سفر ناں ماں - نعیم الرحمن

سوچا تھا کبھی سفر پہ نکلے تو ایسا سفر نامہ لکھیں گے کہ لوگ سر واہ واہ کرتے رہ جائیں گے اور بڑے ادیبوں کے سفرناموں، قیام ناموں کو بھول جائیں گے۔ لیکن سفر پر نکلے تو "سفر ناں ماں" لکھ بیٹھے۔ اس کی بھی ایک خاص وجہ ہے۔ جب آپ پڑھیں گے تو آپ بھی میرے خیالات کی تائید کریں گے۔ جیسا سفر میں نے کیا، اس جیسا سفر شاید ہی کسی نے کیا ہو۔

لاہور سے گاؤں تک کا یہ سفر انتہائی دلچسپ اور غور کرنے کے قابل ہے۔ سچ پوچھیں تو میں بہت غور کر چکا، اب آپ کی باری ہے۔

واللہ! گھر سے موٹر سائیکل پہ نکلیں تو ایسا میک اپ خود بخود ہو جاتا ہے کہ گھر والے اور دوسرے لوگ تو کیا، بندہ خود اپنے آپ کو آئینے میں دیکھ لے تو شناخت سے انکار کردے۔ اس میک اپ کا انتظام لاہور کمیٹی اور تقریبا پورے پنجاب کی کمیٹی نے مفت کر رکھا ہے، تاکہ غریب اس سے بھر پور فائدہ اُٹھا سکیں۔ چونکہ غریب آدمی فیشن ہاؤسز کا اور بیوٹی پارلرز کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتے اس لیے پنجاب حکومت نے انتہائی سوچ و بچار کے بعد یہ سہولت مفت فراہم فرما دی۔ اس میں مزید ترقی کی بھی امید ہے۔ جب میں لاہور کی حدود سے باہر نکلا تو وہ سڑک، جسے میں آخری بار سلامت دیکھ کے آیا تھا، اُکھڑی ہوئی تھی۔ ادھ بنی سڑک پہ سفر کرنا، واللہ مزہ ہی آگیا۔ آپ کبھی ایسی سڑک پر سفر کیجیے گا، یقین جانیں ورزش کرنے کی بالکل ضرورت پیش نہیں آتی۔ اگر آپ تھوڑے فربہ ہیں تو پھر یہ طریقہ ضرور آزما کر دیکھیں۔

قارئین، میرا یہ سفر قصور میں واقع ایک گاؤں کی طرف ہے۔ قصور تک سفر تو معمول کے مطابق ہوا کیوں کہ سڑک بھی سلامت تھی اور رش بھی کم تھا۔ سارا سفر مچھروں کے ساتھ مڈ بھیڑ میں گزرتا چلا گیا۔ مچھر بیچارے آنکھوں کی طرف دوڑتے چلے آتے تھے اور عینک کو کوستے چلے جاتے تھے کیوں کہ عینک ان کی شہادت کی راہ میں رکاوٹ بنی کھڑی تھی۔ کچھ مچھر بیچارے میرے کپڑوں کو ململ کا بستر سمجھ کے لمبی تان کے سو گئے اور جب میں نے گھر پہنچ کر انھیں جگایا تو نیا ماحول دیکھ کر ان کے اوسان خطا ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   اسموگ سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

قصور کے حوالے سے ایک غلط فہمی دور کر دینا مناسب سمجھوں گا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ قصور کی صرف دو چیزیں مشہور ہیں، ایک فالودہ اور دوسرے اندرسے۔ لیکن یہ قصور کے مچھر کو بھول ہی گئے ہیں۔ ٹینریر کے پانیوں پہ پلنے والا یہ مچھر، اللہ اللہ۔ کبھی آپ قصور میں قیام فرمائیں تو مچھر کی خصوصیات خود بخود جان جائیں گے۔ اب میں آپ کو لیے چلتا ہوں اپنے شہر کے ہمسائے شہر میں۔

اسکولوں اور کالجوں کے حوالے سے اس کی ترقی نا قابل بیان ہے، لیکن عقل و شعور سے بے گانہ تر ہے۔ جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر، کھلے ہوئے گٹر، ہر طرف پھیلی بدبو ہی بدبو ہمارا استقبال کر رہی تھی۔ معلوم نہیں پنجاب کا کونسا حصہ ترقی میں سب سے آگے ہے۔ یہاں تو نہ سڑکیں صاف ہیں اور نہ گلیاں حتی کہ سرکاری ہسپتال آپ کو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا۔ بھئی، ہو گا تو ملے گا نا۔ پنجاب کے اکثر و بیشتر علاقوں کی حالت نا قابل بیان ہے مگر پھر بھی ہم بیان کر کے ہی دم لیں گے۔

واپسی کے سفر میں ہم مختلف دیہات سے گزرے جن میں سڑک نام کی کوئی چیز واقع نہیں تھی۔ ہر جگہ گندہ پانی کھڑا ہے اور مچھروں کو دعوت افزائش دے رہا ہے۔ معلوم نہیں کس جگہ ڈینگی کے خلاف جنگ ہو رہی ہے؟ ہر جگہ بیماریوں کے ڈیرے ہیں۔ نہ عوام میں شعور ہے اور نہ حکام میں۔ دور دور تک ایک بھی سرکاری ہسپتال نہیں ملتا۔ اگر کوئی ہے تو اس کی حالت تو اتنی گئی گزری ہے کہ علاج کے بجائے بندہ بیمار ہو کر گھر واپس جائے گا۔

اس کے باوجود قصور کو ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہے، اور یہ ہے اس ترقی کی خلاصہ۔ اگر آپ سفر کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ بھی موٹر سائیکل پر تو اپنے ارادے کو ترک فرما دیں کیوں کہ جو مزہ لمبی تان کے سونے اور قصے کہانیاں پڑھنے کا ہے، وہ سفر میں کہاں۔