ہائے یہ معصوم لاشے - ثناء اللہ خان احسن

شام میں کیمیائی حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے یہ معصوم چہرے جو کبھی اپنے بابا سے لپٹ کر لاڈ سے آئسکریم، چاکلیٹ یا ٹافی کی فرمائش کرتے ہوں گے.
جو کبھی اپنے بابا کو دیکھ کر ننھے ننھے پاؤں سے بھاگتے بازو وا کیے، اپنی معصوم توتلی اور کچی زبان سے نہ جانے کیا کیا باتیں کرتے ہوں گے.
اپنی امی سے لپٹ کر سوتے وقت یہی سمجھتے ہوں گے کہ اب وہ ہر خطرے اور خوف سے محفوظ ہیں۔
گود میں ان کا نرم و نازک وجود کیسا عجیب پرسکون اور کیف آور احساس جگاتا ہوگا۔ جب ان کے نرم گال اور گرم گردن کا لمس چہرے پر محسوس ہوتا ہوگا.
جب یہ اپنی ماں اور باپ کو دیکھ کر بے ساختہ مسکراتے ہوں گے.
ان کے ننھے ننھے جوتے اور چپلیں، چھوٹی چھوٹی خوبصورت فراکیں اور شرٹس اب بھی کہیں کسی کونے کھدرے میں پڑے ان کا انتظار کرتے ہوں گے.

ہائے! یہ دل تو گویا بس ایک صدمے سے دوچار ہے کہ رہ رہ کر ٹیسیں اٹھتی ہیں اور آنکھیں نم ہونے لگتی ہیں۔ جب اپنی چھ سالہ، چار سالہ اور نو ماہ کی بھتیجیوں کو دیکھتا ہوں کہ کیسے وہ مجھ سے چھوٹی چھوٹی چیزوں کی فرمائش کرتی ہیں۔ اور تو اور وہ نو ماہ والی ذرا سی پودنی بھی مجھے دیکھ کر مسکراتی ہے۔ گود میں لو تو اپنے پوپلے منہ سے پیار کرتی ہے اور سارا تھوک چہرے پر لگا دیتی ہے۔ پھر اپنا سر میرے کندھے پر رکھ کر ننھے سے ہاتھ سے جلدی جلدی میری کمر تھپکنے لگتی ہے. یہ محبت کی، اپنے پن کی خالص ترین قسم ہے۔ یہ بچے بھی تو سارا ایسا کچھ ہی کیا کرتے ہوں گے۔

ہائے سوچ سوچ کر میرا دل پھٹتا ہے۔ جب سے یہ سب دیکھا ہے دل بہت ہی بھاری اور اداس ہے۔ کیسا انسان ہے یہ بشارالاسد کہ ان معصوم لاشوں کی کھلی آنکھیں بھی اس کا ضمیر نہیں جگاتیں. ان معصوموں کی کلکاریوں پر ہزار بادشاہتیں قربان!
سمجھ نہیں آتا کہ کیا کیجیے؟ میں اور آپ کیا کرسکتے ہیں؟
بتائیے کیا کریں کہ دل کو ذرا قرار آئے؟ کچھ تو مداوا ہو اس قرض کا کہ جس کا بوجھ چھاتی پر ایسا بڑھتا چلا جا رہا ہے کہ سانس لینا بھی دشوار ہوا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   طیب اردگان کی کامیابیاں - ڈاکٹر ساجد خاکوانی

کیا کریں گے؟ روس پر لعنت، امریکہ کو گالیاں، مسلم امہ کی بےحسی پر چار لفظ، ایک دوسرے کے مسلک کو گالیاں، اور بس۔ لیکن بس مجھے تو ان معصوموں کی ہنسی اور زندگی واپس چاہیے، کچھ کیجیے، کوئی تو تدبیر ہوگی۔ مجھے یہ بچے واپس چاہییں، زندہ اور ہنستے مسکراتے کھیلتے ہوئے۔
اگر میری جان کے بدلے ان کی زندگی واپس آ سکتی ہے، بخدا میں ابھی دینے کو تیار ہوں! پلیز کچھ کیجیے!