قرآن مجید سے دوری کے اسباب‎ - نور بنت مصطفی

قرآن مجید انسان کی ہدایت کے لیے سب سے اہم ذریعہ ہے۔ اسی لیے انسان کے ازلی دشمن یعنی شیطان نے اس کے لیے بے شمار رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں اور اس کے لیے بہت خوبصورت اور خوشنما دلائل بھی مہیا کر رکھے ہیں۔ قرآن مجید سے دوری کے اسباب کی نشاندہی کا مقصد یہی ہے،کہ اگر کوئی شخص غیر محسوس طریقے سے یا لاشعوری طور پر ان امراض میں مبتلا ہے یا ان میں سے کسی ایک میں تو وہ اپنے مرض کے لاعلاج ہونے سے پہلے اس پر توجہ دے سکے۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا اور آخرت کی ساری برکتیں اور بھلائیاں سمیٹ کر اللہ سبحانہ و تعالٰی نے قرآن مجید کی صورت میں ہماری جھولی میں ڈال دی ہیں۔ قرآن مجید اپنے پڑھنے والوں کے لیے باعث سکینت، رحمت، ہدایت، اور شفا ہے۔ انسانی زندگی کی کون سی حاجت اور مشکل ایسی ہے جس کا حل قرآن مجید نے پیش نہ کیا ہو، اس دنیا کے بعد عالم برزخ میں بھی قرآن مجید اہل ایمان کے لیے باعث شفاعت، رحمت اور نجات ہوگا۔ انسان اپنی آخری منزل پر پہنچنے سے پہلے پہلے قدم قدم پر جتنا قرآن مجید کا محتاج ہے اتنا کسی دوسری چیز کا نہیں۔ لیکن افسوس! مسلمانوں کی کم و بیش 90 فیصد اکثریت قرآن مجید کے فضائل سے نا آشنا ہے۔

قرآن مجید کا تصور بس اس حد تک ہے کہ یہ ہماری مقدس کتاب ہے جسے چھونے سے قبل وضو کرنا واجب ہے، جب اسے پکڑیں تو چومنا اور آنکھوں سے لگانا ضروری ہے۔ ریشم کا غلاف چڑھانا، شادی پہ بیٹیوں کو ہدیہ دینا اور رخصتی کے وقت قرآن کا سایہ کرنا، لڑائی جھگڑے میں قسم کے لیے استعمال کرنا اور جب کوئی وفات پا جائے تو ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کرنا ہی اصل مقصد ہے۔ قرآن مجید سے ہماری غفلت اور لاپرواہی کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم اس کی تلاوت، تحفیظ، تعلیم اور تدریس کے فوائد اور فضائل سے آگاہ نہیں۔ کاش! ہم جان سکیں کہ اللہ سبحانہ و تعالٰی نے قرآن مجید عطا فرما کر ہم پر کتنا بڑا احسان کیا ہے۔ اور قرآن سے مستفید نہ ہونا ہماری جانوں پر کتنا بڑا ظلم ہے۔

قرآن سے غفلت برتنے میں ایک کردار والدین کا بھی ہے۔ پیدائش کے وقت بچے کا ذہن ایک سفید کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔ والدین جو سکھائیں گے اس کا اثر تا حیات موجود رہے گا۔ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر بچہ فطرت (یعنی اسلام) پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی بنائیں یا مجوسی (بخاری)۔

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بیشتر والدین اپنے بچوں کی تعلیم کا آغاز دنیاوی تعلیم سے کرتے ہیں اور اس کے لیے معیاری سے معیاری اسکول تلاش کرتے ہیں، ہر سہولت دینا فرض سمجھتے اور ناز نخرے اٹھاتے ہیں۔ حتی کہ بچوں کے لیے خود ہر طرح کی تکالیف برداشت کرتے ہیں۔ اتنی بہت ساری کوششوں کا مقصد صرف اور صرف دنیا میں اونچے اور اعلی منصب پر فائز ہونا اور آرام وسکون کی زندگی بسر کرنا ہے۔ لیکن افسوس کہ قرآن کی تعلیم کی سرے سے فکر ہی نہیں۔ بچے کی دنیاوی تعلیم کی مصروفیات اس قدر ہیں کہ دین کے لیے وقت ہی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سيکولرازم کا عالمي غلبہ يا فريب؟ عمر ابراہیم

ایک قابل غور بات یہ ہے کہ قرآنی تعلیم سے محروم اولاد اپنے والدین کی خدمت گزار اور وفا دار ثابت نہیں ہوتی اور بسا اوقات والدین کی ذلت اور رسوائی کا باعث بنتی ہے۔ والدین کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو قرآن سے دور رکھ کر کس قدر خسارہ مول لے رہے ہیں۔ پہلے مسلمان گھرانوں کا دستور تھا کہ فجر کی نماز کے لیے اٹھتے ہوئے بچوں کو بھی جگایا کرتے، خود بھی قرآن کی تلاوت کرنے بیٹھتے اور بچوں کو بھی قرآن پڑھنے مسجد بھیجا جاتا۔ فرصت میں بچوں کو صحابہ کرام کی سیرت یا کوئی دینی و اصلاحی کتاب سنائی جاتی اور چھوٹی چھوٹی سورتیں اور دعائیں یاد کروائی جاتیں۔ اب عالم یہ ہے کہ میٹرک تک بچے ناظرہ مکمل نہیں کرتے، دن کا آغاز ٹی وی سے ہوتا ہے الا من شاءاللہ بچوں کے اسکول جانے تک ان کی ایک نظر ٹی وی پر ہوتی ہے اور بچوں کے درمیان ہونے والے تبصرے کھلاڑیوں، اداکاروں اور ڈراموں سے شروع ہوتے اور انہی پر ختم ہوتے ہیں۔ رات گئے تک بچوں اور بڑوں میں یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔

بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ قرآن مجید بہت مشکل کتاب ہے، اسے پڑھنا اور سمجھنا نہایت کٹھن ہے۔ یہ تصور ان لوگوں کا تو ہو سکتا ہے جنہوں نے کبھی قرآن کو سمجھنے یا سیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کی ہدایت کے لیے قرآن سے زیادہ آسان کتاب نہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی کا ارشاد ہے: "ہم نے قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے آسان بنایا ہے پھر ہے کوئی جو اس پر غور کرے" (القمر 17)۔

پاکستان بننے کے بعد تعلیمی نظام میں اگر کوئی قابل ذکر تبدیلی آئی ہے تو وہ یہ کہ جو طالب علم خود عربی پڑھنے کا شوق رکھتا ہو وہ عربی سیکھ لے۔ لیکن قرآن مجید پڑھنے اور سمجھنے کے لیے عربی زبان کو لازمی مضمون کے طور پر سلیبس میں شامل کرنے کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کی گئی۔ اسلامیات کو لازمی مضمون کے طور پر شامل تو کیا گیا ہے لیکن اس کا سلیبس اس طرح کا مرتب کیا گیا ہے کہ طالب علم ایک روایتی مسلمان تو بن جاتا ہے لیکن اس سے آگے بڑھ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے وفا کا گہرا تعلق پیدا ہو یا قرآن مجید سے عملی زندگی میں رہنمائی حاصل کرنے کا عقیدہ پختہ ہو، ایسا سلیبس تیار کرنے کے لیے ہمارے اسلام پسند حکمران کبھی تیار نہیں ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:   مسجد میں سیاسی گفتگو کیوں ضروری ہے؟ عاطف الیاس

ایک اور بڑی وجہ جو قرآن سے دوری کی نظر آتی ہے وہ یہ کہ بچپن میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل نہ کر سکنا اور پھر جب اس کوتاہی کا احساس ہوتا ہے تو محض بڑی عمر کی وجہ سے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے میں جھجھک محسوس ہوتی ہے۔ اللہ عمر کے جس حصے میں ہدایت عطا کرے اس کو بچپن ہی سمجھنا چاہیے۔ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے "قرآن مجید کی تلاوت میں مہارت رکھنے والا انسان (قیامت کے روز) لکھنے والے نیک معزز فرشتوں کے ساتھ ہے اور جو اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اس کے لیے دوہرا اجر ہے (مسلم)"۔ رسول اکرم نے ایسے شخص کو دوہرے اجر کی نوید سنا کر اس کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔

علم سیکھنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ مختلف عمروں میں ایمان لاتے رہے اور جس عمر میں بھی ایمان لاتے فوراً قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے لگ جاتے۔ بڑھاپے کی عمر میں خلوص دل سے قرآن مجید کی ابتدا کرنے سے اگر گزشتہ زندگی کے سارے گناہ اللہ تعالٰی معاف فرما دیں تو کون سا برا سودا ہے؟۔

ہر انسان خواہش کرتا ہے کم وقت اور کم محنت میں زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹ لے اور یہ خواہش ہمارے ہاں چھپنے والے پنج سوروں اور وظائف پر مشتمل کتب نے پوری کر دی ہے۔ لوگوں نے ان کتب کا مطالعہ روزانہ کی بنیاد پر ضروری سمجھ لیا ہوا ہے جیسے کہ ان کو پڑھنا قرآن کو پڑھنا ہے۔ ان کتب میں صحیح احادیث سے ثابت شدہ فضائل والی سورتیں، آیات اور دیگر وظائف شامل ہوتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ ضعیف یا موضوع احادیث سے ثابت شدہ وظائف والی سورتیں بھی درج ہوتی ہیں۔ ان وظائف کو معمول بنانا کار لاحاصل ہے۔ بلاشبہ قرآن مجید کی سورتوں کی تلاوت کا اجر اپنی جگہ لیکن جن فوائد یا فضائل کو ذہن میں رکھ کر ان کو پڑھا جاتا ہے ان فضائل سے پڑھنے والا محروم ہی رہے گا۔ ایسی کتب کو روزانہ باقاعدگی سے پڑھنے والے حضرات قرآن مجید کو ہاتھ لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اور یوں یہ نقصان پہلے نقصان سے بڑا ہے۔ قرآن مجید کے ساتھ مسلمانوں کے تعلق کا تقاضا یہ ہے اسے شروع سے لیکر آخری تک پڑھا جائے اور بلاناغہ پڑھا جائے۔ کوئی دوسرا عمل اس کا متبادل نہیں ہو سکتا۔