شام پرامریکی حملہ، امکانات - عاطف الیاس

امریکہ نے بحیرہ روم میں موجود اپنے دو جنگی جہازوں سے حمص کے نواح میں موجود شامی ائیرفیلڈ پر انسٹھ (59) کروز میزائیل داغے ہیں. بظاہر امریکی حکومت نے یہ اقدام، شامی حکومت کی طرف سے شیخون میں ہونے والے کیمائی حملے کے جواب میں اٹھایا ہے. کیونکہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے خصوصی طور پر کہا ہے کہ یہی وہ ائیر فیلڈ تھا جہاں سے ممنوعہ کیمیائی مادوں کا حملہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ شامی حکومت کے اس کیمائی حملے کے نتیجے میں سو کے قریب لوگ بشمول بچوں کے شہید اور ساڑھے چار سو زائد زخمی ہوئے تھے۔ بلاشبہ یہ اس ظلمِ عظیم کی ایک ہلکی سی جھلک تھی جو پچھلے پانچ سالوں سے شامی عوام پرجاری ہے۔ سانس لینے کو سسکتے ہوئے ننھے ننھے پھول ہردل کو آبدیدہ کرگئے۔ حسب معمول عوامی سطح پر اس کا سخت ردِعمل آیا۔ لیکن امریکی حکومت کی طرف سے پہلے دو دن تو صرف بیانات جاری کیے گئے اور اب تیسرے دن خلافِ معمول براہ راست کارروائی کی گئی ہے۔ اس حملے سے پہلے اس نے روس اور قریب و جوار کی حکومتوں کو پیشگی اطلاع بھی دی تھی. اگرچہ روس نے اسے جارحیت قرار دیا ہے لیکن فی الحال اس کی طرف سے کوئی سخت ردعمل سامنے نہیں آیا۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں کوئی بھی سپر پاور اپنے مفادات کے خلاف ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھتی، خواہ اس کے لیے اسے لاکھوں لوگوں کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ لیکن جہاں کہیں اس کے مفادات سے ٹکراؤ شروع ہوتا ہے وہیں اس کی موجودگی کا جواز بھی نکل آتا ہے۔ بادی النظر میں شامی ائیر فیلڈ پر امریکی حملے کے پیچھے تین طرح کے امکانات ہوسکتے ہیں:

پہلا امکان زیادہ ہے کہ یہ حملہ صرف دنیا کو دکھانے کے لیے کیا گیا ہے اور فوجی اڈے تک ہی محدود رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ فی الحال بشار حکومت کو ختم کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھے گا۔ اس طرح وہ عالمی رائے عامہ کی نظر میں خود کو انسانیت کے محافظ کے طور پر پیش کرے گا۔ جبکہ حقیقت میں دمشق ان کی دسترس سے اس وقت تک محفوظ رہے گا جب تک بشار اس بغاوت پر قابو نہ پالے یا اس کا قابلِ قبول متبادل انھیں دستیاب نہ ہوجائے۔ حقیقت میں پچھلے پانچ سالوں سے امریکہ شام میں یہی گیم کھیل رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کی صورتحال اور آئی ایم ایف کا بیان، کیا اتفاق ہے؟ انصار عباسی

دوسرا امکان جو کم ہے کہ امریکہ روس کی مدد سے کسی فیصلے پر پہنچ چکا ہے۔ روس نے بھی خلافِ توقع، کل شامی حکومت کے کیمیائی حملے سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا، جو بہت غیر معمولی ہے. لیکن یہ بات بھی خاص طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت فی الحال امریکہ اور روس کے درمیان شام میں کوئی کریٹیکل پوائنٹ موجود نہیں ہے۔ وہ شامی مسئلے پر بظاہر ایک دوسرے کے مخالف ہیں لیکن اصلا ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے بعد، اب تو یہ ایک کھلی حقیقت بن چکی ہے۔ اس لیے فی الحال دیارِ شام میں دوعالمی طاقتوں کے ٹکراؤ یا ’’ملحمۃ الکبری‘‘ جیسا کوئی امکان دور دور تک موجود نہیں (واللہ اعلم)۔ فی الحال ان دونوں کے لیے ترجیح، بشار کو بچانا یا بصورتِ دیگر بہترین متبادل کو لانا ہے۔

تیسرا امکان جس کے خدوحال واضح بھی ہو رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ اس حملے کا مقصد شیخون میں ہونے والے کیمیائی حملے کے بعد لوگوں میں پائے جانے والے غم و غصہ کو ٹھنڈا کرنا ہے۔ جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ لوگ جو دو دن سے اس ظلم کے خلاف آواز اُٹھا رہے ہیں کسی حد تک مطمئن ہوجائیں گے۔ لیکن اس کا بالواسطہ فائدہ بشار اینڈ کمپنی کو بھی پہنچے گا جو خود کو مظلوم اور اینٹی امریکن و یہودی ثابت کرنے کے اس موقع کو ضائع نہیں جانے دے گی۔

یہ تو وہ مفروضے ہیں جو آنے والے دنوں میں بہت حد تک واضح ہوجائیں گے۔ لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کہ بشار کے ظلم کے خلاف اس طرح اُٹھ کھڑے ہونے کا خیال، آج کی تاریخ تک، کسی مسلم ملک کی غیرت مندانہ پالیسی سے ظاہر نہیں ہوا. وہ سب پچھلے پانچ سالوں سے امریکہ کے اشارہِ ابرو پر ناچ رہے ہیں۔ کوئی بشار کا دوست بن کر تو کوئی دشمن کے رُوپ میں. ایران اور حزب اللہ بشار کی حمایت میں روس کی مدد سے خون کی ندیاں بہاتے رہے تو دوسری طرف ترکی اور عرب ممالک داعش داعش کے کھیل سے اور حقیقی باغیوں کی مدد نہ کرکے، بشار کو بچانے کے مجرم ٹھہرتے ہیں۔ وہ سب درحقیقت امریکی مہروں کی طرح آگے پیچھے حرکت کرتے لیکن نعرے امت کی خیر خواہی کے لگاتے رہے. اس دوران خونِ مسلم پانی کی طرح بہتا رہا لیکن بیان بازی سے آگے بڑھ کر کسی نے قدم اُٹھانے کی ہمت نہیں کی۔ افسوس صد افسوس کہ ان میں سے ایک بھی حقیقی رہنما نہ بن سکا۔ ورنہ امت تو بے قراری سے کسی مسیحا کی منتظر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی باڈی لینگویج، ایک تجزیہ - عارف انیس ملک

اور اگر امریکہ واقعی بشار کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو یہ سب بھی پوری تندہی کے ساتھ حرکت میں آجائیں گے. میڈیا پر بھی پورے زور و شور سے شامی عوام کی مظلومیت کا رونا رویا اور بشار کے ظلم کا ڈھنڈورا پیٹا جائے گا۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ امریکہ اپنے مفادات پسِ پشت ڈال کر، مسلمانوں کی خیر خواہی کے لیے آگے بڑھے گا، تو ایسا سوچنا بھی حماقت ہوگا.

اول اگر وہ بشار کو ہٹا دیتا ہے تو وہ کبھی بھی اسلام پسند گروہوں کو برسرِ اقتدار نہیں آنے دے گا. وہ لازما اِن گروہوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اپنے راستے سے ہٹانے اور اپنی مرضی کے سیکولر یا وطن پرست گروہوں کو آگے لانے کی کوشش کرے گا، تاکہ عراق اور افغانستان کی طرح اپنی مرضی کی حکومت قائم کی جاسکے۔ اگرچہ یہ کہنا آسان ہے لیکن حقیقت میں بہت مشکل ہوگا کیونکہ شامی عوام کی زیادہ تر ہمدردیاں اسلام پسند گروہوں کے ساتھ ہیں، جو ان کے بقا اور پھیلاؤ کی اصل وجہ بھی ہے۔ امریکہ کی اس کوشش کے نتیجے میں شام ایک نئی خانہ جنگی کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ جہاں مسلمان ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہوں گے۔ جس کے نتیجے میں امریکہ کے پرانے منصوبے یعنی شام کی تقسیم کی راہ بھی ہموار ہوسکتی ہے، خدا نہ کرے۔

بہرحال اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے لیکن دعا یہی ہے کہ جو بھی ہو اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کے لیے خیر کا معاملہ ہو. اور شام کی سسکتی ہوئی مظلوم عوام کو اس سیاہ دور سے نجات مل سکے۔ وہ روشن صبح طلوع ہو جس کے خواب وہ پچھلے پانچ سالوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اسلام کی سربلندی کی صبح، ظلم اور جہالت سے آزادی کی صبح۔ وہ صبحِ روشن جس کے بعد کوئی سیاہ رات نہ ہوگی، جس کا زکر خیرالبشر، سیدالانبیا ﷺ کی احادیث میں بکثرت موجود ہے۔ الھم انصر الاسلام، آمین یا رب العالمین!

Comments

عاطف الیاس

عاطف الیاس

عاطف الیاس ایک نجی کالج میں پڑھاتے ہیں. لکھنے پڑھنے، پھرنے پھرانے اور ٹریکنگ کے شوقین ہیں. عالم، فاضل یا دانشور جیسے الفاظ انھیں زیب نہیں دیتے اس لیے محض اپنی طالب علمانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں، لیکن بالیقین نظریاتی طور پر عالم اسلام اور تمام انسانیت کے مسائل کا حل اسلام کے عملی نفاز میں دیکھتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.