چھوٹا سا اک پتا - تزمین طالیہ

بہار آنے کو تھی۔ درختوں سے پتے جھڑ رہے تھے۔ یونیورسٹی کی کھلی راہ گزر سوکھے چرمرائے پتوں سے ڈھک جاتی تھی۔ کلاس کی طرف اٹھتے ہمارے تیز تیز قدم ان پر پڑتے تو کچر کچر کی آوازیں سنائی دیتیں۔ جیسے کوئی کچی نیند سے جگانے پر بلبلا رہا ہو، کسمسا رہا ہو۔

میں نے ساتھ چلتی سہیلی سے پوچھا "یہ گرے ہوئے پتے ہم سے کیا کہہ رہے ہیں؟" وہ ذرا سوچ کر بولی "جو پتے ذرا سی خزاں پر ڈالی کو چھوڑ دیتے ہیں وہ بالآخر پاؤں تلے کچلے جاتے ہیں۔" یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئی۔ میں رکی اور نیچے جھک کر ایک سوکھے بے جان پتے کو اپنی انگلیوں سے اٹھایا۔ وہ تھوڑا کسمسایا اور بولا کیا تم بھی یہی کہتی ہو؟ میں نے اسے پیار سے چھوا اور کہا کہ نہیں، میں اسے ڈالی سے بے وفائی کا مجرم نہیں سمجھتی۔ وہ مسرت و حیرت سے بولا مگر کیوں؟

جانتے ہو ماں کے قدموں تلے جنت کیوں ہوتی ہے؟ اس لیے کہ وہ اپنی زندگی نچوڑ کر ایک نئی زندگی کو جگہ دیتی ہے۔ قدرت کا اصول ہے ہر جاں بتدریج سوکھتی چلی جاتی ہے اور انجام کار زندگی کی ڈالی سے گر جاتی ہے۔ مگر یہ صرف ماں ہے جو اپنی بھرپور جوانی کا رس نچوڑ کر ایک نئی جان میں بھر دیتی ہے۔ اسی لیے قدرت نے پوری کائنات میں سے صرف اسی کے قدموں تلے جنت لا رکھی ہے۔

تم بھی جگہ دینے والے ہو اور وہ بھی اس وقت کہ جب بہار آنے کو ہوتی ہے۔ تم مرجھا جاتے ہو، نئے پتوں کو اپنی جگہ دینے کے لیے۔ تمہاری اسی قربانی سے بہار جنت بن کر اتر آتی ہے۔ وہ دیکھو، اوپر وہ پتے جو ڈالی سے چمٹے ہوئے ہیں۔ انہیں لگتا ہے وہ ہمیشہ زندہ و توانا رہیں گے۔ لیکن وقت گزرے گا اور بہار انہیں بھی گرا دے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   ؕایک سچ ایک کہانی - آن ڈیوٹی - سعدیہ نعمان

اسے کہتے ہیں کل نفس ذائقہ الموت۔ مگر وہ لوگ امر ہو جاتے ہیں جو دوسروں کو جگہ دیتے ہیں۔ جینے کی، اظہارِ خیال کی، عزت کی، محبت کی، مسکراہٹ کی، آگے بڑھنے کی، نئی منزلوں کی، امنگوں کی، سر ڈھانکنے کی، بھوک مٹانے کی، پیاس بجھانے کی، روزگار کی، مسیحائی کی اور ہر اس ایثار اور قربانی کی جگہ بناتے ہیں جس سے وہ لوگ گھبراتے ہیں جو اپنے مفاد کی ڈالی سے چمٹے رہتے ہیں۔ اس حقیقت سے بے خبر کہ وقت کی ہوا تو ہر ایک پتہ کو گرا دے گی۔

اے خزاں شکستہ پیارے پتے! تم ڈالی سے بے وفائی کے مجرم نہیں ہو۔ تم تو بہار کے پیامبر ہو۔ تم ان سے مختلف ہو جو پیوستہ شجر رہ کر محض امیدِ بہار رکھتے رہے۔ تم ان بے شمار قربانیوں کا استعارہ ہو جو ٹوٹ کر گریں تو آزادی کی کونپلیں پھوٹیں۔ تم تو جذبۂ پیدائی ہو۔ تم تو امید کے سفیر ہو۔ سلام ہو تم پر۔ سلام ہو ان پر جو اپنا خون نچوڑ کر ایک زندہ قوم ایک زندہ معاشرے کو جنم دیتے ہیں۔ انہی کے لیے جنت آسمان سے زمین پر اتر آتی ہے۔ وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں مگر خود غرضوں کو اس کا شعور نہیں!!