کتابچی - سعود عثمانی

مئی کا مہینہ تھا اور ابر آلود موسم میں استنبول کی ایک سہ پہر. میں جامعہ استنبول کے ارد گرد کی گلیوں میں گھوم رہا تھا. شہر کے یورپی حصے میں تاریخی عمارات اور داستانیں سموئے ہوئے مقامات کے درمیان یہ علاقہ بہت پر رونق ہے اور ٹف ٹائل کے کھڑنجے سے بنی ان گلیوں میں قدیم بو باس اور خوشبو کے درمیان وقت گزارنا ایک الگ قسم کا مزیدار تجربہ ہے۔ کتابوں کی دکانوں کے سامنے سےگزرتے ہوئے ایک دکان کے سامنے میرے پاؤں رک گئے، میں نے دکان کا نام پڑھا اور جلی حروف میں لکھے ہوئے ایک لفظ نے میرے قدم جکڑ لیے. ترکی زبان میں لکھا تھا ’’کتابچی‘‘.

کتابچی، یعنی کتب فروش۔ کیا مزے کا لفظ ہے. مختصر، مکمل اور منفرد۔ کسی اردو دان کے لیے یہ لفظ مجھے ایسا لگا جیسے آپ کے سامنے کوئی نیا کھانا رکھ دیا جائے جس سے مانوس مہک اٹھ رہی ہو. توپچی، بندوقچی، کبابچی، نشانچی جیسے الفاظ کے خد و خال رکھنے والا اور اسی رنگ اور نسل کا یہ لفظ کیا اردو میں مروج ہے؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں؟ کیا یہ کتاب فروش کی نسبت کم وقار والا لفظ سمجھا گیا اور کتاب فروشی کے معزز پیشے کے لیے مناسب نہیں گردانا گیا یا اسے درخورِ اعتنا ہی نہیں جانا گیا اور بےاعتنائی کی گرد میں چھپ کر یہ لفظ گُم ہوگیا؟ صاحب ِفرہنگ آصفیہ سے پوچھا تو کتاب سے لے کر کتابی چہرہ تک کے سبھی کوائف اور شجرہ ہائے نسب بیان کردیے لیکن کتابچی کے لفظ پر سکوت اختیار کیا. پتہ نہیں دیگر لغات نویس اہل علم کا کیا مؤقف ہے لیکن حتمی نتیجہ شاید یہ نکلا ہے کہ ایک مزے دار مختصر لفظ ہم سے بچھڑ کے تہران، اصفہان اور استنبول کا باشندہ ہوکے رہ گیا.
میں غور کر رہا تھا کہ کتابچی کے لفظ کی مزید تحقیق کی جائے کہ آیا یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ہے یا نہیں اور اگر ہو تو کیا مضائقہ ہے لیکن میرے خیال کی رَو زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ کتاب فروش ہو یا کتاب خواں یا کتابچی، یہ سب کتاب سے جڑے ہیں، اس کاغذی کتاب سے جو کاغذ پر لکھے ہوئے یا چھپے ہوئے الفاظ پر مشتمل ہوتی ہے. جس کا ایک سر ورق اور ایک جلد ہوتی ہے خواہ وہ نرم ہو یا سخت. کتاب نہیں تو یہ سب لوگ بھی نہیں اور یہ سب لفظ بھی نہیں. جب کتاب ہی نہیں تو پھر ان لفظوں، پیشوں اور مشغلوں پر کیا بات کی جائے اور کتاب، کتاب تو ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی ہے جس طرح کسی دلدار دوست اور عزیز کا ہاتھ آپ کے ہاتھوں سے پھسلتا جائے. آپ اسے مضبوطی سے پکڑنے کے لیے اپنی تمام طاقت صرف کر دیں لیکن انچ انچ اور پورا پورا وہ ہاتھ آپ کے ہاتھوں سے نکلتا جائے اور آپ بے بسی سے آنسو بہاتے رہ جائیں. کچھ ماہ پہلے انھی بےبسی کے آنسوؤں میں بہتے ہوئے میں نے ایک شعر لکھا اور فیس بک پر اپنے احوال (سٹیٹس) پر درج کردیا. شعر تھا:

یہ بھی پڑھیں:   کتب بینی کی اہمیت -گہرام اسلم بلوچ

کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

شعر دل سے نکلا اور بے شمار دلوں میں جا لگا. ان گنت لوگوں نے اسے شئیر کیا، تصویری پوسٹس بنائیں، ڈیزائن تخلیق کیے اور اپنے اپنے حلقوں میں پہنچایا. خطرہ سامنے کا تھا، مشاھدہ روز مرّہ کا اور دکھ ہر ایک کا. اس لیے شعر دائرہ در دائرہ پھیلتاگیا. اس قبیلے نے اور اس نسل نے اور ہر اس فرد نے یہ دکھ محسوس کیا جو کتاب سے عشق کرتے آئے ہیں۔
ہم وہ نسل ہیں جو چھپے ہوئے اور لکھے ہوئے لفظ سے عشق کرتے آئے ہیں. چوتھی پانچویں جماعت میں تھے جب گلے میں بستہ حمائل کیے ہاتھ میں لکڑی کی تختی جھلاتے سکول جایا کرتے، انگوٹھے اور ہاتھ کی تیسری انگلی سے تختی کی گردن دبائے پیدل لمبا سفر طے کرتے. لکھائی کا گھنٹہ شروع ہوتا تو پنسل اور فٹے سے تختی پر مسطر بناتے اور ابجد اور حروفِ تہجی لکھنے کی مشق کیا کرتے. سرکنڈے کے قلم کو قط لگانا، سیاہی کی دوات میں روشنائی کی پڑیا انڈیل کر ایک تناسب سے پانی بھرنا، دوات میں سیاہی چوسنے کے لیے ایک چھوٹی سی سوتی کپڑے کی دھجی ڈالنا زندگی کے معمولات میں شامل ہوچکا تھا۔ تختی دھو کر اسے پھر گاچنی سے لیپنا، سردیوں میں اسے دھوپ میں سوکھنے کے لیے دیوار کے سہارے کھڑا کرنا اور گرمیوں میں تختی لہرا لہرا کر لیپی ہوئی گاچنی خشک کرنا سیکھ چکے تھے. سلیٹ اورسلیٹی ہمارے زادِ تعلیم میں شامل ساتھی تھے اور چاک اور بلیک بورڈ ہمارے اگلے رفیق.

ذرا بڑے ہوئے تو بچوں کی دنیا، نونہال اور تعلیم و تربیت نے ہماری دلچسپیوں میں جگہ بنا لی. دہلی سے آنے والے رسالے کھلونا میں ننھا راج کمار اور نسطور جن ہمارے ناقابل ِفراموش ہمجولی تھے. یہ رسالے ہاتھ میں آتے تو تازہ کٹے ہوئے نیوز پرنٹ کی مہک مست کر دیتی اور یہ خیال کہ اب یہ سب کہانیاں ہماری دسترس میں ہیں، چلچلاتی دوپہروں اور سرد راتوں میں بھی سرشار کیے رہتا. عالی پر کیا گزری، شاید بچوں کا وہ پہلا ناول تھا جو میسر آیا اور نقش ہوکر رہ گیا. منحوس قلعہ، پناکو کے کارنامے، شداد جادوگر، امیر حمزہ کوہ قاف میں، عمرو عیار کے کارنامے، ناولوں کے ایک طویل سلسلے کے چند ناول تھے۔ ڈائجسٹوں میں اردو ڈائجسٹ مقبول عام تھا اور معلومات افزا بھی، اور ابھی دیگر ڈائجسٹوں تک رسائی مشکل تھی لہٰذا ایک ہی رسالہ بار بار پڑھا جاتا حتٰی کہ حفظ ہوجاتا.

یہ بھی پڑھیں:   کتب بینی کی اہمیت -گہرام اسلم بلوچ

کچھ اور بڑے ہوئے تو تختی اور سلیٹ نے خدا حافظ کہا اور کاپیوں اور نوٹ بکوں کے ہاتھ میں ہمارا ہاتھ تھما دیا۔ سرکنڈے کے قلم کی جگہ اب ہاتھ میں سیاہی بھرنے والا ایگل پین تھا جو ہر طالب علم کے پاس نظر آتا تھا۔ اب تحریر کی باگ ڈور اسی کی نوک زباں پر تھی۔ ذرا عمر بڑی ہوجائے تو کتابوں کی دنیا میں کئی ندیاں، کئی دھارائیں اکٹھی بہہ نکلتی ہیں۔ ایک ساتھ اور ایک دوسرے کے متوازی، جنھیں آگے چل کر ایک بڑے دریا میں گرنا ہوتا ہے۔ نصابی کتابیں تو خیر پڑھنی ہی پڑتی تھیں لیکن غیر نصابی کتابوں میں بھی دین، مذہب، ادب، نثر، شاعری، فکشن، جاسوسی ادب، سفرنامے، گفتنی نا گفتنی غرض ہر موضوع پر کتاب موجود تھی چنانچہ ایک ساتھ کئی سمتوں میں چل نکلے جس کی بہرحال سمت کوئی ایک ہی تھی۔ جو کچھ ہاتھ لگا پڑھ ڈالا۔ نیوز پرنٹ کی اپنی مہک تھی اور آفسٹ کاغذ کی اپنی خوشبو۔ کتاب کے بغیر نہ گزارا تھا نہ چین پڑتا تھا۔ رات سوئے تو کتاب سینے پر سر رکھ کر سوگئی۔ صبح جاگے تو کتاب نے بھی آنکھیں کھول لیں۔ شعور کی آنکھیں کھلیں تو خود لکھنا شروع کیا۔ خود صاحبِ کتاب ہونے کا کبھی سوچا بھی نہیں تھا لیکن سوچنے سے کیا ہوتا ہے۔ ہوتا وہی ہے جو کتاب میں لکھ دیا گیا ہے۔ کتاب چھپی اور خوب خوب داد سمیٹی۔ پھر اور کتابیں چھپیں۔ زندگی کئی مرحلے آگے آگئی تھی۔ ناشر، کتابچی، قاری، مصنف، شاعر سبھی حیثیات ایک دوسرے سے جڑ کر کتاب کے گرد گھومتی تھیں۔ اس سارے منظرنامے میں آئندہ زندگی بھی ایک کھلی کتاب کی طرح سامنے آچکی تھی۔

جس نسل نے یہ سب دیکھا اور برتا ہواور پھر اسے یہ عشق ہاتھوں سے پور پور پھسلتا دکھائی دے تو آپ کا کیا خیال ہے، اسے کیا کرنا چاہیے؟ جسے چھپا ہوا لفظ برقی لفظوں میں، صفحات پی ڈی ایف میں اور کتاب ٹیبلٹ اور کنڈل (kindle) میں منتقل ہوتی دکھائی دے تو اس کا ردِعمل کیا ہونا چاہیے۔ آئندہ کتابوں کی جو بھی شکل ہو اس کی اپنے لطف ہوں گے اور اپنی وابستگیاں، لیکن وہ بہرحال کاغذی کتاب سے مختلف ہوں گی، تو اگر وہ نسل وہ قبیلہ ایک عہد بتدریج ختم ہونے پر اپنا آپ ختم ہوتا محسوس کرے تو کیا غلط ہے؟ برا نہ مانیے اگر وہ اس خدشے کا اظہار کرے کہ

کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

ناراض نہ ہوئیے۔ چاہیں تو اس کے دونوں مصرعوں پر سوالیہ نشان لگا کر اسے پیشین گوئی نہیں استفسار بنا لیجیے۔ کتابچی کے لفظ کو گولی ماریے۔ ہمارا خدشہ تو دور کیجیے۔ یہ تو بتائیے کہ خدانخواستہ یہ کتابوں سے عشق کی آخری صدی تو نہیں ہے؟

Comments

سعود عثمانی

سعود عثمانی

سعود عثمانی منفرد اسلوب اور جداگانہ لہجے کے حامل شاعر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ 10 متفرق تصانیف و تراجم اور تین شعری مجموعے قوس (وزیراعظم ادبی ایوارڈ)، بارش (احمد ندیم قاسمی ایوارڈ) اور جل پری، شائع ہر کر قبولیت عامہ حاصل کر چکے ہیں۔۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.