تعویذ فروش مشیر - محسن حدید

نعیم الحق صاحب کا جنرل کیانی اور فوج کے خلاف تازہ ترین بیان پڑھ کر بےاختیار میٹرک کے دنوں کا ایک دلچسپ واقعہ یاد آگیا. سچ تو یہ ہے کہ اسے بیان کہنا بیان کی توہین ہے، نرم سے نرم الفاظ میں بھی اسے چول ہی کہا جاسکتا ہے جو نعیم الحق سے حسب عادت سرزد ہوگئی.

میٹرک کے دن تھے، ہلکی ہلکی سردی شروع تھی، یار دوست خرچے کو ترسے پھرتے تھے، جیدا چور بھی آج کل غائب تھا سو جلیبی وغیرہ کے لیے بھی کوئی پیسے دینے کو تیار نہیں تھا. ایک محلے دار دھکے سے ہماری محفل کا شریک بن جاتا تھا، تھوڑا سادہ مزاج تھا لیکن باپ کی کمائی خوب اڑاتا تھا، تعلیم کے نام پر بھی ایویں تہمت ہی باندھ رہا تھا، دو چار بار جواب عرض جیسے تھکڑ رسالے پڑھ کر اسے بھی عشق کا بخار چڑھ گیا تھا. ایک دن کرکٹ کھیلنے کے بعد جب سارے لوگ کھال میں ٹانگیں لٹکائے پاؤں دھو رہے تھے، جگری راشد نے اسے پوچھا، یار کوئی چکر وغیرہ بھی چلایا ہے کبھی یا پھر ترستے ہی رہتے ہو؟ فرمان (فرضی نام) بولا یار ایک لڑکی ہے، اس پر دل تو بہت ہے، مجھے دیکھ کر مسکراتی بھی ہے لیکن بات آگے نہیں بڑھی. راشد جو سب سے دو ہاتھ آگے تھا، بلکہ اس کا ستارہ اس کام میں زیادہ ہی روشن تھا، اس نے کہا لو، یہ بھی کوئی مسئلہ ہے، میرے پاس ایک تعویذ ہے، فلانے پیر صاحب سے لکھوایا تھا، میری معشوق تو عمل سے پہلے ہی نانکے (ننھیال) چلی گئی، چل تو لے لے، آخر یار ہے اپنا، تیرے کام آجائے گا، اگر ضرورت پڑی تو میں دوبارہ لے لوں گا.

فرمان کی آنکھوں میں ابھری چمک ڈوبتے سورج کی روشنی میں بھی محسوس ہوئی، میں نے راشد کی طرف حیرت سے دیکھا تو اس نےآنکھ دبا دی، اب راشد نے اس سے مسالے دار باتیں شروع کر دیں، دو چار منٹ کے لیکچر میں ہی فرمان فرط جذبات سے بے قابو ہو چکا تھا، اب وہ فوری طور پر تعویذ چاہتا تھا، راشد نے کہا یار تعویذ تو تجھے رات کو مل ہی جائے گا بس کچھ خرچہ لگے گا، فرمان صاحب تھوڑے ہچکچائے تو ہم نے کہا کہ پھر موج کرو، ان چیزوں پر خرچہ تو ہوتا ہے، بابے ایویں کچھ نہیں دیتے، درباروں پر نیاز دینا پڑتی ہے، اب جذبات مچل چکے تھے، اس لیے فرمان صاحب سے ہم نے دو سو روپے کی بڑی رقم نکلوا ہی لی، حسب عادت گارنٹر میں تھا، سو پیسے میری جیب میں منتقل ہوگئے، راشد اب اسے تعویذ کا استعمال سمجھا رہا تھا.

یہ بھی پڑھیں:   لبرل ازم بمقابلہ مذہب؛ اصحابِ مناصب سے عاجزانہ گزارش - مفتی منیب الرحمن

مغرب کی اذان کے کافی دیر بعد جب ہم اٹھے تو میں نے پوچھا، یار تعویذ اب کہاں سے لانا ہے؟ راشد کہتا لو یہ بھی کوئی مسئلہ ہے، دو چار الٹی سیدھی باتیں لکھ کر اسے پکڑا دیں گے. ہم راشد کی بیٹھک میں پہنچے اور جلدی سے دو تین تعویذ بنائے، اور انہیں اچھی طرح بند کرکے فرمان کے حوالے کر دیا. صبح فرمان صاحب کی محبت کا امتحان تھا، ہم مارے تجسس کے سکول ٹائم سے آدھا گھنٹہ پہلے ہی جائے وقوعہ پہنچ گئے، لڑکی کا گھر فرمان کے گھر سے صرف 100 میٹر کے فاصلے پر تھا اور اسے موصوف کی بیٹھک کے سامنے سے گزر کر جانا تھا، فرمان نے کرنا یہ تھا کہ ایک گلاس میں تعویذ گھول کر پانی لڑکی پر پھینکنا تھا، یہ ساری سکیم راشد کے شیطانی ذہن کی تھی، بظاہر اس میں کوئی مسئلہ نہیں تھا، لڑکی گھر سے نکلی ہم گلی کی دوسری نکڑ پر کھڑے دیکھ رہے تھے، لڑکی اب سکول کے سفید کپڑے پہنے ہوئے گلی سے گزر رہی تھی کہ اچانک فرمان صاحب کی بیٹھک کا دروازہ کھلا اور موصوف تن کر گلی میں کھڑے ہوگئے، ہاتھ میں گلاس تھا، ہم دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، راشد مسکرا رہا تھا، میں نے کہا یار کوئی کھپ نا ہوجائے، راشد کہتا لو اس میں کیا مسئلہ ہے، ابھی دیکھو کام یس ہوجائے گا. جیسے ہی لڑکی فرمان کے سامنے پہنچیم فرمان نے گلاس اس پر انڈیل دیام راشد کے منہ سے ایک گالی نکلی اور مجھے کہتا لے بھئی مر گئے، اس خبیث کو کہا تھا کہ جیسے صفائی کرتے ہوئے ترونکا کرتے ہیں، ایسے گلاس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر پانی پھینکنا ہے تاکہ لڑکی کے کپڑے پورے نا بھیگیں، اور اس نے پورا گلاس ہی انڈیل دیا ہے. گلی سے لڑکی کی غصے بھری آواز آئی، فرمان پیچھے کو بھاگا، لڑکی نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا، لڑکی کی ماں بھی اب گلی میں پہنچ چکی تھی، لگتا ہے وہ ابھی دروازے میں کھڑی دیکھ ہی رہی تھی، فرمان بھاگ کر اندر پہنچ چکا تھا، لڑکی اور اس کی ماں بھی ان کے دروازے پر پہنچ چکی تھیں، حالات خراب تھے سو ہم وہاں سے بھاگ لیے. دوپہر کو گھر پہنچے تو شکر کیا کہ ہمارا کہیں نام نہیں آیا تھا. فرمان ملا تو اس نے بتایا کہ کافی چھترول ہوئی لیکن وہ مانا نہیں، ڈٹا رہا کہ میں نے تو ویسے ہی گلی میں پانی پھینکا تھا چاچی نے ایویں رولا ڈال دیا. ہم نے اس کی بہادری پر شاباش دی اور اس کے پیسوں سے جلیبی کے بجائے اسے بھی گلاب جامن کھلائے.

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کے پہلے سو دن، کامیابیاں اور ناکامیاں - محمد عامر خاکوانی

خان صاحب کو مشیر بھی اب ایسے مل گئے ہیں جو جھوٹے تعویز لے کر عمل کرتے پھرتے ہیں، نتیجہ وہی نکلتا ہے جو فرمان صاحب کی دفعہ نکلا تھا. ہم گناہگار لوگ ہیں، بس عرض اتنی ہے کہ ایسے تعویذ فروشوں سے بچیں اور اپنی محبت (وزارت عظمی/تبدیلی) پانے کے لیے کوئی معقول طریقہ ڈھونڈیں، اس میں آپ کی بھی نجات ہے اور اسی کے دم سے ہم بھی باراتی بن سکتے ہیں، ورنہ لڑکی کی ماں جیو والے تو کلاس لینے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈتے ہی رہتے ہیں.

Comments

محسن حدید

محسن حدید

محسن حدید میڈیکل پروفیشنل ہیں، لاہور میں میڈیکل لیب چلاتے ہیں۔ کھیلوں سے انتہا درجے کی دلچسپی ہے۔ روزنامہ دنیا اور دلیل کے لیے کھیل پر مستقل لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.