مذہب بیزار خونخوار انسانیت - فیصل ضیاء

اب سے چند روز قبل اپنے دوستوں کے ساتھ سیر و سیاحت کی غرض سے سفر کیا۔ اس دوران ایک جگہ عیسائی مذہب کے ماننے والے صاحب سے ملاقات ہوئی۔ باتوں باتوں میں انہوں نے ایک جملہ کئی بار دہرایا اور وہ یہ کہ ”انسانیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا"۔ بظاہر یہ بہت عام سا جملہ ہے اور کچھ عرصہ پہلے تک یہ بات ہر کس و ناکس کی زبان پر عام تھی۔ لیکن اس ملاقات کے بعد یہ جملہ جیسے میرے دماغ سے چپک ہی گیا اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس پر غور کرنے پر مجبور ہوگیا۔

بہت غور و خوص کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ بات بالکل درست ہے۔ کیونکہ اگر انسانیت کا تعلق کسی دین سے ہوتا تو آج وہ خونخوار بھیڑیے کی طرح نوع انسان کے خون کی پیاسی نہ ہوتی۔ اگر اس کا کوئی مذہب ہوتا تو یہ انسان کش سوچ اور سفاکانہ رویے نہ اپناتی کہ جس نے آج سارے عالمی منظر کو خون آلود کر رکھا ہے۔

دنیا کا ہر مذہب یہی کہتا ہے کہ بے گناہ انسانوں کا قتل عام درست نہیں۔ ہر مذہب اپنے پیروکاروں کو انسانیت کے احترام کا درس دیتا ہے۔ لیکن آج اس دنیا میں انسانیت نے جو نفرتوں کی مسموم آندھی پھیلا رکھی ہے، یہ درحقیقت مذہب سے لاتعلق ہوجانے ہی کی وجہ سے ہے۔ انسانیت کو اگر مذہب کے حدود و قیود میں رکھا جاتا تو وہ یوں سر کش نہ ہوتی۔

یہ مذہب ہی تھا کہ جس نے عرب کی سرکش اور منہ زور انسانیت کو ایک مہذب ترین انسانیت بنا دیا۔ یہ مذہب ہی تھا کہ جس نے برہنہ انسانیت کو شرافت کا لباس پہنایا۔ مذہب سے پہلے انسانیت عریاں حالت میں کعبے کا طواف کرتی تھی لیکن پھر مذہب نے اسی انسانیت کو لباس عطا کیا۔ آج اگر انسانوں پر قیامت جیسے شب روز گزر رہے ہیں تو سب اسی خونخوار انسانیت کی کارستانی ہے جو مذہب سے دور ہے۔ آئے روز اس بے ایمان انسانیت کے چہرے کی سیاہی مزید بڑھ رہی ہے۔ آج انسان کو سمجھ نہیں آتی کہ مجھے کہاں جانا ہے؟ میرا دوست کون اور دشمن کون؟ میں کس مقام پر کھڑا ہوں؟ بے مذہب انسانیت اتنی خونخوار ہو چکی ہے کہ انسانی کھوپڑیوں پر جشن طرب منانا اس کا شیوہ ہے۔

اسی بے مذہب انسانیت کی کوکھ سے ہی بے مہار تہذیبیں اور بے لگام معاشرت جنم لے رہے ہیں۔ اے فریب خوردہ انسانوں! خدارا جتنی جلدی ہوسکے اس منہ زور بے مذہب انسانیت کو مذہب کے دائرے میں لے آؤ وگرنہ وہ دن دور نہیں جب یہی خونخوار انسانیت تم کو ذلت و پستی کے تاریک گھڑوں میں ڈال دے گی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */