سنبھل جائیے، شہری سندھ سے خوفناک بحران جنم لینے کو ہے – سید عارف مصطفیٰ

بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ۔ متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) نے سندھ حکومت کے خلاف وائٹ پیپر جاری کیا تو مصطفی کمال بھی احتجاجی تحریک کے ساتھ باہر نکل آئے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان کے مطالبات میں نہ تو شہریوں کے سب سے بڑے مسئلے یعنی روزگار کو کوئی خاص اہمیت دی گئی ہے اور نہ ہی تعلیم کے بارے میں کوئی نمایاں مطالبہ شامل ہے۔ البتہ ثانوی مسائل کو بنیادی مسئلہ بنا کر اسٹیبلشمنٹ کو کم تنخواہ پہ گزارا کرلینے کا اطمینان ضرور دلایا گیا ہے۔

زبان خلق کو اگر کوئی اہمیت ہے تو اس میں یہ تاثر عام ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ایک حصے یعنی حکومت نے اپنا دست شفقت فاروق ستار کے سر پہ رکھا ہوا ہے اور دوسرے طاقتور عنصر کو مصطفیٰ کمال کا سرپرست ٹہرایا جاتا ہے۔ مصطفیٰ کمال کے پہلو بہ پہلو، بحریہ ٹاؤن کے دھنوان ملک ریاض بھی کھڑے بتائے جاتے ہیں جنہوں نے کراچی کی سیاست کو اپنی مٹھی میں لینے کی مہم کا آغاز ہی بہت عیارانہ انداز میں کیا تھا اور کرمنل مافیا کے ڈان یعنی الطاف حسین کے نام پر کراچی اور حیدرآباد میں دو یونیورسٹیوں کے قیام کا شوشہ چھوڑ کر اس کی تنظیمی طاقت کے بل پہ اپنے مفادات کے خاکے میں رنگ بھرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر حالات کی یکدم تبدیلی سے یہ کوشش ادھوری رہ گئی جس کے بعد مصطفی کمال کو میدان میں اتار کے یہ واضح کردیا گیا کہ اب اہل کراچی کو دوسرے ان داتا کے اشارہ ابرو کا محتاج ہونا پڑے گا کہ جس کی اصل منزل بہرحال اسلام آباد ہی میں مستور ہے۔

ان گروہوں سے قطع نظر کراچی میں سیاسی ہلچل کا آغاز جماعت اسلامی 'کے الیکٹرک' کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ اب پی ٹی آئی بھی 'فکس اٹ' والے عالمگیر خان کو آگے لگا کر میدان میں کودتی معلوم ہوتی ہے۔ تاہم عالمگیر خان المعروف ہوشیار خان کو پی ٹی آئی کیا استعمال کرے گی، وہی الٹا اس کے نام کو اپنے سیاسی قوت کے ایندھن کے طور پہ استعمال کر گزریں گے۔ کیونکہ گزشتہ برس اپنی ابتدائی شہرت کے دنوں میں انہوں نے خود کو پی ٹی آئی سے الگ قوت بھی ظاہر کرنا شروع کردیا تھا لیکن ساتھ ہی عمران خان کے جلسے کے متحرک آرگنائزر بھی وہی تھے اور اسٹیج پہ بھی بہت سرگرم نظر آرہے تھے۔ اس ساری احتجاجی سرگرمیوں میں سب سے مختلف سرگرمی فاوق ستار گروہ کی ہے کہ جنہیں اب بھی کئی حلقوں میں پرانے آقا کا وفادار ہی باور کیا جاتا ہے۔ یہ طبقے پی آئی بی مرکز والوں کے خلاف شہر کی دیواروں پہ لکھے گئے نعروں کو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش گردانتے ہیں۔ البتہ اس مرتبہ فاوق ستار گروپ نے جو لب و لہجہ اور آہنگ اختیار کیا ہے، اس سے 80 کی نسلی سیاست کے اطوار اور لب ولہجے کی یادیں تازہ ہوتی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   دو دو ٹکے کے لوگ! ارشاد بھٹی

ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے وائٹ پیر کے اجراء سے یوں لگتا ہے کہ خطرے کا بگل بج چکا ہے۔ اب متعلقہ ذمہ داران اس پہ دھیان نہ دیں یا اپنے کان بند کرلیں تو پھر بالیقین ایک خوفناک بحران جنم لے کے ہی رہے گا۔ یہ بات ہرگز معمولی نہیں، سندھ کی شہری آبادی کی نمائندگی کرنے والی جماعت نے صوبے میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف جو وائٹ پیپر جاری کیا ہے اس کے مندرجات حددرجہ خوفناک ہیں۔ اس میں خرابیوں کی نشاندیہ کرتے ہوئے اعداد و شمار کا سہارا لیا گیا ہے لہذا ان کی تردید یا تصدیق کرنا بھی چنداں مشکل نہیں۔ ویسے تو ان اعداد و شمار کی فہرست خاصی طویل ہے لیکن خاص خاص باتوں میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ سندھ کے 29 اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں میں سے صرف 2 کا تعلق سندھ کے شہری علاقوں سے ہے، 100 کے لگ بھگ مختارکاروں میں سب دیہی آبادی سے ہیں، سندھ بینک کے 17 ہزار ملازمین میں سے شہری علاقوں والے صرف ایک ہزار کے لگ بھگ ہی ہیں، صوبائی اداروں اور کارپوریشنز کے 37 سربراہان میں سے محض 5 کا تعلق دیہی آبادی سے نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ سندھ کے 700 ارب کے بجٹ میں شہری سندھ کے لیے عملاً صرف 28 ارب کی رقم مختص کی گئی ہے۔

وائٹ پیپر کے اعداد و شمار دیکھتے ہوئے میرے پردہ ذہن پہ وہ تاریخی اعداد و شمار نمودار ہو رہے ہیں کہ جن سے دو قومی نظریے کو کمک فراہم کی گئی تھی۔ ان میں تقریباً اس ہی انداز سے ان پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ انگریز تسلط کے زمانے میں 1400 ہندوستانی گریجویٹس میں صرف 2 مسلمان تھے، کئی ہزار سرکاری ملازموں میں مسلمانوں کی تعداد محض چند درجن تھی، وغیرہ وغیرہ۔ ان باتوں کے منظر عام پہ آنے ہی کی وجہ سے مسلمانان ہند میں محرومی کا احساس بہت موثر انداز میں جاگزیں ہوا تھا کہ جس نے بعد میں کئی طاقتور سیاسی تنظیموں اور تحریکوں کو جنم دے ڈالا تھا۔ یہاں بھی اگر معاملات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو صورتحال بہت خطرناک ہوسکتی ہے۔ بات بڑی واضح اور صاف ہے کہ اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو یہ ایک جلتے و بھڑکتے الاؤ کی مانند ہیں اور ان نہایت سفاک حقائق کی بنیادوں پہ شہری سندھ کے سیاسی گرو کوئی بھی خطرناک چال چل سکتے ہیں۔ یہاں یہ رائے قائم کرنا بھی غلط نہ ہوگا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی ازلی دشمن اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کا تربیتی نظام، ایک ورکشاپ کا احوال - میر افسر امان

پیپلز پارٹی یا کوئی اور لاکھ یہ کہتا رہے کہ متحدہ تو خود برسوں سے کئی حکومتوں کا حصہ چلی آرہی ہے لہٰذا وہ خود بھی اس خرابی کی شریک ہے۔ لیکن اس سے ان اعداد و شمار کی خوفناکی میں کوئی کمی نہ آئے گی۔ پھر اب متحدہ کے پاس اپنی سیاسی بقاء کے لیے کوئی اور راستہ رہ بھی نہیں گیا ہے۔ اس کے پاس بیچنے کو یہی منجن ہے اور بدقسمتی سے اس منجن کے اجزاء خاصے موثر اور جاندار معلوم ہوتے ہیں۔ تعصب کا ناگ لمحوں میں اپنا پھن پھیلاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے شعور و اقدار اور حب الوطنی کے سب تقاضے نگل لیتا ہے۔ اسے اندر باہر سے سرپرست بھی بہتیرے میسر آجاتے ہیں۔ خاکم بدہن اس ایک جاندار وائٹ پیپر کے بل پہ ہی وہ بہت کچھ ہو رہے گا کہ جس کے مضمرات کا اندازہ لگانا بالکل دشوار نہیں اور اس پہ مبنی مہم کے نتیجے میں وہ مومینٹم بنے گا کہ مصطفی کمال یا تو دوڑ سے باہر ہوجائیں‌ گے یا پھر اسی فہرست مطالبات پہ چیختے چلاتے سنے جائیں گے۔

اس لیے یہ ناگزیر ہے کہ ان اعداد وشمار پر مبنی وائٹ پیر کے اجزاء کو نہایت سنجیدگی سے لیا جائے اور اس میں مضمر پیغام کو سمجھ کر شہری سندھ کے لیے روزگار، تعلیم، صحت اور دیگر ترقیاتی معاملات پر مشتمل ایک بہترین پیکیج بنا کر، ایک خصوصی حکمت عملی وضع کر کے، اصلاح احوال کی جاندار و موثر کوششیں کی جائیں۔ یہ واضح رہے کہ جب میں شہری سندھ کہتا ہوں تو اس سے مراد یہاں آباد ساری قومیتیں ہوتی ہیں، نہ کہ کوئی خاص زبان بولنے والے۔ بہتر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ آگے بڑھ کر تعصب کے اس اہم عنصر کی بیخ کنی کرے۔ اسی سے ملک دشمنوں کی پہل کاری کی صلاحیت ناکام بنائی جاسکتی ہے۔