پامال رشتے - احسان کوہاٹی

سیلانی کے دماغ میں جھکڑ چل رہے تھے۔ وہ کمرے میں تھا لیکن زن زن کی آوازیں ایسے آرہی تھیں جیسے وہ فراٹے بھرتی ریل گاڑی کے دروازے پر کھڑا ہو۔ وہ جانے کتنی دیر خاموش رہا، اسے نہیں پتہ چلا اور اسے یہ خبر بھی نہ ہوئی کہ اس سے فون پر مخاطب لڑکی کب سے ہیلو، ہیلو کہے جا رہی ہے۔

’’جی میں آپ کی بات سن رہا ہوں۔۔۔‘‘ بالآخر سیلانی نے جواب دیا۔ کاش سیلانی نہ سن رہا ہوتا اور اس نے کچھ سنا ہی نہ ہوتا، بات ہی کچھ ایسی ہے۔ ہم ایسی انحطاط پذیر سوسائٹی کا حصہ ہیں جہاں روز ہی کچھ ایسا سننے یا دیکھنے کو ملتاہے کہ انسان کا کلیجہ منہ کو آجائے۔

’’وہ بہت پریشان ہے، اب جب بھی وہ گھر میں اکیلی ہوتی ہے تو بھاگ کر میرے پاس آجاتی ہے.‘‘
’’اس کا ایک ہی حل ہے کہ اس کی شادی ہوجائے.‘‘

یہ کہانی کراچی کے ایک نواحی اور پسماندہ علاقے کی ہے جہاں ادھڑی گلیاں کسی نہ کسی ایسے دروازے تک لے جاکر کھڑا کر دیتی ہیں جہاں انسانیت سسک رہی ہے، مگر کہیں آواز سنائی نہیں دیتی۔ سب ہونٹ سیے موٹی موٹی آنکھوں سے بٹر بٹر دیکھتے رہتے ہیں کہ یہ ان کا مسئلہ نہیں یا شاید وہ بھی کسی ایسے ہی افتاد میں مبتلا ہوتے ہیں۔ لیکن وہ لڑکی چپ رہنے والی نہیں ہے، اس نے آواز بلند کی اور سیلانی کو ایک ایسی درسگاہ کا بتایا جہاں معصوم بچیوں کی عزتوں سے کھلواڑ ہوتا تھا۔ وہ سیلانی کی آنکھیں اور کان بن گئی، سیلانی نے قدم آگے بڑھائے، کڑی سے کڑی ملائی۔ ایک کے بعد ایک سے رابطہ کیا، شواہد اکھٹے کیے اور اس ظالم بدکردار انسان کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا۔ اس سے زیادہ وہ کر ہی کیا سکتا تھا۔ آج وہی لڑکی ایک اور بھیانک کردار بے نقاب کر رہی تھی۔ بتا رہی تھی کہ اس کی سہیلی اس کے پاس آئی تو اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ آنکھوں کی سرخی بتا رہی تھی کہ وہ روتی رہی ہے، پوچھنے پر پہلے تو وہ ٹالتی رہی لیکن پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ وہ اپنی سہیلی کے گلے لگے بس روئے جا رہی تھی اور روتے روتے ایک ہی بات کہہ رہی تھی کہ میں مرجاؤں گی، جان دے دوں گی۔ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ کوئی اس کی عزت کے درپے ہے اور وہ بہت خوفزدہ ہے۔

’’میں نے اسے کہا کہ پاگل جب کوئی اتنا ہی تنگ کر رہا ہے، تو اپنے بھائی کو بتا دو۔ وہ تم سے دو برس ہی چھوٹا ہے لیکن بچہ تو نہیں ہے ناں۔‘‘ اس پر اس نے روتے ہوئے کہا کہ میرا بھائی ہی تو میری عزت تار تار کرنا چاہ رہا ہے۔ سر! میں نے اسے کہا کیا بکواس کر رہی ہو؟ تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا، پھر اس نے ساری بات بتائی جو میں آپ سے شیئر نہیں کر سکتی۔ وہ اپنے بھائی کے منہ پر تھپڑ مار چکی ہے، اسے کہہ چکی ہے کہ اگر اس نے کوئی بدتمیزی کی تو وہ خودکشی کر لے گی، وہ ایک دو دن ٹھیک رہتا ہے لیکن پھر اس پر شیطان سوار ہوجاتا ہے، وہ ماں باپ کا ایک ہی بیٹا ہے۔ یہ کہتی ہے کہ میں اگر اپنی ماں سے کہتی ہوں تو اس کا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ باپ پہلے ہی دل کا مریض ہے، وہ یہ سب برداشت نہیں کر سکے گا۔ اب وہ ماں کے پاس سوتی ہے، ماں کہیں جائے تو یہ بھی ساتھ ہو لیتی ہے۔ کسی صورت گھر میں اکیلی نہیں رہتی۔ بہانہ بنا دیتی ہے کہ اسے ڈر لگتا ہے اور ماں ہنس کر کہتی ہے کہ پاگل جوان بھائی گھر پر ہے، پھر بھی ڈرتی ہے۔ اب وہ کیا کہے کہ ڈر ہی اسی بات کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مسابقت - ڈاکٹر بشری تسنیم

غالباً دو ماہ پیشتر حیدرآباد کے قریب ٹنڈو الہیار کے ایک رپورٹر نے فیس بک پر وہ کچھ شیئر کیا کہ سیلانی کو جھرجھری آگئی۔ کم از کم کوئی بھی ہوش مند انسان اس رشتے کی حرمت ختم کرنا تو دور کی بات، اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ لیکن اس بدکردار نے صرف سوچا ہی نہیں بلکہ ایسا کیا اور کرتا رہا۔ اس نے اسی لڑکی کی عزت پامال کی جس کی عزت کا وہ محافظ تھا۔ جس کی انگلی پکڑ کر اس نے چلنا سیکھا تھا۔ اس بچی نے جب بچپن کی حدود پھلانگ کر لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی کی دہلیز میں قدم رکھا، اس کے جسم میں تبدیلیاں آئیں تو اس کمینہ صفت انسان کی نظریں بھی تبدیل ہوگئیں اور اس چار دیواری میں وہ سب کچھ ہوا کہ بس زمیں نہ پھٹی اور آسمان نہ گرا۔ وہ لڑکی اس ظلم کا نتیجہ پیٹ میں لیے پولیس کے پاس کیسے پہنچی؟ یا کس نے پولیس کو اس کھلواڑ کی خبر دی؟ سیلانی میں جاننے کی ہمت تھی نہ حوصلہ۔ اس نے فیس بک پر اس ایف آئی آر کا متن بھی نہیں پڑا جو اس رپورٹر نے ’’ٹیگ‘‘ کر رکھی تھی۔ تھانے میں مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا اور پولیس نے اس بدکردار غلیظ انسان کو حراست میں بھی لے لیا تھا۔ سیلانی کو یاد پڑتا ہے کہ روزنامہ امت میں رپورٹنگ کے دوران 90ء کی دہائی کے اواخر میں بلدیہ ٹاؤن میں اس نے ایسا ہی ایک کیس رپورٹ کیا تھا کہ جس کو لکھتے ہوئے اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔

ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں اور اس پستی میں گرنے والوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوتی۔ لیکن کڑوا سچ یہ ہے کہ ایسے لوگ موجود ہیں اور ان کی تعداد میں اضافے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جنسی ہیجان میں رشتوں کا احترام ڈھانے کی باقاعدہ کوششیں، سازشیں ہو رہی ہیں۔ ہماری معاشرت کی چولیں ہلانے والوں کے لیے انٹرنیٹ، سستا ترین اور محفوظ ہتھیار ہے۔ ایک لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر کی مدد سے چھوٹی سی کھولی یا کمرے میں بیٹھ کر کوئی کچھ بھی کھیل کھیل سکتا ہے۔ اب انٹرنیٹ کے ذریعے معاشرے میں جنسی ہیجان پیدا کرنا کوئی مشکل کام نہیں اور تکلیف دہ سچ یہ ہے کہ لوگ اس ہیجان میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اسے پتہ چلا کہ رشتوں کے احترام اور حرمت کو جنسی ہیجان میں بہا دینے کی شعوری کوششیں جڑ پکڑ رہی ہیں، اسی لیے ٹنڈو الہیار جیسے واقعات ہو رہے ہیں۔

اس وقت سیلانی کے سامنے اردو کی ایک ویب سائٹ کھلی ہوئی ہے۔ جنس نگاری اردو ادب میں نئی صنف نہیں، یہ ویب سائٹ بھی صرف جنس نگاری تک ہی محدود ہوتی تو شاید سیلانی نہ چونکتا لیکن یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور ہے۔ اس ویب سائٹ میں انگریزی، اردو اور ہندی زبان میں غلیظ کہانیاں تحریر ہیں اور اس کا وزٹ کرنے والے سینکڑوں، ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ہیں۔ ویب سائٹ کا فورم اسٹیٹس اسے دہلا رہا ہے۔ اس کے مطابق 8848 موضوعات پر 25207 ممبران نے 76 لاکھ 13 ہزار سے زائد پوسٹ کر رکھی ہیں۔ سیلانی کی انگلیاں حرکت میں آئیں، اس نے ویب سائٹ کی اردو سیکس اسٹوریز پر جا کر کلک کیا، 84 صفحات پر مشتمل فہرست سامنے آگئی۔ زیادہ تر کہانیاں اسی ویب سائٹ کے ممبران نے لکھی ہوئی ہیں۔ کچھ پڑوسی ممالک سے کاپی کی گئی ہیں۔ ان میں مختصر کہانیاں بھی ہیں اور قسط وار سلسلے بھی جو اس فورم میں خاصے مقبول معلوم ہوتے ہیں۔ ویب سائٹ کے فحش نگار کہانیاں لکھتے ہیں اور انہیں پڑھ کر لطف اٹھانے والے تبصرے کرتے ہیں۔ واہ واہ کی جاتی ہے، تعریف کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں۔ فہرست کی پہلی کہانی کے سامنے دی گئی تفصیلات کے مطابق اسے ساڑھے چار لاکھ لوگوں نےview کیا اور 1897 لوگوں نے تبصرے کیے۔ ایک اور کہانی پر 10,37,993 نے وزٹ کیا تھا اور اس پر تبصرے کرنے والوں کی تعداد 2320 تھی۔ سیلانی جیسے جیسے فہرست پر نظر ڈالتا رہا، حیرت سے اس کی آنکھیں کھلتی چلی گئیں۔ ہر دو چار کہانیوں کے بعد کسی نہ کسی کہانی کو پڑھنے والوں کی تعداد جاننے کے لیے ہندسے گننے پڑجاتے ہیں، کسی کہانی کو 17 لاکھ لوگوں نے پڑھ رکھا ہے، تو کسی کو 20 لاکھ نے۔ ایک کہانی تو ایسی ہے جسے پڑھنے والوں کی تعداد 25 لاکھ تک پہنچی ہوئی ہے، جی ہاں پچیس لاکھ۔ ساڑھے سات ہزار لوگوں نے لکھاری کی پیٹھ تھپتھپا رکھی ہے اور یہ کہانی کیا تھی، ایک انسان نما حیوان کی جنسی آوارگی کی داستان تھی جس کے لیے عورت نہ ماں ہوتی ہے نہ بہن، بس وہ لطف لینے والی ایک چیز ہوتی ہے۔ اس بدبخت لکھاری نے خونی رشتوں کے ساتھ کھلواڑ کے قصے لکھ رکھے ہیں۔ اس نے ہی کیا، وہاں تو ہر دوسری کہانی میں یہی کچھ ہے جنہیں پڑھنے کے بعد جنسی ہیجان میں مبتلا نوجوان گھر کی محرمات پر کس زاویے سے نظر ڈالتا ہوگا، یہ جاننے کے لیے آپ کو کسی سائیکاٹرسٹ کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ یہاں ساری محنت اسی زاویے پر کی گئی ہے۔ ان کہانیوں کا مقصد جنسی لطف دینا ہوتا تو لکھاری ان محترم رشتوں کا ذکر کبھی نہ کرتا۔ بہنوں، خالاؤں، پھپھیوں کا ذکر کیے بغیر بھی یہ کہانیاں لکھی جا سکتی ہیں لیکن شاید تب مقصد پورا نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   سوال کرنے کی ہمت - قادر خان یوسف زئی

سیلانی کو فحش نگاری کی ایک اور ویب سائٹ کا پتہ چلا۔ اس نے تو جنس نگاروں کی ان کی مشہور ’’تخلیقات‘‘ کے ساتھ فہرست دے رکھی تھی۔ ساتھ ہی نئے لکھنے والوں کے لیے کہانیاں بھیجنے کا آسان طریقہ بھی بتا رکھا تھا۔ اس ویب سائٹ نے ایک ہزار روپے میں پرکشش ممبر شپ کی ’’سیل‘‘ لگارکھی تھی۔ سیلانی کو یہاں بھی قارئین کی تعداد لاکھوں میں ملی۔ یہ ویب سائٹ پی ٹی اے نے بند کر رکھی تھی، لیکن گوگل پر پراکسی کی مدد سے یہ ساری خباثتیں لیے کھل جاتی ہے۔ سیلانی کوئی آئی ٹی ایکسپرٹ نہیں، اسے کمپیوٹر سے متعلق بہت کم معلومات ہیں، اس کے باوجود اس کے لیپ ٹاپ نے عام سی پراکسی کی مدد سے اسے ویب سائٹ تک پہنچا دیا۔ اب وہ اپنا لیپ ٹاپ سامنے رکھے ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویر بنا ہکا بکا بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ ایسی ویب سائٹس کا مقصد ہمارے معاشرے میں بدترین جنسی آوارگی اور انارکی پھیلانا ہی ہوتا تو یہ قابل احترام رشتوں سے ان کا حترام نہ نوچتے۔ خدا کے لیے اپنے بچوں پر نظر رکھیں، کچی عمروں میں جذبات دہک رہے ہوتے ہیں، ہمارے دشمن اس آگ سے ہمارے گھروں کو نظر آتش کرنا چاہتے ہیں، ہمارا شیرازہ بکھیرنا چاہتے ہیں۔ حکومتی اداروں سے سیلانی کو کوئی امید نہیں۔ فیس بک پر شاتمین، گستاخوں کے خلاف پی ٹی اے کی کارکردگی کا پول کھل چکا ہے۔ پتہ لگ گیا ہے کہ یہ صرف ڈنڈے سے حرکت میں آتے ہیں، اب وہ ڈنڈا کہاں سے لایا جائے؟ اس غلیظ سیلاب کو کیسے روکا جائے، کاش کوئی وکیل سیلانی کی درخواست لے کر ہائی کورٹ پہنچ جائے اور کوئی نیک روح جج حکومت سے پوچھے کہ یہ مقدس رشتوں سے کھلواڑ کی تحریک کیوں نہیں روکی جا رہی؟ یہ پانامہ لیکس سے بڑا مسئلہ ہے، بڑا عذاب ہے۔ اس سیلاب کے آگے بند کیوں نہیں باندھا جارہا؟ سیلانی یہ سوچتا ہوا نچلا ہونٹ دانتوں میں دابے لیپ ٹاپ کو خوفزدہ نظروں سے دیکھنے لگا اور دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.