تحریک اقامت دین نئی تدابیر کی متقاضی – محمد طاہر مرسلین

پاکستان میں دین کا کام کرنے والی جماعتوں کی بنیاد چار نظریات پر ہے۔ پہلے وہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کی اصلاح ہی سے نفاذ اسلام ممکن ہو سکتا ہے۔ اس نظریہ کا حامل سب سے بڑا گروہ 'تبلیغی جماعت' سے وابستہ ہے۔ ان کے مطابق اگر آج جنید بغدادیؒ بھی حاکم بنا کر بھیج دیے جائیں تو ہمارے حالات تب بھی نہیں سدھریں گے تانکہ پاکستان کی اکثریت خود شریعت پر بلا کسی حکومتی سرپرستی کے عمل پیرا نہ ہو جائے۔

دوسرا نظریہ، جس پر ہماری مذہبی سیاسی جماعتیں عمل پیرا ہیں، وہ یہ ہے کہ اگر حکمرانی ان کے ہاتھ آ جائے تو وہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ اور شہریوں کو شریعت کا پابند بنادیں گے۔ ان جماعتوں نے نفاذ اسلام کی خاطر جمہوری راستے کو اختیار کیا اور عوامی شعور کی بیداری کے کام پر یا تو بالکل محنت نہیں کی یا پھر کی بھی تو محدود حد تک۔

تیسرا طبقہ وہ ہے جو جمہوری سیاست کا حامی نہیں اور نہ ہی اکثریت کی اصلاح کو ضروری سمجھتا ہے، بلکہ یہ لوگ ایران کی طرز پر انقلاب کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایک جماعت، جو عوام کی اتنی بڑی تعداد پر مشتمل ہو کہ ملک کا نظام پر امن احتجاج کے ذریعہ جام کر سکتی ہو، اگر دین کی پابند ہو جائے اور بیعت کے تعلق سے امیر جماعت کے تابع ہو جائے تو نظام بدلہ جا سکتا ہے۔ اس کے لیے جو شرائط بیان کی جاتی ہیں وہ یہ ہیں کہ جماعت ہر قسم کے تشدد کو، اشتعال میں آئے بغیر برداشت کرے اور کسی بھی صورت پیچھے نہ ہٹے، چاہے کتنی بھی جانیں قربان کرنا پڑیں۔

چوتھا گروہ نفاذ اسلام کے لیے صرف طاقت کو واحد حل تسلیم کرتا ہے اور ان کے خیال میں کسی بھی دوسرے طریقے سے نفاذ اسلام ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   محبت فاتح عالم - قدسیہ ملک

یہ تمام جماعتیں جو مندرجہ بالا نظریات کی حامل ہیں، ایک طویل مدت سے اپنے اپنے نظریات کے مطابق جدوجہد کر رہی ہیں۔ ان میں سے کئی جماعتیں تو قیام پاکستان سے بھی پہلے سے مصروف عمل ہیں۔ لیکن جزوی کامیابیوں کے سوا یہ تمام ہی جماعتیں اپنے اصل ہدف سے کوسوں دور ہیں۔ اب تک جو جزوی کامیابیاں حاصل ہوئیں، اسے بھی کسی ایک جماعت کی انفرادی کامیابی نہیں کہا جا سکتا۔ مثلاً قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے کی تحریک ایک کثیر الجماعتی اتحاد کی مشترکہ جدجہد کی بدولت کامیاب ہوئی۔ اس تحریک میں شیعہ، سنی، وہابی سب ہی شریک رہے۔ اس کے بعد تحریک نفاذ نظام مصطفیٰ کی کامیابی بھی ان تمام جماعتوں کے اتحاد کی مرہون منت تھی۔ لیکن اس کے بعد نہ کوئی ایسا اتحاد بنا اور نہ ہی کوئی کامیابی حاصل ہوئی۔ مذکورہ کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے احتجاج کا راستہ ہی اختیار کیا گیا کیونکہ صرف 'الیکٹورل سیاست' سے یہ مسائل بھی حل نہ ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ہونے والی تحریکوں کی کامیابی سے یہ بات تو صاف ظاہر ہو جاتی ہے کہ یہاں اتحاد اور احتجاج کے بغیر مذہبی سیاسی جماعتیں کبھی کامیاب نہیں ہوئیں اور نہ ہی آئندہ ہونے کا امکان ہے۔ جب تک ہر کوئی اپنے اپنے مسلک، تنظیم، جماعت اور نظریہ کو اصل مقصد پر ترجیح دیتا رہے گا، تب تک منزل کے نشانات بھی اوجھل ہوتے چلے جائیں گے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کونسا نظریہ درست ہے؟ اور کس راستے پر چلنا چاہیے؟ یہ سوال انتہائی مشکل ہے اور میری علماء کرام اور دین کا درد رکھنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ غور و فکر کریں اور کوئی نیا راستہ تلاش کریں۔ اگر ہم اپنی ناکامیوں کو قبول نہیں کریں گے اور اسی رستے پر چلتے رہیں گے، جس پر چلے آرہے ہیں، تو ہمارے حالات ایسے ہی رہیں گے یا مزید ابتری کی طرف جائیں گے۔ تاریخ کو اگر استاد مان لیا جائے تو سبق ملتا ہے کہ تبلیغ نے بھی تب رنگ دکھایا ہے جب اس کی حدت حکمران طبقے تک پہنچی ہے۔ تیمور لنگ ایک باندی کی تبلیغ کا ثمر تھے، اورنگ زیب عالمگیر، مجدد الف ثانیؒ کی حکمران طبقے میں تبلیغ کے باعث اسلام کی ڈھال بنے۔ دوسری طرف دیکھتے ہیں تو فردِ واحد عمر بن عبدالعزیزؒ اموی بادشاہت کو خلافتِ راشدہ کا نمونہ بنا دیتے ہیں۔ محمد بن قاسم طاقت کے زور پر سندھ میں داخل ہوتے ہیں اور ایک بے مثال اسلامی ریاست کی بنیاد رکھتے ہیں۔ بے شک ایک مخلص اور شجاع حاکم بہترین نظام دے سکتا ہے لیکن اس کا دوام تب ہی ممکن ہوتا ہے جب عوام بھی اس نظام کی حامی ہو اور اس پر عمل کرنا پسند کرتی ہو۔
تاریخ ہمیں تمام راستے دکھاتی ہے، اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم تاریخ سے حاصل ہونے والے سبق سے کیا سیکھتے ہیں۔ میری ناقص رائے میں طاقت کے استعمال سے محض فساد برپا ہوا ہے، اس لیے یہ راستہ ترک کر دینا ضروری ہے۔ جبکہ باقی تین نظریات کے بہم اشتراک سے ایسے مربوط، قابلِ عمل، اور تمام مسالک کے جمہور علماء کے اتفاقِ رائے پر مبنی حکمت عملی تشکیل دی جائے۔ اور اس پر تمام تر تعصبات سے بالا تر ہو کر اقامتِ دین کی خاطر عمل یقینی بنایا جائے۔ اگر ہر کوئی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بناتا رہا تو سب ہی کی محنت بے سود ثابت ہو گی۔