کیا صدسالہ اجتماع جوابی بیانیہ ہے؟ مولانا محمد جہان یعقوب

جمعیت علمائے اسلام کے دوسرے دھڑے کے قائد مولانا سمیع الحق کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ عسکری سوچ رکھنے والوں کو بھی نہیں بلایاگیا۔ جن کے یہودی ایجنٹ ہونے کا دعوی ہے، انہیں بھی زحمت شرکت نہیں دی گئی۔گو دیوبند کے بعض ہندوستانی اکابر اور شیخ عبدالرحمان السدیس بھی نہ آ سکے۔ بایں ہمہ اس اجتماع کی جامعیت مستقبل کا رخ متعین کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کی دو حیثیتیں ہیں۔ پہلی حیثیت یہ کہ وہ ایک مخصوص مکتب فکر کے رہنماہیں۔ اس مسلک کے ماضی قریب اور بعید میں عسکری کارروائیوں میں ملوث رہنے کے ٹھوس ثبوت ہیں۔ ان کے مدارس جہاد کشمیر و افغانستان کو ایندھن فراہم کرتے رہے ہیں۔ اب فضا کافی بدل چکی ہے تاہم سوچ کا دھارا مکمل نہیں بدلا۔ کیا مولانا اس دھارے کو بدل سکیں گے؟ یہ ایک مضبوط سوال ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ اس دھارے کو بدل سکتے ہیں کیونکہ اس اجتماع میں وفاق المدارس کی قیادت اکابر علمائے دیوبند اور جملہ مہتممین و منتظمین مدارس ان کے شانہ بشانہ ہیں۔ یقینی بات ہے کہ ان کا دیا ہوا روڈ میپ ان سب کے لیے قابل قبول ہوگا۔ اپنے تو رہے ایک طرف اشرف غنی جیسے اغیار نے بھی ان سے توقعات وابستہ کر لی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ موقع شناسی کی بےنظیر شہرت رکھنے والے مولانا فضل الرحمان اس موقع سے کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

مولانا کی دوسری حیثیت ایک قومی و عالمی لیڈر ہونے کی ہے۔ ان سے عوام کو ہی نہیں عالم اسلام اور پاکستان کے خیرخواہ ممالک بشمول چین کو بھی بڑی توقعات ہیں۔ اتنے بڑے اجتماع میں اپنے سیاسی حریفوں کو دعوت نہ دینا ان کے سیاسی قد کوگھٹانے والا اقدام ہے۔ مولانا سمیع الحق اور عمران خان کے پاس تو انھیں بنفس نفیس خود جاناچاہیے تھا۔ عالمی سوچ رکھنے والے لیڈر وسعت ظرفی سے کام لیتے ہیں۔ اس حوالے سے مولانا کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔ ان کا ایک ویک پوائنٹ ایران اور ایران نواز حلقوں سے دوستانہ مراسم بھی ہیں، حالاں کہ اس وقت عالمی منظرنامے میں ایران کے توسیع پسندانہ وفرقہ وارانہ عزائم طشت از بام ہوچکے ہیں۔ شام کے قتل عام میں اس کا کردار یوں بھی ڈھکا چھپا نہیں، تاہم امریکہ کی شام پر بمباری کی مخالفت سے یہ مزید عیاں ہو چکا ہے۔ امام کعبہ کے خطبہ جمعہ سے بھی اس بات کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں رہا کہ خطے میں بدامنی کا سبب ایرانی اقدامات ہیں۔ اب مولانا کو اس حوالے سے اپنے بیانیے میں تبدیلی لانا ہوگی۔ ان کی اس پالیسی کی وجہ سے انھیں اپنے آبائی علاقے میں اہل تشیع کے ووٹ تو مل جاتے ہیں لیکن وہ ملک بھر سے اہل سنت کے بھاری ووٹ سے محروم بھی ہوجاتے ہیں۔ کیا اس اجتماع کے بعد ان کا بیانیہ تبدیل ہوگا۔ اس سلسلے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   "مقابلہ کرنا میری تربیت" ساجدہ اقبال

ہماری مرکزی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ کرپشن کی بہتی گنگا میں سب نے خوب غسل کیا ہے اور اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ سی پیک کی صورت میں ہم جس ملک کو راستہ دے رہے ہیں، ان کی لغت میں کرپشن کا لفظ اور ان کی سرشت میں اس کا تصور بھی نہیں۔ دینی قیادت بالخصوص مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق اندھوں میں کانا راجا کے تحت چین کا انتخاب ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں دینی قیادت کو اگلے انتخابات سے پہلے اپنے ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانے کے لیے اختلافات و ذاتیات کو مشترکات کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھانا ہوگا، سراج الحق نے جس طرح کھلے دل سے اتحاد کی دعوت دی، اس کا مثبت جواب دینا ہوگا، ورنہ ہاتھ آیا موقع ہاتھ سے نکل گیا تو منزل مزید دور سے دور ہوتی چلی جائے گی۔

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.