو کافی ہیں۔ سوچ کی آوارہ گردی اُس کی برہنگی کو معاشرے میں ذرہ برابر بھی اہمیت نہیں دی جاتی اور نہ ہی اس کی کوئی خاص سزا ہے، بلکہ کہیں تو یہ انتہائی اعلٰی درجے کا ادب گردانا جاتا ہے یا پھرعام بول چال کو وقتی غبار یا بھڑاس کہہ کر صرفِ نظر کر لیا جاتا ہے۔

رب کی عدالت میں پکڑ پہلے سوچ یعنی طرزِ فکر کی ہے جسے ہم بہت محدود رکھ کر صرف نیت کا نام دے کر اپنے آپ کو بری الذمہ کر لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہےکہ ذہنی عیاشی اور پراگندہ خیالات دراصل روح کی غلاظت ہیں جو جسم سے پہلے روح کو بیمار کر دیتے ہیں۔ ہمیں ان سے آگاہی اس لیے نہیں ہو پاتی کہ کبھی تو بظاہر بڑے دلفریب اور ان کی چمک آنکھیں چندھیا دینے والی ہوتی ہے۔ جب یہ زندگی کے تحائف کی صورت بڑے خوبصورت ملبوس میں لپٹتے جابجا بکھرے ملتے ہیں۔ یاد رہے یہ خیال آنا بھی حق ہے کہ اسی طرح نہ صرف دوسروں کی اصلیت بلکہ اس پر ہمارا برتاؤ ذہنی پختگی کا پتہ دیتا ہے۔ لیکن خیال کے بعد اس کو جاننا اور ماننا بھی بہت اہم ہے۔ کسی بھی چیز کو بغیرسوچے سمجھے یک دم مسترد کر دینا یا اس پر اپنا فوری ردِعمل ظاہر کرنا صرف ہماری کمزوری کی علامت ہے۔

آخری بات!
برہنگی انسانی فطرت کی غماز ہے۔ انسان کا تمام سفر اسی کے گرد گھومتا ہے۔ دُنیا میں آنکھ کھولنے سے پہلے سوچ کی برہنگی اور پھر پیدائش کی اولین ساعتوں کا برہنہ پن۔ اس کے بعد سوچ اور جسم پر طرح طرح کے لبادے چڑھتے اُترتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اپنی فطرت کی طرف واپسی کا وقت آ جاتا ہے، اور اُسی ترتیب سے پہلے جسم کا لباس اترتا ہے، اور بعد میں کہیں جا کر سوچ کا۔ وہی وقت فیصلے کا بھی ہوتا ہے کہ آراستگی کے اس سفر میں کیا کھویا کیا پایا۔ اللہ اس وقت کے برہنہ پن سے بچائے جب اپنے آپ کا جائزہ لینے کے لیے اپنی نگاہ ہی کافی ہوگی۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں