دولت یا سکون؟ مبشر اکرام

کل رات آفس سے نکلتے ہوئے کچھ دیر ہوگئی۔ دماغ میں آ جا کر مڈل کلاسیوں والی ایک ہی سوچ کہ یہ بھی بھلا کیا زندگی ہوئی کہ صبح اٹھ کر آفس جانا اور رات کو جاکر سو جانا۔ انہی خیالوں کی دماغ میں کھچڑی پکاتا جا رہا تھا کہ ایک ٹائروں والی دکان پر موٹرسائیکل کی ہوا چیک کرانے رکا۔ وہاں کیا دیکھا کہ دکان پر کام کرنے والے دونوں لڑکے کرسیوں پر ہی بیٹھے بیٹھے سو رہے ہیں۔ گندی سی چادریں اوڑھ رکھی ہیں اور ادھر ادھر کی کوئی خبر نہیں۔ سڑک سے گاڑیاں بھی گزر رہی ہیں اور میں نے ہلکا پھلکا سا ہارن بھی دیا لیکن دونوں میں سے کوئی نہیں اٹھا۔ فورا ذہن میں یہی خیال آیا کہ خدا کا کتنا شکر ہے صبح اٹھ کر نہانے کو پانی میسر ہےاور پہننے کو صاف کپڑے۔ سارا دن صاف ستھری جگہ پر بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔ رات کو سونے کو بستر میسر ہے۔ رات کسی بنچ یا کرسی پر نہیں کاٹنی پڑتی۔ وہی دماغ جو چند منٹ پہلے ناشکری کی آماجگاہ تھا، وہی اب سجدہ شکر میں مشغول تھا۔

اسی طرح ایک بار گھر پر گئی گھنٹے بجلی بند رہی۔ سخت گرمی اور یوپی ایس بند ہو چکا تھا۔ دماغ چیخ چیخ کر کہے کہ یہ بھی کیا لائف ہوئی کہ ایک پنکھا بھی میسر نہیں۔ شام کے ساڑھے چار بجے والد صاحب نے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی آواز لگائی کہ ایک کولیگ کے والد صاحب کی وفات ہوگئی ہے، مجھے وہاں لے کر چلو۔ انہیں ساتھ بٹھا کر کالونی سے باہر نکلے تو ایک سڑک تعمیر ہو رہی تھی۔ جس میں بچے، عورتیں اور بزرگ بھی بجری کی ٹوکریاں بھر بھر کا ڈال رہے تھے۔ اپنی زندگی کو ان کے ساتھ رکھ کر دیکھا تو اپنا آپ سو سکھ میں نظر آیا۔

اگر دولت ترجیح ہو تو اوپر کی جانب نظریں لگا لیں۔ اگر سکون اور شکر کی ضرورت ہو تو ایک نظر اپنے سے نیچے والے پر ڈال لیں۔
بس یہی جملہ سیلف ہیلپ کی کئی کتابوں پر بھاری ہے۔