نفع و نقصان میں شراکت - رعایت اللہ فاروقی

جمعیت علماء اسلام کے کئی کارکنوں کی ایسی ماتمی پوسٹیں نظر سے گزریں جن میں ان کے صد سالہ اجتماع کی مناسب میڈیا کوریج نہ ہونے کا شکوہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے چند گزارشات پیش خدمت ہیں جن پر ان کارکنوں سے بھی غور کی درخواست ہے اور ان کی قیادت سے بھی۔ پہلی گزارش یہ ہے کہ میڈیا از خود ہجوم در ہجوم صرف حادثات اور سانحات کی کوریج کے لئے جاتا ہے اور جے یو آئی کا یہ اجتماع کوئی حادثہ یا سانحہ نہیں۔ اللہ ہم مسلمانوں کے ہر اجتماع کو حادثات سے محفوظ رکھے لیکن سمجھانے کی غرض سے بتا رہا ہوں کہ اگر خدا نخواستہ اس اجتماع میں کوئی بڑا حادثہ ہوا تو آپ کو بلانا نہیں پڑے گا بلکہ میڈیا از خود آئے گا۔

سیاسی و مذہبی اجتماعات ہوں خواہ ثقافتی اجتماعات ان کی کوریج ’’میڈیا منیجمنٹ‘‘ کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔ میڈیا منیجمنٹ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ ہر بڑے شہر میں موجود میڈیا کے اہم افراد سے اپنے مضبوط تعلقات استوار کریں اور ثابت کریں کہ آپ صرف ان سے اپنے کام آنے کی امید نہیں رکھتے بلکہ وقت آنے پر ان کے کام آنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ یہ میڈیا پرسنز آپ کے مدرسے کے فضلاء نہیں ہوتے کہ محض "ثواب دارین" کی خاطر آپ کے لئے توانائیاں صرف کریں۔ آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ ابھی تک بیسویں صدی والے طریقہ کار سے چپکے بیٹھے ہیں کہ ایک دعوت نامہ اخبارات کو فیکس کردیا اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئے۔ وہ دن گزر گئے جب میڈیا صرف دعوت نامے پر چلا آتا تھا، اب ہر چیز کمرشل ہو چکی اور ہر چیز کو طرفین کے نفع و نقصان کے پیمانوں پر دیکھا جاتا ہے۔ مذہبی جماعتوں میں سے جماعت اسلامی اور جماعت الدعوہ اس میڈیا منیجمنٹ کی زبردست مہارت رکھتی ہیں۔ اگر میں ابھی کال کر کے آپ کی جماعت کے سیکریٹری اطلاعات سے کہوں کہ مجھے مولانا فضل الرحمن سے ذاتی مسئلے میں ملنا ہے تو اول تو مولانا فضل الرحمن ملیں گے نہیں اور اگر مل گئے تو فرید کی بنائی ہوئی ایک کپ چائے اور دعاؤں کے سوا میرے کسی کام نہیں آ سکیں گے۔ یہی کال اگر میں جماعت اسلامی یا جماعت الدعوہ کے سیکریٹری اطلاعات کو کردوں تو سب سے پہلے تو یہ سیکریٹریز مجھے کسی فائیو سٹار ہوٹل میں کھانے پر مدعو کرکے میرا مسئلہ سنیں گے اور اگر دفتر مدعو کر لیا تو تب بھی کھانا فائیو سٹار سے ہی آئے گا۔ میرا مسئلہ سننے کے بعد یا تو یہ سیکریٹری خود اسے حل کرنے کی کوشش کریں گے اور اگر ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہوا تو سراج الحق یا حافظ سعید سے پہلی فرصت میں میری ملاقات کرا دیں گے اور میرے مسئلے کے لئے وہ دونوں پورا زور صرف کردیں گے۔ آپ کے لئے تو شاید یہ بھی انکشاف ہی ہو کہ یہ جماعتیں درجنوں اخبار نویسوں کے بچوں کے بھاری تعلیمی اخراجات تک برداشت کر رہی ہیں۔ میں ایسے اخبار نویسوں کو بھی جانتا ہوں جن کے مکانات کی تعمیر میں یہ جماعتیں اپنا حصہ ڈال چکی ہیں۔ پھر ان کے تعلقات صرف رپورٹرز کی سطح تک ہی نہیں ہوتے بلکہ ایڈیٹرز، نیوز ایڈیٹرز، ڈائریکٹر نیوز، اسائنمنٹ ایڈیٹرز، کالم نگار، اینکرز سمیت ہر اہم میڈیائی ذمہ دار سے ان کا مضبوط تعلق ہوتا ہے۔ جوں ہی ان دونوں جماعتوں کا "دوست" میڈیا پرسن بے روز گار ہوتا ہے یہ جماعتیں اس کی جاب کو اپنا مسئلہ بنا لیتی ہیں اور جب تک اسے کسی اور ادارے میں رکھوا نہ لیں چین سے نہیں بیٹھتیں۔

اخبار نویس دکھتا تو بڑی توپ چیز ہے مگر پریشانیاں اور مسائل اسے بھی لاحق ہوتے ہیں۔ مشکل وقت سے وہ بھی دوچار ہوتا ہے اور ان مشکل گھڑیوں میں مدد کی ضرورت اسے بھی پڑتی ہے۔ یہ دونوں جماعتیں مشکلات میں ان کا ساتھ دیتی ہیں جبکہ آپ کو دعائیں دینے کے سوا کچھ آتا ہی نہیں۔ دعائیں آپ سے لیں تو اس مزدور سے کیوں نہ لی جائیں جس کے پسینے کی برکت سے اس کی ہر دعاء مستجاب ہوتی ہے۔ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارا میڈیا عسکریت کے خلاف کس قدر زور و شور بولتا ہے لیکن جوں ہی حافظ سعید کی بات آجائے پورا میڈیا ان کے دفاع پر لگ جاتا ہے اور کمال یہ ہے کہ نامی گرامی لبرل ایکرز و کالم نگار بھی ان کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ کبھی آپ کو علماء ہند کے شاندار ماضی کے قصوں سے فرصت ملے تو رمضان میں جماعت الدعوہ کی اخبار نویسوں کے اعزاز میں دی جانے والی ان افطار پارٹیوں کا مشاہدہ کیجئے جن میں ملحد اینکرز و ایڈیٹرز بھی "روزہ افطار" کرتے نظر آتے ہیں۔ کٹر قسم کے اینٹی مُلا اور اینٹی جہاد کالم نگار و اینکرز آپ کو حافظ سعید کے حضور یوں با ادب ملیں گے جیسے حافظ صاحب محبوبہ کو قدموں میں لانے والے تعویذ بانٹنے بیٹھے ہوں۔ یہی فن اب سپاہ صحابہ سیکھنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ہیں تو وہ بھی مولوی سو ہوٹل تھری سٹار رکھ لیتے ہیں لیکن جلد ہی وہ بھی سیکھ جائیں گے کہ تھری سٹار پر صرف رپورٹروں کو ٹرخایا جا سکتا ہے اور صرف رپورٹرز کو قابو کرنے سے بات نہیں بنتی۔ آپ کو ان ایڈیٹرز، ڈائریکٹر نیوز اور نیوز ایڈیٹرز کو بھی قابو کرنا ہوگا جو طے کرتے ہیں کہ کونسی رپورٹ شائع یا نشر ہوگی اور کونسی نہیں اور فائیو سٹار سے کم جگہ پر تو وہ قدم بھی نہیں رکھتے۔ یہاں جماعت اسلامی اور جماعت الدعوہ کی مثال آپ کی صفوں سے دی ہے ورنہ مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی سمیت سب میڈیا منیجمنٹ کے اصولوں پر کار بند ہیں۔

اب آپ کے پاس دو ہی آپشنز ہیں۔ پہلا یہ کہ مذکورہ تفصیل کو بنیاد بنا کر میڈیا پر گالیوں کی خوب گولہ باری کیجئے اور ان گالیوں میں ’’دجالی میڈیا‘‘ والا گولہ ضرور استعمال کیجئے اور جب آپ یہ کر چکیں تو پھر تھوڑی دیر کے لئے اس بات پر ضرور غور کیجیے کہ آپ کی اس گولہ باری سے میڈیا کی صحت پر کوئی فرق پڑا ؟ دوسرا آپشن یہ ہے کہ آپ بھی اس سچائی کو تسلیم کرلیں کہ آج کا میڈیا ایک ’’انڈسٹری‘‘ ہے جو نفع و نقصان میں شراکت کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔ آپ بھی سیاست کے میدان میں کوئی حج و عمرہ کے ثواب کمانے تھوڑی بیٹھے ہیں، کیا ہم نہیں جانتے کہ کچھ مخصوص سیٹھ مولانا سلیم اللہ خان اور مولانا سرفراز خان صفدر کو تو سائیکل بھی تحفے میں نہیں دیتے تھے جبکہ آپ کو لینڈ کروزروں تک کا ’’ہدیہ‘‘ عطاء کر دیتے ہیں۔ اگر آپ کو یہ سب ثواب کے لئے ہی ملتا ہے تو پھر ہمیں سوچنا ہوگا کہ یہ لگژری گاڑیوں والا ثواب صرف آپ کی ذات سے کیوں مشروط ہے؟ سو آئیے آپ سیاستدان اور ہم اخبار نویس دونوں ہی مان لیں کہ لین دین ’’نفع و نقصان میں شراکت‘‘ کی بنیاد پر ہوتا ہے !

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.