مسلمان بھائیوں کے دست و بازو بنیے - انعام الحق

ترکی آئے ہوئے چند ہی روز ہوئے تھے، بڑی ہی مشکل سے علیک سلیک کی حد تک ترکی زبان سے واقفیت ہوئی تھی۔ شہر کے مرکز میں تھے کہ ہلکی بوندا باندی شروع ہوئی تو ہمیں جائے پناہ ایک درخت کے نیچے ملی۔ ایک بزرگ بھی وہیں آگئے، سلام کیا، جب بتایا کہ پاکستانی ہوں، تو دوبارہ گلے لگا کر ملے۔ وہ پاکستانیوں کو بار بار اپنا بھائی کہہ رہے تھے۔ ان کی دلی کیفیت ان کے گلے لگانے کے انداز سے عیاں تھی۔ ایک اظہار تشکر تھا آنکھوں میں۔ اس کے بعد وہ نہ جانے کیا کچھ کہتے رہے ہمارا محدود ذخیرہ الفاظ ان کو بس حیرت سے دیکھ ہی پا رہا تھا، کیوں کہ سمجھ سے سب کچھ بالا تر تھا۔

اس واقعہ کے تقریبا چھ ماہ بعد چھوٹے بھائی کا، اپنے ادارے کے کچھ ساتھیوں کے ساتھ، ایک ہفتے کے سرکاری دورے پر استنبول آنا ہوا۔ میں بھی ملاقات کی غرض سے وہاں گیا۔ صبح کو ناشتے کے بعد انتظارگاہ میں کچھ دیر کو بیٹھے تھے، ہوٹل کے معاون مینیجر بھی وہیں آگئے تو ان سے علیک سلیک ہوگئی۔ جب انہیں علم ہوا کہ یہ تمام ساتھی پاکستان سے ہیں تو بہت خوشی کا اظہار کیا۔ ماضی میں برصغیر کے مسلمانوں کے ایثار کا تذکرہ کرتے ہوئے فرط جذبات سے نم دیدہ ہورہے تھے، اشاروں سے بتا رہے تھے کہ وہاں کی ماؤں اور بہنوں نے اپنی انگوٹھیاں تک ہمارے لیے اتار بھیجی تھی، ہم اس کو کبھی بھی نہیں بھول پائیں گے۔

یہ صرف دو واقعات ہیں۔ ترکی میں گزارے ان تین سالوں میں ایسے ان گنت واقعات کا سامنا کیا، ترکوں کی احسان شناسی اور اپنے پاکستانی ہونے پر فخر سے سینہ چوڑا ہو جاتا ہے۔ پاکستان اور ترکی کو دوست کہنے کے بجائے برادر (بھائی) ملک کہتے ہیں۔ تقریبا سو سال ہوگئے، جب برصغیر کی عوام ترکوں کی مدد کو اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ہم خود بے سرو سامان تھے اور آزادی کی تگ و دو میں مصروف تھے، لیکن پھر بھی ترک قوم کے ساتھ یک جہتی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ قربانی کی اس داستان کو گذرے زمانہ ہوا، لیکن اس کی خوشبو نے ترکی کی فضا کو اتنا معطر کر رکھا ہے کہ ہم پاکستانی جہاں دنیا کی ہر دوسری فضا میں سانس لیتے گھٹن محسوس کرتے ہیں، وہیں ترکی کی فضا دل و جان سے ہمیں قبول کرتی ہے۔

جب 2005ء میں پاکستان صدمے سے دوچار تھا تو ترک بھائیوں نے بھی کھل کر تعاون کیا، اور اب بھی کسی تعاون سے دریغ نہیں کرتے۔ موجودہ صورتحال کو دیکھیں تو ترکی سے پھر اسی جذبہ اخوت سے جڑنے کی ضرورت ہے، جس کا اظہار ہمارے آباو اجداد نے کیا تھا۔

شام کی صورتحال کسی بیان اور وضاحت کی محتاج نہیں رہی، مہاجرین کا ایک انتہائی بڑا مسئلہ ہے جس سے اڑوس پڑوس کے ممالک متاثر ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ ترکی متاثر ہے، جہاں تقریبا 30 لاکھ شامی مہاجرین پناہ گزین ہیں۔ ان میں سے تقریبا 3 لاکھ مہاجرین کیمپوں میں رہائش پر مجبور ہیں اور ان کی کفالت سرکاری اور غیر سرکاری تنظیمیں کر رہی ہیں۔ ان کا کھانا پینا، لباس، صحت اور تعلیم ہر اعتبار سے انہی تنظیموں سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے علاوہ باقی 27 لاکھ مہاجرین کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق جہاں سر چھپانے کی جگہ ملی، وہیں وہ زندگی سے جنگ میں مصروف ہیں۔ ایک بہت بڑی تعداد اپنے محلے کے لوگوں کے تعاون سے زندگی گزار رہی ہے۔

اگر صرف شعبہ تعلیم پر نظر ڈالی جائے تو ترک وزارت تعلیم کے مطابق اس وقت ترکی کے اسکولوں میں 60 ہزار شامی بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ شامی بچوں کے لیے بنائے گئے عبوری نوعیت کے اسکولوں میں 2 لاکھ 60 ہزار بچے زیر تعلیم ہیں۔جبکہ ترکی وزارت تعلیم کے مطابق تعلیم کی عمر میں ہونے والے شامیوں کی تعداد 9 لاکھ ہے اور انہیں تعلیمی نظام میں شامل کرنے لیے لائحہ عمل طے کیا جارہا ہے۔ ظاہری بات ہے کہ اتنی بڑی نوعیت کے انتظامات، اسکولوں کا بندوبست، اساتذہ کا تعین ایک بھاری سرمائے سے ہی چل سکتے ہیں۔

ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق صر ف ایک سال میں 18 کروڑ ترکش لیرا (پانچ ارب پاکستانی روپے) ان مہاجرین پر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی تنظیمیں ہیں جن کے اخراجات اس سے بھی زیادہ ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مالی ضروریات ہر دم برقرار ہیں۔ پاکستان سے کئی ادارے اس سلسلے میں امداد جمع کر کے یہاں پہنچا رہے ہیں، ان میں کسی بھی تنظیم، جس پر آپ کو اعتبار ہو، کے دست و بازو بنیے اور اپنے شامی بہن بھائیوں کی کفالت میں‌ حصہ لیجیے۔

Comments

انعام الحق

انعام الحق

دل ودماغ کی تختیوں پر ابھرتے نقوش کو قلم کے اشکِ عقیدت سے دھو کر الفاظ کے لبادے میں تحریر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سکاریہ یونیورسٹی ترکی میں پی ایچ ڈی علوم اسلامیہ کا طالب علم ہوں، پاکستانی اور ترک معاشرے کی مشترکات اور تبدیلیاں اور اس سے منسلکہ سماجی اور اصلاحی موضوعات دلچسپی کا میدان ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */