یہ حلب رو رہا ہے – مبارک بدری

ہر سمت سے صدائیں
کیسی یہ آرہی ہیں
ہر کوئی سن رہا ہے
ہر کوئی پوچھتا ہے

کہنا کہ ایک ظالم
ایسا بھی ہے جہاں میں
معصوم روح کو بھی
جو بخشتا نہیں ہے

اور یہ صدائیں شستہ
جو سن رہے ہو تم سب
مظلوم کی بکا ہے
یہ حلب کی صدا ہے
یہ حلب رو رہا ہے
یہ حلب رو رہا ہے

اک وقت تھا کہ میں بھی
تھا حسن میں مثالی
لیکن وجود میرا
اب تو بکھر رہا ہے
دیکھو چشم بینا
دنیا کے حکمرانوں
یہ حشر کیا ہوا ہے؟
محشر سا اک بپا ہے
یہ حلب رو رہا ہے

آگ اور لہو کی ندیاں
ہر سمت بہہ رہی ہیں
انسان مر رہا ہے
انصاف رو رہا ہے
انسانیت بھی شاید
مردار ہو گئی ہے
یہ کون کہہ رہا ہے
لوگو!
یہ حلب کہہ رہا ہے
یہ حلب رو رہا ہے

اسکول سے وہ آکر
بس کھیلنے گیا تھا
ماں ڈھونڈ ہی رہی تھی
اک زور دار گولہ
آکر گرا اچانک
پھر کیا ہوا؟
محشر سا اک بپا ہوا

معصوم سا لڑکپن
جو کھیلنے گیا تھا
ملبے تلے پڑا تھا
بس آہ بھر رہا تھا
امی! کہاں ہو امی
ابو! مجھے بچالو
ماما! مجھے بچا لو
یہ کون کہہ رہا ہے ؟
یہ کون رو رہا ہے؟
یہ حلب کہہ رہا ہے
یہ حلب رو رہا ہے

بوڑھے، جوان، بچے
خوں میں نہا رہے ہیں
کوئی مرا پڑا ہے
کوئی بلک رہا ہے
یہ حلب کا نشاں ہے
یہ حلب کا سماں ہے
یہ حلب رو رہا ہے
یہ حلب رو رہا ہے

چیخ و پکار بھی اب
میری سنائی نہ دے
لگتا ہے دور جاکر
رہنے لگے ہو اب تم
ورنہ مری مدد کو
تم تو ضرور آتے
تم تو ضرور آتے
یہ کون کہہ رہا ہے؟
یہ کون رو رہا ہے؟
یہ حلب کہہ رہا ہے
یہ حلب رو رہا ہے

ہنستے ہوئے تھے چہرے
مرجھا گئے مگر اب
خوش حال زندگی بھی
فاقوں میں آگئی ہے
یہ کون کہہ رہا ہے؟
یہ کون رو رہا ہے؟
یہ حلب کہہ رہا ہے
یہ حلب رو رہا ہے

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam