تبدیلی کیسے آتی ہے؟ - محمد شہباز

وہ پانچ سال قبل پاکستان تحریک انصاف کا کراچی میں منعقدہ جلسہ تھا جس سے عمران خان کا خطاب میں نے ایک کیفے میں بیٹھ کر سنا تھا۔ روایتی وڈیرہ شاہی اور سیاست دانوں کے خلاف خوش کن نعروں کے برعکس خان صاحب نے اس تقریر میں "تبدیلی" کا سلوگن اپنایا۔ ایک طویل عرصے کے بعد کسی نے وطن عزیز کے لیے فلاحی مملکت کی بات کی۔ مجھ سمیت کئی نوجوان تحریک انصاف کی اس مہم سے متاثر ہوئے لیکن پھر ایک، ایک کرکے وہی گھاگ سیاست دان تحریک انصاف میں شامل ہونا شروع ہوگئے اور میں سمجھ گیا کہ تحریک انصاف ہائی جیک ہوگئی ہے۔ دہائیوں سے قوم کا خون چوسنے والی ان جونکوں سے ایک فلاحی مملکت کی تشکیل کی امید رکھنا ایسا ہی ہے جیسے مچھر سے یہ توقع کہ وہ شہد بنائے گا۔ کئی لوگوں نے کہا اب تبدیلی آئے گی، لیکن میں ہنس دیتا۔

اصل میں تبدیلی کے لیے خدمت کی ضرورت ہوتی ہے، سیاست کی نہیں۔ تحریک انصاف کو فلاحی مملکت کے لیے جاوید ہاشمی اور شیخ رشید کی نہیں بلکہ قابل اور ہنر مند افراد بالخصوص نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ لیکن بدقسمتی سے وطن عزیز میں سیاست جھوٹ بولنے اور لوگوں سے جھوٹ منوانے کا نام بن گیا ہے، جو جتنا خوبصورت جھوٹ بول کر عوام کو بے وقوف بنا سکتا ہے، وہی اتنا بڑا سیاستدان مانا جاتا ہے۔ان حالات میں اگر آپ نے اس ملک کو فلاحی مملکت بنانا ہے تو دہائیوں تک قوم کا خون چوسنے والے انسانوں سے پیچھا چھڑوانا ہوگا۔

درحقیقت تبدیلی کے لیے بہت کچھ کھونا پڑتا ہے، یہ سیاست دانوں سے نہیں، رہنماؤں سے آتی ہے، ان کی قربانیوں سے آتی ہے۔ اگر خان صاحب طب کے شعبہ میں تبدیلی لانا چاہتے تھے تو ماہر ڈاکٹرز کا پینل بناتے، بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی ڈاکٹرز سے رابطہ کرتے، انہیں دعوت دیتے کہ اس ملک کو آپ کی ضرورت ہے، آئیں اور اپنی صلاحیتیں یہاں استعمال کریں۔ اگر تعلیم کے شعبہ میں تبدیلی لانی تھی، تو ماہر اساتذہ کی خدمات لیتے۔ وہ اساتذہ جو قابل ہیں اور قوم کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہیں۔ وطن عزیز کے نصاب کو جدید دنیا سے ہم آہنگ کرنا تھا تو اندرون و بیرون ملک پڑھانے والے پاکستانی پروفیسرز سے رابطہ کرتے، ان کو دعوت دیتے کہ آؤ مل کر اس قوم کے بچوں کو وہ نصاب دیں جو ان کی تقدیر بدل سکے۔ آپ سکیورٹی کو فل پروف بنانا چاہتے تھے تو آپ اس کے لیے ماہر اہلکاروں پہ مشتمل پینل تشکیل دیتے۔ انٹیلی جینس حکام سے کہتے کہ وہ منصوبہ دیں، اپنے تجربات سے اس قوم کو فائدہ دیں، پولیس کی مدد کریں، ان کی تربیت کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   کارکے تنازع: صدر ایردوان کی مدد سے پاکستان نے 1.2 ارب ڈالر بچا لیے - عمران خان

اگر زراعت کہ شعبہ میں تبدیلی لانی ہے تو ہمیں پاکستان اور دنیا بھر میں کام کرنے والے ماہر زرعی سائنسدانوں سے رابطہ کرنا ہوگا۔ پاکستان کے زرعی ماہرین کے تجربات سے فائدہ حاصل کرنا ہوگا، ان سے درخواست کرنی ہوگی کہ وطن کی زراعت کو آپ کی ضرورت ہے آپ آئیں مل کہ کام کرتے ہیں، خدمت کرتے ہیں۔ خان صاحب تبدیلی لانا چاہتے تھے تو پورے ملک کا نہ سہی اپنے صوبے کا ہی ایک ایسا شہر چن لیتے جو کہ پسماندہ ترین ہے، جہاں تعلیم کی سہولیات نہیں جہاں مقامی طور پہ روزگار نہیں جہاں علاج و معالجے کی سہولیات نہیں جہاں لوگوں کو صاف پانی میسر نہیں، خان صاحب اس شہر کو چن لیتے، پھر پانچ سال اس شہر کی خدمت پہ لگاتے۔ اپنے صحت،معاشی، زراعتی، سکیورٹی، تعلیمی پینلز کہ ساتھ مل کہ محنت کرتے اور پانچ سال میں اس شہر کی تقدیر بدل دیتے۔ وہ شہر جو پسماندہ ترین تھا اس کو ترقی یافتہ بنا دیتے، وہاں ہسپتالوں، اسکولوں اور سڑکوں کا جال بچھا دیتے۔ چھوٹے ڈیموں اور شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کا حصول آسان بناتے اور اس شہر کی تبدیل بدل دیتے۔ پھر عوام دیکھتے کہ ووٹ کیا کر سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ تحریک انصاف نے بھی وہی کیا جو 69 سال سے باقی جماعتیں کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان طبقہ پھر سے مایوس ہے۔

اس ملک کی تقدیر بدلنی ہے تو کام کرنا ہوگا، قابل افراد کو آگے لانا ہوگا، سیاسی پارٹیوں کے نعرے چھوڑنے ہوں گے۔ بی بی جی، با با جی، خواجہ صاحب، مخدوم صاحب اور خان صاحب جیسی شخصی غلامی چھوڑنا ہوگی۔ جذباتی نعرے بالائے طاق رکھنے ہوں گے۔ ان لیڈروں کے دفاع میں آپس میں لڑنا چھوڑنا ہوگا۔ کوئی تبدیلی کی بات کرے تو پلان مانگو۔ انقلاب کی بات کرے تو دیکھو کہ اس کے ساتھ کتنے قابل لوگوں کا پینل ہے۔ اگر نہیں ہے تو چاہے مخدوم ہو یا خادم، چودھری ہو یا بی بی، بابا ہوں یا صاحب، اس ملک کی تقدیر نہیں بدلے گی۔ اگر یہ لوگ اس قابل ہوتے تو آج ملک اس مقام پر نہ ہوتا۔