اے فقیہانِ حرم، اے شاہانِ عرب، اے حاکمانِ عجم - محمد بلال خان

اے فقیہانِ حرم، اے شاہانِ عرب، اے حاکمانِ عجم!
اے امتِ مسلمہ پر برسرِ اقتدار حکمرانو!
اے سرزمینِ خلافت کے تاجدارو!
اور اے مدینۂ ثانی کے دعویدارو!

ذرا محلات سے نکل کر نہ سہی، قدم اٹھانے کی تکلیف نہ سہی، ٹیلی فون کال پر بم و بارود کی ہیبت ناک صداؤں سے سمع خراشی نہ سہی۔
ذرا ہاتھ میں پکڑے موبائل کی سکرین پر ہی والیم بند کر کے سرزمینِ شام کی سسکتی بلکتی خاموش تصاویر دیکھ لو۔

یقین کرو کہ سکرین پر دیکھنے سے نہ اُن کے لاشوں سے خون کا تعفن تمہاری نازک حس پر گراں گزرے گا، کیونکہ اب تو ان کا خون بہتا ہی نہیں، اب تو انہیں گولی بھی نہیں ماری گئی، اب تو ان کا لاشہ یا آدھا جسم کسی ملبے تلے سے بھی نہیں نکالا گیا کہ وہ مناظر تمہاری آنکھوں پر کچھ دیر کو گراں گزریں۔ اب تو انہیں نہ محسوس ہونے والا کیمیائی زہر دے کر خاموش سی موت ماری گئی ہے۔ اب ان کی سسکیاں اور آخری ہچکیاں تمہارے کانوں میں ارتعاش پیدا نہیں کریں گی۔ واللہ! ان کے آنسو تمہاری آنکھوں کے راستے سے نکلنے کی تکلیف نہیں کریں گے۔ لہو کی مانند اشکوں کی دھار انھی معصوموں کےگلاب جیسے گالوں سے گزرے گی نہ ان کی چیخیں تمہاری ترنم شناس نازک سماعتوں پر گراں گزریں گی۔

ایک بار دیکھو تو یہ شیر خوار کون ہیں؟ جن کی خاموش نظریں، پتھرائی آنکھیں، اور گنگ زبانیں فضاؤں میں کسی کو تلاش کر رہی ہیں، کسے گھور رہی ہیں؟ کس کی آمد کی منتظر ہیں؟ ذرا ایک نظر ڈالنے کی ہی زحمت کر لو۔
اے کشمیر و فلسطین پہ دن رات کفِ افسوس ملنے والے میرے بہادر اسلام کے قلعے پاکستان۔!
اے روز کشمیری مسلمانوں پر پیلٹ گن کے استعمال پر ہندو بنیے کو للکارنے والے نفیس ذکریا صاحب۔!
اے شیعہ جینوسائیڈ کے ٹرینڈ چلانے والے انسانیت کے ہمدردو۔!
اے فرانس، لندن، چارلی ہیبڈو، نیس، اور ڈنمارک میں ایک گوری چمڑی والے کی موت پہ ڈی پیاں بدل کر ہفتوں بھر کا سوگ منانے والو۔!

یہ بھی پڑھیں:   شام میں اسرائیل کے فضائی حملے، ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا

کچھ دیر ہی سہی۔ بس ایک نظر ادلب میں موت کے خاموش اور تر نوالہ بننے والی معصوم کلیوں پر۔!
کوئی ایک مذمتی تحریر، انسانیت کے ناطے ایک مرثیہ ان دودھ پیتے 300 بچوں پر،
کوئی ایک پروگرام ان بے زبان اور بے قصور شامیوں پر۔
کوئی ایک ٹویٹ بشار الاسد کی مذمت میں۔
کوئی ایک مذمت شام و عراق کے بیس لاکھ سے زائد کے قاتلوں پر۔
اب تو کر دو کہ اقوامِ متحدہ کو بھی ایمرجنسی میٹنگ بلانے کا خیال آ ہی گیا۔!

ارے تم تو محمد رسوال اللہﷺ کے کلمہ گو ہو، اس تاجدارِ دو جہاں اور رحمۃ اللعالمین کے امتی، جو 1400 سال پہلے اپنی امت کے لیے راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتا رہا۔ تم اس عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پیروکار ہو جس نے فرات اور دجلہ کے کنارے بھوک سے مرنے والے کتے کا ذمہ دار بھی خود کو سمجھا۔ تم تو غزنویؒ، ابنِ قاسمؒ، ایوبیؒ اور غوریؒ کے ناموں پر نازاں ہو۔!

آج سرزمینِ شام میں بشارالاسد، روس، ایران، اور امریکہ کے ہاتھوں کچلے جانے والے وہی ہیں جن کے بارے نبی الملاحمﷺ نے فرمایا کہ یہ تمہارے جسم کا حصہ ہیں۔خدارا کچھ ہمت کیجیے، ایک آہ ہی بھر لیجیے، ایک نحیف سی صدا ہی بلند کردیجیے، اگر یہ بھی بس میں نہیں تو دعاء کے لیے ہی ایک بار ہاتھ اٹھائیے۔ کہیں روزِ محشر اپنے یہ ہاتھ بھی مجرمانہ اعتراف میں لٹکے ہوں۔ ہم ہوں، بارگاہِ رسولﷺ ہو، اور سامنے قہار و جبار کی عدالت لگی ہو۔!

Comments

محمد بلال خان

محمد بلال خان

محمد بلال خان نوجوان شاعر و قلم کار اور سیاسیات کے طالب علم ہیں، مختلف اخبارات میں لکھنے کے ساتھ ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد میں بچوں کے پروگرام کا حصہ رہے، مقامی چینلز میں بطور سکرپٹ رائٹر کام کیا، آج کل عالمی ابلاغی ادارے سے بطور ریسرچر، سکرپٹ رائٹر وابستگی رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.