عوام کی آپ بیتی - ریحان اصغر سید

پہلا منظر
یہ انگلستانی طرز تعیمر کا حامل بلند چھت والا ہال نما کمرہ ہے۔ کمرے کی دیواروں پر چونے کا پوچا پھیرا گیا ہے۔ ایک دیوار کے ساتھ ایک سالخوردہ سی میز پڑی ہے، جس کے ساتھ ایک پرانی سٹیل کی دارزوں والی الماری ہے۔ میز پر پاکستان کا چھوٹا سا سبز ہلالی پرچم دھرا ہے۔ اس کے ساتھ کچھ کاغذات کے پلندے پڑے ہیں جھنیں پیپر پن کے بجائے کانٹوں سے باندھا گیا ہے۔ میز کے پیچھے پرانے لیکن اجلے کپڑوں میں ایک باوقار شخص بیٹھا ہے۔ یہ حکومت پاکستان ہے۔ میں میز کے دائیں کونے میں خاموشی سے بیٹھا اپنا حقہ گڑگڑا رہا ہوں۔ میرے سامنے عوام کی تختی پڑی ہے۔ اسی اثنا میں کمرے میں ایک دراز قامت فوجی داخل ہوتا ہے۔ اسلحے کے نام پر فوجی کے ہاتھ میں ایک دو نالی والی بارہ بور رائفل ہے۔ فوجی کے کالر کی سلائی ادھڑی ہوئی ہے اور بوٹ ٹوٹے ہوئے ہیں۔ اس کی زنگ آلود سائیکل سامنے برآمدے کے ایک ستون کے ساتھ ٹکی ہے۔ فوجی کمرے میں داخل ہونے کے بعد بڑے جذبے سے سیلوٹ کرتا ہے۔ حکومت اور میں بردباری سے سر ہلا کے سیلوٹ کا جواب دیتے ہیں۔
’’سر دشمن نے اپنے وسائل کا رخ دفاع کی طرف موڑ دیا ہے۔ وہ ٹینک اور گولہ بارود خرید رہا ہے۔ اپنی فضائیہ کو ترقی دے رہا ہے۔ اس کی نفری میں ہونے والا اضافہ تشویش ناک ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ سرحد پر مسلسل اشتعال انگیزی بھی کر رہا ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ اگر ہم نے بروقت جوابی اقدامات نہ اٹھائے تو مادر ملت کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔‘‘
فوجی نے اپنی ٹوپی اتار کے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
حکومت کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات ابھر آئے۔ اس نے بے بسی سے مجھے دیکھا۔
’’جناب سپہ سالار! آپ جانتے ہیں ہمارے پاس وسائل انتہائی محدود ہیں، نوزائیدہ ریاست کے پاس ضروری ملکی امور کو چلانے کے لیے بھی پیسہ دستیاب نہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم وطن کے دفاع سے بھی غافل نہیں ہو سکتے۔ آپ بے فکر رہیے ہم بھوکے رہ لیں گے لیکن آپ کو وسائل مہیا کریں گے۔‘‘
میں نے حکومت کی تائید میں سر ہلایا اور اپنی کلائی کی گھڑی اور سامنے چینگر میں پڑی دو روٹیوں میں سے ایک روٹی اٹھا کے سپہ سالار کے سامنے رکھ دی۔ حکومت بھی اپنی جیبوں میں سے ساری جمع پونجی اکھٹی کر رہی تھی۔
..............................................
دوسرا منظر
منظر اسی کمرے کا ہے لیکن بہت کچھ بدل چکا ہے، پرانی میز کی جگہ کمرے میں اب انتہائی قیمتی لکڑی کی میز دھری ہے۔ دیوار کے ساتھ لگی الماری بھی نئی ہے، البتہ میری کرسی ابھی تک پرانی ہے اور میز سے کچھ فاصلے پر پڑی ہے۔ چھت پر ایک سیلنگ فین بھی لگ گیا ہے جو سرکاری رفتار سے گھوم رہا ہے۔
ایک خاکی جیپ برآمدے کے سامنے پہنچ کر رک چکی ہے۔ پسنجیر سیٹ پر بیٹھا سپہ سالار کلف لگی وردی میں اتر کے تیز تیز ڈگ ڈگ بھرتا کمرے میں داخل ہوتا ہے اور بڑے ڈھیلے سے انداز میں مجھے سیلوٹ کرتا ہے۔ حکومت والی کرسی خالی پڑی ہے۔ فوجی سیلوٹ کر کے حکومت والی کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ کچھ فینسی کورز والی فائلوں پر دستخط کرنے کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوتا ہے۔
’’میرے عزیز ہم وطنو! تمھیں ملک خداداد میں کوئی تکلیف شکایت ہے تو بلاجھجک عرض کرو۔‘‘
میرے چہرے پر مسیکنی ابھر آتی ہے۔
’’سرکار! بچوں کی تعلیم کا بڑا مسئلہ ہے، علاج معالجے کی سہولتیں بھی برائے نام ہیں، لڑکے بالے بھی بے روزگار پھر رہے ہیں، بس اس طرح کے چھوٹے موٹے مسائل ہیں۔‘‘
میں نے ہاتھ جوڑ کے لجاجت سے کہا۔
فوجی کے چہرے پر سوچ بچار کے تاثرات تھے۔
’’ہم آپ کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں مگر ہمارا ہمسایہ ہمیں سنبھلنے کا موقع نہیں دے رہا۔ ہم ابھی ایک مشکل جنگ کے بعد کے اثرات سے نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اس کے بعد ساری توجہ آپ کے مسائل کے حل کی طرف موڑ دی جائے گی۔ ان شاءاللہ‘‘
..............................................
تیسرا منظر
ملک کے بٹوارے کے بعد درمیان میں دیوار اٹھ گئی ہے۔ ہمارے حصے والے آدھے کمرے کے بھی عملاً دو حصے ہیں۔ سرکاری حصہ لش پش اور پر تعیش ہے۔ وہاں بجلی ہے، اے سی ہے، فانوس چمک رہے ہیں اور میز کے پیچھے کلف کے کڑکڑاتے سفید سوٹ میں ایک وڈیرا بیٹھا مشروب مغرب سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔
میرے والے حصے میں ایک ٹوٹی چارپائی ہے، مکھیاں اور مچھر ہیں یا ایک ٹوٹا پھوٹا پنکھا ہے جو بجلی آنے پر کبھی کبھی چلتا ہے۔
فوجی اس دفعہ چمچماتی فوجی نسل کی لینڈ کروزر پر آتا ہے۔ ڈرائیور دوڑ کے دروازہ کھولتا ہے۔ سپہ سالار کے ہاتھ میں چھڑی کے علاوہ جدید اسلحہ بھی ہے۔
وردری پوش دربان سفید دستانوں والے ہاتھ سے دروازہ کھولتا ہے۔
مجھے اتنے فاصلے پر پھینکا گیا ہے کہ فوجی اور سرکار کیا بات کر رہے ہیں، مجھے کچھ پتہ نہیں۔ بس اتنا اندازہ ہو رہا ہے کہ دونوں کسی بات پر لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہیں. آخر میں فوجی سرکار کے ہاتھ میں ہتھکڑی ڈال کے اسے گرفتار کر کے لے جاتا ہے۔
اگلے منظر میں فوجی ہیلی کاپڑ پر آتا ہے اور آ کے سرکار کی کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ اس دفعہ اس کے کندھے پر ایٹم بم بھی لدا ہوتا ہے۔ اس طرح منظر کئی دفعہ بدلتا ہے۔ کئی سرکاریں آتی جاتی ہیں لیکن میری حالت بد سے بدتر ہوتی جاتی ہے۔ مجھے بیماریوں نے گھیر لیا ہے۔ بجلی ملنا بند ہو چکی ہے۔ پانی گندہ اور آلودہ ہو چکا ہے۔ دوائیاں ملتی ہی نہیں۔ اگر ملیں تو جعلی اور ایکسپائر ہوتی ہیں۔ میرے بچوں کے لیے سکول ٹوٹے پھوٹے اور نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اور سب سے بڑا ستم یہ ہوا ہے کہ مجھے ہر وقت دہشت گرد مارتے رہتے ہیں۔
..............................................
آخری منظر
اس کمرے میں اب دو الگ دنیائیں ہیں، ایک طرف روشنی اور رنگ و نور ہے۔ انواع قسم کے کھانے اور خوشبوئیں ہیں۔ سرکار کی میز پر بیٹھنے والوں کو بلٹ پروف شیشے کی دیواروں نے حصار میں لے رکھا ہے۔ دوسری طرف میں گندگی اور کوڑے کے ڈھیر پر پڑا ہوں، میرے منہ پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔ میں ایک ہاتھ سے کجھور کے پتوں کی بنی پنکھی سے ہوا لیتے ہوئے حسرت سے سرکار والے حصے کے اے سی کو دیکھ رہا ہوں۔ اسی اثنا میں برآمدے کے باہر بنے رن وے پر سپہ سالار کا طیارہ لینڈ کرتا ہے اور ٹیکسی کرتا ہوا سرکاری لگژری طیاروں اور ہیلی کاپڑوں کے پاس کھڑا ہو جاتا ہے۔ سپہ سالار کے کمرے میں داخل ہوتے ہی میں اپنے نیم مردہ جسم کو بمشکل کھڑا کر کے سپہ سالار کو سیلوٹ کرتا ہوں۔ سپہ سالار ڈھیلے سے انداز میں حکومت سے ہاتھ ملاتا ہے. میں جانتا ہوں اب دونوں وسائل اور مال کی تقسیم پر جھگڑا کریں گے۔ دونوں کے پاس اپنے اپنے رونے اور اپنے مسائل ہیں، میری کسی کو پروا نہیں۔
یہ آج دونوں میری طرف کیوں آ رہے ہیں؟
یا اللہ خیر! میری پاس تو مزید قربانی دینے کے لیے کچھ بچا بھی نہیں۔
منہ پر رومال رکھے دونوں بڑے اپنے اپنےگارڈز کے ہمراہ میرے قریب آتے ہیں۔ ان کے لباس غیر ملکی پرفیومز سے لتھڑے ہوئے ہیں۔ آنکھوں پر برانڈڈ عینکیں اور کلائیوں پر لاکھوں کی گھڑیاں ہیں۔ سرکار میری بنض چیک کرتی ہے۔ میرے دل میں موہوم سی امید پیدا ہوتی ہے کہ شاید ستر سال بعد سرکار کو میری صحت کا خیال آ گیا ہے۔ اسی اثنا میں سپہ سالار کی مایوسی بھری آواز آتی ہے۔
اس کے پاس تو کچھ بھی نہیں بچا۔
حکومت نفی میں سر ہلاتی ہے۔
طاقت اور وسائل کا سرچشمہ عوام ہیں۔ انھوں نے پہلے بھی قربانیاں دی ہیں، آئندہ بھی دیں گے۔
اس کاغذ پر انگوٹھا لگاؤ بزرگو۔
کیا لکھا ہے اس کاغذ میں؟
میں کانپتے ہاتھوں سے کاغذ تھام کے اپنی ایک شیشے والی عینک ڈھونڈتا ہوں۔
کیا کرو گے پڑھ کے؟
سرکار کے چہرے پر برہمی تھی۔
جب ایک دفعہ کہہ دیا کہ ملک کو تمھاری قربانی کی ضرورت ہے تو زیادہ چوں چراں نہ کرو۔
اتنی دیر میں میری نظر کاغذ پر پڑ چکی تھی جس پر لکھا تھا کہ وطن عزیز کو مالی مشکالات سے نکالنے کے لیے عوام کے ایک گردے اور ایک آنکھ کے ضرورت ہے۔ بیس کروڑ گردے اور آنکھیں بیچنے سے نہ صرف کثیر زرمبادلہ حاصل ہوگا، بلکہ ملک ترقی اور دفاع کی نئی بلندیوں پر بھی پہنچ جائے گا۔
حمد ہے اس رب کی جس نے انسان کو اضافی اعضا لگائے تاکہ بوقت ضرورت بیچ کر کام چلایا جا سکے۔
اس سے آگے میں پڑھ نہیں پایا کیونکہ میں بے ہوش ہو چکا تھا۔

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */