زیارت حضور نبی کریم ﷺ اور درود پاک- مدثر علی محسنی

مدثر علی محسنی

حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت مبارکہ کائنات کی وہ دولت عظیمہ ہےکہ کروڑوں اربوں روپے دے کر بھی حاصل کر لی جائے تو اِس کی قیمت ادا نہیں ہو سکتی۔ یہ وہ نعمت اعظمی ہے جو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کی مرضی مبارک سے ہی حاصل ہو سکتی ہے اوراولیاء کاملین کے آستانے بھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کے درِ دولت کا پتا دیتے ہیں۔ کامل پیر ومرشد مرید کو حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ عالیہ میں پہنچا دیتےہیں اور حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اُس کو بارگاہ الہٰی کی رسائی عطا فرماتے ہیں۔

حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے’’ من رانی فقد رأی الحق‘‘(یعنی جس نے مجھے دیکھا اُس نے حق کو دیکھا)۔ اِس حدیث مبارکہ کا ایک مفہوم یہ بھی نکلتا ہے ’’جس نے مجھے دیکھا اُس نے مجھے ہی دیکھا‘‘۔ اکابر کے تذکار میں دیکھیں توجا بجا ایسے بزرگوں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کی اک جھلک کو تمام کائنات کی دولت سے عظیم گردانا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کی زیارت حیاتِ ظاہری میں ایسا اثر رکھتی تھی کہ جس نے حالتِ ایمان میں آپ کے چہرۂ اقدس کو فقط ایک مرتبہ دیکھ لیا تاقیامت اپنے بعد میں آنے والوں سے ممتاز ہو گیا۔
تاجدادرِ دو جہاں نے اپنا نوری چہرہ مبارک گنبد خضر ی تلے چھپا لیا۔ مگر اپنی زیارت کا دروازہ جس کے لیے چاہا کھلا رکھا۔ اب اگرچہ آپ کی زیارت حاضروناظر یاخواب میں کر لینے سے کوئی صحابیت کا درجہ تونہیں پاسکتا مگر علماءِ حق نے لکھا ہےکہ اُس شخص کا خاتمہ بالایمان لازماً ہو گا جس کو حضور نبی کریم روف الرحیم صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم نے اپنی رحمت بھری زیارت سے نوازا ہے۔
خاتمہ بالایمان اگرچہ ایک نعمت بے بدل ہے یعنی:All Is Good If End Is Goodمگر عشاق کی کتابوں میں تذکرہ حسن یار کا انداز کچھ اورہی ہے۔ جس کو حق باہو سلطان العارفین نے اپنے شعر میں ارشاد فرمایا ہے کہ:

"ایمان سلامت ہر کوئی منگدا پر عشق سلامت کوئی
جس منزل تے ایہہ عشق پہنچاوے ایمان نوں خبر نہ کوئی "

اگر چہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت رحمت سے ایمان کی سلامتی دلیل ہوتی ہے ۔ مگر کچھ عشاقانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چہرہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اِک جھلک ہی ایمان ہے۔ عرفان ہے، افضل نعمتِ کل جہان ہے، بلکہ گذشتہ بیان ہوئی حدیث کے تحت زیارتِ رحمن ہے۔ چہرہ محبوب کے خدوخال عشاق کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں ۔
ایک مرتبہ ایک صحابی حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم میں جب اپنے گھر ہوتا ہوں تو عجب بے قراری کی کفیت ہوتی ہے۔ جب تک آپ صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کی زیارت نہ کر لوں میرے دل کو سکون نہیں ملتا۔
صحابہ ہَوں، اولیاء ہَوں صلحائے امت ہوں سب کے دلوں کی تڑپ اور چاہ حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ انور کی اک جھلک ہے۔ جن کے دلوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے نور سے روشن کیا ہے اور جن دلوں میں حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی شمع روشن ہےوہ اپنے دلوں میں مدینے کے تاجدار کی زیارت کے ارمان ہرہر وقت رکھتے ہیں۔ کسی بھی امتی کے لیے یہ سب سے بڑی نعمت ہے کہ اُس کو حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت مبارکہ نصیب ہو جائے۔ قبلہ وکعبہ پیرومرشد محی السنۃ پیر طریقت حاجی محمد محسن منور یوسفی صاحب مدظلہ العالی کی حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہا درجہ کی محبت اور عقیدت ہے۔ ابتدا ہی سے آپ مدظلہ العالیٰ ہر ہر وقت حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تصور میں رہتے اور ہجر و فراق میں آہ وزاری کی ایسی کیفیت طاری رہتی کہ ہر وقت آنکھیں نم اور دل پُر غم ہوتا۔
آ پ کی حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم سے محبت اور وابستگی کا یہ عالم ہے کہ آپ اپنے مریدین واحباب کوحضور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کی محبت اور عشق ِ کا درس دیتے رہتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِس درجہ محبت اور عشق رکھنے کی بنا پر آپ کے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ محسنیہ کے لیے زیارات کا دروازہ کھول دیا ہے۔ آپ مدظلہ العالیٰ مریدین کوپانچ تسبیاں درودِ پاک کی لازم کرنے کا حکم فرماتے ہیں۔آپ کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’اگرچہ اسلاف نے کثرتِ درودِپاک کی بہت مثالیں قائم کی ہیں
مثلا حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ تعالی علیہ جو بابا فرید گنج شکر کے پیرو مرشد اور خواجہ معین الد ین چشتی اجمیری کے مرید و خلیفہ تھے آپ ہر روز بلا ناغہ تین ہزار3000 مرتبہ درود پاک پڑھتے تھے۔
ابراہیم بن ثابت رحمتہ اللہ تعالی علیہ ایک معروف بزرگ گزرے ہیں ان کی عادت تھی کہ ہر روز دس ہزار 10000مرتبہ درود پاک پڑھتے تھے۔
حضرت ابو الحسن شاذ لی رحمتہ اللہ تعالی علیہ صاحب حزب البحر شریف اور مصنف درود تاج آپ سے سلسلہ شاذلیہ شروع ہوا اِن کے بارے میں ہے کہ آپ بلا ناغہ40000 چالیس ہزار مرتبہ درود پاک پڑھتے تھے۔
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک کروڑ مرتبہ درود شریف پڑھ کر کیا۔ اسی طرح کبھی ہم دیکھتے ہیں کہ فلاں بزرگ دس ہزار مرتبہ درود پڑھتے تھے فلاں تین ہزار مرتبہ فلاں چوبیس ہزار مرتبہ فلاں بزرگ چالیس ہزار مرتبہ درود پڑھتے تھے تو تب ان کو حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کی زیارت مبارکہ ہوتی تھی ۔ مگر میرے قبلہ و کعبہ بابا جی سرکار حاجی محمد یوسف علی نگینہ رحمتہ اللہ علیہ آپ فرماتے پانچ تسبیاں درود شریف درود خضری : صَلَّی اللہُ عَلٰی حَبِیْبِہِ سَیِّدِنَا وَمَوْلٰینَامُحَمّدٍوَّ ا ٰلِہِ وَاَصْحَابِہِ وَ بَارِکْ وَسَلَّمْ کی پڑھیں تو کثرت کی تعداد پوری ہو جاتی ہے۔بعض کی تحقیق کے مطابق کثرت کی تعداد 313 مرتبہ روزانہ سے بھی پوری ہو جاتی ہے۔کچھ بزرگوں نے فرمایا ہے کہ پانچ تسبیاں درود شریف روزانہ پڑھنے سے کثرت کی تعداد پوری ہو تی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کا حکم مبارک پورا ہو جاتا ہے۔کہنے کا مقصد ہے کہ یہ نہیں کہ بندہ چالیس ہزار مرتبہ ،چوبیس ہزار مرتبہ، دس ہزرا مرتبہ،تین ہزار مرتبہ حضورنبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم پر درود پڑھ رہا ہو تو ہی حضور صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کی زیارت مبارکہ ہو گی ۔
میں ایسے کئی لوگوں کو جانتا ہوں وہ کوئی ایک یا دو یا تین لوگ نہیں بلکہ بے شمار ایسے لوگ ہیں جو فقط پانچ تسبیاں درود شریف کی بلا ناغہ پڑھتے ہیں مگر آئے دن حضور صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم اپنی زیارت سے مشرف فرماتے رہتے ہیں۔ساری دنیا کی دولت ایک طرف اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کے نعلین مبارک کی زیارت ہو جاۓ تو یہ ایک طرف۔بات صرف اتنی ہے کہ اہل محبت لوگوں میں شامل ہو جائیں۔
حساب کتاب کو چھوڑ دیں اہل محبت بن جائیے۔اب جب پانچ تسبیحات پڑھیں گے کہ جس میں فقط 35 منٹ لگتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کے تصور میں گم ہو جائیں ان 35 منٹ میں خود کو حضور صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کے تصور میں فنا کر لیں۔دنیا و مافیہا سے غائب ہو جائیں۔ایسے تصور رکھیں جیسے حضور صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کی بارگاہ میں بیٹھے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم آپ کا درود پڑھنا خود سماعت فرما رہے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم خوش ہو رہے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کی بارگاہ میں جو کیفیت حقیقت میں ہوتی ہے وہی کیفیت اپنے اوپر طاری کر لیں ۔تو آپ اہل محبت میں شامل ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   زیارت اور قائد کی رہائش گاہ - ببرک کارمل جمالی

اہل محبت کے لیے زیارات کا دروازہ کھلا ہوتا ہے اور یہ حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کی مرضی مبارک ہے کہ چاہیں تو خواب میں آجائیں اور چاہیں تو بیداری میں آ جائیں۔امام جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ کو 75 مرتبہ حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کی حاظروناظر زیارت مبارکہ ہوئی۔امام جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ کی عادت تھی کہ جن احادیث کی سند یا متن میں وہ تحقیق کرنا چاہتے وہ اس کو لکھ کر رکھ لیتے اور جب بھی ان کو حضور صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کی زیارت مبارکہ ہوتی تو وہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم سے اس حدیث کے متعلق دریافت فرما لیتے۔امام جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ ،حضور غوث پاک سرکار سیدنا احمد کبیر رفاعی رحمتہ اللہ علیہ ،میرے قبلہ بابا جی سرکار رحمتہ اللہ علیہ یہ وہ بزرگ تھے جنہوں نے کئی مرتبہ چشم ِ سر سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کی زیارت مبارکہ کی۔حضرت ابوالحسن مرسی رحمتہ اللہ علیہ چوبیس گھنٹے حضور صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کی زیارت سے مستفید ہوتے تھے۔حضرت ابوالحسن شاذلی رحمتہ اللہ علیہ پانچوں نمازیں حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کے ساتھ ادا فرماتے تھے۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگرچہ آپ پانچ تسبیاں درود کی ہی پڑھیں مگر توجہ کر ساتھ پڑھیں۔اہل محبت میں داخل ہو جائیں اور جب اہل محبت میں داخل ہو جائیں گے تو پھر زیارات کا دروازہ کھلا ہی کھلا ہے ۔‘‘

اب یہ بات عام مشاہدے میں آئی ہےکہ آپ قبلہ پیرومرشد محی السنۃ سیدی محمد محسن منور یوسفی مدظلہ العالیٰ کے سلسلے عالیہ میں چھوٹے بچوں تک کو بھی حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اکثروبیشتر اپنی نورانی زیارتِ مبارکہ سے نوازتے رہتے ہیں(الحمد للہ رب العالمین)۔راقم الحروف کے ذاتی مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ جس بندے کو بھی قبلہ وکعبہ پیرومرشد محبت اور الفت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ بندہ نیکی کی رغبت رکھنے لگتا ہے۔ اور درودِپاک کی پابندی اُس بندے کے معمولات میں داخل ہوجاتی ہے۔
جہاں تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جھلک کا سوال ہے تو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گلیوں کی خاک کے ایک ذرے کو دیکھ لینا بھی کائنات کی نعمتوں سے افضل ہے۔ جید کتب میں ہےعوام الناس تو درکنار بزرگانِ دین کے متعلق یہ لکھا ہے کہ انہوں نے حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زیارت مبارکہ کے لیے سورۃ المزمل کے چلے کاٹے، مختلف نورانی عملیات کیے مگر بہت ہی قسمت سے شائد ہی کسی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زیارت سے سرفراز فرمایا۔
ایک بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ یہاں مراد یہ نہیں کہ نعوذباللہ اُن بزرگوں کا مقام کچھ کم تھا ، دراصل مقصدِ کلام یہ ہے کہ حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم مختارِ کل ہیں اور جس کے لیے چاہیں پردہ اُٹھا دیں۔ جیسا کہ حضرت خواجہ محمد معصوم عروۃ الوثقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’ حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کا وجود مبارک عرش سے فرش تک مرکز جمیع کائنات ہے ہر چند کہ وہاب مطلق (عطا فرمانے والا) اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ لیکن جس کو فیض پہنچا ہے وہ حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم کے وسیلہ سے ہی پہنچا ہے اور مہماتِ ملک وملکوت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہتمام سے انصرام پاتی ہیں۔ گویاساری خدائی کے انعامات شب روز روضئہ مطہرہ سے پہنچتے ہیں۔
(مقامات نمبر 112 امام ربانی ) حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے مختار کل بنایا ہے۔ اور قبلہ کعبہ پیرومرشد کا حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ عالیہ میں رابطہ اور محبت اُس کا مل درجہ تک پہنچ چکی ہے کہ آپ مدظلہ العالی ہروقت حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تصور میں رہتے ہیں ور عملی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر سُنت مبارکہ کو دل وجان سے زیادہ عزیز گردانتے ہیں۔
قبلہ پیرومرشدکے بیانات کا موضوع اکثروبیشتر عظمت وشانِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وصحابہ و بارک وسلم ہی ہوا کرتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی اِس حد درجے کی محبت اور عشق کی بدولت اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کے مریدین اور احباب کو بھی حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور ادب کی دولت سے نوازاہے ۔ آپ قبلہ پیرومرشد درودِپاک میں توجہ کے عنصر کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں اوراد وظائف میں درودِ شریف کو بنیادی رکن بنانے کا ارشاد فرماتے ہیں ۔\nشائد حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے انعام کے طور پر آپ کےسلسلہ عالیہ کو زیارت مبارکہ کی عظیم نعمت سے نوازا ہے۔ اور یہ سب حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی کرم اور احسان ہے۔ قبلہ پیرومرشد حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس احسانِ عظیم کاتذکرہ اکثر اپنی خصوصی نشستوں میں فرماتے ہیں۔