تحریک پاکستان میں طلبہ کا کردار - آمنہ اسلم

برصغیر کے مسلمانوں کو ان کے دینی، سماجی، سیاسی اور انسانی حقوق سے محروم کرنے کی وجہ سے ان میں پاکستان کے حصول کی تحریک پیدا ہوئی۔ اس تحریک میں ہر طبقے کے لوگوں نے حصہ لیا جن میں نوجوان طلبہ بھی شامل تھے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا اہم اثاثہ ہوتے ہیں کیوں کہ قوموں کی عروج اور ترقی میں ان کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ تحریک پاکستان میں بھی نوجوان طبقہ بہت سرگرم تھا اور راستے میں آنے والی ہر ایک دشواری کا بہادری سے مقابلہ کرتا رہا یہاں تک کہ مسلمانان برصغیر ایک الگ ملک "پاکستان" حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

کلکتہ کے اجلاس میں قائد اعظم کی تقریر نے طلبہ پر جادو کا کام کیا اور ان کے دلوں میں نیا جوش وولولہ اور عزم پیدا کر دیا۔ منزل اور راہ کا تعین ہوجانے کے بعد طلبہ کا قافلہ کچھ اس انداز سے چلا کہ پھر اس نے کبھی بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ نوجوان مسلمان طلبہ کی تنظیم آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن اپنے مقاصد کے لیے سرگرم ہوگئی اور انہوں نے اپنے حلقے میں بکھری ہوئی ٹولیوں کو ایک مربوط قوم کی شکل دینے اور نئے منشور کے مطابق نوجوان نسل کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل وضع کر کے ان میں جذبہ اتحاد مستحکم کرنے کی کوششیں تیز کردیں۔ اس سلسلے میں متذکرہ لائحہ عمل کے مندرجہ ذیل نکات قابل توجہ ہیں:

1: مسلمانوں کو تین خطوط پر کام کرنا ہوگا۔ تنظیمی امور، ایجی ٹیشن یاعملی جدوجہد اور پروپیگنڈا۔
2: تمام صوبائی شاخوں میں رابطہ اور اشتراک پیدا کیا جائے۔
3: مختلف تعلیمی اداروں اور مسلم طلبہ کی شکایات کو دور کرنے کے لیے فی الفور کارروائی شروع کی جائے۔
4: پورے ہندوستان میں مسلم طالب علم ہر جگہ کانگریس کی ذیادتیوں کے خلاف احتجاج کریں گے۔
5: مسلم ممالک خصوصاً ترکی، ایران اور افغانستان کے مسلم طلبہ کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ ہم ان ممالک کے طلبہ کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔
6: مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن ٹیوشن کی فیسوں میں کمی کا مطالبہ کرے اور یہ بھی مطالبہ کرے کہ حکومت کی طرف سے مسلم مکتبوں کو مالی امداد دی جائے۔
7: تمام اسکولوں میں مسلمان بچوں کے لیے مذہبی تعلیم کا انتظام کیا جائے۔
8: “فتح مکہ” کی تقریب کے دن “یوم مسلم طلبہ” منایا جائے اس لیے کہ اسی دن مسلمانوں نے مکہ فتح کر کے کفار کو آخری اور مکمل شکست دی۔
9: بیروزگاری کے مسئلے کی طرف توجہ دلانے اور اس کا حل دریافت کرنے کے لیے یومِ بیروزگاری منایا جائے۔
10: اور آخری بات نہایت ہی اہمیت کی حامل ہے کہ مسلمان طالب علم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں ان پر فرقہ واریت کا الزام چپساں کر دیا جاتا ہے، انہیں لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو محض ایک فرقہ شمار نہ کریں کیوں کہ 9 کروڑ عوام کو فرقہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک قوم کی حیثیت سے سوچنا چاہیے۔ لائحہ عمل میں جہاں کہیں ایجی ٹیشن یا آرگنائزیشن استعمال ہواسے وہاں یاد رکھنا چاہیے کہ نظم وضبط کا دامن ہاتھ سے نہ جانے پائے بلکہ ایک منظم ادارے کے طور پر کام کیا جائے ایک غیر منظم انبوہ کی حیثیت سے نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   رہائیاں نہیں پاکستان کو باوقار بنائیں - حبیب الرحمن

مندرجہ بالا لائحہ عمل کا مقصد کہ بے چین نوجوان کی قوت عمل اور سرگرمیوں کو کارآمد اور تعمیری راہ پر ڈالا جائے وہی مسلمان طالب علم جو چند دن پہلے تک منتشر ہو کر بھٹک رہے تھے اب “قوم سازی” کے اہم کام میں مصروف نظر آنے لگے۔

قائد اعظم نے صاف اور واضح الفاظ میں کہا تھا کہ “مسلمان محض ایک اقلیت نہیں بلکہ ایک قوم ہیں۔” ان کی للکار کا غلغلہ ان ہالوں اور ہوسٹلز میں گونجی جہاں مسلمان طلبہ پڑھتے تھے۔ انہوں نے اس آواز پر جوش و ولولہ کے ساتھ لبیک کہا اور اتنے متاثر ہوئے کہ مسلم قوم کی تعریف آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سرکاری ہیڈ کے حاشیے میں چھاپ دی گئی۔

علامہ اقبال 1930ء میں برصغیر کے مسلمانوں کے سامنے ایک الگ مملکت کا تصور پیش کرچکے تھے۔ ایک زیر تعلیم نوجوان چوہدری رحمت علی نے مجوزہ مسلم ریاست کا نام “پاکستان” تجویز کیا۔ اس کے بعد تمام طلبہ قائد اعظم کی قیادت میں مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جمع ہوئے اور آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہوگئے۔ انہیں اپنے قائد پر پورا اعتبار تھا اور ان کے حکم کی تعمیل میں نوجوان طلبہ ہر قربانی کے لیے تیار تھے۔ اسی طرح جب 23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں قراردار لاہور کے ذریعے پاکستان کا مطالبہ پیش کیا گیا اور پھر 24 مارچ کو یہ قرارداد منظور کی گئی تو اس طویل جدوجہد کا نیا موڑ آگیا۔ تحفظات کی بھیک مانگنے اور دھتکارے جانے کا دور ختم ہوا اور پہلی مرتبہ 10 کروڑ مسلمانوں کے سامنے ایک صاف اور واضح مقصد آگیا اور منزل کا تعین ہوگیا۔

جب قرارداد لاہور منظور ہوئی اس وقت مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی شاخیں برصغیر کے تقریباً تمام صوبوں اور اہم شہروں میں قائم ہوچکی تھی۔ تاریخ شاہد یہ ہے کہ طلبہ اپنی قوم کا فعال اور بیدار جزو تھے۔ انہوں نے قائد اعظم کے جھنڈے تلے سامراج کے پنجے سے آزاد ہونے اور پاکستان حاصل کرنے کا تہیہ کر لیا۔ اپنی روایت کے مطابق نوجوانوں طلبہ جی جان سے پاکستان کے لیے لڑے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے کہ جب تک نئی مملکت وجود میں نہیں آگئی۔

علی گڑھ میں مسلمان طلبہ کا ایک کیمپ منعقد ہوا جس میں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر راجہ صاحب محمود آباد بھی شریک ہوئے۔ کیمپ کے دوران پاکستان کی مجوزہ اسکیم پر مختلف پہلوؤں سے بحث ومباحثہ ہوا اور مقالات پڑھے گئے۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے کئی استادوں نے اس کیمپ میں نمایاں حصہ لیا جن میں فلسفے کے پروفیسر ڈاکٹر ظفر الحسن، حیوانات کے ریڈر ڈاکٹر افضال حسین قادری، انگریزی کے لیکچرار مسٹر جمیل الدین اور پروفیسر ابوبکر حلیم سب سے زیادہ قابل ذکر ہیں۔ اسی دوران ڈاکٹر ظفر الحق اور ڈاکٹر افضال قادری نے ایک منصوبے کا مسودہ تیار کیا جن میں تقسیم ہند کے متعلق سفارشات تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ناروے کا افسوسناک واقعہ ، ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ آصف لقمان قاضی

علی گڑھ مسلم طلبہ کا سب سے بڑا مرکز تھا اور قومی معاملات میں مرکزی کردار ادا کرنے کی استعداد رکھتا تھا۔ پاکستان کی تحریک شروع ہوئی تو بہت سے طلبہ جو برصغیر کے مختلف حصوں سے آئے تھے اپنی خدمات پیش کیں۔ پاکستان بننے سے پہلے ہی کچھ لڑکوں نے اپنے نام کے ساتھ خادم پاکستان کے لاحقے لگالیے جوش وخروش کا عالم یہ تھا کہ ایک طالب علم عبد العلیم خان نے لیگ کے دفتر کو لکھا: “ہم طلبہ پاکستان کے سپاہی ہیں اور ہائی کمان کی طرف سے حکم کے منتظر ہیں کہ اسے فوراً بجا لائیں۔"

ایک اور صاحب ایس ایم اسرافیل نے بھی خط بھیجا اور لکھا کہ ضلع بھاگلپور میں پاکستان کی تحریک سے عوام کو روشناس کرانے کے لیے دورہ کر رہا ہوں جس کی وجہ سے میری پڑھائی کا ایک سال ضائع ہوگیا لیکن میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں پاکستان کی اسلامی سلطنت کے قیام کی کوشش میں اپنی جان دے دوں گا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی یونین نے قائد اعظم کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو کیا ور انہیں بتایا کہ یونین نے مطالبہ پاکستان کو باضابطہ طور پر اپنا سرکاری مسلک قرار دے دیا ہے اور علی گڑھ کے نوجوان اپنے قومی مطمع نظر یعنی پاکستان کے حصول کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ اس وقت کے نائب صدر نصرت حسن نے قائد اعظم کو خوش آمدید کہا اور انہیں یقین دلایا کہ علی گڑھ کے طلبہ مسلمان قوم کے اغراض ومقاصد کے پوری طرح وفادار ہیں ۔ قوم کے لیڈروں نے علی گڑھ سے جو امیدیں باندھی تھیں طلبہ نے انہیں پورا کر دکھایا۔

ستمبر 1945ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے نواب پیرزادہ لیاقت علی خان نے لیگ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ برصغیر کے مسلمان طالب علموں کے نام پیغام جاری کیا کہ آنے والے انتخابات میں سر بکف ہو کر مسلم لیگ کے لیے کام شروع کردیں اس لیے کہ انتخابات کے نتائج پر مسلمانوں کی سیاسی موت وحیات اور پاکستان بننے یا نہ بننے کا انحصار ہوگا۔

چنانچہ طلبہ کی فوج علی گڑھ کے ہوسٹلوں اور کلاسوں سے مارچ کرتی ہوئی میدان انتخاب میں نکل آئی اور ملک کی دوسری یونیورسٹیوں کالجوں اور اسکولوں کے مسلمان لڑکے بھی اپنے اپنے مورچوں پر جا ڈٹے۔ اس کے بعد انتخابی جنگ گھمسان کارن پڑا جس میں فتح مسلم لیگ کی ہوئی اور نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان کی آزاد مسلم مملکت معرض وجود میں آئی۔ الحمدُللہ

میر ا دشمن مجھے کمزور سمجھنے والا
مجھ کو دیکھے کبھی تاریخ کے آئینے میں
میں نے ہر عہد میں توڑا ہے رعونت کا طلسم
میں نے ہردور میں اک نیا باب لکھا ہے
میرا دشمن یہ حقیقت نہ فراموش کرے
بیعت ظلم وستم میری روایت ہی نہیں
مجھ کو میدان سے پسپائی کی عادت ہی نہیں
عرصہ بدر میں کردار بنی ہوتا ہوں
دشت کربل میں تو میں ابن علی ہوتا ہوں