جمعیت کو ہم بھی جانتے ہیں - محمد ابراہیم شہزاد

دلیل سے میرا تعارف جناب عامر خاکوانی صاحب کے توسط سے ہوا۔ یہاں شائع ہونے والی تحاریر سے صحت مند مکالمے کی فضا پیدا ہوئی اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوئی۔ابتداء میں چند ایک مضامین میں نے بھی لکھے جو انہی صفحات پہ شائع بھی ہوئے پھر ویب سائٹ پر تکنیکی اصلاحات کی وجہ سے وقفہ آ گیا۔ آج دلیل پھر سے اسی ولولے اور جذبے کے ساتھ اپنے مشن میں مصروف عمل ہے لیکن اس وقفے کے بعد میرا لکھنے کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ لیکن آج دلیل پہ شائع ہونے والی تنویر اعوان کی تحریر "جمعیت، جو میں نے دیکھا" پڑھنے کا اتفاق ہوا تو اس پر اپنا جوابی نقطہ نظر بیان کیے بغیر رہ نہیں سکا۔

تنویر اعوان صاحب نے یونیورسٹی میں داخلے کے حوالے سے اسلامی جمعیت طلبہ کے تعاون اور حسن سلوک کو اس خوبصورتی سے بیان کیا کہ کوئی بھی طالب علم ان کی ہرزہ سرائی اور دروغ گوئی پر داد دیے بغیر نہ رہ سکے گا جو کبھی بھی کسی ایسی یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہا ہو جہاں جمعیت یا دیگر طلبہ تنظیموں کا غلبہ رہا ہو۔ موصوف نے کم نمبر لینے کے باوجود داخلہ کروانے سے لے کر فیس جمع کروانے، پھر کلاسز کے اجراء کے متعلق معلومات دینے اور پھر امتحانات کے شروع ہونے کی اطلاع تک کمال خوبی سے جمعیت کے کریڈٹ پر ڈالی۔ گویا جامعہ میں انتظامیہ نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں اور داخلے سے لے کر امتحانات اور پھر ڈگری جاری کرنے تک کی تمام ذمہ داریاں صرف جمعیت کے رضاکار ہی انجام دے رہے ہیں، وہ بھی بنا کسی معاوضے کے۔ میرے بھائی! اگر آپ کی بتائی ہوئی سب باتوں کو ہی سچ مان لیا جائے تو مجھے صرف اتنا بتا دیں کہ ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں آنے والے اسٹوڈنٹس کو داخلے میں مدد دینے، پھر لمحہ بہ لمحہ ہونے والی تمام تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں فون کر کے اطلاع دینے کی ذمہ داری، پھر سالانہ عشائیہ، کتب میلہ، مضمون نویسی کا مقابلہ، ہفتہ والدین، ہفتہ امداد طلبہ، تکریم اساتذہ، کیریئر کونسلنگ، اسائنمنٹ کی تیاری میں مدد وغیرہ وغیرہ کے انعقاد کر نے کے درمیان انہیں اپنی پڑھائی کرنے کا وقت کب ملتا ہو گا؟ یا ان کے والدین صرف جذبہ خدمت خلق کا مشن سونپ کر ہی انہیں یونیورسٹی میں داخلہ دلواتے ہیں نہ کہ حصول تعلیم کے لیے؟

گستاخی معاف، لیکن میں یہاں یہ ضرور بتانا چاہوں گا کہ میں نے ایک مختصر ورکشاپ سے لے کر گریجویشن اور پھر پوسٹ گریجویشن سے فائنل تھیسس کی تیاری تک تقریباً 7 سال کا عرصہ جامعہ پنجاب کے 'کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن' میں گزارا۔ میں یہاں جمعیت کے فضائل یا نقائص کا ذکر نہیں کروں گا، ان کی تمام سرگرمیاں یقیناً نیک نیتی پر ہی مبنی ہوں گی جن سے بہت سارے طلبہ کو فائدہ بھی پہنچتا ہوگا، لیکن میں یہاں صرف اپنے تجربے کی روشنی میں یونیورسٹی کے انتظامی معاملات کے متعلق آگاہ کرنا چاہوں گا۔

جب آپ داخلہ لینے کے ارادے سے تھوڑے پرُجوش اور تھوڑے سہمے ہوئے جامعہ کے گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہیں تو آپ کو دور سے ہی تنظیم کا لگایا گیا آگاہی کیمپ دکھائی دیتا ہے۔ یہاں واقعی نئے آنے والے طلبہ کی رہنمائی کی جاتی ہے، مثلاً داخلہ فارم کہاں سے ملے گا، اسے پُر کیسے کیا جائے، فارم کی تصدیق کیونکر ہو اور جمع کہاں کروایا جائے، وغیرہ۔ یہ بلاشبہ دور دراز سے آنے والے انجان اور پریشان طلبہ کے لیے بہت بڑی مدد ہوتی ہے۔ میں اس عمل پر جمعیت کے نوجوانوں کو داد دیتا ہوں لیکن اس رہنمائی کے بعد داخلے کے حصول سے لے کر کلاسز کے اجرا اور امتحانات کے متعلق آگاہی تک، کسی بھی مرحلے میں طلبہ تنظیم کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔

داخلہ فارم جمع ہونے کے 7 دن کے اندر پہلی میرٹ لسٹ آویزاں کی جا تی ہے۔ سیٹوں کی تعداد کے مطابق طلبہ کو یونیورسٹی کے ایڈمن آفس کی طرف سے کال کی جاتی ہے کہ فلاں تاریخ سے پہلے تک فیس جمع کروا دیں۔ مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد جن طلبہ کی فیس جمع نہیں ہوتی، ان کو ڈراپ کر کے، بعد کے نمبروں پہ آنے والے اتنے ہی طلبہ کی دوسری میرٹ لسٹ آویزاں کر دی جاتی ہے۔ پھر اسی طرح تیسری لسٹ، جس کے حتمی تاریخ گزرنے کے بعد نیو کمرز کو فون کر کے کلاسز کے اجراء کے متعلق بتایا جاتا ہے۔ یہ کام بھی جامعہ کا ایڈمن آفس ہی کرتا ہے۔ لیکن جناب تنویر اعوان صاحب ایسے بے پروا طالب علم نکلے کہ داخلہ فارم جمع کروانے کے بعد دو ماہ تک اپنے داخلہ ہونے یا نہ ہونے کی خبر ہی نہ لی۔ اور مزے کی بات یہ کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے دو ماہ تک موصوف کے انتظار میں دوسری میرٹ لسٹ روکے رکھی یہاں تک کہ انہیں جمعیت کی انتظامیہ کو آگاہ کرنا پڑا کہ خدارا تنویر صاحب کو بلائیں، ان کا داخلہ رکا ہوا ہے اور ہم ان کو ڈراپ کر کے سیکنڈ لسٹ لگانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔

جب طلبہ کلاسز جوائن کر لیتے ہیں تو اسائنمنٹس، مڈٹرمز اور فائنل کے بارے میں طلبہ کو کلاسز اٹینڈ کرنے کے دوران ہی بتایا جاتا ہے نہ کہ ایڈمشن کے بعد۔ کلاسز لینے کی بجائے گھر چلے جانے والے طلبہ کے بارے میں ناظم جمعیت کو آگاہ کیا جائے کہ بھائی اپنے سفارش کردہ طلبہ کو اطلاع دیں کہ امتحان سر پہ ہیں اور یونیورسٹی بنا کلاسز اٹینڈ کیے ہوئے ہی آپ کو خارج کرنے کی بجائے امتحان لے کر ڈگری سے نوازنا چاہتی ہے۔

اس کے علاوہ جمعیت کی جو خدمات تنویر بھائی نے بیان کی ہیں، مجھے ان سے بھی انکار نہیں۔ لیکن کیا ہی اچھا ہوتا اگر آپ سالہا سال سے ہاسٹلز کے کمروں میں براجمان سینئر ترین اسٹوڈنٹس کا بھی تذکرہ کرتے کہ جن کو پاس آؤٹ ہوئے عرصہ گذر گیا لیکن وہ جامعہ کی محبت میں ایسے مبتلا ہوئے ہیں کہ نئے آنے والوں کے لیے جگہ خالی کرنے کو تیار ہی نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ انتظامیہ بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ کاش، تنویر اعوان جیسے لکھاری جمعیت کا لبادہ اوڑھے ایسے قبضہ گروپوں کو بھی بے نقاب کریں۔

Comments

محمد ابراہیم شہزاد

محمد ابراہیم شہزاد

محمد ابراہیم شہزاد روزنامہ ایکسپریس میں سینئر گرافک ڈیزائنر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں. مصوری، کیلی گرافی، فیچر رائٹنگ اور مختصر افسانہ نگاری کا شوق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */