شام کی جنگ، ہم کیا کریں؟ سنگین زادران

اگلے دن معمر قذافی کی ایک ویڈیو دیکھی، عرب ملکوں کے کافی سربراہ اس میں موجود تھے، بشارالاسد بھی موجود تھا۔ بات صدام حسین کی پھانسی سے متعلق ہو رہی تھی۔ معمر قذافی کہہ رہا تھا کہ ٹھیک ہے صدام حسین سے ہمارے اختلافات ہوں گے لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ ایک عرب لیڈر کو پھانسی دی امریکہ نے۔ امریکہ صدام سے کام نکلواتا رہا اور جب کام نکلوا لیے تو اسے پھانسی لگوا دیا۔ معمر قذافی کے مزید الفاظ یہ تھے کہ یہ ہم سب کےلیے لمحہ فکریہ ہے، آج صدام کو پھانسی لگی ہے، کل امریکہ ہم میں سے بھی کسی کو قتل کروا سکتا ہے۔ اگلی باری میری یا تمہاری ہو سکتی ہے۔ صدام سے سیاسی اختلافات تھے تو کیا یہ حقیقت نہیں کہ اس کمرے میں موجود ہم سب کے آپس میں ایک دوسرے سے سیاسی اختلافات ہیں؟ سوائے اس ایک کمرے کے ہمارے درمیان کچھ بھی مشترک نہیں ہے، ہم سبھی کے ایک دوسرے سے اختلافات ہیں، مگر امریکہ کو فائدہ مت اٹھانے دو۔ امریکہ نے آج صدام کو قتل کیا ہے، کل ہم میں سے کسی کو کرے گا، شاید مجھے شاید آپ کو۔

معمر قذافی کی اس تقریر کے دوران زیادہ تر عرب لیڈر ہنس رہے تھے۔ خود رجب طیب اردگان مسکرا رہا تھا۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ معمر قذافی سچا تھا۔ خود معمر کو قتل کر دیا گیا، عرب سپرنگ کے ذریعے عرب کے شاہی خاندان کی بنیادیں ہلائی گئیں، ایران کے خلاف ویسے عالمی سطح پر پروپیگنڈہ کر کے جنگ کا ماحول بنایا جا رہا ہے اور شام کو جہنم بنایا جا چکا ہے۔ ٹھیک ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے آپس میں اختلافات ہیں مگر اس وقت امریکہ اور اسرائیل ان اختلافات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے سعودی عرب یہ جان لینے کے باوجود کہ اسرائیل اور امریکہ شام میں بشار الاسد کو ہٹانا چاہتے ہیں، بدستور امریکی ایجنڈے سے لاپروا ہے، اور اسی لاپرواہی کا مظاہرہ ایران کر رہا ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ اسرائیل کا انتہا پسند صیہونی وزیرِ اعظم شام میں ہونے والی ہلاکتوں کی مذمت کرے تو کیا وہ واقعی خلوص سے مذمت کر رہا ہوگا؟

یہ بھی پڑھیں:   کیا پیٹرول کا ایک قطرہ خون کے ایک قطرے سے زیادہ قیمتی ہے؟ صدر ایردوان

جس جس نے مچھلی کا شکار کیا ہوگا اسے ضرور اس بات کا علم ہوگا کہ مچھلی کو پکڑنے کےلیے پانی میں ڈالنے والے کانٹے کے اوپر چارے کے طور پر گوشت کا ٹکڑا لگایا جاتا ہے تا کہ مچھلی آئے چارہ کھائے، کانٹا نگلے اور پھنس جائے۔ اس کے بعد وہ مچھلی شکاری کے رحم و کرم پر ہوتی ہے کہ زندہ رکھے یا تل کے کھا جائے۔ کانٹا نگلنے کے بعد مچھلی کو اگر زندہ رکھنا ہو تو بھی اس کا حلق پھاڑے بغیر اسے کانٹے سے نجات دلانا ممکن نہیں رہتا۔شام کے موجودہ حالات پوری امتِ مسلمہ کےلیے وہ چارہ ہیں جس کے اندر بین الاقوامی طاقتوں کا دہائیوں کی پلاننگ کے بعد تیار کیا گیا مضبوط کانٹا ہے جسے ایک بار امت نے نگل لیا تو پھر یا تو پوری امت شام کی طرح تل کے کھائی جائے گی یا پھر اس کا حلق چیر پھاڑ دیا جائے گا۔ یہ سعودی عرب اور ایران کی پراکسی جنگ ہے جس میں دونوں برابر کے قصور وار ہیں۔ سوچو اگر دونوں کی خدانخواستہ دوبدو جنگ ہوتی ہے تو پوری امت شیعہ اور غیر شیعہ کی بنیادوں پر تقسیم ہو کر آپس میں لڑ پڑے گی۔ کچھ سعودی عرب کے پیچھے ہوں گے اور کچھ ایران کے پیچھے۔ نقصان مسلمانوں کا ہوگا، تباہی امت کی ہوگی، جبکہ فائدہ امریکہ و اسرائیل کا ہوگا۔ شام کی جنگ پر امن کی دعا کریں۔ اور خدارا شام کی جنگ کو سوشل میڈیا کے ذریعے گھسیٹ پر پاکستان میں مت لائیں۔ پلاننگ یہی ہے کہ شام کے انتشار کو پھیلا کر پوری امت تک بڑھا دیا جائے۔ آگے جو آپ کی مرضی، چاہیں تو شام کے حالات پر امریکہ، ایران یا سعودی عرب کا پراپگینڈہ ٹول بن جائیں۔ چاہیں تو عقل و شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس آگ کو بجھا نے کی کوشش کریں۔

Comments

سنگین زادران

سنگین زادران

سنگین زادران خود کو ایک عام پاکستانی سمجھتے ہیں جو نظریہ پاکستان کے دفاع پاکستان کے دفاع کے برابر خیال کرتا ہے اور جدت میں روایت کو ساتھ لے کر چلنے کو بدعت خیال نہیں کرتا۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.