’بن لادن‘ کی الف لیلوی داستان - تزئین حسن

الف لیلی کا ذکر آئے تو بےانتہا مال و دولت، حسین و جمیل کنیزیں، جادوئی قالینوں کے ساتھ انتہائی دشوارگزار علاقوں میں ناقابل یقین ایڈونچرز کی فلم ذہن میں چلنے لگتی ہے۔ ان کہانیوں میں کردار جھونپڑیوں سے نکل کر محلات کے مالک بن جاتے ہیں۔

ہم میں سے کون ہے جسے علی بابا کی کہانی یاد نہیں؟ جنگل میں لکڑیاں کاٹنے والے لکڑ ہارے کا ایک ہی رات میں شہر کا امیر ترین تاجر بن جانا آج بھی اسی قدر دلچسپ ہے جتنا گزرے زمانوں میں۔ ’بن لادن خاندان‘ کی داستان کو اگر اسے بیسویں صدی کی الف لیلی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ اس داستان میں بھی تمام الف لیلوی عناصر موجود ہیں ۔ اس خاندان کے ایک فرد اسامہ بن لادن کو دنیا 11 ستمبر2001ء کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے حوالے سے جانتی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ نائن الیون کے واقعہ میں اسامہ ملوث تھا یا نہیں، اگرملوث تھا تو کس حد تک، اس فیملی کے عروج کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔

اسامہ کے باپ اور بن لادن خاندان کے سربراہ شیخ محمّد بن عوض بن لادن نے دنیا کے غریب ترین خطے یمن کے علاقے حضر موت میں آنکھ کھولی۔ انیس سال کی عمر میں انھوں نے غربت سے تنگ آکر روزگار کے لئے ایک ہزار کلومیٹر کا سفر طے کیا۔ قریباً چارعشروں پر محیط سفر میں یہ خاندان حضرموت کی تنگ اور دشوار گزار گھاٹیوں سے نکل کرمملکت کے شاہی خاندان، دنیا کے امیر ترین بزنس ٹائیکونز کے ساتھ ساتھ ہالی ووڈ کے اداکاروں کے ساتھ بھی بزنس کرنے اور دوستیاں نبھانے لگا۔ یہ سعودی مملکت کا پہلا غیر شاہی خاندان ہے جس نے اپنے ذاتی جہاز اڑائے۔ حالیہ دنوں میں شاہی خاندان سے ناسازگار تعلقات کے سبب بن لادن خاندان مشکلات کا شکار ہے، مگر ایک وقت تھا جب اس خاندان کے افراد مٹی کو بھی ہاتھ لگاتے تو وہ سونا بن جاتی تھی۔

بہت کم لوگوں جانتے ہیں کہ عالمی سطح پر ’’دہشت گرد‘‘ کے طور پر ’’بدنام‘‘ اسامہ کے باپ کو اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام اور مدینہ منورہ کی مسجد النبوی کی توسیع اور انتظام کے علاوہ بیت المقدس میں گنبد صخرا اور مسجد اقصیٰ کی مرمت و بحالی کا اعزازبھی بخشا۔ یاد رہے کہ 1967ء میں اسرائیل کے بیت المقدس پر قبضے سے پہلے گنبد صخرا کی مرمت اور بحالی کا ٹھیکہ بھی بن لادن ہی کے پاس تھا۔ 1960ء کے عشرے میں شیخ بن لادن ذاتی طیارے میں ایک ہی دن میں مکّہ ،مدینہ اوربیت المقدس کا سفر کرتے رہے۔

یروشلم کے شہری ریکارڈ کے مطابق جو اب اسرئیل کی ملکیت ہے، 1960 کے عشرے میں مسجد اقصیٰ اور گنبد صخرا کی بحالی پر 516000 اردنی دینار کا خرچ آیا جس میں سے ڈیڑھ لاکھ دینار شیخ محمّد بن لادن نے اپنی جیب سے خرچ کئے۔ اس کے علاوہ اردن کے شاہ حسین کو جو 167,000 اردنی دینار ادا کرنا تھے، وہ بھی بن لادن نے اپنی جیب سے ادا کئے۔ باقی خرچ سعودی حکومت نے اٹھایا۔

دوسرے الفاظ میں بن لادن کنسٹرکشن کمپنی نے آدھے سے زیادہ اخراجات اپنے ذمہ لئے۔ اس بات کا تذکرہ اسامہ نے بھی 1999 ء میں معروف عربی ٹی وی چینل ’الجزیرہ‘کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا کہ شیخ نے انجینرنگ کی خدمات اور لیبر کا معاوضہ بھی نہیں لیاتھا، اس ٹھیکے کی تفصیلات بھی نہایت دلچسپ ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مسجد الحرام کی صفائی کے ٹھیکے کی بولی بن لادن کمپنی ایک ریال سالانہ لگاتی ہے اور اس خدمت کا شرف کسی اور کے ہاتھ میں نہیں جانے دیتی۔

اب ذکر اسی خاندان کے ایک فرد کا جسے عالمی سطح پر دہشت گرد قراردیاگیا ہے، ٹھوس ثبوت کے بغیر دنیا کی کوئی عدالت کسی کو دہشت گرد قرار نہیں دے سکتی لیکن اگر نائن الیون حملے میں اسامہ کے ملوث ہونے کو حقیقت مان لیا جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ تاریخ میں اس سے پہلے شاید ہی کسی خاندان کا کوئی فرد دنیا کے امن پر اس قدر زیادہ اثر انداز ہوا ہو۔ اوراگر یہ سچ ہے تو پچھلے 15 سالوں میں مشرق وسطیٰ کے حالا ت میں جو منفی تبدیلیاں آئیں اس میں اس میں بھی اس خاندان کے ایک چشم و چراغ کا بہت ہاتھ ہے، امریکا کو افغانستان اور پھر عراق پر حملے کا اخلاقی جواز فراہم کرنے والا بھی اور پاکستان میں ہونے والے ڈ رون حملوں اور پاکستانی فوج اور قبائلیوں میں تعلقات کی خرابی کا ذمہ دار بھی اسی خاندان کا ایک فرد ہے۔

اسی طرح امریکی حملے کے بعد عراق کی خانہ جنگی اور القائدہ کی ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں آئی ایس آئی ایس یا دآعش کے قیام کا بھی بلواسطہ اور بلاواسطہ ذ مہ دار فرد اسی خاندان میں پلا بڑھا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس قدر منفی تبدیلیوں کا ذمہ دار قرار دیئے جانے والے فرد کا یہ خاندان نائن الیون کے پندرہ سال بعد بھی ایک پراسراریت کی چادر میں ملفوف ہے۔ اس کے بارے میں دنیا بہت کم جانتی ہے، جوکچھ جانتی ہے اس میں بھی حقیقت کم اور افسانہ زیادہ ہے۔

نائن الیون کے بعد اسامہ بن لادن کے بارے میں لاتعداد کتب لکھی گئیں۔ قارئین کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ صرف ایمیزون نامی آن لائن بک شاپ پر موجودساڑھے چار ہزار سے زیادہ کتب کا موضوع اسامہ بن لادن ہے۔ کسی کی زندگی پر لکھی گئی کتابوں میں یہ پہلو بہت اہم ہوتاہے کہ لکھاری چشم دید گواہ ہے یا نہیں اور کتاب کے موضوع سے اس کا کتنا گہرا تعلق ہے۔ کچھ مستثنیات کو چھوڑ کر اسامہ کی ذاتی زندگی پر لکھی جانے والی تمام کتب ایسے لوگوں نے لکھیں جو اس سے شاید ہی کبھی ملے ہوں یا اس کے خاندان یا دوستوں سے ان کا شاید ہی کوئی تعلق رہا ہو۔ ان کتب کی اکثریت اسامہ کو ایک افسانوی ولن کے طور پر پیش کرتی ہیں اور اس کے بارے میں جو باتیں کی جاتی ہیں ان کی واقعاتی شہادتیں ان کتابوں یا مضامین میں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ اس اعتبار سے ان کتب اور مضامین کی صحافتی یا علمی حیثیت پر سوال اٹھائے جاسکتے ہیں۔

ان بے شمار کتب میں سے ایک ’Inside the Kingdom: My Life In Saudi Arabia ‘ اسامہ کے سوتیلے بھائی یسلم بن لادن کی سوئس نیشنل بیوی کارمن کی خودنوشت ہے جو اس نے اپنی شادی شدہ زندگی کے بارے میں لکھی۔ یہ کتاب 1974ء سے2001ء کے عہد پر محیط ہے جس میں 1985ء تک کا عرصہ اس نے بن لادن کے وسیع خاندان کے ساتھ ایک مشترکہ کمپاونڈ میں گزارا۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کتاب کا موضوع اسامہ یا اس کی دہشت گردی نہیں بلکہ اسامہ کے باپ کا انتہائی غربت سے بے انتہا امیری تک کا سفر زندگی، ان کی 22 بیویوں اور 54 بچوں پر مشتمل ایک خاندان کے دلچسپ قصّے ہیں جو مشترکہ خاندانی نظام کے تحت زندگی بسر کررہا تھا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ دوسرے مصنفین کے برعکس کارمن ان اقعات کی چشم دید گواہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے جو اس نے بیان کئے ہیں۔

کارمن بن لادن، ایرانی ماں اور سوئس باپ کے گھر جنیوا کے قریب لوزان نامی قصبے میں پیدا ہوئی اور وہیں پلی بڑھی۔ اس کی ماں کا تعلق ایران کی اشرافیہ سے تھا جو پڑھنے کیلئے سوئٹزر لینڈ گئی اور ایک سوئس دوست سے دل ہار بیٹھی۔ کارمن آٹھ سال کی تھی کہ اس کا سوئس باپ کسی دوسری عورت کی خاطر بیوی اور چار بیٹیوں کوچھوڑ کر چلا گیا اور اس کی ماں نے بیٹیوں کی تن تنہا پرورش کی۔ ماں بظاہر مسلمان تھی مگر کارمن کے بیان کے مطابق اسے مذہب سے خاص دلچسپی نہ تھی لہذا اس نے بیٹیوں کو بھی مذہب سے متعارف نہ کرایا۔

اسامہ کے بڑے بھائی یسلم سے کارمن کی ملاقات اس وقت ہوئی جب یسلم اپنی ماں اور بہن بھائیوں کے ساتھ چھٹیاں منانے کی غرض سے 1973 ء کے موسم گرما میں جنیوا گیا اور وہاں اس نے کارمن کے گھر کا ایک حصہ کرائے پر لیا۔ شرمیلا مگر ذمہ دار یسلم ابتدائی ملاقاتوں ہی میں نہ صرف کارمن کے عشق میں بُری طرح گرفتار ہوگیا بلکہ اس نے اسی ٹرپ میں اسے شادی کی پیشکش بھی کردی۔

یوں سوئزر لینڈ میں پلنے والی کارمن ’بن لادن خاندان‘ کی بہو بن کر سعودی مملکت میں زندگی بسر کرنے لگی۔ خودنوشت میں کارمن مملکت اور بن لادن فیملی سے بیزار نظر آتی ہے مگر اپنے سسر( جن کا انتقال اُس کی شادی سے قریباً چار سال پہلے ہو چکا تھا)کا ذکر بڑے اشتیاق اور احترام سے کرتی ہے۔

شیخ محمّد بن عوض بن لادن 1920ء کی دہائی کے اواخر میں یمن سے ایک مزدور کے طور پر روزی کمانے مملکت میں وارد ہوئے، جہاں یہ کچھ عرصہ بندر گاہ کی گودی پر کام کرتے رہے مگر بہت جلد انھوں نے ذاتی کنسٹرکشن کمپنی کی بنیاد رکھی اور ان تھک محنت، اور معیاری کام سے نہ صرف ملک کے اہم ترین تعمیراتی ٹھیکے حاصل کئے بلکہ غیر معمولی ذہانت سے شاہی خاندان میں بھی اثرو رسوخ پیدا کرلیا۔ تیل نکلنے کے بعد سے مملکت میں سڑکوں، شاہراہوں کی تعمیر، مساجد کی توسیع اور انتظام کے ساتھ ساتھ محلات کی تعمیر زوروں پر تھی،نتیجتاً بن لادن خاندان تیل کی دولت کے ثمرات سے بلواسطہ فائدہ اٹھانے لگا اور جلد ہی اس پورے خطے میں روزگار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ادارہ بن گیا۔
یہ وہ دور تھا جب ملکوں کے درمیاں ویزا کی پابندیاں اتنی سخت تھیں نہ ہی سعودی حکمران غیرملکیوں کو شہریت دینے میں اس قدر حساس واقع ہوئے تھے جتنے آج کل ہیں، ورنہ شاید مملکت کا امیر ترین غیر شاہی خاندان آج بھی حضر موت کی گھاٹیوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہوتا۔

کارمن کے مطابق شیخ بہت محنتی آدمی تھے۔ اپنے مزدوروں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے تھے۔1950ء میں یمن پر مصری حملے کے دوران بن لادن نے مصری فوج کی طرف سے برستی گولیوں کے دوران میں ایک ائیر بیس کی تعمیر میں اپنے ہاتھوں سے حصّہ لیا۔ یہ وہ موقع تھا جب مملکت کے قریبی اتحادی امریکہ کے حکمران شاہ فیصل کو جمال ناصر کی جارحیت کے مقابلے میں صبر کی تلقین کر رہے تھے۔ شیخ کی سخاوت کے قصّے بھی بہت مشہور ہیں۔ ایک واقعہ میں کچھ انڈونیشیائی حاجیوں کو ان کے گائیڈ نے دھوکا دیا اور ان سے روپے بٹور کرغائب ہو گیا۔ بے بس اور لاچار حاجی، شیخ بن لادن کے پاس پہنچے کہ کچھ مزدوری مل جائے تو واپسی کا کرایہ نکل سکے۔

بن لادن نے انھیں کام دینے کے بجائے اتنے پیسے دیئے کہ وہ عزت سے گھر جا سکیں۔ بن لادن کے ایک پرائیویٹ امریکی پائلٹ کا کہنا ہے کہ شیخ کی رسمی تعلیم نہ ہونے کے برابر تھے مگر ان میں انجینرنگ کی سمجھ بوجھ بہت سے یونیورسٹی گریجویٹس سے زیادہ تھی۔ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے گرد ہر فرد ان سے محبت کرتا تھا۔ شیخ اکثر کنسٹرکشن سائٹس پر ،جو تمام مملکت میں پھیلی ہوئی تھیں، خیموں میں اپنی مجلس منعقد کرتے جہاں مقامی لوگ ان سے اپنے فیصلے کرانے آتے۔ کبھی کبھار شیخ اپنی جیب سے پیسے ادا کر کے طرفین کو راضی کرتے۔

بن لادن نے حرمین شریفین کی توسیع میں جو اعلیٰ تعمیراتی معیار متعارف کرایا وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں مگر امریکی اور یورپی سفارت خانوں کی کیبلز کے مطابق مملکت کے پراجیکٹس کے ٹینڈرز میں ان کی بولیاں غیر ملکی تعمیراتی کمپنیوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتیں، اس طرح ان کی کامیابی پر یورپی اور امریکی کمپنیاں تلملاتی رہ جاتیں۔ کارمن کے بیان کردہ ایک دلچسپ واقعہ میں شیخ بن لادن نے ایک اطالوی فرم کو شکست دے کر جدّہ طائف روڈ بنانے کا ٹھیکہ کچھ اس طرح حاصل کیا کہ وہ ایک خچر لے کر طائف گئے اور خچر کی ’’پیروی‘‘ کرکے روڈ کا نقشہ بنایا جو مختصر ترین راستہ تھا اور جس کی تعمیر سب سے آسان اور کم خرچ تھی۔ کہا جاتا ہے کہ شاہ عبدالعزیزضعیف العمری اور غالباً گھٹنے کی تکلیف کے سبب جدّہ میں واقع قصرخزام کی سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتے تھے۔

بن لادن نے ان کے لئے ایسی ڈھلان ڈیزائن کی کہ اونٹ اور بعد ازاں آٹو موبائل گاڑیاں براہ راست دوسری منزل پر واقع ان کے بیڈروم اور مجلس تک پہنچ سکتی تھیں۔بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ شاہ فیصل کے ایک بڑے بھائی شاہ سعود اپنے دور حکومت میں شاہ خرچی کے با عث اکثر مقروض ہو جاتے تھے۔ 1964ء میں علماء اور شاہی مشاورتی کونسل کے ارکان نے انھیں معزول کر کے جلاوطن کردیا۔شاہی خاندان کو شرمندگی سے بچانے کے لئے اس سال ملازمین کی تنخواہیں شیخ بن لادن نے ادا کیں جس پر شاہ فیصل ان کے ذاتی طور پر شکر گزار ہوئے۔ اس عمل نے آگے چل کر بن لادن کی مزید ترقی کے لئے زینے کا کام کیا۔

کارمن کے مطابق شیخ کی گھریلو زندگی بھی نہایت دلچسپ اور رنگین تھی، انھوں نے 22 شادیاں کیں۔ اسلام میں چار شادیوں کی شرط کے سبب موصوف نئی شادیاں کرتے ہوئے اپنی پچھلی بیویوں کو طلاق دیتے جاتے۔ ان کی موجودہ اور سابقہ بیویاں ایک بہت بڑے کمپاؤنڈ میں ساتھ ہی رہتیں۔ سابقہ بیویاں پرانی مراعات کے ساتھ وہیں قیام کرسکتی تھیں۔ دوسری شادی کرنے کی صورت میں انھیں مالی مراعات کے ساتھ اپنے بچوں سے بھی دست بردار ہونا پڑتا۔ بیشتر بیویاں اپنے بڑے بیٹوں کے نام سے پکاری جاتیں مثلا امّ یسلم یا امّ بکر۔ ایک خاتون امّ عمر سے بن لادن نے دو مرتبہ شادی کی۔ کارمن کہتی ہیں کہ شادیوں کے علاوہ شیخ اپنی دولت کو استعمال کرکے محدود مدت کے معاہدے کے تحت بھی خواتین سے تعلق رکھتے جو غالباً مسیار کی کوئی شکل تھی۔

تاہم اتنی زیادہ شادیوں اور تعلقات کے باوجود یہ پہلو بہرحال قابل تحسین ہے کہ شیخ بن لادن تمام سابقہ اور موجودہ بیویوں اور اپنے تمام بچوں کی بلا امتیاز کفالت کررہے تھے۔ حتیٰ کہ (کارمن کے مطابق) نکاحِ مسیار کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد اور ان کی ماؤں کو (اگر وہ آنا چاہتیں) بھی اسی بڑے کمپاؤنڈ میں لے آتے، ان بچوں اور دیگر بچوں میں کوئی فرق روا نہیں رکھا جاتا تھا۔ کارمن مساوات پر مبنی کفالت کے اس نظام سے شاید اس لئے بھی مرعوب تھی کہ اس کے یورپی باپ نے جب دوسری عورت سے تعلق قائم کیا تو پلٹ کر اپنی بیوی تو کجا بیٹیوں کو بھی نہیں پوچھا۔

اپنی موت سے پہلے شیخ نے جدّہ مکّہ روڈ پر ایک بہت بڑا کمپاونڈ(جو ’کلومیٹر سیون‘ کہلاتا) اپنے وسیع خاندان کے لئے تعمیر کرایا جہاں خاندان آہستہ آہستہ منتقل ہوگیا۔انھوں نے اپنی زندگی ہی میں اپنے بیشتر بچوں کو پڑھنے کے لئے پہلے بیروت، مصر، شام اور بڑے بیٹے سالم کو لندن بھیجا۔ ان کی موت کے بعد خاندان کے متعدد افراد مغرب میں منتقل ہوگئے جہاں انھوں نے جائیدادیں بھی خریدیں اور کاروبار بھی جمائے۔ شیخ کو اللہ تعالیٰ نے بہت مختصر عمر دی۔ کارمن کو کمپنی کے ایک ملازم نے بتایا کہ 1967ء میں شیخ اپنی موت کی رات تیئسویں شادی کرنے والے تھے۔

وہ اپنے ذاتی طیارے میں اپنے ہونے والے سسرال ہی جا رہے تھے کہ ان کا جہاز کریش کرگیا۔ یوں وہ 59 سال کی عمر میں اپنی تمام تر دولت، بن لادن بزنس امپائر اور اپنے وسیع خاندان کو بھی چھوڑ کر اچانک اس جہان سے رخصت ہو گئے۔ یاد رہے شیخ نے اپنی جوانی کاروباری جدوجہد میں گزاری اور شادیا ں بڑی عمر میں کیں۔ان کے انتقال کے وقت ان کے صرف دو بیٹے سالم اور علی 21 سال کی عمر کے تھے باقی سب چھوٹے تھے۔ بچوں کے سکولوں میں کارمن، بن لادن کی دولت کے علاوہ اس بڑے خاندان کے نظام سے بھی بہت مرعوب تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شیخ کی زندگی میں ان کی کہی بات قانون ہوتی تھی تاہم وہ کبھی اپنی بیویوں اور بچوں پر سختی یا تشدد نہیں کرتے تھے۔کارمن کے مطابق تمام بیویاں شیخ کے انتقال کے بعد بھی اتفاق سے زندگی بسر کرتی رہیں۔

اگرچہ شیخ کی زندگی میں موجودہ بیویوں کا درجہ سابقہ بیویوں سے زیادہ ہوتا مگر ان کی موت کے بعد مراتب میں کوئی فرق نہ رہا۔ شیخ کی چہیتی بیوی امّ حیدر تھیں جن کا تعلق اسامہ کی والدہ کی طرح شام سے تھا۔ وہ خوبصورت اور نفیس ذوق رکھنے کے علاوہ بہت اچھی منتظمہ بھی تھیں اور اکثر گھریلو اور خاندانی معاملات کے انتظام کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔

شاہی خاندان سے بن لادن کے گہرے تعلق کا اندزہ یوں ہوتا ہے کہ شیخ کی اچانک موت کے بعد یہ شاہ فیصل ہی تھے جنہوں نے آٹھ افراد پر مشتمل ایک بورڈ بنایا جس نے بن لادن کمپنی کے معاملات کی نگرانی کی۔ ان دنوں تعمیراتی منصوبوں میں شہزادوں کا عمل داخل بڑھنے لگا تھا اور بن لادن کو غیر ملکی کمپنیوں کے علاوہ شہزادوں کی سپانسر کی ہوئی کمپنیوں سے بھی مقابلے کا سامنا تھا۔ شیخ کی موت کے بعد قبیلے کی روایات کے مطابق ان کے سب سے بڑے بیٹے سالم بن لادن نے کاروبار سنبھالا جو شرعی قوانین کے مطابق کمپنی کے سالانہ منافع کو تمام بیٹوں، بیٹیوں اور بیواؤں میں تقسیم کرتے۔ مطلقہ بیویاں اس منافع میں براہ راست حصہ دار نہ ہوتیں مگر ان کے بیٹے اپنے حصے سے ماؤں کی کفالت کیا کرتے تھے۔
کارمن کا کہنا ہے کہ قبیلے کی روایات اس قدر مضبوط تھیں کہ کسی کو کچھ کہنے کی ضرورت نہ پڑتی تھی اور خاندان کا نظام بغیر کسی رکاوٹ کے چلتا رہتا تھا۔ سالم کا قبیلے کے سربراہ کے طور پر سب بے حد احترام کرتے اور اس کی بات اپنے باپ کی طرح قانون سمجھی جاتی لیکن وہ بھی کوئی حکم صادر نہیں کرتا تھا۔ اس کے باوجود جن بہنوں کے سگے بھائی نہیں تھے وہ سالم کو بڑا مان کر اس پر اعتبار کرتیں اور اس کی اجازت سے ہر کام کیا کرتی تھیں۔ کارمن کے مطابق سالم اپنی ایک سوتیلی بہن سے بہت محبت کرتا تھا جس کا کوئی سگا بھائی یا بہن نہیں تھی۔ اکثر بیرون ملک دوروں میں بھی اسے ساتھ لے کر جاتا اور اس کی ہر خواہش پوری کرتا۔

یورپ میں پلنے بڑھنے کی وجہ سے غالباً کارمن بن لادن خاندان کی باقی عورتوں کے مقابلے میں احساس برتری کا شکار تھی جس کا اظہار وہ متعدد مقامات پر کرتی ہے۔ مثلا ً اس کا کہنا تھا کہ تمام خاندان کی عورتیں اپنے شوہروں سے ڈرتی تھیں کہ کہیں وہ انھیں طلاق ہی نہ دے دیں۔ کارمن کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تمام عورتیں مذہب بالخصوص نمازوں کی بہت زیادہ پابند تھیں مگر اپنے شوہر یا باپ کی فرمانبرداری کے علاوہ ان کی اپنی کوئی زندگی نہ تھی۔ مثلاً اپنی ساس کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ امّ یسلم ایک اچھی اور صابر عورت تھی مگر اس کی زندگی روایات میں مقید تھی۔ اس کی دوہی دلچسپیاں تھیں:کھانا پکانا اور قرآن پڑھنا۔ وہ اپنی ساس کے بارے میں ایک اور دلچسپ بات بتاتی ہے کہ اس کے نزدیک ہر بات حرام تھی مثلا ً میوزک سننا ، نوکر یا ڈرائیور سے بات کرنا ، گھر سے باہر چہل قدمی کرنا، کسی مرد کو بے پردہ نظر آ جانا۔ کارمن اس بات پر بھی حیران نظر آتی ہے کہ سعودی عورتوں کو ان پابندیوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، انھوں نے خوشی سے ان سخت روایات کو قبول کیا ہوا ہے۔

تاہم کارمن ہی کے بیان کے مطابق اس کی واحد نند یعنی یسلم کی چھوٹی بہن فوزیہ نے، جو شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی میں بزنس ایڈمنسٹریشن پڑھ رہی تھی، نے اپنی شادی سے دو دن قبل یہ شرط رکھی کہ نکاح نامہ میں اسے طلاق دینے کا حق دیا جائے۔ جب لڑکے کے خاندان نے یہ شرط مان لی تو شادی کی تقریبات دوبارہ شروع ہوئیں۔ اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام مغربی تاثر کے برعکس بن لادن خاندان اور سعودی عورتوں میں اپنے حقوق کا احساس اور جدوجہد کا جذبہ موجود ہے۔70ء کی دہائی کے یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ بن لادن خاندان اپنی لڑکیوں کو بھی اعلیٰ تعلیم دلانے میں سنجیدہ تھا لیکن کارمن نے لڑکیوں کو تعلیم کے لئے بیرون ملک بھیجنے کا ذکر نہیں کیا۔

ایک اور جگہ کارمن نے ایک بڑی نند شیخا کا تذکرہ یوں کیا کہ وہ اپنے مذہبی ہونے کے سبب سارے خاندان میں عزت کی نظر سے دیکھی جاتی تھیں۔ کارمن کا خیال تھا کہ سر سے پیر تک سیاہ عبائے، دستانوں اور موزوں میں ملفوف یہ خاتون بھی دوسری عورتوں کی طرح مظلوم اور دبی ہوئی تھی مگر 1979ء میں روس کے افغانستان پر حملہ کے بعد جب سعودی حکومت نے پاکستان میں مقیم مہاجرین کی مدد کے لئے اپنے عوام سے اپیل کی تو اسامہ کے ساتھ یہ خاتون(شیخا) نہ صرف امداد جمع کرنے کے لئے رضاکارانہ طور پر سرگرم ہو گئیں بلکہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ مہاجرین میں امداد تقسیم کرنے کے لئے جنگ زدہ افغانستان بھی جا پہنچیں۔ کارمن ان کی ہمت پر دنگ رہ گئی اور ان کی بہادری کی تعریف کئے بنا نہ رہ سکی۔ مگر کارمن کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ عورتیں اپنی صلاحیتوں کو صرف مذہب کے لئے استعمال میں لاکر ضائع کررہی ہیں۔ گویا اس کے خیال میں جنگ زدہ مہاجرین کی امداد کوئی انسانی نہیں بلکہ صرف اسلامی کاز تھا جو اتنا قابل قدر نہ تھا۔

کارمن یسلم سے اپنی پہلی ملاقات کی بابت بتاتی ہے کہ سالم اپنے کسی غیر ملکی ٹرپ کے دوران یسلم سے ملاقات کے لئے جنیوا میں رکا ، یہ تینوں کسی نائٹ کلب میں گئے تو یسلم نے اسے(کارمن کو) تنبیہ کی کہ اگر سالم تمہیں ڈانس کی پیشکش کرے تو قبول نہ کرنا ورنہ وہ تمہارے بارے میں برا تاثر لے گا۔ کارمن کا کہنا ہے کہ اسے یہ بات سمجھ نہیں آئی مگر اس کا کہنا تھا کہ سالم، یسلم کے مقابلے میں بہت اچھا ڈانس کرتا تھا۔ بن لادن خاندان کا ولی عہد اور بعد ازاں سربراہ سالم انتہائی شوقین اور جوش و جذبے سے بھرپور نوجوان تھا جو محض 42 سال کی عمر میں ذاتی جہاز اڑاتے ہوئے باپ کی طرح ہلاک ہوگیا۔

کارمن لکھتی ہے کہ نائن الیون کے بعد اسامہ کی اپنے بھائیوں کے ساتھ جو تصا ویر میڈیا پر شئیر کی گئی اُن میں اُسامہ نہیں بلکہ اُس سے مشابہ ایک دوسرا بھائی ہے۔ اسامہ اس وقت شام کے لطاکیہ نامی ساحلی شہر میں اپنے ننھیال کے ہاں تھا۔ جب کارمن نے میڈیا پر اسامہ کے پلے بوائے ہونے کی خبریں پڑھیں تو اسے بہت حیرت ہوئی کیونکہ اس نے اسامہ کو لڑکپن ہی سے مذہبی دیکھا تھا، اسی وجہ سے تمام گھرانے میں اسامہ کا بہت احترام کیا جاتا تھا۔ کارمن نے کبھی اسامہ کے بارے میں ایسی ویسی کوئی بات نہیں سنی۔ اگر پلے بوائے ہونے کی بات سچ ہوتی تو اسے ضرور علم ہوتا۔ یادرہے کہ کارمن کی شادی کے وقت اسامہ محض سولہ سال کا تھا۔

بن لادن کے دیگر بیٹوں کے برعکس اسامہ نے مملکت ہی میں تعلیم کو ترجیح دی۔ کارمن کے مطابق سن 1979ء میں رونما ہونے والے تین اہم عالمی واقعات اسامہ کی فیملی لائف پر اثر انداز ہوئے۔ اول: ایرانی انقلاب، دوم:اسلامی انتہا پسند باغیوں کا مسجد الحرام پر قبضہ، سوم: روس کا افغانستان پر حملہ۔ اسامہ انجینرنگ کی تعلیم سے فارغ ہی ہوا تھا کہ 22 سال کی عمر میں پاکستان چلا گیا۔کارمن بتاتی ہے کہ شادی کے آغاز میں ایک دفعہ اسامہ یسلم یعنی اپنے بڑے بھائی سے ملنے گھر آیا۔ اسامہ نے دروازے پر کارمن کے چہرے کو بے پردہ دیکھ کر منہ دوسری طرف کر لیا اور ہاتھ کے اشارے سے اسے اندر جانے کو کہا۔

اسامہ کی انتہا پسندی کا ایک قصّہ سناتے ہوئے کارمن بتاتی ہے کہ ایک دفعہ گرمیوں میں سارا خاندان تفریح کے لئے طائف گیا۔ کارمن کی بڑی بیٹی اور اسامہ کا بیٹا دونوں ایک ہی عمر کے شیر خوار تھے۔ وہاں رہائش کے دوران کارمن نے نوٹ کیا کہ اسامہ کا بیٹا مسلسل رو رہا ہے اور اس کی بیوی نجوا شدید گرمی میں اسے چمچے سے پانی پلانے کی کوشش کر رہی ہے جو بچہ پی کر نہیں دے رہا۔

کارمن نے نجلہ کو اپنی بیٹی کی ایک فاضل بوتل آفر کی مگر نجلہ نے اسے خاموشی سے مسترد کر دیا۔ کارمن کی ساس نے اسے بتایا کہ اسامہ بوتل سے دودھ یا پانی پلانے کو غیر شرعی سمجھتا ہے۔ کارمن نے اپنے شوہر یسلم کے ذریعے اسامہ کو سمجھا نے کی کوشش کی کہ اتنی گرمی میں بچہ مر بھی سکتا ہے مگر اسامہ نے بڑے بھائی کی بات سننے سے بھی انکار کردیا۔ کارمن کے مطابق جب وہ1985ء میں جنیوا منتقل ہوئی، اسامہ کی پہلی بیوی نجوا ( جو اْس وقت 30 سال کی تھی) سات بیٹوں کی ماں بن چکی تھی۔

کارمن کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس وقت وہ سعودی عرب پہنچی، بن لادن کی عورتوں میں فیشن برانڈز استعمال کرنے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ اسے دیکھ کر ہی بن لادن کی عورتیں برانڈز سے متعارف ہوئیں۔ کارمن کی اپنی اور خاندان کے دوسری بچیاں سرکاری سکولوں میں جاتیں حالانکہ جدّہ اور ریاض میں غیر ملکی بچوں کے لئے برٹش سکول موجود تھے۔ کارمن نے شیخ محمّد کے شاہ عبدالعزیز اور شاہ فیصل سے تعلقات کا تذکرہ فخریہ طور پرکیا مگر اس کے بیان سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ شاہ فیصل کے انتقال کے بعد بن لادن کے بیٹوں کے لئے شاہی خاندان میں وہ گرمجوشی نہ رہی تھی جو ان کی زندگی میں تھی۔ بن لادن خاندان میں طویل عرصہ گزارنے کے باوجود کارمن نے سعودی شاہی خاندان کی کسی تقریب میں شرکت کا ذکر نہیں کیا۔

اس کی واحد شاہی دوست ’لطیفہ‘ سے اس کی ملاقات جنیوا میں ہوئی جو بادشاہ کی دور کی رشتہ دار تھیں لیکن اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ بن لادن برادران شاہی خاندان کے افراد کی مجلسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے کیونکہ شاہی فیملی سے تعلق ہی مملکت میں ٹھیکے دلا سکتا تھا۔ بعد ازاں جب کارمن یسلم کو لے کر جنیوا منتقل ہو ئی تو یسلم نے وہاں سعودی سفارت خانے اور سعودی ایئر لائنز کے سٹاف کے ذریعہ سعودی شہزادوں کے ساتھ تعلقات پیدا کیے اور اپنا ذاتی بینک کھولا جسے وہ کارمن سے طلاق کے بعد بھی چلا رہے ہیں۔

کارمن کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ بن لادن خاندان کی عورتوں اور بعض مردوں کے مذہبی رجحان میں اضافہ ہوتا گیا، متعدد لڑکیاں گھر میں بھی سکارف پہننے لگیں۔ یاد رہے کہ نائن الیون کے بعد بن لادن خاندان کی جو ستّر کے عشرے کی سویڈن میں قیام کی جو تصویر میڈیا پر آئی اس میں لڑکیوں نے بھی مکمل آستینوں کی ٹی شرٹس، پتلونیں پہن رکھی ہیں جبکہ سر پر حجاب موجود نہیں۔1985ء میں خاندان کی بعض عورتوں کو احساس ہوا کہ ان کے بچے مغربی تہذیب سے نہایت تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں،چنانچہ انھوں نے بچوں کی تعلیم کی خاطر جدّہ میں بچوں کیلئے اسلامی سکول قائم کئے۔ کارمن کو بھی دعوت دی گئی کہ وہ اپنے بچوں کو اسلامی سکولوں میں منتقل کر یں مگر کارمن سعودی عرب کے سرکاری سکولوں کے اسلامی ماحول سے ہی خاصی تنگ تھیں،چنانچہ اس نے نرمی سے اس پیشکش کو مسترد کردیا۔

کارمن کے بیان سے ان مصنفین کے بیانات کی نفی ہوتی ہے جو ڈرامائی انداز میں بن لادن کو شاہی خاندان سے زیادہ امیر اور فضول خرچ ظاہر کرتے ہیں۔ بن لادن کی اس یورپی بہوکے بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ بن لادن خاندان بے انتہا دولت اور جائیدادوں کے باوجود اعتدال کی زندگی بسر کرتا تھا۔ مثلاً یسلم کا گھروالوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کے لئے جنیوا ہوٹل میں ٹھہرنے کے بجائے ایک اوسط درجے کا گھر کرائے پر لینا بچت کی عادت ہی ظاہرکرتا ہے۔

اس کے مقابلے میں شاہی خاندان کے معمولی افراد بھی جب یورپ اور امریکا کے شہروں میں جاتے تو ہوٹلوں کے پورے فلور ہفتوں، مہینوں کے لئے کرائے پر لیتے اور اپنے ذاتی خدمت گاروں کی فوج کے ساتھ وہاں خوب دولت لٹاتے اور اپنی شان و شوکت کا اظہار کرتے۔ بعض واقعات میں ان کی آمد سے قبل ہوٹلوں کے فرنیچر تک ان کی فرمائشوں پر تبدیل کر دئے جاتے۔

کارمن کی خودنوشت کے تفصیلی مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ یہ خاندان محنتی ہونے کے ساتھ جدید تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی صلاحیت بھی رکھتا تھا مگر اس کے باوجود روایت اور مذہب کی پاسداری بھی اس کے لئے اہم تھی۔ خاندان کے لوگوں نے مغرب میں قیام کے دوران کسی حد تک مغرب کے طور طریقے بھی اپنائے مگر مذہب اب بھی ان میں سے بیشتر کی زندگی کا ایک لازمی جزو تھا خصوصاً خاندان کی عورتیں مذہب سے جڑی ہوئی تھیں۔

یہ کتاب ایک ایسے چشم دید گواہ کے بیانات پر مبنی ہے جو خود مغرب میں پلی بڑھی، بن لادن خاندان اور مملکت سعودیہ کے طرز زندگی کو تحقیر کی نظر سے دیکھتی ہے۔ کتاب ان مغربی دعوؤں کی نفی کرتی ہے جن میں بن لادن خاندان کو شاہی خاندان کے ساتھ ساتھ امریکی صدور کے بھی بہت قریب دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر امریکی صدور سے تعلق کی کہانیاں سچ ہیں تو اس کے تصویری ثبوت بھی ہونے چاہییں۔

کارمن نے بن لادن مردوں اور عورتوں کے ساتھ طویل عرصہ ایک کمپاؤنڈ میں رہنے کے باوجود گھریلو تشدد یا کسی قسم کے متشدد رحجان کا تذکرہ نہیں کیا۔ انتہائی غربت سے امارت تک کے سفر کے علاوہ ایک قبیلے کی طرح وسیع خاندان کے طرز زندگی میں کوئی غیر معمولی بات محسوس نہیں ہوتی سوائے ایک فرد کے جس نے ’کلومیٹر سیون‘ کی آرام و آسائش کی زندگی چھوڑ کر حضر موت کی مانند دشوار گزار افغان علاقوں میں ایک جنون کی خاطر ایڈونچر سے بھرپور زندگی کو ترجیح دی۔ کتاب کے مطالعہ سے یہ بھی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسامہ کی زندگی اور اس کے خاندان کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا اس میں افسانہ زیادہ ہے اور حقائق کو بین الاقوامی سیاست اور ایک مخصوص ایجنڈے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔