ہمت و غیرت - ریاض علی خٹک

سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ بیوہ تھی، دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ اُس نے بچوں کی کفالت بھی کرنی تھی، تیسرا مسئلہ یہ تھا کہ وہ اس مشرقی معاشرے کی فرد تھی جہاں اصول زندگی سمجھانے والے بہت، کسی ادھیڑ عمر بیوہ کا سہارا بننے والے کمیاب ہوتے ہیں. اور ایک مسئلہ یہ تھا کہ اُس کی تعلیم بھی واجبی تھی.

لیکن ان سب مسائل کے پار اُس کی ہمت و عزم تھا، اُس کی غیرت تھی، اُس کا یہ اٹل ارادہ تھا کہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا. وہ عزیز و رشتہ دار جن کو اِس معاشرے کے اصولوں پر اس کا سہارا بننا تھا، اجنبی ہو چکے تھے. باقی دُنیا کی بھیڑ میں بھیک مانگنا ہی اُس کے لیے بچا تھا، لیکن اُس نے بھکاری نہیں بننا تھا.

وہ کھانا بہت اچھا بناتی تھی، یہ یقین اُسے اُس کے مرحوم شوہر نے دلایا تھا. جب ایک متوسط گھرانے سے وہ اٹھائیس سال کی عمر میں پیا گھر سدھاری تھی، تو غربت کے جہیز میں گھر ہستی اور وفا کا ہنر ہی لے کر گئی تھی. شوہر کا گھر بھی غریب کی کٹیا ہی تھی. پوش علاقے کے نکڑ پر بسی اس بستی میں ان کا واحد غرور یہی ایک کمرے کا گھر تھا. ہاں گھر اپنا تھا، اور اس گھر میں صرف بارہ برس کے اس ساتھ میں چار بچوں کے ساتھ وہ آج بیوہ تھی.

ماتم کے چند دنوں بعد ہی بے سروساماں کچن کا جائزہ لے کر اُس نے ایک فیصلہ کیا، پڑوس کی بچی سے بچوں کی کاپی پر خوشحط لکھائی میں گھر کے لذیذ کھانے، آفس ڈیلیوری کی خدمات اور مرحوم میاں کے سیل نمبر کے ساتھ اُس نے ہمت کا برقع پہنا، اور پیدل پوش علاقے کے تجارتی مرکز کے مخلتف دفاتر میں شام تک وہ پرچہ بانٹ آئی. اتفاق سے پہلے ہی دن اُسے کل کے لیے کچھ آزمائشی آرڈر مل گئے. جمع پونجی سے کھانے کا کچھ سامان خرید کر اگلے دن مزدوروں کی اس بستی سے کچھ گھروں سے ادھار ٹفن مانگ کر اُس نے پہلی ڈیلیوری ان آفسز میں دے دی.

یہ بھی پڑھیں:   کیا خاتون گاڑی یا بائیک چلا سکتی ہے؟ - حافظ محمد زبیر

باقی وہ داستان ہے، جو لفظوں میں بیان آسان لیکن جس کا ہر دن ایک مشقت ہے. اس میں گرمی میں برقعہ لپٹی اس باہمت کا پسینہ پسینہ بدن روز کی ڈیلیوری دینے کبھی نکلتا، تو کھبی بارش میں پلاسٹک کی شیٹ اوڑھے پرانی چپلیں گھسیٹتے پاؤں وقت کی رفتار سے ہم آہنگ ہوتے. ہاں آج ایک بڑا کچن بھی ہے. آج چند لڑکے موٹر سائیکل پر ڈیلیوری بوائز بھی ہیں. ہاں آج فون پر یہ معذرت بھی ہے کہ صاحب ابھی مزید گاہک کی گنجائش نہیں. اور ہاں آج بیوہ کے بچے اُجلے کپڑوں میں فخر سے سکول بھی جاتے ہیں.

انسان کمزور ہو سکتا ہے، انسان مجبور ہو سکتا ہے، انسان مسائل کا شکار بھی ہوسکتا ہے، لیکن ہمت ایک جذبہ ہے، غیرت ایک احساس ہے، اسے ہم خود کمزور و لاچار نہ کریں تو یہ کمزور نہیں ہوتے.

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.