قیام پاکستان کا اصل مقصد: جناح اور اقبال کے چند ارشادات - مفتاح الدین خلجی

آج کل عقل پرستی کا لبادہ اوڑھنے والوں کی طرف سے ہماری نئی نسل کو متعدد بیانیوں کے ذریعے مملکت پاکستان کےاصل بیانیے سے منحرف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس صورت حال میں ضروری ہے کہ قائدین مملکت کی خیالات سے قارئین کو روشناس کر وایا جائے۔ تاکہ اصل تصور پاکستان کا درست ادراک کیا جا سکے اور قوم لفظوں کی ہیرا پھیری سے گمراہ نہ ہو پائے۔

برصغیر پاک وہند میں مسلمان ایک الگ قومیت، شناخت، اور روایات کے حامل تھے اور اسی بنا پر ایک الگ اسلامی ملک کی خواہش پیدا ہوئی۔ اس الگ اسلامی مملکت کے حصول کے لیے جدوجہد دو قومی نظریے کی بنیاد پر کی گئی۔ بانیان پاکستان کے اغراض و مقاصد بالکل واضح اور اہداف متعین تھے، اسی لیے جدوجہد کے دوران اور آزادی حاصل کرنے کے بعد بارہا انہوں نے ایسے خیالات کا اظہار کیا جس سے مملکت خداداد پاکستان کا اصل ہدف واضح ہوتا ہے۔ ہمارے اکابرین کی جہد مسلسل فکری بنیادوں پر تھی، جو ہمیں قائداعظم محمد علی جناحؒ، علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، نواب زادہ لیاقت علی خان اور چوہدری رحمت علی وغیرہ کے افکار و ارشادات میں واضح نظر آتا ہے۔

ذیل میں محض قائداعظم محمد علی جناحؒ اور ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے ارشادات سے چند اقتباسات قارئین کے لیے پیش خدمت ہیں تاکہ بانیان پاکستان کے فرمودات کی روشنی میں پاکستان کے حصول کا اصل مقصد سامنے لایا جا سکے۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ کے ارشادات
1: "پاکستان ایک خیالی منزل مقصود نہیں، بلکہ عملی لحاظ سے یہی ایک چیز ہے جس کے ذریعے آپ اس ملک میں اسلام کو قطعاً فنا ہونے سے بچا لیں گے"۔ (مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے اجلاس میں تقریر، 10 مارچ 1941ء)

2: "مسلم لیگ کا مشن اور پاکستان کا مقصد اس کے سوا اور کیا ہے کہ پاکستان میں اللہ کے دین کا نظام قائم ہو"۔ (کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس سے خطاب 1942ء)

یہ بھی پڑھیں:   نئے پاکستان میں قائداعظم - احسان کوہاٹی

اسی اجلاس میں آئین کے حوالے سے ایک قرارداد مرتب کی گئی جن کے مندرجات یہ تھے: "رائج الوقت قوانین میں جلد شریعت کے مطابق تبدیلی کی جائے گی" اجلاس میں موجود تمام لوگوں نے اس کی حمایت کی۔

آخر میں قائداعظمؒ نے فرمایا: "جہاں تک اس تجویز کا تعلق ہے، وہ ہر مسلمان کے دل کی پکار ہے اور پاکستان کے حصول کا مقصد پاکستان میں اللہ کے دین کا نظام قائم کرنے کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے"۔ (نقوش اقبال از رحیم بخش شاہین، شیخ اکیڈمی لاہور)

3: آپؒ نے 21 نومبر 1945ء کو پشاور میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "مسلمان ایک اللہ، ایک کتاب، اور ایک رسولﷺ پر ایمان رکھتے ہیں، لیگ کی کوشش یہ ہے کہ وہ اپنی جماعت کو ایک پلیٹ فارم پر ایک پرچم تلے، جو پاکستان کی قائم ہے، جمع کردے"۔

4: ایک اور موقع پر خواتین کے جلسے سے اپنے خطاب میں کچھ یوں تنبیہ دی: "اگر ہم قیام پاکستان کی جدوجہد میں کامیاب نہیں ہوتے تو ہند سے مسلمانوں اور اسلام کا نام و نشان حرف غلط کی طرح مٹ جائے گا"۔ (لاہور، 17 جنوری 1946ء)

ان خیالات و افکار پڑھنے سے یہ بات ذہن میں پتھر پر لکیر کی مانند ثبت ہوجاتی ہے کہ آپؒ کے سامنے صرف اور صرف ایک اسلامی فلاحی مملکت کا حصول مقصود تھا، جہاں مسلمانان برصغیر پاک و ہند اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزار سکیں اور جہاں اقلیتوں کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں، جو اسلام نے ان کو دیے ہیں۔

علامہ محمد اقبالؒ کا تصور پاکستان
علامہ محمد اقبالؒ نے تصور پاکستان کے حوالے سے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس، منعقدہ الہ آباد 1930ء، میں جو خطبہ پیش کیا، اس میں ایک عظیم مفکر اسلام کی طرف سے مسلمانوں کے اجتماعی مسائل کا ایسا حل موجود تھا جو دس سال بعد پوری ملت کا مطالبہ بنا۔ یہ طویل خطبہ "نوادرات اقبال" میں شامل ہے، جسے کسی الگ تحریر میں مکمل طور پر قارئین کی خدمت میں پیش کروں گا۔ لیکن کچھ معنی خیز سطور یہاں رقم کروں گا تاکہ لب لباب کا اندازہ ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں:   قلم کی امامت - صائمہ نسیم بانو

"ایک سبق جو میں نے تاریخ اسلام سے سیکھا ہے، یہ ہے کہ آڑے وقتوں میں اسلام ہی نے مسلمانوں کی زندگی کو قائم رکھا، مسلمانوں نے اسلام کی حفاظت نہیں کی۔ اگر آج اپنی نگاہیں پھر اسلام پر جما دیں اور اس کے حیات بخش تخیل سے متاثر ہوں تو آپ کی منتشر اور پراگندہ قوتیں از سر نو جمع ہوجائیں گی اور آپ کا وجود ہلاکت و بربادی سے محفوظ ہوجائے گا۔۔۔"

آپؒ کا تصور جو ایک الگ مملکت کے حوالے سے تھا، وہ محض دین کی بنیادوں پر استوار تھا۔ اسے بعد میں قائدین تحریک نے عملی جامہ پہنایا۔ ان ارشادات کے علاوہ متعدد ایسے خیالات کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے، ان کو قوم کے سامنے بیان کرنا ہوگا اور اہل علم حضرات، اساتذہ اور دانشوروں کو قلم، زبان، مکالمہ اور گفتگو کے ذریعے لوگوں کو پاکستان کا مطلب واضح کرنا ہوگا تا کہ قوم یکسو ہو اور افرا تفری سے نجات پائے۔

کاش کہ ہمارے بائیں بازو کے دوستوں کے پاس ان اکابرین کے خیالات پڑھنے کے لیے بھی وقت ہوتا اور وہ حقیقت عوام الناس سے چھپانے کی کوشش نہ کرتے۔