ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 10 رجب 1438ھ کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان ’’ماہِ رجب کی حرمت اور بداعمالیاں‘‘ ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے مخصوص اوقات کو فضیلت سے نوازا ہے جس کا تقاضا ہے کہ ان کے لیے مختص عبادات کا ہم شرعی دائرے میں رہتے ہوئے اہتمام کریں، انہی میں حرمت والا مہینہ رجب بھی ہے، یہ چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے، جس کا تقاضا ہے کہ ہم اس ماہ کی حرمت کا بھر پور خیال کریں۔ کلمہ دو حصوں اخلاص اور اتباعِ سنت پر مشتمل ہے، ان کے بغیر کوئی عمل شرفِ قبولیت نہیں پاتا؛ لہذا بدعات سے کنارہ کشی از بس ضروری ہے، ماہِ رجب کی بدعات من گھڑت اور ضعیف روایات پر مبنی ہیں، چنانچہ اس مہینے میں مخصوص نماز، خاص رات کا قیام اور جشن منانا جائز نہیں ہے، یہ دورِ جاہلیت کے بد اعمال ہیں، آخر میں انہوں نے ہر عمل میں سنت نبوی پر کار بند رہنے کے لیے ترغیب دلائی اور بدعتی شخص کے بارے میں کہا کہ وہ اپنے آپ کو بسا اوقات کفر میں بھی دھکیل دیتا ہے۔

پہلا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں وہی دنوں اور مہینوں کا دائرہ چلانے والا ہے، وہ سالوں اور برسوں کو قصہ پارینہ بنانے والا ہے، وہ تمام مخلوقات کو جمع فرمائے گا، جب تک دن، مہینے اور سال یکے بعد دیگرے آتے رہیں گے نیز باد صبا اور پچھمی ہوائیں چلتی رہیں گی. میں تمام معاملات پر اسی کا حمد خواں رہوں گا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے ہمارے لیے دین مکمل کیا اور نعمتیں پوری فرمائیں اور ہمارے لیے دین اسلام پسند کیا، مبنی بر یقین یہ سچی گواہی دلوں کو ٹھنڈ پہنچاتی ہے اور قبر میں بھی فائدہ دے گی، نیز جس دن صور پھونکا جائے گا تب ہمیں با وقار بنا دے گی، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا اور امانت ادا کر دی، امت کی خیرخواہی فرمائی، اور موت تک راہِ الہی میں جہاد کرنے کا حق ادا کر دیا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں پر قیامت تک درود و سلام نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:
کتاب اللہ بہترین کلام اور سب سے بہترین طریقہ جناب محمد ﷺ کا ہے، بدعات دین میں بدترین امور ہیں، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے۔

اللہ کے بندو!
تقوی الہی اپناؤ اور اسی کی اطاعت کرو، یہی اللہ تعالی کی پہلے اور بعد میں آنے والوں کو نصیحت ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: اور البتہ تحقیق ہم نے تم سے پہلے کتاب دیے جانے والے لوگوں کو اور تمہیں بھی یہی نصیحت کی ہے کہ تقوی الہی اختیار کرو۔ [النساء: 131]

مسلم اقوام!
انسان کو عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسے جزا اور سزا کے بغیر چھوڑا جائے گا، اللہ تعالی نے انسان کو مکلف بنایا ہے اور اس کا جلد ہی حساب لیا جائے گا، چنانچہ ذرے کے برابر بھی عمل کرنے والا شخص اپنا عمل پا لے گا اور ذرہ برابر بدی کرنے والا شخص بھی بدلہ پا لے گا۔ اللہ تعالی نے ہمیں اسلام کی دولت سے نوازا، ہمیں افضل ترین رسول ﷺ کا امتی بنایا اور ہمیں اعلی ترین کتاب عطا فرمائی، ہمیں بہترین امت قرار دیا، ان تمام نعمتوں پر اللہ تعالی کا ہی شکر ہے، یہ اسی کا ہم پر احسان ہے۔

مسلمانو!
اللہ تعالی نے کچھ اوقات، دنوں اور مہینوں کو دیگر پر فضیلت دی ہے۔ ان اوقات، دنوں اور مہینوں کا خاص مقام اور احترام اس فضیلت کا تقاضا ہے، بسا اوقات ان کے لیے خصوصی عبادات بھی مقرر کی گئی ہیں، نیز ان کا احترام اور خصوصی عبادات شریعت کی پابند ہیں، ان میں من گھڑت چیزوں کی کوئی گنجائش نہیں۔

شریعت میں حرمت والے مہینوں کی دیگر مہینوں پر فضیلت اور فوقیت ثابت شدہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ ہے، اسی دن سے جب سے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ ان میں سے چار حرمت و ادب کے ہیں۔ یہی درست دین ہے۔تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔ [التوبہ: 36]

ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا تھا: بیشک زمانہ اپنی اسی حالت پر واپس آ گیا ہے جیسے اللہ تعالی نے آسمان و زمین کی تخلیق کے وقت اسے بنایا تھا، ایک سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے، اس میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں، ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم تین مہینے مسلسل ہیں، جبکہ چوتھا مہینہ مضر قبیلے کا ماہِ رجب ہے جو کہ جمادی اور شعبان کے درمیان آتا ہے. متفق علیہ
ان چار مہینوں کو حرمت والا اس لیے قرار دیا گیا کہ ان میں حج اور عمرہ کی ادائیگی آسان ہو جائے۔

اللہ کے بندو!
ماہِ رجب ہم پر سایہ فگن ہے، یہ حرمت والا مہینہ ہے، ہم اس کی حرمت کا خیال کر کے اللہ تعالی کی بندگی کرتے ہیں، اس ماہ کی فضیلت اور شرف سے واقف بھی اللہ کی بندگی میں شامل ہے، ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں اس ماہ میں اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس لیے جن چیزوں کو اللہ تعالی نے عظمت دی ہے ان کی بھرپور تعظیم کرو. فرمان باری تعالی ہے: اور جو شخص اللہ کی احترام والی چیزوں کی تعظیم کرے تو یہ بات اس کے پروردگار کے ہاں اس کے لیے بہتر ہے. [الحج: 30]

اللہ کے بندو!
دین کی بنیاد لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر قائم ہے، کلمے کے دونوں حصوں کا تقاضا اخلاص اور اتباع سنت ہے، چنانچہ اللہ تعالی کوئی بھی عمل جو اخلاص یا نبی ﷺ کی اتباع سے عاری ہو قبول نہیں فرماتا: جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرے۔ [الكہف: 110]

اب چونکہ عبادات توقیفی ہوتی ہیں ان میں اپنی من مانی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، اس لیے طریقہ عبادت کے لیے سلف کی اتباع میں ہی خیر ہے اور بعد میں آنے والے لوگوں کے نت نئے طریقے اپنانا سراپا شر ہے۔ لہذا جس عبادت کو اللہ تعالی نے یا اللہ کے رسول ﷺ نے کسی وقت یا جگہ کے ساتھ خاص نہیں کیا اس عبادت کو کسی وقت یا جگہ کے ساتھ مختص کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ؛ کیونکہ ہمیں شریعتِ الہی کے مطابق عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اپنی خواہشات اور جذبات کے مطابق عبادت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، اس لیے ہمارے لیے سمع و طاعت واجب ہے اور ہمارے لیے احکاماتِ الہیہ پر عمل ضروری ہے. فرمان باری تعالی ہے: مومنوں کی تو بات ہی یہ ہوتی ہے کہ جب انھیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو وہ کہتے ہیں کہ "ہم نے سن لیا اور اطاعت کی" ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ [النور: 51]

مسلم اقوام!
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ماہِ رجب بابرکت مہینہ ہے؛ کیونکہ یہ حرمت والے مہینوں میں سے ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم اس مہینے میں ایسی عبادات کریں جن کی ہمیں شریعت نے اجازت نہیں دی۔ اس لیے اس ماہ میں خصوصی نوعیت کی نماز پڑھنا، مخصوص رات کو قیام کرنا اور اس رات میں جشن منانا جائز نہیں ہے، ماہِ رجب کا مقام بھی دیگر حرمت والے مہینوں کی طرح ہے، اور اس کے بارے میں آنے والی مخصوص روایات من گھڑت یا ضعیف ہیں ان سے شرعی حکم کشید نہیں ہو سکتا، لوگ اس مہینے میں جو مخصوص اعمال کرتے ہیں، یہ دورِ جاہلیت کے باقی ماندہ اثرات ہیں۔

اس لیے سنت طریقے پر کاربند رہیں، سنتوں کے شیدائی بنیں اور بدعات سے دور رہیں، ایک دوسرے کو نصیحت کریں، باہمی طور پر حق پر چلنے اور صبر کرنے کی تلقین کرتے رہیں۔
اللہ کی جانب دعوت دینے والے کی بات سنیں وہ اہل کتاب کو دعوت دیتے ہوئے کہتا ہے: آپ کہہ دیں: اے اہل کتاب ! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو اور ان لوگوں کے پیچھے نہ چلو جو پہلے ہی گمراہ ہیں اور بہت لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں اور سیدھی راہ سے بھٹک چکے ہیں. [المائدة: 77]
اس لیے اتباعِ حق سب سے ضروری امر ہے، باطل چیز ہر حالت میں باطل ہی رہتی ہے، اس میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا۔ ہمیں رسول اللہ ﷺ واضح دین پر چھوڑ کر گئے ہیں اس میں رات کے اندھیرے بھی دن کی طرح روشن ہیں۔ نیز پیغام رسالت کی تکمیل اس آیت سے مکمل ہو چکی ہے. فرمان باری تعالی ہے: آج کافر تمہارے دین سے پوری طرح مایوس ہو گئے ہیں۔ لہذا ان سے مت ڈرو، صرف مجھ سے ہی ڈرو۔ آج کے دن میں نے تمہارا دین تمہارے لیے مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے بحیثیت دین، اسلام کو پسند کیا ہے۔ [المائدة: 3]
اس لیے جو شخص نجات اور اجر و ثواب چاہتا ہے تو وہ اللہ تعالی کی شریعت پر اکتفا کرے۔

نت نئے افکار اور بدعات سے فتنے ہی جنم لیتے ہیں، ان سے آزمائشیں اور تنگیاں پیدا ہوتی ہیں، گناہ اور بدی جنم لیتی ہے، بدعات سے سنتوں کی راہ میں رکاوٹیں بنتی ہیں، خود ساختہ افکار سے اتحاد امت سبوتاژ ہوتا ہے ۔دین، عقل اور فطرت میں خرابیاں آتی ہیں، کوئی بھی قوم جس قدر بدعات ایجاد کرے تو اتنی ہی سنتیں ان سے چوک جاتی ہیں۔

عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے انتہائی بلیغ وعظ فرمایا: اس سے دل پگھل گئے، اور آنکھیں اشکبار ہو گئیں، تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی الوداع کہنے والا کا وعظ تھا، ہمیں کوئی وصیت کر دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں تقوی الہی کی وصیت کرتا ہوں، نیز سمع و طاعت کی وصیت کرتا ہوں چاہے کوئی غلام تمہارا امیر بن جائے، یقیناً میرے بعد زندہ رہنے والا بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا، اس لیے تم میری اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت اپنانا، اسے اپنی داڑھوں سے پکڑ لینا، نیز اپنے آپ کو نت نئے [دینی] امور سے بچانا؛ کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہوتی ہے.

اللہ تعالی میرے اور آپ کے لیے قرآن مجید کو بابرکت بنائے، ہمیں اپنے نبی کریم کی سنت اور آپ کی رہنمائی کے مطابق چلنے کی توفیق دے، میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور عظمت و جلال والے اللہ سے اپنے اور سب مسلمانوں کے لیے تمام گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہوں، اس لیے آپ بھی اسی سے بخشش طلب کرو، بیشک وہ بخشنے والا ہے اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اس نے ہماری اسلام کی جانب رہنمائی فرمائی اگر وہ ہمیں راہ نہ لگاتا تو ہم کبھی بھی ہدایت نہیں پا سکتے تھے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے ہمیں ہمہ قسم کی خیر کے متعلق بتلایا اور ہر قسم کے شر سے خبردار کیا، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، آپ کے صحابہ کرام، اور قیامت کے دن تک آپ کی سنت پر کاربند لوگوں پر رحمتیں نازل فرمائے۔

اللہ کے بندو!
تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے، اس کے لیے نبی ﷺ کے طریقے اور احکام و نواہی کی پاسداری کریں، آپ کے سلیقے کو اپنائیں، بدعات و گمراہی سے ہر ممکنہ حد تک بچیں۔
امام شاطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: بدعتی شخص شریعت سے عناد رکھتا ہے اور اس کی مخالفت کرتا ہے؛ کیونکہ شریعت نے بندگی کی ضروریات کے لیے خاص طریقے اور سلیقے مقرر کر دیے ہیں، نیز مخلوق کو ان پر چلنے کا پابند بنانے کے لیے امر، نہی، وعدوں اور وعیدوں سے کام لیا، مزید ترغیب کے لیے بتلایا کہ شرعی طریقوں میں خیر ہے، ان کی مخالفت یا ان سے تجاوز کرنے میں نقصان ہی نقصان ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کو تو ہر چیز کا علم ہے لیکن ہمیں کسی چیز کا ذاتی علم نہیں ہے، ان تمام امور کے لیے اللہ تعالی نے جہانوں پر رحمت کرتے ہوئے رسول ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ لیکن بدعتی شخص ان تمام تر چیزوں کو یکسر مسترد کر دیتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ شریعت کے بتلائے ہوئے طریقوں سے ہٹ کر کچھ طریقے اور بھی ہیں، شریعت نے جو حد بندی کی ہے وہ درست نہیں! جن طریقوں کو شریعت نے محدود کیا ہے، وہ اصل میں لا محدود ہیں! گویا کہ وہ یہ کہتا ہے کہ: جیسے شریعت بنانے والے کو علم ہے ایسے ہی ہمیں بھی علم ہے، بلکہ ہم شریعت بنانے والے سے بڑھ کر بھی طریقے دریافت کر سکتے ہیں!! گویا کہ اُسے ایسی باتیں مل گئی ہیں جو شریعت بنانے والے کو نہیں مل سکیں!! اگر بدعتی شخص کا یہی نظریہ ہو تو یہ شریعت اور اللہ تعالی کے ساتھ کفر ہے، اور اگر اس کا یہ نظریہ نہیں ہے تو پھر یہ واضح گمراہی ہے. امام شاطبی کی گفتگو مکمل ہوئی۔

یا اللہ! ہمیں حق بات کو حق سمجھ کر اس کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرما، اور باطل کو باطل سمجھ کر اس ے بچنے کی توفیق عطا فرما، ہم پر حق و باطل متنازعہ نہ بنا مبادا گمراہ ہو جائیں، یا اللہ! ہمیں گمراہیاں پھوٹنے کے وقت سنت پر کاربند رہنے والے بنا۔
یا اللہ! جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر ہر چیز کو جاننے والے، تو ہی اپنے بندوں میں اختلاف ہونے پر فیصلے فرماتا ہے، تو ہماری ایسی مبنی بر حق چیزوں کے متعلق رہنمائی عطا فرما جن کے بارے میں اختلاف کیا جاتا ہے، بیشک تو جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی جانب گامزن کر دیتا ہے۔
یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، توحید پرستوں کی مدد فرما، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو پر امن بنا۔
یا اللہ! ہمارے ملکوں میں امن کی دولت نصیب فرما اور ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما۔
یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری مرضی کے مطابق اقدامات کی توفیق عطا فرما، اور ان کی خصوصی مدد فرما، یا ذو الجلال والاکرام!
یا اللہ! ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما، ہمارے فوجیوں کی مدد فرما، یا رب العالمین!
یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمان کے حالات سنوار دے، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمان کے حالات سنوار دے، یا اللہ! اے درجات بلند کرنے والے! اے ضروریات پوری کرنے والے! اے مشکل کشا! ہمارے بھائیوں کی شام میں مشکل کشائی فرما، یا اللہ! ان کی مصیبتوں کا خاتمہ فرما، یا اللہ! ان کی مصیبتوں کا خاتمہ فرما، یا اللہ! ان کی تنگیاں ختم فرما، یا اللہ! ان کی تنگیاں ختم فرما، اور ان کے معاملات سنوار دے، یا ذو الجلال و الاکرام!
یا اللہ! ملحدوں کے چنگل سے انہیں آزاد فرما، یا اللہ! ملحدوں کے چنگل سے انہیں محفوظ فرما، یا اللہ! ان کی جانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ان کی جانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ان کی عیب پوشی فرما، خوف زدہ کو امن عطا فرما، یا اللہ! مظلوم مسلمانوں کا انتقام لے، یا اللہ! ظالموں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! ظالموں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! ظالموں کو ایسے پکڑ جیسے غالب اور طاقتور پکڑ تا ہے۔
یا اللہ! ہمارے معبود! مشکلات اور مصیبتیں حد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں، معاملات بہت سنگین حد تک خراب ہو چکے ہیں، انہیں سنوارنے والا تیرے علاوہ کوئی نہیں ہے! انہیں سنوارنے والا تیرے علاوہ کوئی نہیں ہے! یا اللہ! جلد از جلد ان کی مشکل کشائی فرما، یا اللہ! جلد از جلد ان کی مشکل کشائی فرما، یا رب العالمین! یا ارحم الراحمین! یا ذو الجلال و الاکرام! یا ذو الجلال و الاکرام!
یا اللہ! صومالیہ میں ہمارے بھائیوں کی مدد فرما، یا اللہ! انہیں جن مشکلات کا سامنا ہے ان کا خاتمہ فرما، یا اللہ! انہیں جن مشکلات کا سامنا ہے، ان کا خاتمہ فرما، یا اللہ! ان کی زندگی بہت تنگ ہو چکی ہے، یا اللہ! ان کے آسانیاں فرما۔
یا اللہ! وہ بھوکے ہیں ان کے کھانے پینے کا بندو بست فرما، یا اللہ! وہ بھوکے ہیں ان کے کھانے پینے کا بندو بست فرما، یا اللہ! وہ تن سے ننگے ہیں انہیں لباس مہیا فرما، یا اللہ! وہ آزمائش میں ہیں ان پر رحم فرما، یا اللہ! وہ آزمائش میں ہیں ان پر رحم فرما ، یا اللہ! وہ آزمائش میں ہیں ان پر رحم فرما ۔
یا اللہ! قحط سالی کی وجہ سے پتھر بھی پھٹ گئے، دھرتی چٹیل میدان بن چکی ہے، جانور پیاسے مر رہے ہیں، ماؤں کی آہ و بکا اور سسکیوں سے آسمان گونج اٹھا ہے، یا اللہ! جن ماؤں کی گودیں اجڑ چکی ہیں اور جن کے سہاگ اجڑ چکے ہیں ، یا اللہ! سب پر رحم فرما۔
یا اللہ! ان پر اپنی رحمت کی برکھا برسا ، موسلا دھار خوب بارش نازل فرما، جس سے بنجر زمین پر ہریالی آ جائے اور نقصانات کا ازالہ ممکن ہو جائے۔
اللہ کے بندو!
اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الاحزاب: 56]
اللھم صل علی محمد و علٰی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید. اللھم بارك علي محمد وعلي ال محمد كما باركت علي ابراھيم وعلي ال ابراھيم انك حميد مجيد.

پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت والا ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں، پیغمبروں پر سلام ہے،اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ [الصافات: 180 - 182]

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں