تیسرا پاکستان – احسان کوہاٹی

سب باتیں چھوڑیں، آج سیلانی آپ کو بتاتا ہے کہ پاکستان میں کتنے “پاکستان” ہیں اور سیلانی نہ صرف بتائے گا بلکہ وہاں لے کر بھی جائے گا۔ تو آئیے پہلے ترقی کرنے والے پاکستان میں چلتے ہیں۔ یہ پاکستان، وہ پاکستان ہے جو گورنر سندھ زبیر عمر صاحب کا پاکستان ہے۔ اس دریافت کا سارا کریڈٹ نئے گورنر صاحب کو ہی جاتا ہے جنہوں نے گورنر ہاؤس کو خبرناموں کا حصہ بنا دیا ہے۔ ان سے پہلے سندھ کے پرشکوہ گورنر ہاؤس کے سابق مکین اپنی کم گوئی اور محتاط گفتگو کی وجہ سے مشہور تھے۔ وہ اپنی تقاریر سے اخبارات کے صفحہ اول تو کیا، پچھلے صفحے پر بھی مشکل سے جگہ لے پاتے تھے لیکن اپنے نئے گورنرصاحب ان کے برعکس احتیاط کو اس وقت تک خاطر میں نہیں لاتے جب تک انہیں کہیں سے کال نہیں آجاتی۔ سندھ کے گورنر ہاؤس کے لیے اپنے انتخاب کو درست ثابت کرنے میں زبیر عمر صاحب کچھ زیادہ ہی پرجوش ہیں اور یہی جوش خطابت انہیں نیوز چینلز کی ہیڈلائنز میں لے آتا ہے۔ صحافی برادری بھی خوش ہے کہ نیا گورنر تڑکے والی خبریں دیتا ہے اور اسی تڑکے والی خبر کی توقع لیے کراچی کا سارا میڈیا 8 اپریل کو بحریہ ٹاؤن میں موجود تھا۔ تمام چینلز کی گاڑیاں اپنی چھتریاں اٹھائے ہوئے تھیں۔ رپورٹر، کیمرا مین اور فوٹو گرافر، گورنر صاحب کی آمد کے منتظر تھے۔ گورنر ہاؤس سے میڈیا کو وقت پر پہنچنے کی تاکید کی گئی تھی اور بے چارہ میڈیا وقت سے پہلے ہی پہنچ چکا تھا۔ یہاں ایک نجی اسکول کی شاخ کا افتتاح ہونا تھا۔

گورنر صاحب تقریباً وقت پر آئے اور انہوں نے تالیوں کی گونج میں فیتہ کاٹ کر اسکول کا افتتاح کیا۔ اس اسکول کے لیے بحریہ ٹاؤن نے شاندار ائیر کنڈیشنڈ عمارت دی تھی۔ گورنر صاحب نے اسکول کا دورہ کیا اور مسکراتے ہوئے آڈیٹوریم میں آگئے۔ وہاں بچوں نے اس مہارت کا خوب مظاہرہ کیا جو ان پر کی گئی تھی۔ وہ انگریزی نظموں پر خوب جھومے، ہاتھوں میں رنگ برنگی جھل مل کرتی لڑیاں لے کر رقص اور ایکسر سائز کے ملاپ سے کی جانے والی “پرفارمنس” کا مظاہرہ کیا، کارٹون کرداروں کا بہروپ بن کراسٹیج پر آکر جھومے اور مغرب زدہ والدین سے خوب داد سمیٹی۔ منتظمین نے سیلانی جیسے “دقیانوسی” خیالات رکھنے والوں کا منہ بند کرنے کے لیے علامہ اقبال کی نظم اور قومی ترانے کا بھی انتظام کر رکھا تھا، جس کے بعد مختلف مقررین نے بتایا کہ اکیسویں صدی سے ہم آہنگ ہونے کے لیے درس و تدریس کے نئے انداز کی ضرورت ہے، اب ترقی کرنے کے لیے بھاگنا نہیں قلانچیں بھرناہوں گی۔ آڈیٹوریم میں والدین کو لبھانے والی ان تقاریر کے بعد بالآخر گورنر صاحب کا نام پکارا گیا۔ گورنر صاحب آئے اور کہنے لگے: “پاکستان میں، دو پاکستان ہیں۔ ایک پاکستان صبح سات بجے شروع ہوتا ہے، بچے اسکول کالجز جاتے ہیں، لوگ دفاتر جا رہے ہوتے ہیں، سب اپنے اپنے کام میں لگے ہوتے ہیں، ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہوتے ہیں اور ایک پاکستان شام سات بجے کا ہوتا ہے جس میں میڈیا تاریکی دکھاتا ہے۔۔۔”

گورنر صاحب میڈیا پر تنقید میں دو پاکستان بتا گئے لیکن ایک پاکستان اور بھی ہے جو "تیسرا پاکستان" ہے۔ اسے میڈیا میں جگہ ملتی ہے نہ سرکار کے حلقوں میں۔ اس پاکستان کا وقت صبح شروع ہوتا ہے نہ شام کو ختم ہوتا ہے۔ سیلانی اتفاق سے 9 اپریل اتوار کی شام اسی پاکستان میں تھا اور اس سے پہلے 2 اپریل کی صبح بھی اسی پاکستان میں گزار چکا تھا۔ کراچی کے قدیم علاقے کیماڑی کے مسان روڈ پر اس تیسرے پاکستان میں جامعہ عائشہ للبنات میں مشکوۃ شریف کا ختم تھا۔ اسکول کالج کی زبان میں اسے کانووکیشن کہتے ہیں۔ “تیسرے پاکستان" کے مفتی عامر مشوانی اس مدرسے کے روح رواں ہیں۔ یہ نوجوان اپنے خاندان کا پہلا عالم دین ہے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن سے دستار فضیلت باندھنے کے بعد عامر مشوانی نے اپنے ہی گھر میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کام میں معاون ان کی بہنیں تھیں۔ اہل محلہ کثیر تعداد میں عامر مشوانی کے گھر سے استفادہ کرنے لگا۔ جگہ کم پڑ گئی تو عامر مشوانی کے والد نے دو کمروں کا مکان کرائے پر لے کردے دیا۔ کچھ ہی عرصے میں یہ دو کمرے بھی چھوٹے پر گئے اور پھر تیسرے پاکستان کے اہل خیر آگے بڑھے۔ اب یہ دو کمروں کا مکان تین مدرسوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس مدرسے کی ایک شاخ کیماڑی کے پسماندہ علاقے گلشن سکندر آباد میں کھل چکی ہے جس پر اب تک 90 لاکھ روپے کے اخراجات آچکے ہیں اور ان میں سے ایک روپیہ بھی سرکار کے خزانے کا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دینی مدارس کے فضلاء اور عصری علوم کے فتنے، ایک جائزہ - نور ولی شاہ

سیلانی نے دیکھا کہ اس تیسرے پاکستان کی درس گاہ میں ائیر کنڈیشنڈ تھا نہ آرام دہ کر سیاں، ساؤنڈ سسٹم بھی کرائے کا اور گزارے جیسا تھا۔ یہاں بچیوں کے ہاتھ میں رنگ برنگی جھلملاتی لڑیاں تھیں اور نہ وہ انگریزی نظموں میں جھوم رہی تھیں۔ ان میں کوئی بھی مکی ماؤس نہیں، کسی نے ہیکل جیکل کا بہروپ نہیں بدلا، وہ انسان کی بچیاں تھیں تمیز کے ساتھ سلیقے کے لباس میں آئیں، سینکڑوں لوگوں کے سامنے نعتیں پڑھیں، نظمیں پڑھیں، مکالمہ کیا اور سیلانی کو حیران کر کے چلی گئیں۔ یہ تو گئی اتوار سے پہلی کی اتوار کی بات ہے۔ پچھلی اتوار کو سیلانی اپنے دوست حیات خان کی مہربانی سے ایک بار پھر تیسرے پاکستان میں تھا۔ کراچی ایک گوشے گلشن معمار میں جامعۃ الرشید آنے کا یہ پہلا اتفاق تھا۔ جامعہ سے متصل وسیع و عریض میدان اس وقت بقعہ نور بنا ہوا تھا، دودھیائی روشنیاں رات کو پرے دھکیلی ہوئی تھیں۔ سامنے بڑے سے اسٹیج کے دائیں جانب تیسرے پاکستان کے دولہا بنے طلباء سفید لباس پر سبز جبہ پہنے متانت سے بیٹھے ہوئے تھے، بائیں جانب بھی سفید لباس میں طلباء کانووکیشن کیپ پہنے ہوئے تشریف فرما تھے۔ ان میں ایک درس نظامی کے وہ طلباء تھے جو 8 برس کی محنت کے بعد دستار فضیلت کے مستحق ٹھہرے تھے اور دوسری جانب کلیہ شریعہ کے طلباء تھے۔ یہ طالب علم کالج اور جامعات کے گریجویٹس تھے۔ انہوں نے گریجویشن کے بعد دین کا علم سیکھنے کا فیصلہ کیا، جامعہ نے ان کا ٹیسٹ لیا، انٹرویو کیا اور پھر ان میں سے 30 موزوں طلباء کو داخلہ دیا۔ انہیں چار سال پڑھایا گیا اور آج ان کی دستار فضیلت کا دن تھا۔

میدان میں سلیقے سے سینکڑوں نہیں ہزاروں کرسیاں رکھی ہوئی تھیں، شرکاء کی تعداد کسی بھی سیاسی جماعت کے جلسے سے کم کیا، زیادہ ہی ہوگی۔ مزے کی بات یہ کہ تمام مہمان مدعو کیے گئے تھے اور ان کے نام استقبالیے پر رکھی فہرست میں درج تھے۔ جامعہ کے طلباء مہمانوں کا نام فہرست میں دیکھتے اور انہیں ایک کارڈ دے کر ساتھ میدان میں ان کی نشست تک لے جاتے، مجال ہے جو زرا سی بدنظمی بھی ہوئی ہو۔ ایسا ڈسپلن سیلانی نے وردی والوں کے پروگراموں میں ہی دیکھا ہے۔ پنڈال میں بھی کرسیوں کے درمیان جامعہ کے طلباء خدمت گار کے طور پر موجود تھے، کوئی پانی پلا رہا تھا اور کوئی جامعہ کا تعارفی کتابچہ دے رہا تھا۔ پروگرام میں سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ چوہدری افتخار، سابق نیول چیف ایڈمرل آصف سندیلہ، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے معززین بڑی تعداد میں موجود تھے۔ اس کے باوجود اس پروگرام کی کوریج کے لیے بہت کم نیوز چینلز نے اپنی ٹیم بھیج رکھی تھی لیکن اس پر بھی اسٹیج سے کوئی شکوہ بلند ہوا نہ شکایت کی گئی۔ تمام مقررین کو طے شدہ وقت دیا گیا، جیسے ہی کسی مقرر کا وقت پورا ہوتا اسپیکر سے مشینی آواز بتا دیتی کہ وقت پورا ہو چکا ہے۔ یہ اعلان سردار یوسف صاحب کو بھی سننا پڑا اور چوہدری افتخار صاحب کو بھی۔ یوں پروگرام کا اختتام تقریباً وقت پر ہوا، جو سیلانی کے لیے حیرت انگیز بات تھی۔ طلباء سے علماء کی فہرست میں داخل ہونے والوں کے سروں پر سفید بے داغ دستار فضیلت رکھی گئیں، نام پکارے جاتے رہے طلباء آتے رہے اور دستاروں سے سجے سر لیے اسٹیج سے نیچے اترتے رہے۔ سیلانی منتظر رہا کہ اب کہیں سے کوئی دستار فضاء میں بلند ہو، اب کہیں سے سیٹی کی آواز آئے، اب کوئی یاہو کا نعرہ لگائے، لیکن اس تیسرے پاکستان میں ایسا کچھ نہ ملا۔

یہ بھی پڑھیں:   دینی مدارس کے فضلاء اور عصری علوم کے فتنے، ایک جائزہ - نور ولی شاہ

ایک بات اور اس تیسرے پاکستان کی، اس جامعہ کا گذشتہ برس کا بجٹ چوبیس کروڑ روپے تھا، دو کروڑ روپے ماہانہ، یعنی تقریبا ساڑھے تین لاکھ روپے یومیہ۔ سیلانی کو پتہ چلا کہ کلیہ شریعہ کے ہر طالب علم کو پانچ ہزار روپے ماہانہ اسکالر شپ، رہائش، کھانا پینا اور میڈیکل کی سہولیات بالکل مفت حاصل ہوتی ہیں۔ جامعہ میں پانچ بستروں کا چھوٹا سا اسپتال موجود ہے، طالب علم زیادہ بیمار ہو تو اسے اچھے نجی اسپتالوں میں لے جایا جاتا ہے اور اس طعام قیام، تعلیم و تربیت پر صبح سات بجے سے شام سات بجے تک والے پاکستانی سرکار کا ایک روپیہ کا بھی حصہ نہیں۔

سیلانی یہاں شام سات بجے والے پاکستان کی بات نہیں کرے گا۔ اس پاکستان کے لیے گورنر سندھ محمد زبیر صاحب، عابد علی چوہدری، مریم اورنگزیب اور بہتیرے لوگ ہیں۔ یہ بتائیں کہ اس تیسرے پاکستان کے لیے کسی نے کبھی سوچا؟ پہلے پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچہ اسکول نہیں جاتا، کہاں جاتا ہے؟ جواب سڑکوں پر مکینکوں کی دکانوں اور فٹ پاتھوں پر مل جائے گا۔ پھر بھی وہ ترقی کرتا پاکستان ہے اور اس پاکستان میں ایک اسکول کا فیتہ کاٹنے کے لیے گورنر ہاؤس سے پروٹوکول چل پڑتا ہے۔ نجی یونیورسٹیوں کے کانووکیشن میں صدر مملکت موجود ہوتے ہیں، وزیر اعظم بھی مہربان ہوجاتے ہیں کہ ترقی کرتے ہوئے پاکستان کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ لیکن سیلانی کا سوال یہ ہے کہ یہ تیسرا پاکستان کسی کو نظر کیوں نہیں آتا؟ یہ تب ہی کیوں یاد آتا ہے جب ذکر دہشت گردوں کا ہو؟ جب بات اسلحہ بارود کی ہو، جب پھبتی دقیانوسی نظام تعلیم کی ہو۔ جامعۃ الرشید میں تو ایسا کچھ نہ تھا۔ وہاں فرفر انگریزی بولنے والے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ کالج، یونیورسٹیز کے گریجویٹس موجود تھے۔ حکومت کو تو ایسے مدارس کی حوصلہ افزائی کرکے رول ماڈل بنانا چاہیے۔ چلیں نہ بنائیں رول ماڈل لیکن آپ اس تیسرے پاکستان کواپنے “پاکستان“ میں شامل تو کرلیں! سیلانی یہ سوچتا ہوا روشن پیشانیوں والے کلیہ شریعہ اور درس نظامی کے فضلاء کو فخر و مسرت سے دیکھنے لگا اور مسکراتے ہوئے دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں