شرم، لباس، ارتقاء اور قرآن - مجیب الحق حقی

زندگی اور انسان کا وجود کوئی اتفاق نہیں کہ فطری عطیہ سمجھ کر for-granted قبول کر لیا جائے اور خدا کو سائنسی علوم کے تئیں تخلیق سے خارج کر دیا جائے۔ اگر خدا کا انکار کرنا ہے تو ہر وقوعے کا جواز دینا منکرین اور سائنسدانوں پر لازم ہے۔

اگر کائنات کی اچانک spontaneouse تخلیق، اس میں زندگی کا پیدا ہونا اور پھر ایک سیل سے تمام جانداروں کا پیدا ہونا اتفاقات coincidences ہیں تو ان کی بےعیب و شفّاف تشریح انہی کے ذمّے ہے جو ایسی مضحکہ خیز بات یعنی مذکورہ پے در پے اتفاقات کو بلامناسب استدلال پیش اور قبول کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم یہاں صرف ایک نکتے کی وضاحت چاہتے ہیں۔ انسانی ارتقاء کے سلسلے میں ایک بہت اہم موڑ لباس کا معرض وجود میں آنا ہے۔ یہ موڑ کیونکر آیا ہوگا؟ صرف انسان ہی لباس کا خوگر کیوں ہوا؟

یہاں پر مناسب ہوگا کہ ارتقاء کی مختصر تشریح کر دی جائے۔ ارتقاء کی تشریح میں اہم نیچرل سلیکشن ہے۔ یہ وہ میکینزم ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی حیات یا جاندار اپنے ماحول میں بہتر طریقے سے زندہ رہنے کے لیے اپنے اندر تبدیلی لاتا ہے جو آئندہ نسل میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ گویا زندہ رہنے کے لیے مسلسل بہتری کی طرف مائل ایک مستقل خودکار لا شعوری عمل۔

ہم یہاں اسی نقطہ نظر سے غور کریں گے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ ارتقاء کا عمل تو ابھی بھی جاری ہے تو انسان کے علاوہ کسی اور جاندار نے لباس کی ضرورت کیوں نہیں محسوس کی اور اپنا لباس کیوں نہیں بنایا یا بنانے کی طرف مائل کیوں نہیں ہوا؟ کیا ہمیں ایسا کچھ ہوتا نظر آ رہا ہے؟

کائنات میں زندگی کی کسی ایک شکل میں ہی شرم اور پھر لباس کیوں وارد ہوا، صرف انسان کے ذہن میں ایسے خیالات کے وارد ہونے کا جواز کیا تھا؟ ایٹم اور سیل سے بنے ایک ذی حیات میں اپنے کسی عضو کے بارے میں یہ خیال ہی کیوں آیا کہ اسے چھپایا جائے۔ جدید تحقیق یہی کہتی ہے کہ خیال ایک کیمیائی عمل ہے تو مزید یہی پوچھا جائے گا کہ اس کیمیائی عمل میں آفاقیت کہاں سے وارد ہوئی، یعنی اگر کسی ایک ذی حیات کے دماغ میں حادثاتی طور پر accidently شرم کے جذبات ابھرے بھی تو ویسے ہی دوسرے اذہان میں کیوں وارد ہوئے؟ اس سوال کا اُبھرنا منطقی ہے اور اس کا جواب دینا منکرین پر واجب۔

فلسفی لباس کو جنسی خوف سے منسلک کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ خوف تو ہر حیات کی مادہ میں ہونا چاہیے تھا اور لباس عورت ہی پہنتی! نر میں جنسی خوف تو غیر فطری استدلال ہے۔ گویا اگر لباس کی وجہ جنسی خوف تھا تو مرد نے کیوں پہنا؟ یہ ایک مضحکہ خیز جواز ہے۔

اب ایک دوسرا پہلو بھی دیکھیے کہ اگر ارتقاء انسان کو ایک معیّن رفتار سے ترقّی کی طرف لے جا رہا ہے تو اس میں لباس کی آمد ارتقاء کا فطری فیصلہ ہوا۔ لیکن ہمارا مشاہدہ تو یہی بتاتا ہے کہ آج کل فطرت معکوس سمت میں جا رہی ہے، اگر یہی درست تھا تو انسان اب دوبارہ کیوں برہنگی کی طرف جا رہا ہے۔ انسان کو فطرتاً اور ارتقاء کے اعتبار سے تو بےلباسی کی طرف مائل نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ اپنی بقا اور بہتر زندگی کے لیے یہ ایک فطری فیصلہ تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ تضاد نیچرل سلیکشن یا فطری چناؤ کا ہے یا انسان کا اپنا ارادہ؟ اگر یہ ارادہ ہے تو ارتقا کا حصّہ ہوتے ہوئے اس ارادے کی ذہن میں نموپذیری خود ارتقاء کے نظریے میں ایک جھول ہے کیونکہ فطری چناؤ کے اپنی تعریف کے بموجب اس میں ریورس گیئر نہیں ہوتا!

یہ بھی پڑھیں:   اپنا آپ اللہ کو سونپ دو - قراۃ العین اشرف

گویا ایسے خیالات جو خود ارتقاء کے کسی فیصلے کو رد کریں کیسے مربوط ارتقاء کا حصّہ ہو سکتے ہیں؟

نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ انسان اگر ارتقائی نظام کا ویسا ہی حصہ ہوتا کہ جیسا ہمارے سائنسدان اور مفکّرین بتاتے ہیں تو اس میں شرم و حیا کے حوالے سے زیرو بم نہیں ہوتے۔ یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان ایک جدا حیثیت سے کائنات میں قیام پذیر ہے اور لباس اس کو باقی مخلوق میں ممتاز کرتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ:
لباس کہاں سے اور کیوں وارد ہوا؟
سائنس کی طرف سے نا اُمّید ہو کر ہم پھر اسی ماورائے کائنات اُلوہی اشارات کی طرف آتے ہیں کہ دیکھیں اس میں کیا لکھا ہے۔ کیا یہ ہمیں اس شرم و حیا کی کوئی اساس بتاتا ہے۔

’’اے ابن آدم، ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمھارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو۔ بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ شاید کہ لوگ اس سے سبق لیں۔ (الاعراف، آیت26)‘‘

یہاں یہ واضح ہوا کہ شرم اور حیا اور قابل شرم جسمانی حصّے تخلیق کا حصہ ہیں، اسی حوالے سے لباس ’نازل‘ کیا گیا،گویا اس کا علم دیا گیا۔ قرآن جہاں جہاں خالق کی کسی نشانی کا تذکرہ کرتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ دراصل وہ انسانیت کے لیے ایک بڑی عنایت ہوتی ہے۔ جب خالق کسی تخلیق کا خصوصی تذکرہ کرتا ہے تو وہ ایک غیر معمولی چیز ہوتی ہے۔اسی لیے اگر لباس کو خالق کی نشانی قرار دیا گیا ہے تو اس پر غور ضرور ہونا چاہیے۔

دیکھیے! سب سے قیمتی اور نفیس کپڑا ریشم جانا جاتا ہے لیکن جو بات یہاں غیر معمولی ہے، وہ یہ کہ ریشم حیرت انگیز طور پر ایک کیڑا بناتا ہے۔ یعنی انسان کے لیے خالق کی ایک اور عطا! جس طرح ریشم کی تخلیق ہوتی ہے، وہ بےمثال ہے۔ ایک لاروا جس کی زندگی کا مقصد صرف ریشم بنانا ہوتا ہے، وہ ریشم بنانے سے پہلے انڈہ دیتا ہے، پھر اپنی کھال یا جسم سے اپنے چاروں طرف ریشم کا جال بناتا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس میں محصور ہوکر خود فنا جاتا ہے۔ یہ نظام حیات و موت ارتقاء میں انوکھا طرز ہے جس میں زندگی اپنی قبر جو کوکون Cocoon کہلاتی ہے، خود بناتی ہے اور اسی سے ریشم بنتا ہے۔ قابل غور یہ نکتہ ہے کہ خالق نے نہ صرف لباس کا شعور دیا بلکہ لباس کا بہترین کپڑا انوکھے طریقے سے مہیّا بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   لڑکیاں بھی انسان ہوتی ہیں - عمارہ خان

سوال یہ ہے کہ ریشم کا کیڑا آخر انسان کی ضروریات کے لیے اپنی جان کیوں دیتا ہے؟
کیا اس کا جواب سائنس کے پاس ہے؟

اسی طرح انسان نے روئی اور اون سے فائدہ اٹھایا، یقینا سوچ کے کئی مرحلوں پر خالق نے نئے نئے خیالات کو اجا گر کر کے انسان کی مدد کی۔ یہاں پر نظریۂ ارتقاء کے حمایتوں کے لیے بھی کچھ سوالات اُبھرتے ہیں، یعنی فطرت کے خود کار نظام نے انسانی جلد کو ہی پرندوں اور جانوروں کی طرح کوئی لباس کیوں نہ بنایا؟ اس طرح تو فطرت نے انسانوں کو روئی اور اون کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جبکہ سائنس کے مطابق ارتقائی اُٹھان تو مزید آسانیوں کی ضامن ہوتی ہے! پھر مزید یہ کہ نظریہ ارتقاء میں وہ کو ن سا مرحلہ آیا کہ:
بن مانس یا انسان کو شرم و حیا آئی کہ اپنا ستر چھپائے؟
آخر وہ کون سا طبعی یافطری قانون حرکت میں آیا جس نے حیا کے جذبات کو پیدا کیا؟
مخصوص اعضا اور شرم کے جذبات کا باہم تعلّق کس نے متعیّن کیا؟
یہ نظام شرم و حیا فی الوقت دوسرے جانداروں میں کیوں عمل پذیر نہیں ہورہا؟

گویا یہ قرآن ہے جو جوابات بتاتا ہے کہ شرم و حیا کیا ہے اور لباس کیا ہے اور کیوں پہننا چاہیے۔ یہ جذبات ِشرم دراصل احساسات کے خالق کی خصوصی عطا ہے جو انسان کو باقی مخلوق سے مشرّف اور ممتاز کرتی ہے۔ اسلام کی بنیاد بھی شرم اور حیا پر ہے کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ: جس میں حیا نہیں اس میں ایمان نہیں! اسی لیے شیطان کا حملہ اسلام کی بنیاد پر ہے۔

خدا سے انکار کے بموجب نظریۂ ارتقاء کی بنیاد بہت کمزور ہے اور یہ نظریہ لاتعداد سوالات کا جواب نہیں دے سکتا۔ ہم اس نظریے کو کُلّی مسترد نہیں کر رہے بلکہ جدید سائنس کو ایک نامکمّل علم سمجھتے ہیں جو خدا کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اہل نہیں۔

ثابت یہی ہوا کہ قرآن کے تمام استدلال منطقی جبکہ اس سے ٹکرانے والے نظریات غیر واضح اور غیر منطقی ہیں۔

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.