روٹی، کپڑا اور مکان نہیں؛ پانی، بجلی، گیس اور امان - شہیر شجاع

"روٹی کپڑا اور مکان" کتنا خوبصورت نعرہ تھا۔ یہ انسان کی وہ بنیادی ضروریات ہیں جن کے بغیر زندگی ناممکن لگتی ہے۔ انسان روٹی کے لیے کیا کچھ نہیں کرتا؟ جھوٹ بولتا ہے، جرم کرتا ہے، قتل کرتا ہے۔ تن ڈھانپنا بھی اس کی اخلاقی جبلت ہے اور چھت اس کا تحفظ۔ مگر یہ تمام چیزیں 'اسباب' پر منحصر ہیں۔

کوئی بھی انسانی طاقت یہ تین چیزیں مہیا نہیں کرسکتی۔ انہیں حاصل کرنے کے لیے انسان کا مہذب ہونا، پابند ہونا اور متحد ہونا ضروری ہے۔ اگر انسان کسی طاقت پر منحصر (انحصار کرے) ہوجائے تو پھر وہ کمزور ہوجاتا ہے اور غلامی کی جانب چلا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جس نعرے پر اس سرزمین میں جیالے تخلیق ہوئے وہ آج بھی جیالے ہی رہ گئے۔ ان کو نہ کپڑا ملا، نہ مکان، ہاتھ میں بچی کچی روٹی تھی، وہ بھی چھین لی گئی۔ جبکہ نعرہ دینے والے آقا خود محلات میں جا بسے، ان کے کپڑے عالیشان ہوگئے اور ان کی روٹی بہترین ہوگئی۔

جب کسی قوم سے علم چھین لیا جائے، اس کے اسباب تلف کردیے جائیں اور وسائل پر قبضہ کرلیا جائے تو پھر اس قوم کے شعور پر کنٹرول حاصل کرلینا آسان ہوجاتا ہے۔ سرزمین پاکستان کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ہمارا شعور ہمارا کب رہا؟ یہ تو ریموٹ کنٹرولڈ ہوگیا۔ ہم آج بھی روٹی کپڑا اور مکان کے گرد گھوم رہے ہیں۔ مختلف گروہوں کے مختلف آقا ہیں، جن کے وہ گن گاتے ہیں اور مسیحا سمجھتے ہیں۔

شعور کی بیداری تو علم کے سمندر میں غوطہ زن ہونے سے ہوتی ہے۔ ہمارا شعور تو کنٹرولڈ ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کو دیکھ لیں وہ بھی پاکستانی ہی ہیں۔ مگر وہ قوم کی اس صف میں کھڑے ہیں جہاں سے شعور کنٹرول کیا جاتا ہے۔ سو محلات کھڑے ہورہے ہیں، سونے کے تار سے کپڑے بن رہے ہیں اور خوش ذائقہ کھانوں کی خوشبو سے مگر راہ چلتے جیالے، شیر، و ٹائیگر اپنے ناک کے ذریعے پیٹ سے سوچنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر سے جڑا جنوبی ایشاء کا امن - چوہدری ذوالقرنین ہندل

ہمارے پاس گیس کی تنگی ایسی کبھی نہ تھی۔ یہ تو ہماری سرزمین کی اپنی گیس تھی۔ پانی کی قلت سے بھی اب ہم دوچار ہوگئے ہیں۔ صاف پانی میسر نہیں۔ زر کے بغیر پانی بھی ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ بجلی کے دعووں پر انتخابی مہم چلائی جا رہی ہے۔ اور امن و امان؟ یہ تو ہمارے پاس موجود تھا کیوں کہ ہم نڈر قوم تھے، لیکن یہ صفت بھی ہم سے چھن گئی۔

روٹی، کپڑا اور مکان ہم خود حاصل کرلیں گے۔ ہمیں تو پانی، بجلی، گیس، اور امان چاہیے۔ چھت کا ہونا تحفظ کا احساس نہیں "امان" کا ہونا تحفظ کا احساس ہے۔ ہمیں روٹی حاصل کرنے کے لیے ذرائع کی ضرورت ہے، کپڑا ہم خود بُن لیں گے۔ تم کون ہوتے ہو ہمیں روٹی دینے والے؟