ثقافت نامہ - عامر بھٹی

"میں نے ابتدائی تعلیم شہر کے ایک معروف انگریزی میڈیئم اسکول سے حاصل کی، اپنا اے لیول اور او لیول ایک مشنری تعلیمی ادارے میں مکمل کیا، پھر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ولایت کا رخ کیا اور وہاں ملک پاکستان کی علاقائی زبانوں، روایات اور تہذیب کے لیے کچھ کر گزرنے کے جذبے نے انگڑائی لی۔"

یہ تھیں 'میڈم مغربی' جو 'تحفظِ علاقائی زبان و ثقافت' کے سالانہ اجلاس سے مخاطب تھیں۔ سفید رنگت، کانوں کی لو تک کٹے ہوئے ملائم سیاہ چمکدار بال، متوسط قد جو تین انچ ایڑی والے جوتوں کے سبب لمبا محسوس ہوتا، شوخ سرخ سے رنگے ہونٹ اور میک اپ سے اٹا جاذب نظر چہرہ کہ جس کے پیچھے عمر کے ماہ و سال اور جُھریاں چھپ گئیں تھیں۔ آدھے بازوؤں کی قمیض پہنے سو، سوا سو کے لگ بھگ حاضرین سے انگریزی زبان میں مخاطب تھیں۔

"عربی ہماری اوریجنل زبان و ثقافت کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی پردہ و حجاب ہمارا کلچر ہے، اجرک و سندھی ٹوپی اور دھوتی یعنی تہبند ہمارا لباس ہے، ضیاء الحق نے ہماری ثقافت کا ستیاناس کر دیا اور مذہب کو ثقافت میں شامل کر دیا۔" میڈم مغربی نے یہ جملہ مکمل کیا ہی تھا کی اچانک کسی نے نعرہ لگایا "یہ جو ثقافت، بے قدری ہے۔۔۔ اس کے پیچھے ضیاء نظری ہے"۔ اس کے بعد اسٹیج کے پاس کھڑے کچھ اور لوگ بھی نعرہ دُہرانے لگے اور میڈم مغربی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

"کیا آپ بھی اس دفعہ دھوتی ڈے پر تہبند باندھیں گی؟" ایک صحافی نے سوال داغا۔ "جی ہاں ضرور پہنوں گی، بس ذرا گھٹنوں سے تھوڑا نیچے کر کے اسکرٹ بنا کے پہن لوں گی، لانگ اسکرٹ کا فیشن ہے اور پھر ولایتی ٹی وی پر انٹرویو بھی تو چلے گا نا۔" میڈم نے جواب دیا۔

"ہمارے لوگ جب بیرونِ ملک دوروں پہ جاتے ہیں تو کوٹ سوٹ پہنتے ہیں اور انگریزی بولتے ہیں، لیکن بیرون ملک سے یہاں دورے پر آنے والے پاکستانی لباس نہیں پہنتے۔ اُن کے بارے ذرا فرمائیے؟" جواب میں میڈم مغربی گویا ہوئیں۔ "دیکھئیے جی! جیسا دیس ویسا بھیس، انگریز کو ٹوپی اجرک سُوٹ نہیں کرتی اور کوٹ سوٹ تہبند سے ویسے بھی بہتر ہے، رہی بات انگریزی کی تو یہ آفاقی اور سب سے اعلیٰ درجے کی زبان ہے یہ تو ضرور آنی چاہیے بھلے ہی قومی زبان اُردو آئے نہ آئے، انگریزی بغیر گزارا نہیں، بھئی آخر کو ڈالر بھی انگریزی میں ہیں، لیکن یاد رکھیے! بچوں کو عربی سکھانا ظلم ہے، غضب خدا کا اتنی زبانیں اور چھوٹی سی عمر میں اتنا بوجھ۔"
وہاں موجود 'پاکی' کے دماغ میں بھارتی ہندو شاعرہ لتا حیا کے اشعار گونج اٹھے:

یہ بھی پڑھیں:   بھارت کشمیر میں غلطی کر رہا ہے - بلومبرگ ایڈیٹوریل بورڈ

دنیا کی ہر زبان کی اپنی ہی ادا ہے
اپنی مہک اور اپنی ہی مٹی کی صدا ہے
پر جس سے کہ انسانیت کو درس ملا ہے
وہ ہے زباں عربی کہ جو گُفتارِ خدا ہے

"انگریزی اک شیطانی زبان ہے، بندہ اس میں پہلی کوشش میں پاس نہیں ہوتا، اس کے ذریعے مسلمانوں کو غلام بنانے کا منصوبہ ہے، یہ یہود و نصاریٰ کی سازش ہے، ہم انگریزی کی مخالفت کرتے ہوئے انگریزوں کو سبق سکھائیں گے، اے مسلمانو! کہاں گئی تمہاری غیرت و حمیت کہ تم اپنی بہن بیٹی کو انگریز کی زبان دے رہے ہو؟ اس سے فحاشی و عریانی پھیل رہی ہے۔ دراصل ہماری ثقافت ثوب، کندورة اور عقال ہے، پوچھو اُن لوگوں سے جو حج و عمرہ سے واپس آتے ہیں، وہی مسلمانوں کا لباس اور ثقافت ہے۔"

مولوی بچاؤ الدین محلے کی مسجد میں خطبہ دیتے ہوئے مسلمانوں کی اصلاح فرما رہے تھے۔ وہ دراز قد، لمبی داڑھی، فربہ جسم اور بڑھی ہوئی توند کے مالک ہیں۔ خطبہ دیتے ہوئے ان کی موٹی موٹی آنکھیں پپوٹوں سے باہر نکل نکل جاتیں اور لال ایسی کہ جیسے خون اتر آیا ہو۔
"مولانا صاحب، دنیا کا بہترین علم انگریزی میں ہے اور خاص طور پر سائنس کا جدید علم انگریزی زبان میں ہے۔" 'پاکی' ابھی اپنی بات مکمل ہی کر پاتا کہ مولوی بچاؤ الدین صاحب غصے میں آ گئے اور فرمایا کہ "دیکھا انگریز کی سازش کامیاب ہو گئی، ارے! مذہب سے سوال کرتے ہو، ایمان پکا نہیں ہے نا اسی لئے، ہمارے ہاں سوال کی اجازت نہیں ہے اور سائنس تو ہے ہی اسلام مخالف، اکیلے میں ملو تو سمجھاؤں گا۔"
"پینٹ پتلون والوں کی نماز ہی نہیں ہوتی بلکہ سچ کہوں تو وہ مسلمان ہی نہیں ہیں۔" مولوی بچاؤ الدین جذباتی انداز میں دھاڑے۔ "جان دینی ہو گی، انگریز کو مارنا ہوگا، انگریزی زبان کو ختم کرنا پڑے گا، سائنس علم ہی نہیں ہے بلکہ یہ شیطان کا کھیل ہے، مسلمانو! پاکستانیو! دل کھول کر چندہ دو تا کہ ہم انگریزی کا مقابلہ کر سکیں، ہم ہی اس دین کو بچائیں گے اور ہم کو اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔"
'پاکی' کے ذہن میں آیا کہ ہم تو شلوار قمیض اور دھوتی باندھتے ہیں، تو کیا ہم مسلمان ہیں؟ اجرک سے کہیں کافر ہی نہ ہو جاؤں؟ اسی طرح سورة الحجر کی یہ آیت دماغ میں آئی: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ إِنَّا لَہُ لَحَافِظُوْنَ (ترجمہ: ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے)