عطرگل - سائرہ ممتاز

محبوب!
پورے چاند کی رات ہے. روہی کے سینے پر ٹھنڈی ریت چاند کی روشنی میں چمک رہی ہے. ستارے دھرتی پر بکھرے ان کھربوں روشن جبینوں سے جھک جھک کر گلے مل رہے ہیں.گویا ملن کی رات ہو. اس یخ بستگی کو محسوس کرتے ہوئے ایک گھڑ سوار مشرق کی اور سے نمودار ہوتا ہے، سنہری ریت سے دودھیائی سفیدی منعکس ہو کر کالے سیاہ مشکی گھوڑے پر پڑتی ہے تو ریگستان کا فسوں دوچند ہو جاتا ہے! آنے والے کو شمال کی سمت جانے کا اذن ملا ہوا ہے. شمال کی طرف پہاڑوں میں گھری وادی ہے جہاں کوئی انتظار کر رہا ہے.!

محبت!
دھانی گھاگرے اور سرخ چولی پہنے ایک ناری اپنے سفید کڑوں والی سنہری باہیں گھٹنوں کے گرد باندھے بیٹھے بیٹھے تھک گئی ہے. پچھلی رات چلنے والی باد صرصر سب کچھ اڑا کر لے گئی تھی. بستی میں اب کوئی جھونپڑا نہیں بچا تھا اور نہ ہی اس نار کے باپ کی وہ مریل اونٹنی دکھائی پڑتی تھی جو خشک اور گرم دنوں میں ان کی واحد ساتھی ہوا کرتی تھی. وہ اپنے بوڑھے باپ کے ساتھ اگلی بستی تک آئی ہے، یہاں کچھ کچی پکی قبریں ہیں، دو ایک تالاب ہیں جو خشک پڑے ہیں، انھیں کچھ اور نہ ملا تو اپنے تھیلے میں پکے ہوئے پیلو ڈالتے رہے، پھر ایک گندے جوہڑ جیسے تالاب سے جہاں ریگستانی چرند و پرند، حشرات باہم اکٹھے ہوتے تھے، پانی کپڑے سے نچوڑ نچوڑ کر اکٹھا کیا جس کی رنگت مٹیالی رنگت والے اللہ یار سے بھی کہیں گہری تھی. اور مقدار اتنی ہی تھی کہ ایک جوان آدمی اگر اس گھُلی ہوئی مٹی والے پانی سے منہ ہاتھ دھونا پسند کرتا تو بآسانی کر سکتا تھا.!

عاشق!
ایک صد چاک گریبان کسی دہلیز پر بیٹھا ہے. آدھی رات کے وقت آسمان پر تاروں کی مکیش بھری چادر تمتما رہی ہے. فضا میں سینکڑوں سالوں کی حدی خوانی کا سرور رچا ہے. ایک طرف کاسہ اور دوسری جانب کتا اس گریبان چاک والے کے ہم نشین ہیں.

کہانی!
موت کی کسمپرسی ہے نہ کہ کسمپرسی کی موت ہے کہ ایسے وقت پر آئے جب دو بوند ہونٹ گیلے کرنے کے لیے بھی پانی موجود نہ ہو. ریگزاروں میں چلنے والے جھکڑ پچھلی رات سب کچھ سمیٹ کر اپنے ساتھ واہو رولوں میں لپیٹ کر لے جا چکے ہوں. آسمان سے تپش لپکتی ہو اور زمین پر بکھری ریت پر دانے بھونے جا سکتے ہوں تو اس دھرتی کا پرانا باسی کب تلک انتظار کر سکے گا؟ ہیضے اور دیگر وبائی امراض سے مرنے والے اکثر لوگ بے جنازہ دفنائے جا چکے تھے. بچ جانے والوں کو حکومتی امدادی کارکن گاڑیوں میں بھر کر خوابوں کے کسی شہر میں لاوارث مرنے کے لیے لے جا چکے تھے، اور باقی بس وہی بچ رہے جن میں یا سکت تھی یا محبت تھی!

بکریوں، بھیڑوں اور اونٹوں کے لیے چارے کے نام پر فقط کانٹے بھری سوکھی لکڑیوں کے ڈھیر تھے جو حلق میں پہنچنے سے قبل ہی تالو چھید دیتے تھے. ان بے شعوروں نے شعور حاصل کر لیا تھا کہ اب فقط دو گھونٹ پانی پر گزارہ کرنا پڑے گا.

اللہ یار جب دو گھونٹ پانی جمع کر چکا تو سانوری کو لے کر اپنے ٹوبے کی اور چل پڑا جو اب سوکھ چکا تھا اور وہاں کے چالیس پچاس نفوس کسی اور گاؤں ہجرت کر چکے تھے. یہاں پر اللہ یار اپنی بیمار اور بوڑھی بیوی کی وجہ سے رہنے پر مجبور تھا جو آخری دموں پر لگتی تھی اور کبھی تو یوں لگتا جیسے ابھی اٹھ کر بیٹھ جائے گی. ہوتا یوں تھا کہ وہ لیٹے لیٹے ہی ایک دم چونک پڑتی، آنکھوں کے سامنے ہاتھوں کا چھجا بنا کر مشرق کی سمت دیکھتی اور پھر کچھ بڑبڑانے لگتی. سانوری نے جھونپڑی میں پہنچتے ہی ماں کا پسینہ اپنی اوڑھنی سے صاف کیا اور پھر ایک ململ کے باریک کپڑے سے پانی چھاننے لگی جو بمشکل چار پانچ گلاس جتنا تھا، اس نے مدقوق ہوتی سانسوں والی بوڑھی ست بائی کو پانی پلایا.

یہ بھی پڑھیں:   گھر مشکل سے بنتے ہیں - راحيلہ ساجد

افق پر اب گہری نارنجی روشنی تھی. اس نے کان لگا کر سننا چاہا، ست بھرائی کسی چنن پیر کا نام لے رہی تھی.
اس نے اللہ یار کو پکارا.
’’ابا، مائی چنن پیر کا نام لیتی ہے.‘‘
اللہ یار نے مایوسی سے جھکی گردن اٹھائی اور چلم کا کش لیتے ہوئے بولا،
’’ہم روہیلوں کو زیب نہیں دیتا کہ ذرا سی خشک سالی آنے پر کسی بزرگ کو تکلیف دینے چل پڑیں، حوصلہ رکھ ستی! آج مشرق کی طرف آسمان کے تیور کچھ اور ہی لگتے ہیں.‘‘
چند لمحے توقف کے بعد کہنے لگا
’’آج رات تک پانی نہ برسا تو میں تجھے چنن پیر کیا، کہے گی تو سائیں فرید کے پاس بھی لے چلوں گا، بس ہمت رکھ.‘‘
یہ اور بات تھی کہ اس کی اپنی ہمت بوڑھے چہرے کی جھریوں میں چھپ چکی تھی. رات کو انھوں نے باجرے کی میٹھی ٹکیاں کھا لیں اور دو دو گھونٹ پانی پی کر اپنی اپنی جگہ لیٹ گئے. باہر ایک جاں بلب اونٹنی بلبلا رہی تھی.
روہی ڈائن ڈریندی اے
شک نیتے یار کوں نکھڑیندی اے
اللہ یار نے دو چار کھنگورے مارے اور جھڑک کر بولا
’’تیکوں ول نا آیا منگن دا! سچل ویلے کھوٹے راگ نا چھیڑ‘‘
سانوری کو وہ فقیر یاد آتا ہے جو اس نے پچھلے برس خواجہ غلام فرید کے عرس پر دیکھا تھا. اس کے ساتھ ایک کتا یوں لپٹ لپٹ کر چلتا تھا گویا کتا نہ ہو، اس کا یار ہو.
ست بائی کے خیالوں کی ڈور اس کے دل سے بندھی بندھی پچاس برس پیچھے چلی جاتی ہے اور لاشعور کی چادر پر شمال کا صحرا ابھر آتا ہے جہاں ایک گھڑ سوار اترا تھا.
..............................................................
جنوب و شمال سے اٹھنے والے سرد ہوائیں قطبین کے سروں سے ٹکرا کر، برف کے بڑے بڑے تودوں میں سے گزر کر یوں نکلتی تھیں جیسے اپنا سراپا برف کی سفیدی میں چھوڑ آئی ہوں. شاں شاں کی آوازیں سنائی دیتیں لیکن آواز لگانے والیاں کہیں دکھائی نہ پڑتیں. خاموشی کی زبان میں وادیوں کے باسی پرند چرند، ماہیاں، گھاس البیلے اور نویلے اقسام کے پھول آپس میں نجانے کیا کیا سرگوشیاں کر رہے تھے کہ گنگا ندی اپنے دہانے سے پھوٹتی پھواریں روک کر بولی:
’’مجھے جمنا، سرسوتی اور خشک ہوتے جہلم سے زیادہ گھاگھرا کا دکھ کھائے جاتا ہے. ہمارا جنم یہاں ملکوتی حسن کے پردوں میں لپٹے شفاف بادلوں کی چھاؤں تلے ہوتا ہے، پھر ہم اس دھرتی کی ڈھیروں مٹی اپنے وجود سے لپٹائے پھرتی ہیں جس میں ہر جاندار کی زندگی کا سامان ہوتا ہے، اور وہ ہاکڑا ندی جو سوکھ چکی ہے، بانجھ ہو چکی ہے، اس کی کوکھ میں فقط ریت پھر چکی ہے.
اے ہمالیہ! تم اپنے وجود میں چھپی ڈھیروں بوندیں وہاں کیوں نہیں بھیجتے جہاں کے باسیوں سے زمین کی زرخیزی راضی نہیں ہے اور یہ نیلا گگن جن سے ناراض ہی رہتا ہے. جن کے خواب، سراب بن جاتے ہیں اور محبت ان کے لیے ہمیشہ خدا کی طرف سے بھیجی گئی آزمائش ہوتی ہے.‘‘
جواب میں سرد اور یخ بستہ وجود والا ہمالہ مزید پتھریلا اور سخت ہو جاتا ہے، اس کے دہانے سے اب ایسا کوئی چشمہ نہیں پھوٹتا جو ریگزاروں کو سیراب کر دے! لیکن نجانے کیوں محبت رکھنے والے دل ہمیشہ پہاڑوں اور دریاؤں کی جانب آنکھیں لگائے رکھتے ہیں. شاید انھیں محبت آبشاروں سی برستی محسوس ہوتی ہو جو سخت جان پہاڑوں کا سینہ چیر کر نکلتی ہیں اور پھر ہر شے اپنے ساتھ بہا کر لے جاتی ہیں.
..............................................................
ست بائی پکھی واسوں کی جھونپڑی میں پیدا ہوئی جن کے پاس ریگستانی حسن تھا! اور صحرا ہمیشہ اسرار کے پردے میں لپٹے رہتے ہیں، جل تھل نہیں کر سکتے لیکن جیت لیتے ہیں. ایسے ہی جنوبی شہر کے رہنے والے حق نواز جوئیہ کو ایک دن صحرا رنگیلی چنری سے باندھے اپنے دامن میں کھینچ لاتا ہے. حق نواز جوئیہ ست بائی کو بہت جتن سے حاصل کرتا ہے. شادی کر کے گھر لے جاتا ہے اور اسے یہ یاد نہیں رہتا کہ روہیلے جہاں پیدا ہوتے ہیں مرتے بھی وہی ہیں. ان کی قسمت میں ریت لکھی ہوتی ہے لہذا وہ مٹی میں پنپ نہیں پاتے. ست بائی بھی کملا جاتی ہے، روہی میں کھلنے والا پھول اپنی آب و تاب برقرار نہیں رکھ پاتا. اس کے لیے حالات اور موسم سازگار نہیں رہتے. اینٹ گارے اور پتھر لوہے سے بننے والے گھر اس کے لیے قفس ثابت ہوتے ہیں، یوں قید ہونے والا پکھیرو جاں بلب ہو جاتا ہے اور ایک دن رہائی پا ہی جاتا ہے. حق نواز کے ماں باپ بہت جلد اسے قائل کر لیتے ہیں کہ جس بے نام و نسب کو تم زبردستی اٹھا کر لائے تھے، اسے اب چھوڑ دینے میں ہی تمہارے حسب و نسب کی بقا ہے. یوں نامہربان مٹی والے شہریوں کے پاس وہ اپنا سات سال کا بیٹا چھوڑ کر واپس روہی چلی آتی ہے. حق نواز کے گھر کی دہلیز پر کھڑی جب وہ اپنے گم شدہ سات سالوں کا حساب کتاب دیکھ رہی تھی، اسی سمے طلاق نامہ پکڑتے ہوئے ست بائی نے سنا وہ کہہ رہا تھا،
’’میری محبت تجھے راس نہ آئی ست بائی، لیکن جب تو بوڑھی ہو جائے اور روہی میں بہت دنوں تک بارش نہ ہو، تب مشرق کی جانب دیکھتی رہنا، میں تیرے لیے پانی لاؤں گا.‘‘ وہ ڈھونڈتی ہوئی اس ٹوبے کے نشان تک پہنچ ہی جاتی ہے جہاں اس کے جانے کے سال بعد ہی باپ کسی ٹوبے کے کنارے ریت اوڑھ کر ہمیشہ کے لیے آنکھ بند کر کے لیٹ جاتا ہے. جو حشر اس غیرت والے کے ساتھ اٹھایا گیا تھا اب وہ حشر پر موقوف ٹھہرتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   کون ہے جسے اس گارنٹی پر یقین ہے؟ زبیر منصوری

دوسری قسط یہاں ملاحظہ کریں

Comments

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز کو تاریخ، ادب، ثقافت، زبان، تصوف، معاشرے، اور بدلتی ہوئی اقدار جیسے موضوعات میں دلچسپی ہے۔ صحافت اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ نسل نو کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنا ان کا شوق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں