گناہوں کی بخشش، کیوں اور کیسے؟ خطبہ جمعہ مسجد نبوی ﷺ

فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی نے 3 رجب 1438 ھ کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان ’’گناہوں کی بخشش مانگیں، کیوں اور کیسے؟‘‘ ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا: نیکیوں کے طریقے اور انداز بہت زیادہ ہیں چنانچہ ان میں سے ایک استغفار بھی ہے جو کہ آدم، حوا، نوح، ابراہیم، موسی، داود علیہم السلام اور سیدنا محمد ﷺ سمیت تمام انبیائے کرام کی عادت مبارکہ ہے، نبی ﷺ سے استغفار کے لیے متعدد الفاظ ثابت ہیں، استغفار نیک لوگوں کی امتیازی صفت ہے، بخشش اور توبہ ایسی نیکیوں میں شامل ہے جن کی قبولیت کا وعدہ اللہ تعالی نے کیا ہوا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ: استغفار سے ہمہ قسم کی رحمت و نعمت کا حصول، گناہوں کی بخشش، جنت کا داخلہ، بارشوں کا نزول، عذاب سے تحفظ، حاجت روائی و مشکل کشائی اور رزق میں فراوانی حاصل ہوتی ہے، مسلمانوں کے لیے بخشش مانگنے کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے، فرشتے بھی مسلمانوں کے لیے بخشش مانگتے ہیں۔ صالح، نوح، ہود اور دیگر انبیائے کرام نے اپنی اقوام کو استغفار کی ترغیب دلائی، آخر میں انہوں نے کہا کہ: دنیا کی زندگی کو غنیمت جانیں، یہاں سے جانے والا واپس آ کر نیکیاں کمانے کی سر توڑ کوشش کرے گا لیکن اسے موقع نہیں دیا جائے، اس لیے کسی بھی چھوٹی نیکی یا بدی کو کبھی بھی معمولی مت سمجھنا۔

پہلا خطبہ:
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہی رحمن و رحیم اور علیم و حکیم ہے، عظیم فضل والا ہے، میں اسی کی حمد و ثنا بجا لاتا ہوں اسی کی طرف توبہ کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، معزز عرش اسی کا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ بہت ہی اعلی اخلاق کے مالک تھے، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد پر، ان کی آل اور صراطِ مستقیم کی دعوت دینے والے ہدایت یافتہ صحابہ کرام پر سلامتی، برکتیں، اور رحمتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:
رضائے الہی کے مطابق عمل کرتے ہوئے اللہ سے ڈرو، حرام کاموں کو چھوڑ دو، تا کہ تم رضائے الہی اور اس کی جنت پا سکو، نیز غضب و عذاب الہی سے نجات حاصل کر سکو۔

مسلمانو!
اللہ تعالی نے فضل و کرم اور جود و سخا کرتے ہوئے ہمارے لیے نیکی اور عبادات کے بہت سے دروازے کھول رکھے ہیں، صرف اس لیے کہ مسلمان کسی بھی دروازے سے داخل ہو کر اطاعت گزار بنے؛ اس کے بدلے میں اللہ تعالی دنیا و آخرت سنوار کر درجات بلند فرما دے، چنانچہ اللہ تعالی اسے دنیا میں خوشحال زندگی بخشے گا، اور مرنے کے بعد دائمی نعمتیں اور رضائے الہی حاصل کریگا، فرمانِ باری تعالی ہے: نیکیوں کی طرف بڑھ چڑھ کر حصہ لو، تم جہاں بھی ہو گے اللہ تعالی تم سب کو اکٹھا کر لے گا، بیشک اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔ [البقرة : 148]

نیز اللہ تعالی نے تمام لوگوں کے لیے نمونہ و قدوہ بننے والے انبیاء علیہم الصلاۃ و السلام کے بارے میں فرمایا: بیشک وہ نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے، اور وہ ہمیں امید اور خوف کیساتھ پکارتے اور ہم سے خوب ڈرتے تھے۔ [الأنبياء : 90]
نیز نبی ﷺ نے معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: (کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازوں کے بارے میں نہ بتلاؤں؟: روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو ایسے بھجا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو ختم کر دیتا ہے، اور قیام اللیل ، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔ وہ اپنے پروردگار کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں [16]، کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی کیا کچھ چیزیں ان کے لیے چھپا رکھی گئی ہیں یہ ان کاموں کا بدلہ ہوگا جو وہ کیا کرتے تھے۔ [السجدة :16 - 17] پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اصل ہدف، ہدف کا ستون اور اس کی چوٹی کے بارے میں نہ بتلاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اصل ہدف: اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے، اور اس کی چوٹی جہاد فی سبیل اللہ ہے. ترمذی نے اسے روایت کیا اور صحیح قرار دیا۔

نیکیوں میں اضافے اور گناہوں کو مٹانے کا ایک طریقہ استغفار ہے، چنانچہ بخشش کا مطالبہ انبیاء و المرسلین علیہم الصلاۃ و السلام کی عادت مبارکہ ہے، اللہ تعالی نے بشریت کے والدین -ان دونوں پر اللہ کی طرف سے سلامتی، رحمتیں، اور برکتیں نازل ہوں-کے بارے میں فرمایا:حوا اور آدم ] دونوں نے کہا: ہمارے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا، اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ الاعراف : 23]
اور نو ح علیہ السلام کی بات نقل کرتے ہوئے فرمایا: میرے پروردگار! مجھے ، میرے والدین، اور میرے گھر میں داخل ہونے والے مؤمن مرد و خواتین تمام کو بخش دے۔[نوح : 28]
اور ابراہیم علیہ السلام اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہوئے فرماتے ہیں: ہمارے پروردگار! مجھے، میرے والدین، اور تمام مؤمنین کو حساب کے دن بخش دینا۔[ابراہیم : 41]
اور موسی علیہ السلام کا مقولہ نقل کرتے ہوئے فرمایا: میرے پروردگار! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے، اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، تو ہی سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ [الاعراف : 151]
ایسے ہی فرمایا: داؤد علیہ السلام سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے، تو پھر اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور پوری طرح رجوع کیا۔ [ص : 24]
اور نبی ﷺ کو حکم دیتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: یہ بات جان لیں! اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، اور اپنے تسامحات سمیت سب مؤمن مرد و خواتین کے لیے اللہ تعالی سے بخشش مانگیں۔ [محمد : 19]
اور آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ کثرت سے استغفار کیا کرتے تھے، حالانکہ اللہ تعالی نے آپ کی گزشتہ و پیوستہ تمام لغزشیں معاف فرما دی ہیں، چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: ہم رسول اللہ ﷺ کی ایک ہی مجلس میں سو سے زیادہ مرتبہ استغفار کے یہ الفاظ شمار کر لیتے تھے: میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اور میری توبہ قبول فرما، بیشک تو توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے. ابو داود، ترمذی اور اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔
اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ: رسول اللہ ﷺ وفات سے پہلے اکثر اوقات یہ فرمایا کرتے تھے: اللہ اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، میں اللہ سے مغفرت کا طالب ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ بخاری و مسلم
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ : "میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو [ میں اللہ سے مغفرت کا طالب ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں] کہتے ہوئے نہیں سنا. نسائی
آپ ﷺ نماز کا سلام پھیرنے کے بعد تین بار کہا کرتے تھے: [میں اللہ سے مغفرت کا طالب ہوں] مسلم نے اسے ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اس کے بعد نماز کے بعد والے اذکار فرماتے ۔
استغفار نیک لوگوں کی عادت، متقی لوگوں کا عمل اور مؤمنوں کا اوڑھنا بچھونا ہے، اللہ تعالی نے انہی کی بات نقل کرتے ہوئے فرمایا: ہمارے پروردگار! ہمارے گناہ بخش دے، اور ہماری برائیاں مٹا دے، اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دینا۔[آل عمران : 193]
اسی طرح فرمایا: وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لا چکے اس لئے ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا، وہ صبر کرنے والے اور سچ بولنے والے اور فرمانبرداری کرنے والے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے اور پچھلی رات کو بخشش مانگنے والے ہیں۔ [آل عمران : 17-16]
حسن بصری رحمہ ا للہ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں: مؤمنین اپنی رات کی نماز اتنی لمبی کرتے ہیں کہ سحری کا وقت شروع ہو جائے، اور پھر نماز کے فوری بعد سحری کے وقت میں اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں.
ایسے ہی فرمایا: ایسے لوگوں سے جب کوئی برا کام ہو جاتا ہے یا وہ اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو فوراً انہیں اللہ یاد آ جاتا ہے اور وہ اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگتے ہیں، اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کر سکے؟ اور وہ دیدہ دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے [آل عمران : 135]
ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں: گناہوں سے استغفار کا مطلب یہ ہے کہ گناہوں کا مٹانے کا مطالبہ اللہ تعالی سے کیا جائے، انسان کو استغفار کی بہت زیادہ ضرورت ہے؛ کیونکہ انسان دن رات گناہوں میں ملوّث رہتا ہے، اور قرآ ن مجید میں توبہ و استغفار کا ذکر بار بار آیا ہے، نیز انسان کو کثرت سے استغفار کی ترغیب بھی دلائی گئی ہے.

اللہ سے گناہوں کی بخشش طلب کرنے پر اللہ کی طرف سے اسے قبول کرنے اور گناہ بخش دینے کا وعدہ ہے۔ اسی طرح کسی مخصوص گناہ سے توبہ کرنے کی بھی شرعاً اجازت ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: جب انسان کوئی گناہ کر لے اور پھر کہے: یا اللہ! مجھ سے گناہ ہوگیا ہے، تو میرا گناہ معاف کر دے تو اللہ تعالی فرماتا ہے: میرے بندے کو معلوم ہے کہ اس کا رب گناہ بخشتا بھی ہے اور ان پر پکڑتا بھی ہے، میں نے اپنے بندے کو معاف کیا. بخاری و مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔
اسی طرح مطلق طور پر گناہوں کی بخشش مانگنا بھی شرعی طور پر درست ہے، چنانچہ اس کے لیے [ پروردگار! مجھے بخش دے اور رحم فرما] کہہ سکتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی نے حکم دیتے ہوئے فرمایا: اور آپ کہیں: میرے پروردگار! مجھے بخش دے اور رحم فرما، تو ہی سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ [المؤمنون : 118]
اور نبی ﷺ نو مسلم افراد کو دعا کرنے کے لیے مخصوص الفاظ سکھاتے ہوئے فرماتے: [میرے پروردگار! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت ، عافیت اور رزق سے نواز] اسے مسلم نے طارق بن اُشیم رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
اسی طرح انسان اپنے سارے گناہوں کی بخشش بھی اللہ تعالی سے مانگ سکتا ہے، چاہے اسے اپنے گناہ یاد ہوں یا نہ یاد ہوں، کیونکہ انسان بہت سے گناہ کر کے بھول جاتا ہے، لیکن اللہ تعالی کو بندے کے سب گناہ یاد رہتے ہیں، اور انہی کی بنیاد پر بندے کا محاسبہ بھی ہوگا، چنانچہ ابو موسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: نبی ﷺ عام طور پر دعا مانگا کرتے تھے: [میرے پروردگار! میرے گناہ، اپنے بارے میں جہالت و زیادتی سمیت ان تمام گناہوں کو بھی بخش دے جنہیں تو مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے، یا اللہ! میرے سنجیدہ و غیر سنجیدہ ، سمجھ و نہ سمجھ والے سب گناہ بھی بخش دے، میرے گناہوں میں یہ سب اقسام موجود ہیں، یا اللہ! میرے گزشتہ، پیوستہ، خفیہ، اعلانیہ، اور جنہیں تو مجھے سے بھی زیادہ جانتا ہے سب گناہ معاف فرما دے، تو ہی آگے بڑھانے اور پیچھے کرنے والا ہے، اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔] بخاری و مسلم
اور نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ: اس امت میں شرک چیونٹی کے رینگنے سے بھی زیادہ مخفی انداز میں سرایت کرے گا، تو اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے استفسار کیا: اس سے خلاصی کا کیا ذریعہ ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں دعا سکھائی: [یا اللہ! میں جان بوجھ کر تیرے ساتھ کسی کو شریک بنانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور ان گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں جو میرے علم میں نہیں ہیں۔] ابن حبان نے اسے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، جبکہ امام احمد نے ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ عام طور پر دعا میں کہا کرتے تھے: [یا اللہ! میرے چھوٹے برے، عمداً اور خطاءً، خفیہ ، اعلانیہ، ابتدا سے انتہا تک سب گناہ بخش دے۔] مسلم، ابو داود
چنانچہ اگر کوئی شخص اللہ تعالی سے اپنے تمام گناہ جنہیں جانتا ہے یا نہیں جانتا سب کی بخشش مانگے تو اسے بہت بڑی بات کی توفیق مل گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   گہری دلدل - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

گناہوں کی بخشش کے لیے انسان کی طرف سے کی جانے والی دعا اخلاص، اصرار، گڑگڑانے، اور اللہ کے سامنے عاجزی و انکساری کے اظہار پر مشتمل ہوتی ہے، نیز اس میں گناہوں سے توبہ بھی شامل ہے، اور اللہ تعالی سے توبہ مانگنا بھی استغفار ہی کی ایک شکل ہے، چنانچہ یہ تمام امور استغفار اور توبہ کے ضمن میں آتے ہیں، لہذا مذکورہ الفاظ الگ الگ ذکر ہوں تو تمام معانی ان میں یکجا ہوتے ہیں، اور جب یہ الفاظ سب یکجا ہوں تو استغفار کا مطلب یہ ہو گا کہ: گناہوں اور ان کے اثرات کے خاتمے، ماضی میں کیے ہوئے گناہوں کے شر سے تحفظ اور گناہوں پر پردہ پوشی طلب کی جائے۔ جبکہ توبہ کے مفہوم میں: گناہ چھوڑ کر اللہ کی طرف رجوع ، گناہوں کے خطرات سے مستقبل میں تحفظ اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم شامل ہے۔ اللہ نے توبہ اور استغفار کو اپنے اس فرمان میں یکجا بیان فرمایا: اپنے رب سے مغفرت مانگو پھر اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ تمھیں ایک معین مدت تک اچھا فائدہ دے گا اور ہر فضل والے کو اس کا فضل دے گا اور اگر تم پھر گئے تو یقیناً میں تمھیں بڑے دن کے عذاب سے ڈراتا ہوں [ھود : 3] اس کے علاوہ دیگر آیات بھی ہیں۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے: لوگو! اپنے رب کی طرف رجوع کرو، اور اس سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگو، کیونکہ میں ایک دن میں سو بار توبہ و استغفار کرتا ہوں. نسائی نے اسے اغر مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

انسان کو ہر وقت استغفار کی سخت ضرورت رہتی ہے، خصوصاً دورِ حاضر میں کیونکہ اس وقت گناہوں اور فتنوں کی بھر مار ہے، نیز استغفار دنیاوی اور اخروی زندگی میں کامیابی کا ضامن بھی ہے، چنانچہ استغفار خیر و بھلائی کا دروازہ اور تکالیف و مصائب ٹالنے کا باعث ہے، پوری امت کو بحیثیت کل دائمی طور پر استغفار کرنے کی ضرورت ہے، تا کہ پوری امت پر نازل شدہ آفات اور تکالیف ٹل جائیں، نیز آنیوالی مصیبتوں سے تحفظ حاصل ہو۔ استغفار سے وہی شخص غافل ہوتا ہے جو استغفار کے فوائد و برکات سے نابلد ہو، حالانکہ قرآن و سنت استغفار کے فضائل سے بھر پور ہیں، صالح علیہ السلام کے بارے میں فرمانِ باری تعالی ہے: [صالح نے] کہا:'میری قوم کے لوگو! تم بھلائی سے پیشتر برائی کو کیوں جلدی طلب کرتے ہو؟ تم اللہ سے بخشش کیوں نہیں طلب کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے. [النمل : 46]
استغفار کی وجہ سے امت پر رحمت نازل ہوگی؛ اللہ تعالی نے نوح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: میں [نوح ]نے کہا: تم اپنے رب سے بخشش مانگو، بیشک وہ بخشنے والا ہے، وہ آسمان سے تم پر موسلا دھار بارش نازل فرمائے گا، تمہاری دولت اور اولاد سے مدد کرے گا، تمہارے لیے باغات اور نہریں بنا دے گا۔[نوح : 10 - 12]
اور ہود علیہ السلام کی دعوت ذکر کرتے ہوئے فرمایا: میری قوم ! تم اپنے رب سے بخشش مانگو اور اسی کی طرف رجوع کرو، وہ تم پر موسلا دھار بارش نازل کریگا اور تمہاری موجودہ قوت میں اضافہ فرمائے گا، اس لیے تم مجرم بن کر رو گردانی مت کرو۔[ھود : 52]
اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے: اور آپ کی موجودگی میں اللہ تعالی انہیں عذاب نہیں دے گا، نیز اللہ تعالی انہیں استغفار کرنے کی حالت میں بھی عذاب دینے والا نہیں ہے۔ [الانفال : 33]
ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے بارے میں کہا ہے کہ: تمہارے لیے عذاب الہی سے بچاؤ کے دو ذریعے تھے، ان میں سے ایک یعنی نبی ﷺ تو چلے گئے ہیں، اب صرف استغفار باقی ہے جو قیامت تک جاری رہے گا.

کثرت سے استغفار پوری امت کی مشکل کشائی اور حاجت روائی کیلئے معاون ہے، نیز آئندہ ممکنہ خطرات سے بچاؤ کا باعث بھی ہے؛ کیونکہ کوئی بھی مصیبت گناہوں کی وجہ سے نازل ہوتی ہے اور توبہ و استغفار سے ان کا خاتمہ ممکن ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے استغفار اپنی عادت بنا لی، تو اللہ اسے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ اور تمام غموں سے کشادگی عطا فرمائے گا، نیز ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں تھا. ابو داؤد
نبی ﷺ سے استغفار کے بارے میں متعدد الفاظ اور اذکار ثابت ہیں، انہیں اپنانے سے بہت ہی عظیم ثواب ملے گا، ان میں سے چند یہ ہیں:
آپ ﷺ کا فرمان ہے: جس شخص نے کہا:میں اللہ تعالی سے بخشش طلب کرتا ہوں اس کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں ہے، وہ زندہ جاوید اور ہمیشہ قائم رہنے والی ذات ہے، اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ]تو اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے، چاہے وہ میدان جنگ کا بھگوڑا ہی کیوں نہ ہو. ابو داود، ترمذی نے روایت کیا ہے، اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (جس شخص نے بستر پر لیٹتے وقت تین بار کہا: میں اللہ تعالی سے بخشش طلب کرتا ہوں اس کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں ہے، وہ زندہ جاوید اور ہمیشہ قائم رہنے والی ذات ہے، اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں. اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے چاہے سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں. ترمذی
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص رات کے وقت بیدار ہو اور پھر کہے: اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے، وہ تنہا و یکتا ہے، اسی کی بادشاہی ہے، اور تعریفیں اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، اللہ بہت بڑا ہے، نیکی کرنے کی طاقت اور گناہ سے بچنے کی ہمت صرف اللہ کی طرف سے ہی ملتی ہے]پڑھ کر اس نے کہا: یا اللہ! مجھے بخش دے تو اس کی دعا قبول ہوگی، اور اگر نماز پڑھے تو وہ بھی قبول ہوگی. بخاری
اور ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ: جو شخص جمعہ کے دن فجر سے پہلے تین بار کہے: میں اللہ تعالی سے بخشش طلب کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں ہے، وہ زندہ جاوید اور ہمیشہ قائم رہنے والی ذات ہے، اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں. اس کے سارے گناہ بخش دیے جائیں گے چاہے سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں.
نیز شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: سید الاستغفار یہ ہے کہ تم کہو: یعنی: یا اللہ تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا ہے، اور میں تیرا بندہ ہوں، اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد و پیمان پر قائم ہوں، میں اپنے کیے ہوئے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، مجھ پر ہونے والی تیری نعمتوں کا میں اقرار کرتا ہوں، ایسے ہی اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں، لہذا مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے. آپ نے فرمایا: جس شخص نے کامل یقین کے ساتھ دن کے وقت اسے پڑھا، اور اسی دن شام ہونے سے پہلے اس کی موت ہو گئی، تو وہ اہل جنت میں سے ہوگا، اور جس شخص نے اسے رات کے وقت کامل یقین کے ساتھ اسے پڑھا اور صبح ہونے سے قبل ہی فوت ہو گیا تو وہ بھی جنت میں جائےگا. بخاری
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے: اللہ تعالی فرماتا ہے: ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگیں، اور پھر تم مجھ سے مغفرت مانگو تو میں تمہیں بخش دونگا، مجھے [تمہارے گناہوں کی] کوئی پرواہ نہیں ہوگی. ترمذی نے اسے روایت کیا ہے اور اسے حسن قرار دیا۔
کسی بھی عبادت کے دوران اور اس سے فراغت کے بعد بھی استغفار کرنا شرعی عمل ہے، تا کہ عبادت میں ممکنہ کمی کوتاہی پوری ہوسکے، نیز خود پسندی اور ریاکاری سے انسان دور رہے، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے: پھر تم بھی وہیں سے واپس آؤ جہاں سے لوگ واپس آتے ہیں، اور اللہ تعالی سے بخشش مانگو، بیشک اللہ تعالی بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔[البقرة : 199]
اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے: نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ کو قرض حسنہ دو۔ جو اپنے لیے بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤگے، وہ بہتر اور اجر کے اعتبار سے بہت بڑا ہے، اللہ سے بخشش مانگتے رہو، بےشک اللہ بڑا غفور و رحیم ہے [المزمل : 20] چنانچہ ان دونوں آیات میں اللہ تعالی نے عبادات مکمل کرنے کے بعد بھی استغفار کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   استغفار کی اہمیت، آداب اور مسنون الفاظ - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

اسی طرح ہر مسلمان تمام مؤمن و مسلم مرد و خواتین، زندہ و فوت شدہ سب کے لیے بخشش طلب کرے، کیونکہ یہ عمل نیکی، مسلمانوں سے محبت اور دلی صفائی کا باعث ہوگا، نیز اللہ کے ہاں ان کے لیے شفاعت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: جو ان کے بعد آئے وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو معاف فرما دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے بارے میں بُغض نہ رہنے دے ، اے ہمارے رب تو بڑا نرمی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے [الحشر : 10]
اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص مؤمن مرد و خواتین کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرے تو اللہ اس کے لیے ہر مؤمن مرد و خاتون کے بدلے میں ایک نیکی لکھ دے گا. ہیثمی کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سند جید ہے۔
اس حدیث کے مصداق میں: جنازے کی دعائیں، اور قبرستان میں جا کر دعا کرنا بھی شامل ہے، نیز یہ عمل حملۃ العرش اور مقرب فرشتوں کی اقتدا بھی ہے، اللہ تعالی نے حملۃ العرش اور مقرب فرشتوں کی دعائیں ذکر کرتے ہوئے فرمایا: عرشِ الٰہی کے حامل فرشتے اور جو ملائکہ عرش کے گرد و پیش حاضر رہتے ہیں، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہے ہیں ، وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمانداروں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں، نیز وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کی اتباع کی انہیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما [غافر : 7] بلکہ یہ عمل تمام مؤمنوں کے لیے سب سے بڑی خیر خواہی کا عمل ہے۔

اللہ کے بندو!
پروردگار کی اطاعت کرو؛ کیونکہ حدیث قدسی ہے: میرے بندو! تم شب و روز گناہ کرتے ہو، اور میں سارے گناہ معاف کرنے پر قادر ہوں، اس لیے تم مجھ سے مغفرت مانگو میں تمہیں معاف کر دوں گا. مسلم نے اسے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
اس لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کرو تو تم اس کے فضل و کرم، جود و سخا، اور برکتوں کا مشاہدہ کر لو گے، تمہارے گناہ مٹا اور درجات بلند کر دیے جائیں گے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالی تمہیں ختم کر کے ایسی قوم کو لے آئے گا جو گناہ کر کے اللہ تعالی سے مغفرت طلب کیا کریں گے، تو اللہ تعالی انہیں معاف فرما دیا کرے گا. مسلم
اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی انتہائی وسیع مغفرت اور جود و سخا کا مالک ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور جو شخص گناہ کر لے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ تعالی سے گناہ کی بخشش چاہے تو وہ اللہ تعالی کو بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا پائے گا۔ [النساء : 110]
اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لیے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین ﷺ کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔

دوسرا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہی بخشنے والا اور قدر دان ہے، میرے رب کے اسمائے حسنی اور اعلی صفات ہیں، عظیم نعمتوں پر میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا اور تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سربراہ اور نبی جناب محمد اس کے چنیدہ بندے اور رسول ہیں، یا اللہ !اپنے بندے اور رسول محمد، ان کی آل، اور متقی صحابہ کرام پر اپنی رحمت اور سلامتی نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:
تقوی الہی اختیار کرنے کے لیے اس کی رضا مانگو، اسی کی بندگی کرو اور حرام کردہ چیزوں سے بچو۔ ہمارے پروردگار نے تمہیں عملِ صالح کی صلاحیت ہوئے دنیا کو تمہارے لیے دارِ عمل اور آخرت کو دارِ جزا بنایا، تو یہاں پر با عمل، مخلص اور اچھے طریقے سے عبادت کرنے والے لوگ ہی کامیاب ہوئے، جبکہ بد اعمال اور روگردانی کرنے والے لوگ تباہ ہو گئے۔ گویا کہ تم موت کے انتظار میں تھے اور وہ آ کر رہے گی ، لیکن تمہاری تمام تمنائیں پوری نہ ہوں گی، سو قصۂ پارینہ بن جانے والوں کی تاریخ اور واقعات میں تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہے۔ قبروں والے یہ تمنا کریں گے کہ دنیا میں لوٹ جائیں اور انہیں صرف دو رکعت ادا کر کے ڈھیروں استغفار کرنے کی مہلت دے دی جائے، لیکن ان کی یہ تمنا پوری نہیں کی جائے گی، فرمانِ باری تعالی ہے: [المؤمنون: 99، 100] اس لیے یہاں پر کسی بھی چھوٹی سی نیکی یا برائی کو معمولی مت سمجھیں، ایک حدیث میں ہے کہ چھوٹے گناہوں کو معمولی مت سمجھو؛ کیونکہ یہ چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر انسان کو ہلاک کر دیتے ہیں. اور اسی طرح ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ: کسی بھی نیکی کو حقیر مت جانو، چاہے وہ نیکی اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنے پر ہی مشتمل کیوں نہ ہو.

اللہ کے بندو! یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو[الاحزاب: 56] آپ ﷺ کا فرمان ہے: جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے. اس لیے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر درود و سلام پڑھو:
اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمد، كما صلَّيتَ على إبراھيم وعلى آل إبراھيم، إنك حميدٌ مجيد، اللھم بارِك على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما باركتَ على إبراھيم وعلى آل إبراھيم، إنك حميدٌ مجيد، وسلم تسليما كثیرا۔

یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، علی اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے راضی ہو جا، تابعین کرام اور قیامت تک ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہو جا، یا اللہ ! ان کے ساتھ ساتھ اپنی رحمت، سخاوت اور کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!
یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما،یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، کفر اور تمام کفار کو ذلیل کر دے، یا رب العالمین! یا اللہ! کفر اور تمام کفار کو ذلیل کر دے، شرک اور مشرکوں کو بھی ذلیل و رسوا فرما دے، یا اللہ! قیامت کی دیواروں تک بدعات کو مٹا دے، یا ذوالجلال والاکرام! یا اللہ! تیرے پسندیدہ دین کو تمام ادیان پر غالب فرما، یا ذوالجلال والاکرام! یا ارحم الراحمین!
یا اللہ! ہمیں مرتے دم تک اپنی رحمت کے صدقے تیرے رسول ﷺ کی سنت پر کار بند فرما اور آخری سانسوں کے وقت تو ہم سے راضی ہونا، یا ارحم الراحمین!
یا اللہ! مقروض لوگوں کے قرضے چکا دے، یا اللہ! مسلمان مقروضوں کے قرضے چکا دے، یا اللہ! تمام مسلمان مریضوں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام مسلمان مریضوں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام مسلمان مریضوں کو شفا یاب فرما۔
یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے تمام مسلمان اور مومن مرد و خواتین کے معاملات سدھار دے، یا ارحم الراحمین!
یا اللہ! مسلمانوں کے دلوں میں الفت پیدا فرما، یا اللہ! مسلمانوں کی تنگیاں اور سختیاں مٹا دے، یا اللہ! مسلمانوں کی مصیبتیں ختم فرما دے، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کی ہلاکت کا باعث بننے والی تمام چیزوں کا خاتمہ فرما دے، یا رب العالمین!
یا اللہ! تمام مسلمانوں کو حق پر یکجا فرما دے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، یا اللہ! ہم تمام مسلمانوں کو دین کی سمجھ عطا فرما، یا ارحم الراحمین!
یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان اور شیطانی چیلوں اور شیطانی لشکروں سے محفوظ رکھ، یا اللہ! مسلمانوں کو شیطان اور شیطانی چیلوں اور شیطانی لشکروں سے محفوظ رکھ، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
یا اللہ! تمام مسلمان مرد و خواتین کی بخشش فرما، یا اللہ! تمام مسلمان مرد و خواتین کی بخشش فرما، یا اللہ! تمام مومن مرد و خواتین کی بخشش فرما، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے فوت شدہ اور زندہ تمام مسلمانوں کی مغفرت فرما دے، یا ارحم الراحمین!
یا اللہ! مسلمانوں کی قبروں کو منور فرما، یا ذوالجلال و الاکرام! یا اللہ! تمام مسلمانوں کے معاملات آسان فرما دے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہماری سرحدوں کو محفوظ بنا، یا رب العالمین! یا اللہ! ہماری دھرتی کو کسی بھی قسم کی منفی سرگرمیوں سے محفوظ بنا، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، بیشک تو توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
یا اللہ! خادم حرمین شریفین کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق دے، یا اللہ! ان کی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما، اور ان کے تمام اعمال تیری رضا کیلئے قبول فرما، یا اللہ! ہر اچھے نیکی کے کام کی انہیں توفیق دے، یا اللہ! دونوں نائبوں کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، اور ایسے کام کرنے کی توفیق دے جس میں اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی اور خیر ہو، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
یا اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی سے نواز اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔
اللہ کے بندو!
اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو [النحل: 90]
اللہ تعالی کا ڈھیروں ذکر کرو، صبح و شام اسی کی تسبیحات بیان کرو، اللہ کا کثرت سے ذکر کو، اسکی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے سب کاموں سے با خبر ہے۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں